جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے

(تاریخِ پاکستان کے گم شدہ گوشے)  فاروق عادل (مصنّف) / قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، والٹن روڈ – لاہور کینٹ / ۲۰۲۴ / ۲۹۶ صفحات / مجلد مع گردپوش، ۱۶۰۰ روپے

جناب فاروق عادل نامور معاصر صحافی ہیں جو ملکی اور بعض غیرملکی اخبارات اور نشریاتی اداروں کے لیے ایک عرصے سے لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریروں کے موضوعات میں ارضِ پاکستان کی تاریخ و سیاست کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اُن کی تحریروں کا ایک مجموعہ ۲۰۲۳ میں ‘‘ہم نے جو بھُلا دیا۔ (تاریخِ پاکستان کے گم شدہ اوراق)’’ کے عنوان سے شائع ہوا، جسے ان کے بقول اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ: ‘‘کتاب کی پہلی اشاعت ایک ماہ سے کم مدّت میں مکمل طور پر فروخت ہو گئی۔ — [ناشر] نے چند ہی روز میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع کر دیا۔ اُن کے گودام میں اب [یکم جنوری ۲۰۲۴ کو] اِس ایڈیشن کا بھی کوئی نسخہ باقی نہیں بچا۔’’ (دیباچہ، ‘‘جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے۔’’، ص۶)

۲۰۲۴ کے آغاز میں اُن کی تحریروں کا دوسرا زیرِنظر مجموعہ سامنے آیا۔ دونوں مجموعوں کے ذیلی عنوانات میں ارضِ پاکستان کی تاریخ و سیاست کے ان پہلووں پر زیادہ زور دیا گیا ہے جو اُن کے نزدیک ‘‘گم شدہ’’ ہیں۔ قاری کے ذہن میں پہلا سوال یہ آتا ہے کہ ان مجموعوں میں تاریخِ پاکستان کے جن پہلووں پر قلم اٹھایا گیا ہے، کیا وہ واقعی گم شدہ تھے؟ اور جناب فاروق عادل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے تحقیقِ عمیق کے بعد پہلی بار اِن پر قلم اٹھایا ہے؟ پہلے مجموعۂ مضامین کے بارے میں کچھ لکھنا ہمارے لیے مشکل ہے کہ ہم اُسے دیکھنے سے محروم رہے ہیں، البتہ زیرِنظر دوسرے مجموعے میں انھوں نے اپنے دیباچے میں اِس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ تاریخی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے کس احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، مگر عنوانِ کتاب میں شامل ‘ہاتھ بندھے مورخوں’ اور ‘گم شدہ گوشوں’ کی دو نمایاں تراکیب پر کوئی گفتگو نہیں کی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ‘ہاتھ بندھے مورخوں’ کی نشان دہی کر دی جاتی، اور اِس کے اسباب بھی بتا دیے جاتے کہ اُن کے ہاتھ کیوں بندھے ہوئے تھے؟ مزید براں اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ شاملِ مجموعہ کن کن تحریروں میں بالخصوص ‘گم شدہ گوشے’ روشنی میں لائے گئے ہیں!

گزشتہ ۲۰-۲۵ برسوں میں وطن عزیز کی اردو صحافت میں ایک نمایاں تبدیلی یہ آئی ہے کہ روزناموں میں کالم نگاری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس کے مختلف اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کے ذریعے بدلتی دُنیا کی صورتِ حال پر تازہ ترین اطلاعات سامنے آجاتی ہیں، اور عامۃ الناس کا انحصار روزناموں پر پہلے جیسا نہیں رہا۔ اِسی کمی کو ہر روزنامے نے متعدد کالم نویسوں کی تحریروں سے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض کالم نگاروں نے اپنی زبان و بیان اور جائزہ و تجزیہ، نیز درونِ خانہ مقتدرہ کی اطلاعات فراہم کرکے اپنا مقام بنایا ہے، اور اُن کی ‘‘کالمانہ’’ تحریریں کتابی صورت میں سامنے آرہی ہیں۔ جناب فاروق عادل کی مذکورہ کاوشیں بھی اس سلسلے کا حصہ ہیں۔

