تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش

 محمد عالمگیر (مصنّف)، ابوعمار سلیم (مترجم) / دارالاحسن – کراچی/ ۲۰۲۳ / ۶۴ صفحات / قیمت درج نہیں۔

معروف اردو ادیب اور نقّاد حسن عسکری (۱۹۱۹ – ۱۹۷۸) فکرودانش کی مختلف راہوں سے گزرتے ہوئے آخرِحیات میں تصوّف کے خاصے قریب آگئے تھے اور مولانا اشرف علی تھانوی (م۱۹۴۳) کی بعض تحریروں کو انگریزی میں منتقل کر رہے تھے۔ اُن کے ذاتی فکری ارتقاء میں رینے گینوں (معروف بہ شیخ عبدالواحد یحییٰ، م ۱۹۵۱)، ٹائٹس برک ہارٹ (م۱۹۸۴) اور فرتھ جوف شواں (معروف بہ شیخ عیسیٰ نورالدین، م۱۹۹۸) جیسے نومسلم مغربی متصوفین کا کتنا حصہ تھا، اس بارے میں تو وثوق کے ساتھ تو کچھ کہنا مشکل ہے، البتہ اتنی بات یقینی ہے کہ جدید تعلیم یافتہ مذہب دوست طبقے میں مذکورہ متصوفین کا تعارف انہی کے توسط سے ہوا تھا، اور ابتداء میں سامنے آنے والی، ان حضرات کی منتخب تحریروں کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا اور ان کے زیرِاثر روایت (بہ مقابلہ جدیدیت) بحث و مباحثہ کا موضوع بنی اور اہلِ علم نے اِس میں خوب حصہ لیا، اور ایک حد تک یہ سلسلۂ مباحث تاحال جاری ہے۔

مذکورہ مغربی متصوفین کی جوں جوں دوسری تحریریں سامنے آئیں تو اعتراضات کے پہلو سامنے آنے لگے تھے۔ جناب محمد عالمگیر (ولادت: ۱۹۴۲) نے جو علیمیہ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز – کراچی کے فاضل ہیں، اپنی کتاب The Misinterpretation of Tasawwuf (کوالالمپور: ۲۰۱۵) کے دوسرے باب Tasawwuf of Eclecticism میں ان حضرات کے بعض تصورات پر گفتگو کی ہے جِسے جناب ابوعمارسلیم نے اُردو میں منتقل کیا ہے۔ یہ تحریر پہلے مجلہ ‘‘الواقعہ’’ (کراچی) میں شائع ہوئی تھی، اب اِس کی اہمیت کے پیشِ نظر اِسے بطور کتابچہ پیش کیا گیا ہے۔