زاد المتقین فی سلوک طریق الیقین

  شیخ عبدالحق محدّث دہلوی (مصنّف)، محمد نذیر رانجھا (مصحح و مرتب) / خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ-کندیاں ضلع میانوالی / ۲۰۲۴ / ۴۱۲ صفحات / مجلد، قیمت درج نہیں۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ العزیز (۹۵۸-۱۰۵۲ھ / ۱۵۵۱-۱۶۴۲) عہدِ اکبری کے مشہور و مستند عالم ربّانی و عارفِ روحانی تھے، جنھیں ایک کثیر التصانیف مصنّف، مؤلف، مرتّب، محققّ، محدث، عالم باعمل، صوفیِ باصفا، عاشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کی حیثیت سے دنیاے اسلام میں شہرتِ دوام حاصل ہے۔

آپ کی ایمان افروز کُتبِ حَقّہ میں ‘‘مدارج النبوۃ’’، ‘‘اشعۃ اللمعات’’، ‘‘اخبار الاخیار’’، ‘‘زادالمتقین’’، ‘‘جذب القلوب’’، ‘‘مرج البحرین’’، ‘‘تکمیل الایمان’’، ‘‘شرح سفر السعادۃ’’، ‘‘شرح فتوح الغیب’’، ‘‘تحصیل التعرف فی معرفۃ الفقہ و التصوف’’، ‘‘تائید مذہب النعمان’’، ‘‘رسالۂ نوریہ سلطانیہ’’، ‘‘ماثبت من السنۃ’’ اور ‘‘المکاتیب و الرسائل’’ کو تو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ آپ کی جملہ تصانیف کی فہرست خاصی طویل ہے۔ اہلِ قلم نے اُن کی ایک سو سے زائد کتب کا شمار کیا ہے۔

ہندوستان کی تاریخ، بالخصوص عہدِ اکبری پر نظر رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ ہندوستان کی مذہبی فضا کس قدر مکدّر ہو چکی تھی، ہر طرف بدعات اور الحاد کا بازار گرم تھا۔ دینِ الٰہی کا اجراء ہو چکا تھا، جس سے بے زار ہو کر حضرت شیخ محقق علیہ الرحمہ ایک جاذبۂ الٰہی کے تحت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے (۹۹۷ھ / ۸۹-۱۵۸۸) حجاز مقدس تشریف لے گئے، جہاں اس زمانے کے مشاہیر محدثین اور صوفیہ سے آپ نے بھرپور علمی و روحانی استفادہ کیا۔

آپ نے اپنے اساتذہ، شیوخ اور بعض صوفیہ کا تفصیلی تذکرہ ‘‘زاد المتقین فی سلوک طریق الیقین’’ کے نام سے ۱۰۰۳ھ / ۹۵-۱۵۹۴ میں تحریر کیا۔

زیرِتبصرہ تصنیفِ لطیف آج پہلی بار تقریباً ساڑھے چار سو سال بعد زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر اہلِ علم کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا باعث بنی ہے۔ یوں تو اس کے دو اردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ ایک تو ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی کا کراچی سے شایع کردہ ہے اور دوسرا ڈاکٹر مسعود انور علوی کاکوروی (انڈیا) کے قلم سے نکلا ہے، مگر اصل متن اب تک اشاعت سے محروم تھا۔

زیرِنظر متن فاضل تحقیق کار ڈاکٹر محمد نذیر رانجھا کی ریاضتوں کا پھل ہے۔ اس اہم علمی سرگرمی کے نتیجے میں پنجاب یونی ورسٹی – لاہور نے آپ کو پی ایچ- ڈی کی سندِ فضیلت عطا کی ہے۔

تدوینِ متن کا فریضہ اعلیٰ تنقیدی بصیرت کا متقاضی ہوا کرتا ہے، اور اس کا مقصدِ اعلیٰ منشائے مصنف کے مطابق متن کی فراہمی ہے۔ اس ضمن میں کئی پڑاؤ آتے ہیں، مثلاً فراہمیِ متن، تنقیدِ متن، تحقیقِ متن، تصحیحِ متن۔ مقدمہ، حواشی و تعلیقات، اختلافِ نسخ۔ ان سے گزرنے کے بعد کہیں جا کے منزل مقصود ہاتھ آتی ہے۔

ڈاکٹر محمد نذیر رانجھا بھی ایسے ہی فاضلانِ تحقیق میں سے ہیں، جنھوں نے بڑے ذوق و شوق سے تدوینِ متن کی یہ منزل سر کی ہے۔ آپ کی علمی استعداد سے اہلِ علم بخوبی آگاہ ہیں۔ اب تک آپ کی دو درجن سے زائد کتابیں شایع ہو کر علمی حلقوں میں مقبول ہو چکی ہیں۔ الغرض ایک محقق، مؤرخ، مترجم اور شارح کی حیثیت سے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ زیرِنظر تصنیفِ لطیف بھی تدوینِ متن کی ایک عمدہ مثال ہے، جسے فاضل محقق نے مندرجہ ذیل چار قلمی نسخوں کے مقابلے اور موازنے کے بعد مرتّب کیا ہے:

۱-         نسخۂ ‘‘الف’’: کراچی، موزۂ ملی، مکتوبہ سدۂ یازدہم ہجری بامہر کندہ ۱۰۷۸ھ۔ یہی اساسی نسخہ ہے، بہ قول محقق: ‘‘در تصحیح حاضر این نسخۂ اساس قرار گرفتہ است’’۔ (مقدمۂ مصحح، بخش سوم، صفحہ شصت ودو)

۲-         نسخۂ ‘‘ب’’: پشاور، کتاب خانہ پیر ابوالخیر عبداللہ جان نقش بندی، مکتوبہ ۱۱۱۶ھ

۳-         نسخۂ ‘‘ج’’: لندن، موزۂ بریتانیا، مکتوبہ ۱۲۶۰ھ

۴-         نسخۂ ‘‘د’’: پشاور، دانش گاہ پشاور، مکتوبہ ۱۰۲۱ھ

جناب مصحح نے چھے مزید نسخوں کی نشان دہی بھی کی ہے، جو اُن کی دسترس میں نہ آسکے۔ حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی اس اہم اور نادر تصنیف کا متن ۲۰۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ جنابِ مصحح کا مقدمہ ۶۷ اور تعلیقات ۹۸ صفحات پر محیط ہیں۔

پاورقی حواشی، اختلافِ نسخ، ہشت گانہ اشاریوں (آیاتِ قرانیہ، احادیث نبویہ، اشخاص، گروہوں، کتابوں، مقامات، اشعار و مصرعہ ہاے فارسی، اور اشعارِ عربی) نے کتاب کی قدروقیمت میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔

حضرت شیخ محدث علیہ الرحمہ نے اس کتاب کو ایک دیباچے اور درج ذیل تین مقاصد کے تحت ترتیب دیا ہے۔

مقصدِ اوّل:          درذکر احوال و مقامات حضرت شیخ علی متقی رحمۃ اللہ علیہ

مقصدِ ثانی:         درمقامات و حالات حضرت شیخ عبدالوہاب متقی رضی اللہ وارضاہ

مقصدِ ثالث:         دراخبارو آثار بعضی مشایخ و فقر ای آن دیار شریف از عرب و عجم

دیباچے میں حضرت شیخ نے اپنے اجمالی حالاتِ زندگی بیان کیے ہیں۔ پہلے دو مقاصد پانچ پانچ ابواب پر مشتمل ہیں اور ہر باب متعدد فصلوں اور حکایات پر محیط ہے۔ حضرت شیخ نے اپنے مخصوص عارفانہ انداز نگارش کے تحت فصل کو ‘‘وصل’’ سے موسوم کیا ہے۔ تیسرے مقصد کے تحت بعض صاحبانِ حال صوفیہ و فقراء کا احوال رقم کیا ہے۔

کتاب کا متن برمحل قرآنی آیات، عربی و فارسی اشعار اور خود مصنف کے اپنے کلام سے مزیّن ہے۔

 مصححِ متن اور فاضل محقق کا اضافہ کردہ ‘‘مقدمہ’’ اُن کی ژرف نگاہی، رسمیاتِ تحقیق و اصول تدوین سے کما حَقّہٗ آگاہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علمی اور تاریخی مسئلے کے ضمن میں فاضل محقق نے مختلف مؤرخین کے بیانات و مباحث درج کرنے کے بعد اپنا عالمانہ نقطۂ نظر ‘‘نتیجۂ بحث و پژوھشِ تازہ’’ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔

حضرت شیخ محدّث کے احوال و آثار پر جناب محقق کی گہری نظر ہے۔ وہ کسی کتاب کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی تمام مشہور اشاعتوں کے کوائف لکھتے چلے جاتے ہیں، مثلاً ‘‘اخبار الاخیار’’ کے ذکر میں اس کے ایک اہم اور تنقیدی متن مرتبہ ڈاکٹر علیم اشرف (تہران: ۲۰۰۵) کا ذکر کرنا بھی نہیں بھولتے۔

کتاب کے رنگین گردپوش کو حضرت شیخ محدث علیہ الرحمہ کے مزار پُرانوار کی خوب صورت شبیہ سے آراستہ کیا گیا ہے، جب کہ پس سرِورق کتاب کے ناشر خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجدّدیہ کے سجادہ نشین محترم ابوالسعد خلیل احمد صاحب کی تقریظ کے ایک اقتباس سے مزیّن ہے۔ تقریظ بھی نہایت جامع اور پُرمغز ہے، جس سے ایک طرف تو حضرت شیخ محدث علیہ الرحمہ اور ان کے بلند پایہ شیوخ کا تعارف حاصل ہوتا ہے، جب کہ دوسری طرف ڈاکٹر محمد نذیر رانجھا کے عالمانہ اور محققانہ کام کا اجمالی تعارف بھی سامنے آتا ہے۔

یہ اہم تاریخی تذکرہ جانے کب تک ہماری نظروں سے اوجھل رہتا، اگر اس کے ناشر آگے بڑھ کر اس کی اشاعت کا بیڑا نہ اٹھاتے، لہٰذا ہمیں جناب ناشر اور جناب مرتب و مصحح کتاب ہر دو حضرات گرامی کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کی توجہات اور جذبۂ علم پروری نے علمی دنیا کو اس لازوال تحفۂ علمی سے نوازا ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے سوانح نگار اس اہم ماخذ سے ضرور استفادہ کریں گے۔

حیدرآباد سندھ                                                                                                       شاہ انجم بخاری