مجلات میں ایک اور اضافہ ‘‘رابطۃ علماء السند’’ کے سہ ماہی کتابی سلسلے ‘‘الرابطہ’’ کی شکل میں ہوا ہے۔ ‘‘رابطۃ علماء السند’’ کی بنیاد چند برس پہلے ۱۳ ذوالحجہ ۱۴۴۰ھ / ۱۵ اگست ۲۰۱۹ کو کتاب دوست اور تصنیف و تالیف کا ذوق رکھنے والے سندھ کے چند باہمت نوجوان فاضلینِ مدارس نے رکھی تھی۔ مفتی ولی اللہ سیف اِس تنظیم کے صدر اور جناب محمد احمد مہر اُن کے ساتھ ناظمِ عمومی مقرر ہوئے تھے اور ادارے کا مرکزی دفتر ‘‘جامعہ دارالعلوم-سکھر’’ میں قائم کیا گیا۔ ‘‘رابطۃ علماء السند’’ کو چند تجربہ کار اہلِ علم و دانش کی سرپرستی حاصل ہے جن میں مفتی محمد ادریس السندی اور ام القریٰ یونیورسٹی – مکہ مکرّمہ سے وابستہ قاری عبدالقیوم السندی کے نام سرِفہرست ہیں۔
‘‘رابطۃ علماء السند’’ کے مقاصد میں سندھ کی تراثِ علمی کی حفاظت (خطی نسخوں کی تلاش، ان کے تعارف اور انھیں دورِ حاضر کے علمی تقاضوں کے مطابق مدوّن کرنے) کے ساتھ نوجوان اہلِ علم کی تصنیفی و تحریری تربیت ہے جو تراثِ علمی کی حفاظت کا حق ادا کرسکیں۔ اسی پس منظر میں ‘‘رابطہ’’ نے ‘‘مبادیاتِ تحقیق’’ کے موضوع پر ایک سیمینار سے اپنے کام کا آغاز کیا (۲۴ جولائی ۲۰۲۱)، اب تک اِس سلسلے میں ‘مخطوطہ شناسی’، ‘سندھ کی دینی، علمی، روحانی اور سیاسی تاریخ کے مآخذ اور تحقیق کا طریقۂ کار’ اور ‘مبادیاتِ تحقیق و تصنیف’ پر تین مزید اجتماعات کا اہتمام کیا جاچکا ہے۔
‘‘رابطۃ علماء السند’’ نے اپنے پیغام اور کاوشوں کے تعارف کے لیے صدرِ تنظیم مفتی ولی اللہ سیف کی ادارت میں محرم ۱۴۴۵ھ / جولائی ۲۰۲۳ سے ‘‘الرابطہ’’ کا اجراء کیا ہے۔ اب تک اِس کے پانچ شمارے شائع ہوئے ہیں۔ ہر شمارے کا بڑا حصہ تو اردو تحریروں پر مشتمل ہوتا ہے، البتہ مختصر مختصر حصے عربی اور سندھی زبان میں پیش کیے جاتے ہیں۔
سلسلہ ‘‘الرابطہ’’ کی اشاعتی تفصیل (جس طرح سلسلہ نمبر پر دی گئی ہے) یہ ہے: سلسلہ-۱ (محرم- ربیع الاوّل ۱۴۴۵ھ)، سلسلہ-۲ (ربیع الثانی- جمادی الثانیہ ۱۴۴۵ھ / ۲۰۲۳)، سلسلہ-۳ (رجب- رمضان ۱۴۴۵ھ / فروری – اپریل ۲۰۲۴)، سلسلہ-۴ (شوال- ذوالحجہ ۱۴۴۵ھ / مئی – جولائی ۲۰۲۴)، سلسلہ-۵ (محرم- ربیع الاوّل ۱۴۴۶ھ / اگست – اکتوبر ۲۰۲۴)
سلسلہ-۱تا ۵ کی تحریروں پر ایک نظر ڈالی جائے تو حسبِ ذیل تصویر بنتی ہے۔
۱-سندھ کے خطی ذخائر کے ضمن میں مفتی محمد ادریس السندی کی یہ تین کاوشیں سامنے آئی ہیں:
l سندھ کے مخطوطات: مشکلات اور حل، سلسلہ-۵: ۱۵-۲۶ مفتی صاحب نے ‘‘رابطہ’’ کے زیرِاہتمام پہلے سیمینار ‘مبادیاتِ تحقیق’ میں سندھی میں گفتگو کی تھی جسے اُردو میں حبیب الرحمن خیرآبادی نے منتقل کیا ہے۔
