(جلد اوّل) مفتی محمد ہاشم علی مصباحی (مؤلف)/ ورلڈویو پبلشرز، الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار – لاہور / ۲۰۲۳/ ۵۲۴ صفحات / مجلد، ۲۵۰۰ روپے
چوتھی صدی ہجری / دسویں صدی عیسوی کے اواخر میں شمال مغربی ایشیا کے مسلم فاتحین اور اہلِ علم و دانش کے توسط سے برعظیم میں جس دینی روایت کی داغ بیل پڑی تھی، اس میں سلوک و تصوّف اور صوفیہ کا اثرورسوخ اتنی بڑی حقیقت ہے کہ بعض اہلِ قلم نے اِس خطے میں اسلام کی ترویج و اشاعت کو انہی افرادِ کار کی سعی و جہد کا نتیجہ قرار دیا ہے، تاہم خیالات اور عقیدے کا یہ لین دین یک طرفہ نہ تھا، جہاں صوفیہ کے زیرِاثر مقامی آبادی کی سوچ اور عمل میں تبدیلی آئی، وہیں صوفیہ (بالخصوص جن کے روابط مقامی سادھو سنتوں کے ساتھ گہرے تھے) بھی مقامی فکری اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ان اثرات کا واشگاف اظہار اُن صوفی سلسلوں کے اعمال و اشغال میں نمایاں ہے جن کی اٹھان کلیۃً برعظیم کے تہذیبی ماحول میں ہوئی ہے۔ انہی سلاسل میں سے ایک سلسلۂ مداریہ ہے۔
اِس سلسلے کی نسبت شیخ بدیع الدین حلبی (م باختلافِ روایت ۸۳۸ھ / ۱۴۳۴ یا ۸۴۰ھ / ۱۴۳۶) کی جانب کی جاتی ہے جو اپنے نام کی نسبت کے بجاے اپنے القاب ‘‘قطب المدار’’ اور‘‘ شاہ مدار’’ سے زیادہ معروف ہیں۔ اُن کے نام، ولدیت، نسب نامے، سالِ ولادت، سیروسیاحت کی تفصیلات، وفات اور جانشینی کے بارے میں اِس قدر مختلف اور متضاد بیانات ملتے ہیں کہ اُن کے تاریخی وجود تک کے بارے میں شبہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ شاہ مدار کے بارے میں اُن کے بعض معروف معاصرین اشرف جہانگیر سمنانی (م۱۴۰۵)، قاضی شہاب الدین دولت آبادی (م۱۴۴۵) اور شاہ مینا لکھنوی (م۱۴۷۹) کے احوال و آثار میں ضمناً کچھ اطلاعات ملتی ہیں۔ اُن کی سوانح حیات اور تعلیمات پر دستیاب پہلی کتاب آج ‘‘مرآۃِ مداری’’ ہے جو شیخ عبدالرحمن چشتی (م۱۶۸۳) نے ۱۰۶۴ھ / ۱۶۵۴ میں ان دنوں لکھی تھی جب وہ شاہ مدار کے مدفن (واقع مکن پور، ضلع کان پور، اترپردیش) کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ ‘‘مرآۃِ مداری’’ کے مآخذ میں اشرف جہانگیر سمنانی کے مجموعۂ ملفوظات ‘‘لطائفِ اشرفی فی بیان طوائفِ صوفی’’ (مرتبہ حاجی نظام غریب یمنی) کے ساتھ ایک کتاب ‘‘ایمانِ محمودی’’ تھی جو مبیّنہ طور پر شاہ مدار کے خلیفہ قاضی محمود کنتوری کی تالیف ہے۔ آج کنتوری کی ‘‘ایمانِ محمودی’’ کا کوئی وجود نہیں، اور یوں شاہ مدار کی رحلت کے ۲۱۸ سال بعد عقیدت کی زبان میں لکھی گئی ‘‘مرآۃ مداری’’ اُن کے بارے میں بنیادی مآخذ کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔
‘‘مرآۃ مداری’’ کے مطابق شیخ بدیع الدین معروف بہ شاہ مدار ۷۱۵ھ / ۱۶-۱۳۱۵ میں حلب (شام) کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ۳۵ سال کی عمر تک وطنِ مالوف میں رہے، اِس کے بعد حجاز تشریف لے گئے، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں اُن کا قیام رہا، وہیں مدینہ منورہ میں دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ ارضِ حجاز کے قیام اور سیروسیاحت میں زندگی کے ۴۰ برس گزار کر انھوں نے برعظیم کا رُخ کیا، اور برعظیم میں کم و بیش نصف صدی کا عرصہ گزار کر انتقال کیا، اور مکن پور میں دفنائے گئے۔ یوں اُن کی ۱۲۵ سالہ زندگی اختتام پذیر ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے طویل طبعی عمر پائی، مگر اُن کی ساری زندگی تجرد کی رہی۔
شاہ مدار کے علم و دانش کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ہیمیا، سیمیا، کیمیا اور ریمیا جیسے علوم کے ماہر تھے۔ ان علوم کی حقیقت کیا ہے؟ تذکرہ نگاروں نے اِن علوم کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کے مطابق سیمیا وقت میں وسعت اور امتداد پیدا کرنے کا علم ہے، نیز اِس میں مادی بدن کو لطیف بدن میں بدل لیا جاتا ہے۔ علم سیمیا کا تعلق جسمانی صلاحیتوں کو اِس طرح استعمال کرنا ہے کہ عجائب و خوارق کا ظہور ہونے لگے۔ علم ریمیا میں مادی قوتوں کو مسخر کر لیا جاتا ہے جیسے ہوا میں قدم جما لینا، پانی پر مصلیٰ بچھا لینا، یا جلتی آگ اور دہکتے ہوئے انگاروں پر چلتے ہوئے بہ سلامتی گزر جانا وغیرہ، اور کیمیا گھٹیا دھاتوں سے سونا بنانے کا علم ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شاہ مدار عہدنامۂ عتیق وغیرہ پر عبور رکھتے تھے، اور علومِ اسلامیہ میں انھیں خوب درک حاصل تھا۔
شاہ مدار کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ اپنے دور کے بلند پایہ مفسرِ قرآن اور عالم دین قاضی شہاب الدین دولت آبادی اور اُن کی طرح دوسرے علماے دین اور شریعت کا پاس رکھنے والے اہل حکومت کو شاہ مدار کے بعض دینی رویوں اور اعمال پر شدید اعتراضات تھے، مگر شاہ مدار نے اپنے قول و فعل کے جواز میں شرعی دلائل دے کر اُنھیں لاجواب کر دیا تھا، حتیٰ کہ وہ اُن کے حلقۂ ارادت میں داخل ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ عہدِاکبر (۱۵۵۶ – ۱۶۰۵) کے معروف مورخ ملّا عبدالقادر بدایونی (م۱۶۱۵) نے ‘‘نجات الرشید’’ (تالیف: ۱۵۹۶، مرتبہ سیّد معین الحق، لاہور: ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان، پنجاب یونیورسٹی، ۱۹۷۱) میں اتباعِ شریعت کے دعوے داروں اور شاہ مدار کے باہمی تبادلۂ خیال کے ایک دو واقعات کا ذکر کیا ہے جو ملّا بدایونی کی شاہ مدار سے اس انتہائی عقیدت کا سبب دکھائی دیتے ہیں جس کے تحت وہ شاہ مدار کو ‘‘قطب مشائخِ کبار’’، ‘‘سلطانِ درویشاں’’ اور ‘‘منہج الاسلام بدیع الحق و الملۃ والدین’’ کے القاب سے نوازتا ہے۔ ملّا بدایونی کی روایت کے مطابق قاضی صاحب نے ایک مکتوب کے ذریعے شاہ مدار سے دریافت کیا تھا کہ حدیث العلماء ورثۃ الانبیاء (علماء انبیاے کرام کے وارث ہیں) کے بارے میں اُن کی رائے کیا ہے؟ شاہ مدار نے جواب دیا کہ وہ علماء کو انبیاء کا وارث نہیں خیال کرتے، کیوں کہ وراثت ایک ایسی چیز ہے جو کسی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ علماء جس علم کے دعوے دار ہیں، وہ انھوں نے سعی و کاوش سے حاصل کیا ہے۔ علماء کے برعکس اہل فقر انبیاء کے وارث ہیں، کیوں کہ اُن کا علم اکتسابی نہیں، بلکہ وہبی ہے۔
