اعلام القرآن

  ابو الجلال ندوی (مصنف)، معظم جاوید بخاری (مدوّن)/ دارالمصاحف، ہادیہ حلیمہ سنٹر، غزنی سٹریٹ، اردو بازار – لاہور/ دسمبر ۲۰۲۳ / ۴۵۹ صفحات / مجلد، ۱۶۰۰ روپے

جناب معظم جاوید بخاری کچھ عرصے سے مولانا ابوالجلال ندوی (م۱۹۸۴) کی تحریریں جمع و مرتب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی پہلی کاوش ‘‘جمع المتفرقات’’ پر ‘‘نقطۂ نظر’’ کے ۴۵ویں شمارے (بابت جنوری – جون ۲۰۲۴) میں گفتگو کی جاچکی ہے۔ اِس وقت دوسری کاوش ‘‘اعلام القرآن’’ ہمارے پیشِ نظر ہے، اور انھوں نے مزید خوش خبری یہ سنائی ہے کہ اُن کے پاس مولانا مرحوم کے چند مزید مضامین موجود ہیں، اور بعض دوسرے غیرمدوّن مضامین کے بارے میں اطلاعات ہیں، آخرالذکر مضامین تک رسائی حاصل کرنے پر تیسرا مجموعۂ تحریرات پیش کرنے کی سعی کی جائے گی، نیز اُن کی ایک غیرمطبوعہ کاوش ‘‘سِفرِ تنزیل’’ بھی طباعت کی منتظرہے۔

زیرِنظر کاوش کو اُن مضامین یا تحریروں کی روشنی میں ‘‘اعلام القرآن’’ کا نام دیا گیا ہے جو مولانا ابوالجلال ندوی نے دارالمصنفین – اعظم گڑھ کے اپنے دوسرے زمانۂ اقامت (۱۹۴۶ – ۱۹۵۰) میں اعلام القرآن پروجیکٹ کے تحت لکھے تھے، اور ماہ نامہ ‘‘معارف’’ (اعظم گڑھ) میں یکے بعد دیگرے شائع ہوئے تھے۔ یہ پروجیکٹ مولانا ندوی مکمل نہ کرسکے، اور شاید بعد میں اُن کی صلاحیتوں، ذوق اور دلچسپیوں کا حامل کوئی دوسرا فرد بھی ادارے کو میسّر نہ آسکا کہ پروجیکٹ کو مزید آگے بڑھایا جاتا، تاہم مغربی دُنیا نے متنوع مقاصد کے تحت مصر اور مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں اثری تحقیقات جاری رکھیں (اب اِن عرب ممالک میں سرکاری سطح پر محکمہ ہاے آثارِ قدیمہ قائم ہو چکے ہیں، آئے روز کھدائیاں ہوتی رہتی ہیں اور اِن کی رپورٹیں باقاعدگی سے شائع بھی ہوتی ہیں) جن سے بالواسطہ ‘‘عہدنامۂ عتیق و جدید’’، نیز قرآن کے بعض اعلام کے بارے میں بھی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔ مسیحی ماہرینِ الٰہیات کی جدید اثری تحقیقات سے دلچسپی کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ تدریسی اداروں میں ‘‘کتابِ مقدس کے آثارِقدیمہ’’ (Biblical Archeology) کا مطالعہ باقاعدہ ایک شعبۂ علم بن گیا ہے جس میں خطّے کی قدیم زبانوں، اُن کی تاریخ، رسم الخط اور خود خطّے کے بارے میں قدیم مآخذ و مصادر سے واقفیت کے پس منظر میں ‘‘کتابِ مقدّس’’ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض مفسرین کرام نے اثری تحقیقات سے اپنی تفاسیر میں استفادہ کیا ہے اور اثری تحقیقات کی تنقیح میں قابلِ قدر نکات سامنے لائے ہیں۔

