بنیادی مسئلۂ ختم نبوت کا بیان

  ابو النور محمد بشیر کوٹلوی (مصنف)، محمد ریاض علیمی (پیش کار) / فدائیانِ ختمِ نبوت پاکستان – کراچی / ۲۰۲۴ / ۱۳۶ صفحات / مجلد، ۴۵۰ روپے

زیرِنظر کتابچہ مولانا ابوالنور محمد بشیر کوٹلوی (۱۹۱۳-۲۰۰۷) کے زمانۂ طالب علمی کی یادگار ہے۔ اس زمانے،یعنی بیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں، مناظروں کا بڑا چرچا تھا۔ مدارسِ عربیہ میں عمومی دینی تعلیم کے ساتھ نمایاں طلبہ کو مخالف مکاتبِ فکر سے مناظروں کی باقاعدہ تربیّت دی جاتی تھی، اور اس سلسلے میں باقاعدہ مشقیہ مناظروں کا اہتمام تک کیا جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک مشقیہ مناظرے کے لیے مولانا ابوالنور نے مسئلۂ ختم نبوت کے اثبات، مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کے دعووں اور ان کی مناظرانہ تاویلات کا جائزہ لیا جسے بعدازاں انھوں نے اپنے استادِ مکرّم (اور مدرسہ انجمن حزب الاحناف – لاہور کے ناظم) مولانا ابوالبرکات سیّد احمد مرحوم کے ایماء پر کتابی شکل دی جو پہلی بار ۱۹۳۰ کے لگ بھگ شائع ہوئی۔ اس کاوش میں انھوں نے پہلے آیت خاتم النبیین (الاحزاب ۳۳:۴۰) کی تشریح و توضیح قدیم مفسرین کرام کی تحریروں کی روشنی میں کی، تصورِ ختمِ نبوت کی تائید میں دس احادیثِ نبویہ پیش کیں، نیز ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کے بارے میں اسلاف کے فتوے پیش کیے۔ آخر میں مسئلۂ ختم نبوت کے حوالے سے اُن تاویلات کا جائزہ لیا جو مرزا صاحب کے پیروکاروں کی جانب سے، اور بالخصوص ‘‘احمدیہ پاکٹ بُک’’ میں پیش کی گئی ہیں۔

دستورِ پاکستان میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ کی ترمیم کے پچاس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے مولانا کا ہ کتابچہ بارِدگر شائع کیا گیا ہے، اور اس میں یہ ضروری ترمیمات کی گئی ہیں: l متن میں ذیلی سرخیوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ l ۱۹۳۰ میں مآخذ و مصادر کے جن ایڈیشنوں کے حوالے دیے گئے تھے، وہ آج بآسانی دستیاب نہیں ہیں، اور اُن کی جگہ نئے ایڈیشنوں نے لے لی ہے، چنانچہ حسبِ ضرورت تبدیلی کردی گئی ہے۔ مزیدبراں خانوادہِ کوٹلی کے اہم فرد پروفیسر مجیب احمد کا مقدمہ شاملِ اشاعت کیا گیا ہے جس میں تحفّظ ختم نبوت کی روایت میں خانوادے کے کارنامے پر روشنی ڈالی گئی ہے، اِس پر مصنّف مرحوم کا شخصی تعارف مستزاد ہے۔

رسالے کے ناشرین غالباً طباعت و اشاعتِ کتب میں نووارد ہیں۔ صفحہ بندی میں مناسب نفاست اور خوب صورتی کا اہتمام نہیں کرسکے۔ کتابت کی اغلاط کہیں کہیں نظر آتی ہیں، اور ایک غلطی تو کم از کم ۱۵ مقامات پر دہرائی گئی ہے جو ‘‘تحقیق’’ کے نام پر ایک دھبے کے مترادف ہے۔ مصنف مرحوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت کے لیے ‘‘وجودِباجود’’ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں جو مسلسل ‘‘وجودباوجود’’ پڑھی اور لکھی گئی ہے۔