ابو سعید المہلّب بن ابی صُفْرہ

 (خطۂ پاکستان میں اسلام کا پہلا علم بردار)  سیّد محمد انور (مؤلف) / وحدت فاؤنڈیشن-اسلام آباد / جون ۲۰۲۴/ ۲۰۹ صفحات / سائز ۲۱×۲۹ س م / مجلد مع گردپوش، قیمت درج نہیں۔

پہلی صدی ہجری / ساتویں صدی عیسوی کے مسلم عرب جرنیل ابو سعید المہلّب (قیاساً ۱۰ھ / ۶۳۲  ۸۲ھ / ۷۰۲ یا ۸۳ھ / ۷۰۳) بن ابی صُفْرہ الازدی العتکی، اور اُن کے اخلاف (جو تاریخِ بنو امیہ میں المہلبیون کے طور پر معروف تھے) اپنی مجاہدانہ اور سیاسی سرگرمیوں کے سبب تذکرہ نگاروں اور مورخین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ زیرنظر مطالعے کے مؤلف کی اطلاع کے مطابق ‘‘ایک مستند محقق’’ سیّد محمد طیّب نے المہلّب کی زندگی پر [مسلم یونیورسٹی] – علی گڑھ میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا ہے (ص۳۵)، مگر انھوں نے اِسے اپنے مطالعے کے مصادر و منابع میں شامل نہیں کیا، مقالے کے بارے میں، بایں طور مزید تفصیلات (مقالہ کب اور کس عالم کی نگرانی میں لکھا گیا، کیا شائع ہوچکا ہے، اگر شائع شدہ ہے تو ناشر کون ہے؟ وغیرہ) ہمارے سامنے نہیں، البتہ اسی یونیورسٹی میں ۱۹۴۲ میں ‘‘علّامہ عبدالعزیز میمن (م۱۹۷۸) کی نگرانی میں ڈاکٹر سیّد محمد یوسف (۱۹۱۶ – ۱۹۷۸) نے Life and Times of al-Muhallab bin Abi Sufra کے زیرِعنوان ڈاکٹریٹ کا مقالۂ تحقیق لکھا تھا جو مطبوعہ ہے، اور اسی مقالے پر مبنی ڈاکٹر سیّد محمد یوسف کے تین مضامین معروف انگریزی مجلے Islamic Culture (حیدرآباد) میں ۱۹۴۳ تا ۱۹۵۰ میں شائع ہوئے تھے۔

تاریخِ اسلام کے بنیادی متون میں آج کے ایران اور وسطی ایشیا کی فتوحات کے ضمن میں برعظیم کے ساتھ عربوں کے تعلق و ربط کا ذکر ایک حقیقت ہے، تاہم جزیرہ نماے عرب اور برعظیم کے تعلقات پر اردو میں ایک اہم علمی پیش رفت سیّدسلیمان ندوی (م۱۹۵۳) کے لیکچرز کا مجموعہ ‘‘عرب و ہند کے تعلقات’’ ہے۔ یہ لیکچر انھوں نے ہندستانی اکیڈمی – الہ آباد کی دعوت پر مارچ ۱۹۲۹ میں دیے تھے اور اکیڈمی ہی کی جانب سے پہلی بار ۱۹۳۰ میں چھپے تھے۔ اِس کے بعد مولانا قاضی اطہرمبارک پوری (م۱۹۹۶) نے ‘‘العقد الثمین فی فتوح الھندو من ورد فیھا من الصحابۃ والتابعین’’ (اولیں طباعت: اواخر ۱۳۸۸ھ / ۶۹-۱۹۶۸) لکھی جس میں خلافتِ راشدہ اور خلافتِ بنوامیہ کی مہماتِ برعظیم اور فتوحات کا تذکرہ ہے۔ اِس کے فوراً بعد قاضی صاحب کی کتاب ‘‘اسلامی ہند کی عظمتِ رفتہ’’ چھپی (فروری ۱۹۶۹) جو اُن کے مذکورہ موضوع پر ہی آٹھ مقالات کا مجموعہ تھی۔ بعد میں قاضی صاحب نے اپنی پہلی اور مذکورہ عربی تالیف ‘‘العقدالثمین’’ کو پھیلا کر چند مستقل اور مفصل اردو کتابوں میں، اضافاتِ مزید کے ساتھ مرتب کر دیا: l ‘‘عرب و ہند: عہدِ رسالت میں’’ l ‘‘ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں’’ l ‘‘خلافتِ راشدہ اور ہندوستان’’ l ‘‘خلافتِ امویہ اور ہندوستان’’ l‘‘خلافتِ عباسیہ اور ہندوستان’’  یہ تمام کتابیں ہندوستان اور پاکستان کے مختلف ناشرین شائع کرتے رہے ہیں، اور اِس موضوع پر اُردو میں قلم اٹھانے والوں کے لیے اہم مأخذ کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