اُردو اخبارات کے ان کالموں کا کوئی موضوعاتی سروے تو ہمارے سامنے نہیں، مگر ہمارا تأثر یہ ہے کہ ان میں مطالعۂ پاکستان کو دوسرے تمام موضوعات سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے، اور اِس کے ساتھ مؤرخانہ ذمہ داری کی بھی اتنی ہی کمی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس ‘‘روزنامہ جاتی’’ تاریخ نگاری نے علم تاریخ کو خاصا نقصان پہنچایا ہے تو اِس میں کوئی مبالغہ نہ ہو گا۔ تاریخ نگاری ایک سائنسی عمل ہے جس کے کچھ اصول و ضوابط ہیں۔ اصحابِ اقتدار کے بارے میں سُنی سنائی کہانیاں، بالعموم ندرت آمیز اور چٹ پٹی ہوتی ہیں، مگر یہ کہانیاں تاریخ نہیں ہوتیں۔ ناقص اور ادھوری اطلاعات کو گمان اور ظن کی بنیاد پر پیش کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ تاریخ میں اطلاعات کی درستی ہی تو شرطِ اوّل ہے۔

تاریخ نگاری کے بنیادی تقاضوں سے قطعِ نظر یہ بات کسی المیے سے کم نہیں کہ بعض مصنفین، اور بالخصوص تاریخ کے طالب علموں نے اِس ‘‘روزنامہ جاتی’’ تاریخ نگاری کو اپنے مآخذ و مصادر میں شامل کر رکھا ہے۔

جناب فاروق عادل نے اکثر و بیشتر حالات و واقعات کا بیان کسی شخصیت، کتاب یا مضمون کے حوالے سے کیا، مگر لطف کی بات یہ ہے کہ متعلقہ شخصیت سے گفتگو کے ماہ و سال، کتاب یا مضمون کے عنوان کے ساتھ دوسرے کوائف کا اظہار، الاماشا ء اللہ ہی کیا ہے۔ حالات و واقعات کو کہانی کے طور پر بیان کرتے ہوئے آخر میں اپنا تجزیہ چند سطروں میں لکھا ہے، اور ایک حد تک اپنی غیرجانب داری قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایک مثال کافی ہو گی۔ جناب فاروق عادل قیامِ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے کامِل اتفاق رکھتے ہوئے یہ حقیقتِ واقعہ تسلیم کرتے ہیں کہ ‘‘بانی پاکستان [قائداعظم محمدعلی جناح] قیامِ پاکستان سے قبل اور اس کے بعد کئی مواقع پر یہ کہہ چکے تھے کہ ملک کا نظام قرآن و سنت کے اصولوں پر استوار کیا جائے گا’’ (ص۲۲)، مگر تحریر ‘ریاست کا قبولِ اسلام’ (صفحات ۲۷-۳۴) میں انھوں نے ایک ‘‘ممتاز قانون دان’’ کی یہ راے لکھنا ضروری خیال کیا ہے: ‘‘اگر یہ قرارداد [قراردادِمقاصد] اتفاق راے سے منظور کی جاتی تو بہتر ہوتا، لیکن اِس کے لیے کوشش نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود کہ قرارداد کے سلسلے میں پیش کی گئی کئی ترامیم معقول تھیں۔’’ (ص۳۳)  اگر انڈین نیشنل کانگرس کے راہ نماوں نے برعظیم کی تقسیم پر رضامندی کے باوجود مسلمانوں کی جداگانہ شناخت اور نظریۂ پاکستان کو تسلیم نہ کیا تھا تو کیا اب اُن لوگوں سے (جو کچھ عرصہ پہلے تک انڈین نیشنل کانگرس کے سخت گیر کارکن تھے) یہ توقع رکھی جاسکتی تھی کہ نظامِ قرآن و سنت کی تائید کردیتے!

جناب فاروق عادل نے تحریر کا خاتمہ اس پیراگراف پر کیا ہے: ‘‘قراردادِ مقاصد ایک آئینی حقیقت ہے، عدلیہ کے کئی فیصلوں کے مطابق اسے آئین سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ دستاویز ملک میں بحث کا ایک مستقل موضوع بھی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ اس قرارداد کے بارے میں متبادل راے رکھنے والے طبقات بھی ایک حقیقت ہیں’’ (ص۳۴)۔  ‘‘قراردادِمقاصد’’ کے خلاف رائے رکھنا ویسی ہی ایک حقیقت ہے، جیسی ظہورِ پاکستان سے پہلے اِس کی بنیادی اساس سے اختلاف رکھنا تھا۔ اگر اُس وقت اختلاف رکھنے والوں نے عامۃ المسلمین کی اکثریتی راے کے سامنے سرِتسلیم خم کرلیا تھا، تو اُسی روّیے کا تقاضا ہے کہ آج بھی وہ عامۃ المسلمین کی راے کا احترام کریں۔