مفتی صاحب نے اُن کے اپنے بقول ‘‘تقریباً بیس سال پہلے’’، یعنی ۲۰۰۱ میں صوبہ سندھ کے ‘‘گاؤں گاؤں اور شہر شہر’’ جا کر خطی نسخوں کی فہرست سازی کا آغاز کیا تھا اور انھوں نے چالیس پینتالیس کتب خانوں کی فہارس مرتب کر لی تھیں جو سندھی ادبی بورڈ-جام شورو کی شائع کردہ فہرست ‘‘خزینۃ المخطوطات’’ (جلد اوّل و جلد دوم) میں دوسرے افراد کی فہارس کے ساتھ شاملِ اشاعت کر لی گئی تھیں، مگر جس شخص نے مختلف افراد سے اُن کی مرتبہ فہارس حاصل کی تھیں، اسی کے نام سے ‘‘خزینۃ المخطوطات’’ شائع ہوئی، اور مفتی صاحب کا نام بطور مصحح درج کردیا گیا۔ اِس صورت حال سے اُن کا دل ٹوٹ گیا، اور انھوں نے جو مزید کام کیا تھا، وہ یونہی رہ گیا۔ (سلسلہ-۵:۱۶)
‘‘خزینۃ المخطوطات’’ کی دو جلدوں سے سندھ کے ذخائرِ کتب میں محفوظ تقریباً بیس ہزار نسخوں کی معرفی ہوئی ہے، مفتی صاحب کے اندازے کے مطابق سندھ میں خطی نسخوں کی تعداد کم و بیش پچاس ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔
l ضلع نوشہروفیروز میں مخطوطات کے ذخائر، سلسلہ-۱: ۱۵-۵۸ (سندھی سے مترجمہ، حبیب الرحمن خیرآبادی) ضلع نوشہروفیروز مفتی صاحب کا اپنا ضلع ہے، اس کے قصبے کنڈیارو میں اُن کی رہایش ہے۔ یہاں اُن کے والدِ گرامی مولانا محمد قاسم سومرو (ولادت: ۱۹۴۲) نے ‘‘قاسمیہ لائبریری’’ کی داغ بیل ڈالی تھی۔ بالفاظ مفتی محمد ادریس السندی: ‘‘۱۹۷۱ میں اُن کے پاس کتابوں کی صرف ایک الماری تھی جس میں خاندانی کتابیں بھی تھیں، پھر قاسمیہ لائبریری ترقی کرتی رہی۔ راقم الحروف بھی اپنے والد کا مددگار رہا۔ اس وقت قاسمیہ لائبریری میں تقریباً ۳۵۰۰۰ کتب و رسائل ہیں۔ — قاسمیہ لائبریری میں تقریباً ۴۰۰ مخطوطات ہیں جن میں سے تقریباً ۴۰ مخطوطات مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کی تصانیف کے نسخے ہیں۔’’ (سلسلہ-۱:۲۴)
ضلع نوشہروفیروز کی بالترتیب پانچ تحصیلوں کی بستیوں کے کتب خانوں کے مجمل تعارف کے ساتھ اُن کے اہم خطی نسخوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تعارفی نوعیت کی اِس تحریر میں خطی نسخوں کے کوائف کا ذکر نہیں کیا جاسکا۔
خطی نسخوں اور مطبوعات کو یک جا کرتے ہوئے مفتی محمد ادریس السندی کی تیسری تحریر کا عنوان یہ ہے: l ساہتی پرگنہ میں تصنیف و تالیف کا جائزہ، سلسلہ-۳: ۱۳-۳۱ ساہتی پرگنہ، ضلع نوشہروفیروز کا علاقہ ہی ہے۔
اسی ضمن میں ایک اور تحریر یہ ہے: l محمد احمد مہر، علماے شکارپور کی عربی اور فارسی تصنیفات کا تعارفی جائزہ، سلسلہ-۴:۶-۱۹