قاضی مبارک پوری کا حاصلِ مطالعہ یہ ہے کہ:

مشرقی عالمِ اسلام میں ہندوستان وہ خوش نصیب ملک ہے جو عہدِ رسالت ہی میں بڑی حد تک اسلام سے روشناس و مانوس ہو گیا تھا، اور خلافتِ راشدہ میں اس کا معتدبہ حصہ اس طرح دارالاسلام بن چکا تھا کہ آج بھی اِس ملک میں اسلام اور مسلمان اپنے تمام ملّی و دینی اور علمی و فکری امتیازات و خصوصیات کے ساتھ زندہ و پایندہ ہیں اور علماے اسلام نے پہلے ہی دن سے اسے دارالاسلام کا ایک قابلِ قدر حصہ قرار دے کر یہاں کی فتوحات و غزوات اور کوائف و احوال کو اپنی کتابوں میں ثبت کیا، اور فتوحات و مغازی کی کتابوں میں فارس کے سجستان اور خراسان و کرمان کے ساتھ ہندوستان کے بہرج، بلوچستان، قصدار، مکران، سندھ، قندابیل اور قیقان وغیرہ کے غزوات و فتوحات کی تفصیلات درج کیں، اور اس زمانہ کے ذوق و معیار کے مطابق ان میں حرب و ضرب، سبایا و غنائم اور ولایات و امارات کو بیان کیا۔ (‘‘خلافتِ راشدہ اور ہندوستان’’، سکھر: فکرونظر پبلی کیشنس، اپریل ۱۹۸۶: ۱۸-۱۹)

قاضی اطہر مبارک پوری کے معاصرین اور اُن کے متأخر مؤلفین نے مذکورہ موضوع پر کیا کچھ لکھا ہے، اور اُن کے مطالعات کا کیا علمی و تحقیقی مقام ہے، اِس سے قطع نظر جناب سیّد محمد انور کی زیرنظر تالیف ‘‘ابوسعید المہلّب بن ابی صُفرہ’’ کی طباعت خوش آیند امر ہے کہ اموی عہدِ خلافت کے ایک اہم جرنیل کے حالاتِ زندگی اور اُن کی خدمات اُردو میں تفصیل سے سامنے آئی ہیں۔ جناب مؤلف نے بتایا ہے کہ المہلّب نے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت (۱۳-۲۳ھ / ۶۳۴ -۶۴۴) میں جنگی مہمات میں حصہ لینا شروع کیا تھا، اور آخرِحیات (عہدِ عبدالملک بن مروان، ۸۲ھ یا ۸۳ھ / ۰۳-۷۰۲) تک انتظامی اور عسکری سرگرمیوں میں مصروف رہا تھا۔

ہجری تقویم کے مطابق مہلّب کی ۷۲-۷۳ سالہ زندگی کے کم و بیش ۱۴-۱۵ سال خانہ جنگی اور سیاسی افراتفری میں گزرے تھے۔ اس عرصے کا پہلا دور حضرت عثمانؓ کی شہادت (۱۸ ذوالحجہ ۳۵ھ / ۶۵۶) سے عام الجماعۃ (۴۱ھ / ۶۶۲) تک (جب حضرت حسنؓ بن علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین صلح ہوئی، اور آخرالذکر کو خلیفہ تسلیم کر لیا گیا) کے تقریباً سوا پانچ برس پر محیط ہے۔ دوسرا دور معاویہ ثانی بن یزید کی خلافت سے دست برداری (۴۶ھ / ۶۸۳) سے عبداللہ بن زبیر کی حکومت کے خاتمے (جمادی الاخریٰ ۷۳ھ / ۶۹۲) اور مروان بن حکم کے استحکامِ اقتدار تک کے ۹برسوں پر پھیلا ہوا ہے۔ المہلّب خلافتِ راشدہ کے دوران میں سرحدوں پر خدمات انجام دیتا رہا اور کسی ایک گروہ کا طرف دار نہ بنا۔ دوسرے دورِ خانہ جنگی میں المہلّب حضرت عبداللہ بن زبیر کے نظم و نسق کا حصہ رہا تھا، تاہم جب عبدالملک بن مروان کے دور میں المہلّب اموی اقتدار کا حصہ بن گیا تو مقتدر طبقے کے اتنا قریب ہو گیا تھا کہ عبدالملک کے مشیر اور دستِ راست حجاج بن یوسف نے مہلب کی بیٹی ہند سے شادی کرلی تھی۔