‘‘جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے’’ کی پہلی تحریر مرزا علی خان معروف بہ فقیرایپی (۱۸۹۷ – ۱۹۶۰) کے بارے میں ہے۔ حصولِ آزادی کے بعد فقیرایپی کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے شہرت ملی تھی جن کی پُشت پناہی مبیّنہ طور پر بھارت اور افغانستان کی اس وقت کی حکومتیں کر رہی تھیں۔ جناب فاروق عادل کے نزدیک سوچ بچار کے بعد فقیر ایپی آخرالامر: ‘‘اس نتیجے پر پہنچے [تھے] کہ ان دونوں ملکوں [افغانستان اور بھارت] کی سرگرمیاں اسلام یا پختونوں کے مفاد میں نہیں، بلکہ ایک سازش ہیں تاکہ مسلمانوں کے نئے ملک کو کمزور کیا جاسکے’’ (ص۱۹)، چنانچہ انھوں نے اپنی باغیانہ سرگرمیاں ختم کر دی تھیں، نیز فاضل کالم نگار نے ایک سبب یہ بھی بتایا کہ ‘‘پاکستان کے سفارتی دباؤ سے مجبور ہو کر —افغانستان نے ایپی فقیر کو ایک کھُلی وارننگ دی کہ وہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہر قسم کی سرگرمیوں سے باز آجائیں۔’’ (ص۲۰)

پاکستان مخالف قوتوں نے فقیر ایپی کی مادی معاونت ختم دی تھی۔ کیا اِس کا سبب یہ نہیں تھا کہ فقیرایپی پختون تحریک کے لیے اِن قوتوں کی توقعات پر پورے نہ اتر سکے تھے! وہ مملکتِ خداداد پاکستان کے خلاف صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں [آج کے خیبرپختوخوا] کے عامۃ الناس کو ورغلا نہ سکے تھے اور جب اُن کے کمانڈر مہردل نے نومبر ۱۹۵۴ میں بنّوں کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تو فقیرایپی کی پاکستان مخالف تحریک دم توڑ گئی تھی۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ جناب کالم نگار نے بعض کتابوں کی بنیاد پر تحریریں لکھی ہیں۔ ‘جب بھارتی شہری وزیراعظم پاکستان بنتے بنتے رہ گیا۔’ (صفحات ۴۱ -۴۸) اور ‘‘قلات کی فتح’’ (صفحات ۴۹ – ۵۶) کا بڑا حصہ میراحمد یار خان (خان آف قلات)، کی خودنوشت Inside Baluchistan پر مبنی ہے۔ اوّل الذکر تحریر دلچسپ ہے، مگر اِس کی حقیقت ایک کہانی سے زیادہ نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ میجر جنرل سکندر مرزا (۱۸۹۹-۱۹۶۹) نواب آف بھوپال سرحمیداللہ خان (۱۸۹۴-۱۹۶۰) کو پاکستان کا وزیراعظم بنوانا چاہتے تھے، اور اس مقصد کے لیے انھوں نے خان آف قلات کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی تھی، مگر سکندر مرزا کی سازش ناکام ہوئی، مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سکندر مرزا کی جانب سے یہ قدم واقعتا اٹھایا جاتا تو اس کی کامیابی کے امکانات کس قدر تھے؟ عنوان تو ایسا جمایا گیا ہے، جیسے یہ ‘‘من صوبہ’’ قابلِ عمل تھا۔