سندھ کی جغرافیائی تقسیم سے قطع نظر شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۰۳-۱۷۶۲) کی معاصرت کے حوالے سے اٹھارہویں صدی عیسوی کے علماء سندھ کی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے: l شعیب جمیل، شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی کے ہم عصر سندھی علماء: تعارف اور خدمات کا جائزہ، سلسلہ-۴: ۲۰-۳۴
علومِ دینیہ کے تخصص کے ساتھ بالترتیب تفسیر، حدیث اور فقہ کی نسبت سے یہ تحریریں سامنے آئی ہیں: l غلام مصطفی قاسمی، ‘علماء سندھ کی تفسیر و فقہ میں کتب’، سلسلہ-۵: ۷۴-۷۹ (سندھی سے ترجمہ، طارق علی عباسی) l وہی مضمون نگار، سندھ میں ائمۂ حدیث اور ممتاز علماء، سلسلہ-۴: ۳۵-۳۸ (سندھی سے ترجمہ، محمد عارف اسحق) l اقرار احمد پیرزادہ، ‘شیخ محمد عابد سندھی مدنی اور اُن کی تفسیر و حدیث میں تصنیفات: ایک تعارف’، سلسلہ-۳: ۳۹-۶۷ l ولی اللہ سیف، ‘المواہب اللطیفہ فی شرح المسند الامام ابی حنیفہ [تالیف شیخ محمد عابد سندھی]: منہج و اسلوب’، سلسلہ-۱: ۸۳- ۱۰۰ l وہی مضمون نگار، ‘علم حدیث کے ارتقاء میں سندھی ممالیک و موالی کا حصہ’، سلسلہ-۵: ۲۷-۷۳ lمفتی محمد ادریس السندی، ‘سندھ میں فنِ افتاء اور علماء سندھ کی فقہی خدمات’، شمارہ-۲:۶-۱ (سندھی سے ترجمہ، حبیب الرحمن خیرآبادی)
علماء و مشاہیر سندھ کے تراجم کے حوالے سے یہ تحریریں شائع ہوئی ہیں۔ (ترتیب میں ایک حد تک تاریخی ادوار پیشِ نظر رکھے گئے ہیں۔): l غلام مصطفی قاسمی، ‘سندھ کے چار ابوالحسن’، سلسلہ-۳: ۳۲-۳۸ (مترجمہ حبیب الرحمن خیرآبادی) l سعید مسعود ساوند، ‘شیخ محمد مراد بن یعقوب سندھی اور اُن کی کتاب ‘‘دفینۃ المطالب [للطالب و الراغب]’’: ایک تحقیقی جائزہ’، سلسلہ-۴: ۳۹-۵۲ lرحمت اللہ امیر، ‘مٹیاری کی چند علمی شخصیات’، سلسلہ-۲: ۶۰-۶۵ l نورمحمد سجاولی، ‘الحاج سیّد عبدالرحیم شاہ سجاولی’، سلسلہ-۴: ۷۴-۷۸ l ‘محمد بنوی فاضلِ دیوبند، خودنوشت سوانح’، سلسلہ-۵: ۸۰-۹۷ (مترجمہ از سندھی، نیاز احمد راجپر) l خالد الحسینی گھوٹو، ‘شیخ الحدیث حضرت مولانا امید علی چنّہ [جیکب آبادی]’، سلسلہ-۱: ۱۰۱-۱۰۷ l مفتی محمد فہیم ملک اعوان، ‘مولانا عبدالحی الحسینی گھوٹو کی دینی و علمی و تصنیفی خدمات’، سلسلہ-۲: ۳۸-۵۹ l قاری عبدالقیوم سندھی، ‘قاری ابوالحسن سکھروی’، سلسلہ-۴: ۵۳-۷۳
حال ہی میں داغِ مفارقت دینے والے جن اہلِ علم کے بارے میں تعزیتی تحریریں شائع کی گئی ہیں، ان میں بالترتیب مدیر ‘‘الرابطہ’’ اور مفتی محمد ادریس السندی نے جانے والوں کے ساتھ اپنی یادیں تازہ کی ہیں: l ‘حضرت مولانا سائیں عبدالصمد ہالیجوی کا سانحہ ارتحال’، سلسلہ-۱: ۱۲-۱۴ l ‘آہ! ڈاکٹر احمدخان بھی چل بسے’۔ سلسلہ-۵: ۷-۱۴