سلسلۂ مداریہ کی شہرت برعظیم میں دور دور تک پھیل گئی تھی، مگر اِس کی اصل قبولیت شمالی برعظیم کے موجودہ اترپردیش، بہار اور بنگال کے علاقوں میں رہی تھی۔ سلسلے کا اثرورسوخ زیادہ تر آبادی کے نچلے حصے میں تھا اور مسلمانوں کے ساتھ ہندوآبادی بھی خاصی تعداد میں اُن کی ارادت مند تھی، اور اُن کے عرس / سالانہ میلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ لوگ ٹولیوں کی شکل میں پیدل چل کر مکن پور جاتے تھے اور لمبے لمبے بانسوں پر رنگ برنگے پھریرے باندھے ہوئے چلتے تھے جنھیں شاہ مدار کی چھڑیاں کہا جاتا تھا۔ مغلوں کے آخری دور میں میلے میں شرکت کرنے والوں کا دربارِ دہلی میں باقاعدہ سواگت کیاجاتا تھا اور بادشاۂ معظم اِس تقریب میں بطورِ خاص شریک ہوتے تھے۔ سالانہ عرس اور اِس میں چھڑیوں کا آنا بطور روایت آج بھی جاری ہے، البتہ ان چھڑیوں کے استعمال اور ان پر مبنی کرتبوں کی شکل وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ آج عرس کے موقع پر نوجوان لمبی لمبی چھڑیوں کو سجائے ہوئے کبھی اُنھیں ناک پر رکھ کر، اور کبھی ایک شخص چلتے ہوئے، دوسرے شخص کو اٹھا کر، اور دوسرا چھڑی کو اپنے ماتھے پر ٹکا کر لوگوں سے داد وصول کرتا ہے۔
شاہ مدار کی علمی فضیلت کا ذکر اپنی جگہ، مگر صوفیہ اور تذکرہ نگاروں کا ایک بڑا طبقہ شاہ مدار اور اُن کے پیروکاروں کے کام کاج کا شدید ناقد تھا، اور اُنھیں کھلم کھُلا گمراہ قرار دیتا تھا۔ شیخ عبدالقدوس گنگوہی (م۱۵۳۷) کی زندگی میں لوگ انھیں ملحدوں میں شمار کرتے تھے۔ (‘‘[سلسلہ] دراں ایّام منسوب بہ گمراہی و الحاد است’’، ‘‘لطائف قدوسی’’، مرتبہ شیخ رکن الدین گنگوہی، دہلی: مطبع مجتبائی، ۱۳۱۱ھ / [۹۴-۱۸۹۳]: ۶؛ اردو ترجمہ، لاہور: دارالاسلام، ۲۰۲۳: ۲۸)۔ سترہویں صدی کے تذکروں میر عبدالواحد بلگرامی کے ‘‘سبعِ سنابل’’ (تالیف: ۶۲-۱۵۶۱)، شیخ عبدالحق محدّث دہلوی (م۱۶۴۲) کے ‘‘اخبار الاخیار’’ (تالیف ۱۵۹۱) اور کیخسرو اسفندیار کے ‘‘دبستانِ مذاہب’’ (تالیف مابین ۱۶۴۵-۱۶۵۲) میں دی گئی اطلاعات ‘‘لطائفِ قدوسی’’ کے تأثر کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ ہندو جوگیوں سے منسوب استدراجی کرتبوں اور خود شاہ مدار کے کراماتی تصرفات میں زیادہ فرق دکھائی نہیں دیتا۔
شیخ عبدالحق محدّث دہلوی نے لکھا ہے:
لوگ آپ کے عجیب و غریب حالات میں کہتے ہیں کہ آپ مقامِ صمدیت میں تھے جو سالکوں کا ایک مقام ہے۔ بارہ برس تک آپ نے کھانا نہیں کھایا۔ ایک مرتبہ جو کپڑا پہن لیتے، پھر اُسے دھونے کے لیے جسم سے نہ اتارتے اور اکثر اوقات منّہ پر نقاب ڈالے رہتے۔ آپ کے چہرہ پر جس کی نظر پڑ جاتی، وہ بے اختیار ہو کر سجدہ کرتا۔ کہتے ہیں کہ درازی عمر یا کسی اور وجہ سے پانچ چھے واسطوں کے ذریعے آپ کا سلسلہ رسول اللہؐ تک پہنچتا ہے۔ سلسلۂ مداری کے بعض لوگ بغیر کسی واسطہ کے آپ کو رسول اللہؐ کے سلسلہ سے منسوب کرتے ہیں۔ بعضے کچھ اور کہتے ہیں، لیکن ان سب کہاوتوں کی کوئی اصلیت نہیں ہے اور یہ سب باتیں حدودِ شریعت و طریقت سے خارج ہیں، باقی اللہ ہی زیادہ جانتا ہے (‘‘اخبار الاخیار’’، مترجمہ اقبال الدین احمد، کراچی: دارالاشاعت، ۱۹۶۳: ۲۹۲)