تحریر ‘سوشلزم جب کفر ٹھہرا۔’ (صفحات ۷۱-۸۲) کے تحت دسمبر ۱۹۷۰ کی انتخابی مہم کے دوران میں جو تقریباً سال بھر جاری رہی تھی، سوشلزم کے خلاف ۱۱۳ علماء کرام کی جانب سے جاری کردہ فتویٰ کفر کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے یہ پہلے عام انتخابات تھے جو وطن عزیز میں انتخابات کی تاریخ میں اپنے نظریاتی مباحث اور نتائج کے حوالے سے اس قدر اہم سمجھے گئے ہیں کہ ان کے بارے میں کئی سنجیدہ کتب و مقالات شائع ہوئے ہیں۔ جناب فاروق عادل نے ان انتخابات کے نظریاتی پہلو کے لیے جناب امجد علی شاکر کی کتاب ‘‘مولانا عبیداللہ انور: شخصیت اور جدوجہد’’ کے مندرجات کو بنیاد بنایا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے ایک کارکن اور مولانا عبیداللہ انور کے عزیز کا بیان اور تجزیہ اُن کی سیاست کے بارے میں کس حد تک غیرجانبدارانہ ہوسکتا ہے! مختلف سیاسی جماعتوں کو جنابِ شاکر نے یوں ایک دوسرے سے ممتاز کیا ہے۔ مسلم لیگ کے مختلف گروہوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُن کا نعرہ اسلام تھا، جب کہ جمعیت علماے اسلام کو اسلام کی علم بردار، جماعتِ اسلامی اور مرکزی جمعیت علماے اسلام کو اسلامی نظام کی داعی بتایا گیا ہے۔ کیا ‘اسلام کا نعرہ’ لگانے والی ‘اسلام کی علم بردار’ اور ‘اسلامی نظام کی داعی’ جماعتیں دینِ اسلام کے حوالے سے مختلف تھیں؟ اسی طرح کے اختلافات پیش کرکے منیر انکوائری رپورٹ میں علماء کرام پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ  اُن میں سے کوئی دو علماء، مسلمان کی تعریف پر باہم متفق نہیں۔ اس بے بنیاد الزام کی حقیقت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے ۱۹۷۳ کے دستور میں مسلمان کی متفقہ تعریف پیش کرکے واضح کردی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۷۰ کے انتخابات میں اسلام کے حوالے سے تمام پارٹیوں نے کم و بیش اپنے منشوروں میں یکساں روّیہ اختیار کیا تھا، چاہے اُن کے کچھ رہ نما اپنی اپروچ میں باہم مختلف ہی کیوں نہ تھے۔

حیران کن بات ہے کہ ان انتخابات میں پہلی بار حصہ لینے والی دینی سیاسی جماعت، جمعیت علماے پاکستان کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا گیا، حالانکہ اس نے دیگر دینی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ نشستیں جیتی تھیں۔ (قومی اسمبلی کی سات، سندھ صوبائی اسمبلی کی سات اور پنجاب صوبائی اسمبلی کی چار)

جناب امجد علی شاکر کے دلائل کو بنیاد بناتے ہوئے جناب فاروق عادل نے ۱۹۷۰ کے انتخابات میں نظریاتی کشمکش کا سارا کریڈٹ جماعتِ اسلامی کو دے دیا ہے، حالانکہ سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں کے خلاف دوسری جماعتوں سے متعلق علماء کی تحریریں بھی موجود ہیں۔ اسی تحریر میں جمعیت علماے اسلام کا بائیں بازو کے معروف مزدور راہ نما بشیر بختیار کے ساتھ اتحاد کا ذکر ہے (ص۸۰)۔ یہ بات قابلِ قبول دکھائی نہیں دیتی کہ فردِ واحد نے ایک جماعت سے اتحاد کیا ہو، جب کہ وہ فرد واحد ایک پارٹی کی راہ نمائی کا بھی دعوے دار تھا، حقیقتاً جمعیت علماے اسلام نے پاکستان لیبر پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔

تحریر ‘جلسے جلوس کی سائنس’ (صفحات ۱۸۶-۱۹۲) میں دوسرے کارفرما اسباب کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے دھرنوں اور جلسے جلوسوں میں عوام کو ٹھیکے دار قسم کے لوگ اور مکھیا مال کی لالچ دے کر لاتے ہیں۔ یہ بیان عوام کے سیاسی اور اجتماعی شعور کی توہین ہے۔ ٹھیکے دار لوگ چند سو افراد کو تو شاید اکٹھا کرلیں، لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ کے جلسوں اور جلوسوں میں عامۃ الناس کی بھرپور شرکت، جب کہ جان خطرے میں ہو، محض کراے پر لائے ہوئے افراد کی نہیں ہوتی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جناب فاروق عادل نے ایک دوسری تحریر ‘لانگ مارچ: عہد بہ عہد’ میں اس کی تلافی کردی ہے۔ (صفحات ۱۹۳ – ۲۰۶)