سندھ کی سیاست اور صحافت کے حوالے سے یہ دو اہم تحریریں بھی سامنے آئی ہیں: l لطف اللہ شکارپوری، ‘تحریکِ آزادی میں سندھ کے نومسلموں کا کردار’، سلسلہ-۳: ۶۸-۸۲ l وہی مضمون نگار، سندھ کے اسلامی جرائد کے مدیر علماء: تعارف اور خدمات، سلسلہ-۲: ۱۷-۱۷
نوجوان علماء مدارس حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں کہ انھوں نے تراثِ اسلاف کے تحفظ و احیاء کی جانب توجہ دی ہے، تاہم ‘‘الرابطہ’’ کی اُن اردو تحریروں میں تذکیر و تانیث کا مسئلہ ہے، اور بعض الفاظ کا اِملاء بھی درست نہیں، جو سندھی بولنے والے حضرات نے لکھی ہیں۔ ‘‘تحقیق’’ کا تقاضا ہے کہ روایت کو ازروے درایت بھی دیکھ لیا جائے۔ لکھا گیا ہے کہ ‘‘انگریز کی آمد سے قبل سندھ کے ایک شہر ٹھٹہ میں انگریز مؤرخین کے مطابق چار سو جامعہ اور یونیورسٹی سطح کے علمی مراکز موجود تھے۔’’ (سلسلہ-۱: ۱۰)
یہ روایت سکاٹش سیّاح اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کمانڈر الیگزینڈر ہملٹن کی یادداشتوں A New Account of the East Indies (تالیف: ۱۷۲۷) پر مبنی ہے، اور متعدد اردو مصنفین نے اِسے اپنے اپنے انداز میں نقل کیا ہے۔ ہملٹن نے ‘‘چار سو مدرسوں’’ کا ذکر کیا تھا۔ ہمارے احساسِ تفاخر نے مدرسوں کو یونیورسٹیوں میں بدل دیا ہے۔ ہمارے اسلاف نے روایات کے قبول و رَد کے سلسلے میں جو اصول تجویز کیے ہیں، کیا ہملٹن کی روایت ان پر پوری اترتی ہے؟ اٹھارہویں صدی کی ابتداء میں ٹھٹہ کی آبادی کتنی تھی؟ اور ہملٹن کے ذہن میں ‘مدرسے’ کا تصوّر کیا تھا؟ ان سوالوں کے جواب پر ہی ہملٹن کی روایت قبول یا رَد کی جاسکتی ہے۔ یہ حقیقت پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ سات سمندر پار سے آنے والے انگریزوں میں بہت سے برعظیم کی معاشرتی اور علمی روایات سے مرعوب تھے، مگر مقامی آبادی نوآبادیاتی طاقتوں کی نسبت بہت کمزور تھی جس کے نتائج بتدریج ظاہر ہوتے چلے گئے تھے۔
ایک تحریر میں ‘‘موضح قرآن’’ کو شاہ ولی اللہ دہلوی کی جانب منسوب کردیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ: ‘‘شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے قراء ت کے استاد ایک سندھی عالم شیخ محمد فاضل تھے جس کا ذکر شاہ صاحب نے اپنے ‘موضح القرآن’ کے مقدمہ میں فرمایا ہے۔’’ (سلسلہ-۴:۲۰)
‘‘الرابطہ’’ کا ہر شمارہ ‘‘نقطۂ نظر’’ کے سائز میں ۱۴۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اوسط درجے کے سفید کاغذ پر چھپتا ہے اور فی شمارہ ۲۵۰ روپے قیمت ہے۔