ماہ نامہ ‘‘معارف’’ میں بہ سلسلہ ‘‘اعلام القرآن’’، مولانا ابوالجلال ندوی کی جو تحریریں شائع ہوئی تھیں، اُن کی تفصیل بہ ترتیب اشاعت یہ ہے: l عربی زبان کا فلسفۂ لغت l ذوالکفل l بکّہ مبارکہ lالروم l السامری l حضرت ایوب علیہ السلام l سنگِ شبام l تاریخِ یمن کی ایک سطر l کتباتِ حصن غراب l تاریخِ بابل l ہاروت و ماروت l تاریخ یمن کا ایک ورق l داستانِ خلیل (بائبل سے قدیم ایک صحیفہ کی روایت) l اصحاب الاخدود l اصحاب الفیل کا واقعہ اور اس کی تاریخ

مذکورہ تحریروں میں سے ایک ‘تاریخِ یمن کا ایک ورق’ (‘‘معارف’’، اکتوبر ۱۹۵۰ و نومبر ۱۹۵۰) کسی سبب زیرنظر مجموعہ ‘‘اعلام القرآن’’ میں نقل ہونے سے رہ گئی ہے، البتہ جناب معظم جاوید بخاری نے ‘‘معارف’’ میں شائع شدہ یہ تین مزید تحریریں  : l آزر l مریم بنت عمران: اُختِ ہارون l جنتِ سبا  مجموعے میں شامل کر لی ہیں، جو ‘‘معارف’’ کی پہلی جلد میں چھپی تھیں۔

ان تحریروں میں سے دو غالباً ‘آزر’ اور ‘مریم عمران: اخت ہارون’ کے بارے میں لکھا ہے: ‘‘ [یہ مضامین] مولانا مرحوم کے ابتدائی زمانہ کی تحریریں ہیں جب [‘معارف’ میں] اُن کا نام شائع نہیں ہوا کرتا تھا۔ ان کا حوالہ بیدار رضا [کذا، عابد رضا بیدار] کے مرتب کردہ اشاریہ میں ملا ہے’’ (‘پیش لفظ’، ص۳)، اور تیسری تحریر ‘جنّتِ سبا’ ماہ نامہ ‘‘نظام المشائخ’’ (دہلی)، بابت نومبر ۱۹۱۶ سے نقل کی ہے (ص۳۷۹)، حالانکہ جناب عابد رضا بیدار نے تینوں تحریریں (بہ شمول آخرالذکر) ماہ نامہ ‘‘معارف’’ کے حوالے سے مولانا ابوالجلال ندوی کے کھاتے میں ڈالی ہیں (دیکھیے: ‘‘ماہ نامہ معارف کا اشاریہ’’، نئی دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، صفحات ۷-۸، اندراجات ۸۵-۸۷)

مزید براں تحریر ‘آزر’ کے ساتھ سیّد سلیمان ندوی نے اپنے ادارتی شذرے میں لکھا تھا کہ ‘‘ہم نے اِس موضوع پر ‘ارض قرآن’ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ — یہ کتاب زیرطبع ہے’’ (ص۸۱)، جِسے جناب معظم جاوید بخاری نے اولاً جنابِ بیدار کے نادرست انتساب، اور ثانیاً ذاتی قیاس آرائی کے تحت کلیۃً نظرانداز کردیا۔ اُن کی قیاس آرائی پر ذرا نظر ڈال لیجیے:

مولانا [ابوالجلال ندوی] مرحوم کے نواسے یحییٰ بن زکریا نے مجھے ایک اہم مضمون ‘‘ارض القرآن’’ دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر انھوں نے یہ مضمون نہیں بھجوایا۔ انھوں نے اِس کی بابت خصوصاً کہا تھا کہ یہ غیرمطبوعہ ہے۔ جہاں تک مجھے اندازہ ہے کہ یہ مضمون یقینا اسی کتاب کا حصہ ہو گا جس کا حوالہ اسی جگہ مرقوم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مولانا اس کتاب کو شروع کرنے کے بعد مکمل نہیں کرپائے ہوں اور سیّد سلیمان ندوی نے مولانا مرحوم کی طرف سے کچھ وقت انتظار کرنے کے بعد اس عنوان کی کتاب خود مرتب کرکے شائع کر دی ہو۔ (حاشیہ، ص۸۱)