حقائق کی چند معمولی فروگزاشتوں کی نشان دہی بھی بے محل نہ ہوگی:

l تحریر ‘جب پہلی بار اسمبلی توڑی گئی’ کے تحت لکھا گیا ہے کہ اپریل ۱۹۴۸ میں محمد ایوب کھوڑو (۱۹۰۱ – ۱۹۸۰) کو سندھ کی وزارتِ اعلیٰ سے معزول کیا گیا تھا۔ وہ اپنے منصب سے معزول کیے جانے والے پہلے وزیراعلیٰ تھے (ص۲۴)، حالانکہ اُن سے پہلے اگست ۱۹۴۷ میں صوبہ سرحد (آج کے خیبر پختون خوا) کی وزارتِ اعلیٰ سے ڈاکٹر خان صاحب (۱۸۸۳ – ۱۹۵۸) کو الگ کیا جاچکا تھا۔

l میر احمد یارخان (خان آف قلات، ۱۹۰۲ – ۱۹۷۹) کی خودنوشت کے حوالے سے، واللہ اعلم کس حد تک درست تفہیم پر درج کیا گیا ہے کہ ‘‘۱۹۵۶ کے آئین کے تحت ملک جب ون یونٹ میں تبدیل ہو گیا — (ص۵۱)، حالانکہ مغربی پاکستان کو ستمبر ۱۹۵۵ میں ون یونٹ قرار دے دیا گیا تھا، اور اِس اقدام کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان مرکزی اسمبلی میں صوبائی نمایندگی کا حل طے کرنا آسان ہوا تھا۔

l تحریر ‘عمران خان کی مذہبی سیات’ میں بزرگ صحافی حسین نقی کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو (۱۹۲۸ – ۱۹۷۹) نے سقوطِ مشرقی پاکستان (دسمبر ۱۹۷۱) کے بعد اپنی فیس سیونگ کے لیے ‘‘اسلام ہمارا دین ہے’’ کا نعرہ اختیار کیا تھا (ص۲۱۸)، حالانکہ یہ نعرہ پاکستان پیپلزپارٹی کی تشکیل (نومبر ۱۹۶۷) کے ساتھ ہی ابتدائی دستاویزوں میں سامنے آگیا تھا۔

l تحریر ‘اسلامی ٹچ’ میں لکھا گیا ہے کہ بے نظیربھٹو (۱۹۵۳ – ۲۰۰۷) نے اپنے سیاسی کیریر میں کسی مذہبی سرگرمی کا اظہار نہیں کیا تھا (ص۲۲۵)، اُن کا سر پر باقاعدہ دوپٹہ لینے اور ہاتھ میں تسبیح رکھنے کو کیا کہا جائے گا!

l ایک موقع پر (ص۲۵۴) کسی حوالے کا ذکر کیے بغیر لکھا گیا ہے کہ ‘‘قراردادِ مقاصد’’ (مارچ ۱۹۴۹) کا مسودہ مولانا ظفر احمد انصاری (۱۹۰۸- ۱۹۹۱) کی تخلیق ہے۔

اگرچہ کتاب کی ورق گردانی کے دوران میں مطالعۂ پاکستان سے دلچسپی رکھنے والا، یا سیاسی ذوق کا مالک قاری اندازہ لگا لیتا ہے کہ اِن تحریروں کا زمانۂ تحریر کیا ہو گا، تاہم کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہر تحریر کے بارے میں لکھ دیا جاتا کہ کس جریدے میں پہلی بار کب شائع ہوئی، یا کس چینل پر کس تاریخ کو پیش کی گئی تھی!

کتابت کی اغلاط اور بعض جملوں کے در و بست کی مزید چستی کی گنجایش سے قطع نظر کتاب کے اشاریے کی شمولیت قابلِ تعریف اقدام ہے، مگر افسوس کہ اشاریہ ساز اِسے حروف تہجی کے مطابق مرتب نہیں کرسکے۔

جلد کے استر پر پاکستان کی اُن اہم شخصیات کی سیاہ و سفید تصاویر دی گئی ہیں جن کا کسی نہ کسی حوالے سے کتاب میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ذکر آیا ہے، بعض تصاویر کا تعین تو آسان ہے، مگر بعض کی شناخت کے لیے ضروری تھا کہ سبھی تصاویر کے ساتھ قارئین کی اطلاع کے لیے نام درج کیے جاتے۔

اسلام آباد                                                                                                                        مجیب احمد