شیخ عبدالحق نے اُس خط کا، جو شاہ مدار نے قاضی شہاب الدین کو لکھا تھا، کسی تفصیل کے بغیر اُس کا بھی ذکر کیا ہے، اور ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ مشہور علماء کے نزدیک اِس خط کی کوئی سند نہیں ہے۔ باقی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ‘‘اللہ اُن پر اور تمام اہل اللہ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔’’ (حوالہ مذکورہ: ۲۹۲)
شیخ عبدالحق دہلوی نے اپنی ‘‘رواداری’’ کے تحت آخر میں دعا پر بات ختم کی، مگر ‘‘دبستانِ مذاہب’’ کے غیرمسلم مصنّف نے مداریوں کا ذکر کسی تحفّظ کے بغیر کیا ہے۔ اُس کی اطلاع کے مطابق:
[مداری] سنیاسوں کی طرح الجھے بال رکھتے ہیں اور راکھ جس کو سنیاسی اور یہ لوگ بھبھوت کہتے ہیں، جسم پر ملتے ہیں اور سر اور گردن میں زنجیریں لپیٹے رہتے ہیں اور اپنے ساتھ کالا جھنڈا اور کالا عمامہ رکھتے ہیں۔ نماز روزہ کچھ نہیں جانتے۔ ہمیشہ آگ کے پاس بیٹھے رہتے ہیں اور بھنگ بہت پیتے ہیں۔ اُن کے کاملین کابل اور کشمیر وغیرہ کی سخت سردی میں بھی کچھ نہیں پہنتے اور بھنگ بکثرت پیتے ہیں۔ اپنی قوم کی تعریف کے موقع پر کہتے ہیں کہ فلاں مداری دو سیر یا تین سیر بھنگ پیتا ہے۔ (‘‘دبستانِ مذاہب’’، مترجمہ حافظ غلام مرتضیٰ، لاہور: ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۲۰۰۲:۲۱۹)
‘‘دم مدار’’ کا نعرہ مداریوں کا ایک قسم کا شعار تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اُن کی اِس سوچ سے ہوتا ہے:
جس وقت پیغمبر معراج کے لیے گئے تو فرمانِ ایزدی پہنچا کہ جنت کی سیر کو جائیں۔ جب جنت کے دروازے پر پہنچے تو جنت کے دروازے کو سوئی کے ناکے سے زیادہ تنگ پایا۔ رضوان نے پیغمبر کو اشارہ کیا کہ اندر آیے۔ جواب دیا کہ اِس جسم کے ساتھ میں اِس راستہ سے کیسے داخل ہوں۔ جبرئیل نے کہا: ‘‘دم مدار’’ کہیے۔ پیغمبر نے ویسا ہی کیا اور اس دروازے سے جو سوئی کے ناکے کی طرح تھا، گزر کر جنت میں داخل ہو گئے۔ (حوالہ مذکورہ: ۲۱۹-۲۲۰)
ماضی قریب میں عامۃ الناس کی سطح پر شاہ مدار کی نسبت سے جن افراد کو ‘‘مداری’’ کی شناخت حاصل تھی، وہ بندر، ریچھ وغیرہ کے کرتب دکھا کر، یا بین بجا کر سانپوں کو لہراتے دکھا کر گاوں گاوں بچوں کو بہلاتے پھرتے تھے۔ یہ لوگ زیادہ تر خانہ بدوش ہوتے تھے، عامۃ الناس کی بخشیش پر اُن کی گزر بسر ہوتی تھی، اور اُن کی خواتین بچوں کے لیے گھگھو گھوڑے یا خواتین کے لیے چُوڑیاں بیچا کرتی تھیں۔