پہلے عرصۂ خانہ جنگی میں حضرت علیؓ کے حامیوں کا ایک گروہ واقعۂ تحکیم پر اُن سے اختلاف کرتے ہوئے الگ ہوا، جو خوارج کے نام سے تاریخ میں مذکور ہے۔ یہ گروہ حضرت علیؓ اور بعدازاں عبداللہ بن زبیر اور امویوں ہردو کا شدید مخالف رہا، اور اپنے انتہاپسندانہ روّیے کے سبب کبھی بہت بڑا گروہ تو نہ بن سکا، مگر اپنے عقیدے پر متشدد ہونے کے باعث بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہتا تھا۔ یہ گروہ دوسرے زمانۂ خانہ جنگی میں بھی حسبِ سابق حکمران قوتوں کے لیے دردِسر بنا رہا تھا۔ مہلّب حضرت عبداللہ بن زبیر کے زیرِاقتدار خوارج کے ایک گروہ (ازارقہ) کے خلاف برسرِپیکار رہا اور اُس کا قلع قمع کرنے میں مصروف رہا تھا۔

زیرِنظر کتاب میں مؤلف جناب سیّد محمد انور نے تمہیدی تحریروں اور چھے ابواب میں المہلّب کے کارنامۂ حیات پر روشنی ڈالی ہے: باب اوّل (المہلّب بن ابی صُفرہ کا شخصی تعارف اور ابتدائی زندگی) میں صاحبِ تذکرہ کے وطن، خاندان، اولاد اور المہلّب کی روایتِ حدیث اور خطابت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ باب دوم (المہلّب کی عسکری زندگی کی ابتداء)، باب سوم (المہلّب کے ذریعے پاکستان میں اسلام کی اوّلیں آمد) میں المہلّب کی مہمات کا تذکرہ ہے۔ باب چہارم (المہلّب کا اصولی موقف اور فتنۂ خوارج) میں اُن کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو عبداللہ بن زبیر سے اپنی وابستگی کے دنوں میں المہلّب نے انجام دی تھیں۔ باب پنجم (المہلّب اور اموی دورِ حکومت) میں المہلّب کی زندگی کے آخری دس برسوں کا ذکر ہے۔ باب ششم (المہلّب کی وصیتیں اور اقوال) کے تحت المہلّب کے خطوط اور خطبات سے اقتباسات درج کیے گئے ہیں۔

جناب مؤلف نے ابوسعید المہلّب کے بارے میں اپنے طور پر ممکن حد تک اطلاعات یک جا کی ہیں، مگر دورانِ مطالعہ میں جو سوالات اُبھرتے ہیں، اُن کے بارے میں زیادہ توجہ نہیں دی جاسکی۔ المہلّب کی کنیت ‘ابوسعید’ درج کی گئی ہے، مگر اِس کی وجۂ تسمیہ نہیں بتائی گئی۔المہلّب کے ۱۱ بیٹوں میں سے جن چھے کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں کسی کا نام ‘سعید’ نہیں ہے۔ باقی بیٹوں کے نام وغیرہ کیا تھے۔ کیا ان کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ ان کے حوالے سے کتبِ تاریخ و تذکرہ خاموش ہیں؟ نیز جن بیٹوں کے نام درج کیے گئے ہیں، اُن میں نظر بہ ظاہر بہت ہی معروف یزید بن مہلّب کا نام شامل نہیں!

یہ حقیقت بہ تکرار بیان کی گئی ہے کہ المہلّب کی بیٹی ‘‘ہند’’ حجاج بن یوسف کے عقدِ نکاح میں تھی (ص۵۰)، مگر آگے چل کر سہو قلم کے نتیجے میں حجاج بن یوسف کو المہلب کے داماد کی جگہ سُسر لکھ دیا گیا ہے۔ (ص۱۴۳)

ابتدائی مسلم مورخوں، تذکرہ نگاروں اور جغرافیہ نویسوں نے برعظیم کے ہمسایہ مختلف خطوں کا تذکرہ فارس، خراسان، کرمان، سجستان، زابلستان جیسی جغرافیائی تشکیلات سے کیا ہے، اور کبھی مختلف خطوں کا حوالہ اُن کے مرکزی شہروں مثلاً بلخ، مرو وغیرہ سے دے دیا گیا ہے۔ جنابِ مؤلف نے باب سوم میں حالیہ ایران اور افغانستان کے نقشوں سے ان خطوں کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِن خطوں کے حدود اربعہ میں مسلسل تبدیلیاں آتی رہی تھیں، اور مؤرخین کی فہم بھی ایک دوسرے سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ اگر آیندہ اِس پہلو پر مزید توجہ دی جاسکے تو زیادہ مناسب ہو گا۔

