[تضمینات] سیّد صابر حسین شاہ بخاری (مرتب) / ختم نبوت اکیڈمی-بُرہان ضلع اٹک / ۲۰۲۴ / ۹۶ صفحات / مجلد مع گردپوش
حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی (م۱۹۲۱) کا معروف نعتیہ سلام مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ۱۷۱ اشعار پر مشتمل سلامِ رضا کی تشریح و توضیح اور جائزہ و تجزیہ پر درجنوں تحریریں لکھی جا چکی ہیں، اور اردو کے نعتیہ ادب پر شاید ہی عمومی نوعیت کی کوئی کتاب ہو گی جس میں اس کا حوالہ نہ دیا گیا ہو۔ مزید براں پورے سلام کی تضمین کے ساتھ ساتھ منتخب اشعار کی تضمینات آئے روز نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ جناب سیّد صابر حسین شاہ بخاری نے ‘‘قراردادِ ختم نبوت کی منظوری کے جشنِ زرّیں (۱۹۷۴ – ۲۰۲۴)، نیز ۱۲ ربیع الاوّل ۱۴۴۶ھ / ۲۰۲۴ کی مناسبت سے سلامِ رضا کے حسبِ ذیل تیرہویں شعر کی مطبوعہ تضمینات جمع کی ہیں:
فتح بابِ نبوت پہ بے حد درود ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
نیز دورِ حاضر کے ذرائع اطلاعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دور و نزدیک کے شاعرانِ کرام سے مزید تضمینات حاصل کیں۔ اِس طرح انھوں نے ۶۰ شعراء کے رشحاتِ شعر یک جا کیے ہیں۔ بعض شعراء نے ایک سے زیادہ تضمینات پیش کی ہیں۔ جنابِ مرتب کی گنتی کے مطابق جملہ تضمینات کی تعداد ۱۲۸ ہے (ص۴۳)۔ شاعروں کے شعری مذاق میں اُن کی ممارست اور علمی و ذہنی پس منظر کے مطابق تفاوت پایا جاتا ہے۔ مزید براں یہ اُن کا ذوقی انتخاب ہے کہ انھوں نے ‘‘فتح بابِ نبوت پہ بے حد درود’’ میں الگ الگ قافیہ و ردیف منتخب کیا ہے، اور کسی نے ردیف کو سرے سے نظرانداز کرتے ہوئے ‘‘درود’’ پر ہی قافیہ بندی کی ہے۔
زیادہ تر حضرات نے لفظ ‘نبوت’ کو قافیہ اور ‘‘پہ بے حد درود’’ کو ردیف بنایا ہے۔ مثال کے طور پر سیّد محمد مرغوب اختر الحامدی (م۱۹۸۱) کی تضمین ہے:
صدرِ بزمِ امارت پہ بے حد درود میر جیشِ ریاست پہ بے حد درود
شرح صدرِ صدارت پہ بے حد درود فتحِ باب نبوت پہ بے حد درود
ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
بعض نے شعر کے مصرعۂ اولیٰ میں ترکیب ‘‘فتحِ باب’’ کو قافیہ قرارد یتے ہوئے اور باقی مصرعے ‘‘نبوت پہ بے حد درود’’ کو ردیف بنا کر طبع آزمائی کی ہے۔ عزیز حاصل پوری (م۱۹۸۵) کی مشقِ سخن کا حاصل یہ ہے:
انتخابِ نبوت پہ بے حد درود انتسابِ نبوت پہ بے حد درود
باریابِ نبوت پہ بے حد درود فتح بابِ نبوت پہ بے حد درود
ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
بعض نے ‘‘بے حد’’ کو قافیہ اور ‘‘درود’’ کو ردیف کے طور پر برتا ہے۔ بشیر حسین ناظم (م۲۰۱۲) کی کاوش دیکھیے:
بحرِ جُود و سخا پر ہو امجد درود آسمانِ ہدیٰ پہ ممجد درود
صدرِ حق بدرِ جنت پہ سرمد درود فتحِ باب نبوت پہ بے حد درود
ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
جن حضرات نے ردیف کو نظرانداز کرتے ہوئے ‘‘درود’’ پر قافیہ آزمائی کی ہے، ان میں سے ایک ریاض احمد قادری ہیں:
اُن کے رتبے کا اس سے ہوا ہے شہود اب نبوت کا ہر گز نہ ہو گا ورود
اوجِ ختم نبوت ہے ان کا صعود فتحِ باب نبوت پہ بے حد درود
ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
تضمینات کی ورق گردانی میں بعض اغلاط بھی سامنے آتی ہیں جنھیں قارئین بآسانی درست کر لیں گے۔ صفحہ ۶۵ کی ایک تضمین میں ‘‘کس مپرسوں’’ کو ‘‘کسم پرسوں’’ لکھنا ایسی ہی ایک غلطی ہے، تاہم بعض توجہ طلب ہیں۔ صفحہ ۸۱ پر ایک صاحب کی تین تضمینات ہیں۔ دوسری تضمین کا پہلا مصرعہ ہے: ‘اُن کی عظمت کو سمجھیں کیا آلِ ثمود’ یہاں ماضی کی ایک مغضوب قوم ثمود کے ذکر کا کیا مقصود ہے؟ اسی طرح درود پڑھنے کو زندگی کا مقصد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: ‘بھیجتے ہیں عقیدت کے گنبد درود’ یہاں ‘‘عقیدت کے گنبد’’ کی کیا معنویت ہے؟
صفحات ۸۹-۹۱ پر جو تضمینات دی گئی ہیں، ان میں شاعر موصوف نے چار مصرعے کہہ کر سلامِ رضا کے پہلے مصرعے کا اتباع کیا ہے۔ چوتھی تضمین کا تیسرا اور چوتھا مصرعہ یہ ہے:
وہ چمکتی جبیں جس میں تاباں سحود چشم و زلف اور رخسار و خال و خددود
تیسرے مصرعے میں ‘‘سحود’’ کو تو ‘‘سجود’’ ہونا چاہیے، چوتھے مصرعے میں ‘‘خددود’’ سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ ‘‘خد’’ کی جمع حد کے انداز میں ‘خدود’ ہے؟ ‘‘خد’’ کا متبادل لفظ ‘رخسار’ تو پہلے ہی مصرعے میں شامل ہے۔
پانچویں تضمین میں پہلا اور دوسرا مصرعہ یہ ہے:
جس کی الفت دلوں کو ہے کرتی زدود اورنگوں بخت جس سے ہوئے باسعود
‘‘زدودن’’ فارسی مصدر سے کیا ‘‘زدود کرنا’’ اردو میں مستعمل ہے؟ کیا ‘‘باسعود’’ کو باصعود نہ ہونا چاہیے تھا!
جناب سیّد صابر حسین شاہ بخاری کی تالیفات پر متعدد بزرگوں اور معاصرین کی تقریظات ہوتی ہیں۔ اس مختصر سی کاوش پر بھی ماشاء اللہ پانچ افراد کی منثورومنظوم تقریظات شامل کی گئی ہیں، ان حضرات نے انھیں زیرِنظر پیش کش پر خوب خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
واہ کینٹ سیّد محمد عبداللہ قادری