اہلِ علم کے بڑے طبقے نے انھیں بے شرع لوگوں میں شمار کر رکھا تھا، اور اُن کے لیے کسی دینی مقام و مرتبہ کے چنداں روادار نہ تھے۔ علم بشریات کے ترقی کرنے کے ساتھ، اور بعض ماہرینِ بشریات کے تصور کے مطابق مذہب وہی کچھ ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے سامنے آتا ہے۔ اس تصور کے مطابق اُن کے نزدیک شاہ مدار کے عقیدت مندوں کو ‘بے شرع’ قرار دینے کے بجاے اُن کے طرزِعمل کو مذہبی دائرے میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ مزید براں تکثیری معاشروں میں جب مختلف زاویۂ نظر رکھنے والے طبقات کے درمیان تناؤ اور ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوئی تو اُن گروہوں کو رواداری اور امن و امان کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا جن میں بیک وقت مختلف، بلکہ ایک دوسرے سے متضاد روایات بوجوہ یک جا ہو گئی تھیں۔ گزشتہ صدی کی سخت گیر مذہبی شناخت رکھنے والوں کے بالمقابل برعظیم، اور بالخصوص آج کے ہندوستان میں شاہ مدار کے پیروکاروں نے خصوصی توجہ حاصل کی ہے اور اُن کے syncretic عمل کو قبولیت کا جامہ پہنایا گیا ہے۔
شاہ مدار کی جانب منسوب گروہ کے وہ لوگ جنھیں دین و شریعت سے آگاہی حاصل ہوئی، وہ بتدریج خلافِ شریعت حرکات سے اجتناب برتنے لگے، اور دوسرے صوفی سلسلوں کے قریب تر ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ معروف سلاسلِ تصوف سے وابستہ بعض بزرگوں نے شیخ بدیع الدین کی نسبتِ مداری میں بیعت بھی کرلی تھی۔ وہ طبقہ جو خلافِ شریعت وضع قطع اور منشیات کے زیرِاثر رہا، وہ شریعت کے متبع مداریوں کے بالمقابل مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے پکارا جانے لگا۔ برعظیم کی تاریخِ تصوف میں ایسے کئی گروہوں کا ذکر ملتا ہے اور آج بھی ان کی جھلکیاں مسلم معاشروں میں دکھائی دیتی ہیں۔
خانقاہ مکن پور کے ذمہ دار، آج شیخ بدیع الدین حلبی قطب المدار کو ایک ماورائی شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں جنھوں نے صدیوں پر محیط عمر پائی، قرآن و سنت کے بہت بڑے عالم تھے اور ان کی زندگی شریعت کی مطابقت میں گزری تھی۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنے غوروفکر کے اعتبار سے اہل سنت و جماعت سے کسی صورت الگ نہ تھے۔ اس زاویۂ نظر کے مطابق مفتی محمد ہاشم علی مصباحی نے ۱۴۴۳ھ / ۲۲-۲۰۲۱ میں زیرِنظرتالیف کی پہلی جلد شائع کی جس کی عکسی اشاعت ورلڈویو پبلشرز -لاہور کے واسطے سے وطن عزیز کے تصوف دوستوں تک پہنچی ہے۔
جلد اوّل جنابِ مؤلف کے مختصر سے ابتدائیے (صفحات ۱۳-۲۳) اور متعدد تقریظات (صفحات ۲۴-۱۶۴) کے ساتھ چھے ابواب میں منقسم ہے۔ پہلے باب میں شیخ بدیع الدین حلبی کے مولد حلب (شام) کا تعارف لکھا گیا ہے اور ان کا سالِ ولادت ۲۴۲ھ / [۵۷-۸۵۶] کی تصویب کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں شیخ کے نام و نسب اور القاب پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت قطب المدار ‘‘والد کی جانب سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی ہیں’’ (ص ۱۹۵)۔ تیسرے باب میں صاحبِ تذکرہ کے علوم و فنون، بیعت و خلافت، اُن کے سلسلے کی شاخوں اور اُن کے ‘‘مقامات’’ (اویسیت، قطب المدار اور صمدیت)، نیز سالِ وفات ۸۳۸ھ / ۱۴۳۴ (یا باختلافِ روایت ۸۴۰ھ / ۱۴۳۶) پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آخر میں اُن کے کچھ خلفاء کے نام درج کیے گئے ہیں۔ چوتھے باب کو ‘عرب و عجم کی خانقاہیں اور سلسلۂ مداریہ’ کا عنوان دیا گیا ہے اور مختلف صوفی سلسلوں سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی مداری شیخ سے بھی خلافت و اجازت کا تعلق رکھتے تھے۔ پانچویں باب میں ۲۸۲ھ تا ۸۴۰ھ کے دوران میں جن صوفیہ اور علماء نے زندگی گزاری تھی، اُن میں سے ۳۷ کا ذکر شیخ بدیع الدین قطب المدار کے معاصرین کے طور پر درج کیا گیا ہے، جب کہ معاصر کتابوں سے قطب المدار سے اُن کی ملاقات یا رویت کا ثبوت چنداں نہیں ملتا۔ ‘‘تذکرۂ مشائخ مداریہ’’ کی اس پہلی جلد کا چھٹا باب‘متفرقات’ پر مشتمل ہے۔ اولاً ‘‘— قطب المدار: اربابِ علم و دانش کی نظر میں’’ کے تحت سولہویں سے اٹھارہویں صدی تک کے بعض ہندوستانی اہلِ قلم کے فارسی اقتباسات مع ترجمہ درج کیے گئے ہیں۔ بعد میں اُن کی تجہیز و تکفین اور تدفین کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
روایاتِ مداریہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت قطب المدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خلفاء، بالخصوص جانشین برادر زادوں کو چند وصیتیں کرنے کے بعد ۱۷ جمادی الاوّل بروز جمعرات بوقت شام اپنے حجرۂ انور جس میں آپ مدفون ہیں، کے اندر تشریف لے گئے اور دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ مردانِ غیب نے آپ کی تجہیزو تکفین کی۔ بعدازاں ۱۸جمادی الاوّل بشبِ جمعہ آپ کی تدفین کی گئی۔ (ص۴۴۸)
ذکرِ وفات و تدفین کے بعد لکھا گیا ہے کہ شیخ بدیع الدین حلبی کی خدمت میں، اُن کے حینِ حیات سلطان ابراہیم شرقی کی آمدورفت رہتی تھی اور انہی نے مقبرہ تعمیر کروایا تھا، نیز مغل حکمرانوں اور بعض امراء کی جانب سے خانقاہِ شیخ کی خدمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ خاتمہ باب شیخ حلبی کی چلہ گاہوں کے ذکر پر ہوا ہے۔
زیرنظر جلد اوّل میں قطب المدار کے بارے میں دستیاب لوازمے کا بڑا حصہ (جومؤلف کے مزاج کے مطابق تھا) تو آگیا ہے، البتہ شیخ کے خلفاء، سادات مکن پور کے حالات، تاریخِ مکن پور، مداری خانقاہوں کی تاریخ اور شیخ کے آثارِ علمی کا تذکرہ و تجزیہ باقی ہے۔ جنابِ مصباحی نے یہ کام اہلِ علم کے لیے چھوڑ دیا ہے، تاہم ‘‘تذکرہ’’ کی دوسری اور تیسری جلد کی تدوین اُن کے پیش نظر ہے۔ کتابت کی اغلاط پریشان کن ہیں، نیز انگریزی، عربی اور فارسی کے اقتباسات کی من و عن نقل، اور اُن کے ترجمے پر مزید توجہ دی جاتی تو مناسب تر بات تھی۔ خاتمۂ کتاب پر چند خطی نسخوں کے بعض صفحات کے عکس دیے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض کی قرا ء ت تو ‘کارے دارد’ کی مصداق ہے۔ آخر میں دو فہرستیں ‘‘فہرستِ مصادر و مراجع (عربی، فارسی، اردو، انگریزی)’’ اور ‘‘فہرستِ کتابیات’’ دی گئی ہیں۔ دوفہرستوں کی الگ الگ ترتیب کے جواز پر جنابِ مؤلف نے کوئی روشنی نہیں ڈالی۔