جناب مؤلف کے مطالعہ و تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ: ‘‘المہلّب کابل سے بذریعہ درۂ خیبر پاکستان کے صوبہ خیبرپختون خوا کے علاقہ میں داخل ہوا۔ وہاں سے مشرق کی سمت صوابی تک گیا، پھر جنوب میں بنوں، وہاں سے صوبہ پنجاب میں ملتان کے علاقہ تک گیا۔ اس کے بعد دریاے سندھ کے مغربی کنارے پر چلتا ہوا شہر قندابیل (گنڈاوا) کی طرف مڑا، اور وہاں سے درۂ بولان کے ذریعے قیقان (قلّات) سے ہوتا ہوا واپس سجستان گیا۔ المہلّب کی یہ مہم محمد بن قاسم کی آمد جو ۷۱۱ میں ہوئی، سے تقریباً پچاس سال قبل ہوئی۔ یوں المہلّب بن ابی صفرہ وہ پہلا اور واحد مسلم فاتح اور سپہ سالار ہے جس نے خطۂ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سے پہلے خیبرپختون خوا، پھر پنجاب، اس کے بعد سندھ اور آخر میں بلوچستان میں اسلام پہلے پہل ۶۶۴ بمطابق ۴۴ھ میں پھیلایا۔’’ (آغازِ کتاب سے پہلے اَستر پر مندرج تحریر)

اِس پس منظر میں انھوں نے ابوسعید المہلّب بن ابی صُفرہ کی سوانح حیات کا ذیلی عنوان ‘‘خطۂ پاکستان میں اسلام کا پہلا علم بردار’’ درج کیا ہے۔ مزید براں اس امر کا شکوہ کیا ہے کہ وطن عزیز میں انٹرمیڈیٹ اور ڈگری سطح پر لازمی مضمون: ‘‘‘مطالعۂ پاکستان’ کی کتب میں محمد بن قاسم کے حوالے سے مواد تو ضرور ملتا ہے اور پڑھایا بھی جاتا ہے، لیکن ان کتب کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ محمدبن قاسم سے پہلے کے مشاہیر کا نام نہیں لیا جاتا۔ اِس وجہ سے ہماری دانست میں، مروجہ کتب میں موجود تاریخ ادھوری اور ناقص ہے۔’’ (ص۱۳)

فاضل مؤلف کے اس شکوے میں بلوچستان کے اکادکا اہلِ قلم بھی شامل ہیں جنھوں نے سندھ کو باب الاسلام قرار دیے جانے کے بالمقابل اپنے صوبے کو اس اعزاز سے مفتخر کیا ہے۔ اِن حضرات کا یہ اظہار ایک حد تک اپنی علاقائی پہچان سے لگاؤ کا نتیجہ ہے، مگر عہدِ بنوامیہ کے جرنیلوں کے توسط سے جو پیغام خطۂ پاکستان میں پہنچا تھا (چاہے یہ جرنیل مہلّب بن ابی صُفرہ ہوں یا محمد بن قاسم)، اس پیغام سے محبت میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ زیرِنظر کتاب کے مؤلف کے ان الفاظ سے حقیقت واضح ہے: ‘‘پاکستان کی قومی شناخت اسلام کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کوئی شخص اپنی ذات کی حد تک اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے طریقے پر زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اُسے اس کی اجازت ضرور ہے، لیکن پاکستان کی قومی شناخت صرف اسلام ہی ہے۔’’ (ص۱۵)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ المہلّب بن ابی صُفرہ کی مہم کے باوجود خطۂ پاکستان میں اسلام کے تعارف کا سہرا محمد بن قاسم (م۷۱۵) کے سر بالعموم کیوں باندھا جاتا ہے؟ اِس کا واضح سبب تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ محمد بن قاسم کی مہم کے نتیجے میں اشاعتِ اسلام اور خطے میں مسلم اقتدار کے باقاعدہ قیام کی بنیاد پڑی تھی۔ اس سے پہلے کی مہمات کی نہ تو زیادہ تفصیلات دستیاب ہیں، اور نہ اِن کے پائیدار اور دور رَس اثرات ہی دکھائی دیتے ہیں، تاہم ابتدائی نوعیت کی مہمات کو سِرے سے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جناب سیّد محمد انور کی یہ کاوش اپنے موضوع کے اعتبار سے تو قابلِ قدر ہے، مگر اِس کی کتابت، صفحہ بندی وغیرہ ازحد ناقص ہے۔ جہاں تک کتابت کی اغلاط کا تعلق ہے، اگر ان کا شمار شروع کیا جائے تو چند صفحات بھی ناکافی ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ کتاب کسی اچھے ناشر کے ذریعے دوبارہ شائع ہو