مولانا ابوالجلال ندوی کے مبیّنہ مضمون کو جو اُن کی نظر سے نہیں گزرا، بخاری صاحب نے اُسے ‘‘ارضِ قرآن’’ کتاب پر قیاس کرلیا، اور مزید قیاس آرائی کرتے ہوئے لکھا کہ شاید مولانا ابوالجلال اسے مکمل نہ کرسکے ہوں تو سیّد صاحب نے خود اس موضوع پر کتاب لکھ دی۔ حقیقتِ حال سے یہ محض ناواقفیت ہے۔ ‘‘ارضِ قرآن’’ کے موضوع پر سیّد سلیمان ندوی نے ان دنوں کام شروع کیا تھا، جب وہ علّامہ شبلی نعمانی (م۱۹۱۴) کے ساتھ ‘‘دفترِ سیرت’’ میں بطور اسسٹنٹ کام کر رہے تھے، اور اُن کی اِس نوعیت کی تحریریں ماہ نامہ ‘‘الندوہ’’ (لکھنؤ) میں چھپنے لگی تھیں۔ ابتداءً ان تحریروں کو بطور ‘‘مقدّمۂ سیرت النبی’’ پیش کرنا چاہتے تھے۔ بعد میں یہ ارادہ بدل گیا اور ‘‘ارض القرآن= تاریخ ارض القرآن’’ کو مستقل کتاب کی شکل دے دی گئی جو دارالمصنفین – اعظم گڑھ کے سلسلۂ مطبوعات کی پہلی کتاب تھی، اور سیّد صاحب نے مذکورہ پس منظر ہی میں اسے ‘‘سیرت النبی’’ کا مقدمہ قرار دیا ہے۔ (دیکھیے: ‘مقدمہ’، ‘‘تاریخ ارض القرآن’’)

جناب بخاری کی توجہ اِس طرف نہ گئی کہ مولانا ابوالجلال دارالمصنفین سے پہلی بار ۱۹۲۳ کے لگ بھگ منسلک ہوئے تھے اور زیربحث تینوں تحریریں ‘‘معارف’’ (اعظم گڑھ) کی پہلی جلد کے دوسرے، تیسرے اور ساتویں شمارے میں بالترتیب اگست ۱۹۱۶، ستمبر ۱۹۱۶ اور جنوری ۱۹۱۷ میں شائع ہوئی تھیں۔

ماہ نامہ ‘‘معارف’’ میں مطبوعہ تحریروں سے قطع نظر دوسرے رسائل و جرائد سے جو تحریریں اخذ کی گئی ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے: l آغازِکلام l تخلیقِ آدم کے مراحل l گوسالہ سامری l بشاراتِ دانیال l سورہ روم کا اندازِ استدلال l نمل اور نملہ l سورۃ نمل: تفسیر و تشریح [ماہ نامہ ‘‘فاران’’ (کراچی) میں بالاقساط شائع ہوئی تھی، ‘‘اعلام القرآن’’ میں ہر قسط کو الگ عنوان دے دیا گیا ہے۔] l فزع اکبر (سورہ سبا) l اسرائیل: وجۂ تسمیہ اور تاریخ l فرقلیط، موعود اور محمد l عددالسنین و الحساب

مولانا ابوالجلال ندوی کی یہ تین مختصر تحریریں پہلی بار ‘‘اعلام القرآن’’ کے ذریعے سامنے آئی ہیں: l اللہ، رحمن، رحیم l اصحاب الفیل کا واقعہ [‘‘معارف’’ میں مطبوعہ تحریر پر اضافہ و تصحیح] l ذوحجر

مولانا ابوالجلال، دوسرے ذہین افراد کی طرح بعض تشریحات و توجیہات میں روایت سے ہٹ کر راے قائم کرتے تھے۔ ‘‘ہاروت و ماروت’’ اُن کے نزدیک فرشتے نہیں تھے، اُن کی ملکوتی صفات کے تحت قرآن میں انھیں ‘‘ملک’’ قرار دیا گیا ہے، اِسی طرح حروف مقطعات، اُن کے نزدیک واضح مفہوم رکھتے ہیں۔ سورۃ النمل کی تفسیر میں انھوں نے ‘‘طٰس’’ کو ‘‘مستحقِ نجات انسان یا وہ انسان جس کے ماتھے پر سجدہ کا نشان موجود ہے’’ قرار دیا ہے (ص۲۴۶)۔ مزید براں ‘‘وادالنمل’’ کو وہ چیونٹیوں کی وادی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ انسانوں کے ایک قبیلے بنو نمل کی آبادی قرار دیتے تھے، نملہ اس طرح کوئی چیونٹی نہیں، بلکہ اِس قبیلے کی ایک خاتون قرار پاتی ہے۔

مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی تفسیر ‘‘تفہیم القرآن’’ اُن کے ماہ نامہ ‘‘ترجمان القرآن’’ (لاہور) میں بالاقساط چھپتی رہی ہے۔ جولائی ۱۹۵۹ کے شمارے (جلد ۵۲، عدد۴) میں سورۃ النمل کی ابتدائی ۱۹ آیات کی تفہیم شائع ہوئی تھی۔ سیّد مودودی نے روایتِ مفسرین کے مطابق وادالنمل کو چیونٹیوں کی وادی، اور نملہ کو چیونٹی قرار دیا تھا۔ مولانا ابوالجلال ندوی سورۃ الشعراء ، سورۃ النمل اور سورۃ القصص (جو بالترتیب طٰسٓم ٓ، طٰس اور طٰسٓم ٓ کے حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں) پر اپنے غوروفکر کو تحریری شکل دے چکے تھے، انھوں نے عمومی روایتی تشریحات اور سیّد مودودی کے زاویۂ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی تحریر کا ایک حصہ غلام احمد پرویز صاحب کے ماہ نامہ ‘‘طلوع اسلام’’ (لاہور) میں بغرضِ اشاعت بھیج دیا جس کا ایک حصہ، ادارہ ‘‘طلوعِ اسلام’’ نے اپنے انداز میں ڈھال کر ‘نمل’ اور ‘نملہ’ کے عنوان سے پیش کیا۔ (دسمبر ۱۹۵۹) [اِس امر کا اندازہ ‘نمل اور نملہ’ اور ‘تفسیر سورۃ النمل’ کی زبان و بیان کے تقابل سے بآسانی کیا جاسکتا ہے۔] جناب معظم جاوید بخاری کے نزدیک ادارہ ‘‘طلوعِ اسلام’’ کے رویے سے مولانا ندوی اس حد تک دل برداشتہ ہوئے کہ انھوں نے اپنے ‘‘علمی و تحقیقی مضامین کے لیے پاکستانی جرائد سے منّہ موڑ لیا’’ (‘‘پیش لفظ’’، ص۳)۔ اِس سلسلے میں زیادہ بہتر تو یہی لگتا ہے کہ ‘‘طلوعِ اسلام’’ میں شائع شدہ کٹی پھٹی تحریر مجموعے کا حصہ نہ بنتی، جب کہ سورۃ النمل کی پوری تفسیر اُن کی تحریر کی شکل میں شاملِ مجموعہ کرلی گئی ہے۔

مولانا ابوالجلال کی شاملِ مجموعہ تحریروں پر نقدونظر تو دور کی بات ہے، اولاً ہم میں کم ہی افراد ہوں گے جو عبرانی وغیرہ پر عبور رکھتے ہوں۔ ہم تو اِس پوزیشن میں بھی نہیں کہ وہ جو کچھ لکھتے رہے، اور اُن کے نام سے جو کچھ چھپا ہے، اس کے بارے میں یہ تک کہہ سکیں کہ کتابت کی حد تک وہ درست بھی ہے یا نہیں، کیوں کہ اُردو تحریر کی اغلاط پریشان کن ہیں۔ بہرحال جناب معظم جاوید بخاری نے مولانا کی تحریریں یک جا کرکے ایک خدمت انجام دی ہے، اور اِسے پذیرائی بھی حاصل ہو رہی ہے۔ اطلاع ہے کہ ہندوستان میں بھی ‘‘اعلام القرآن’’ کا ایڈیشن چھپ گیا ہے۔ (نئی دہلی: البلاغ پبلی کیشنز، ۲۰۲۴)

دُعا ہے کہ اِن تحریروں سے حوصلہ پاکر کوئی صاحبِ علم اِس موضوع کو پاے تکمیل تک پہنچا دے!

ادارہ