Nuqta-e-Nazar (Issue No. 01)
علمی مجلات کی مجالسِ ادارت و مشاورت

علمی مجلات کی مجالسِ ادارت و مشاورت
وطن عزیز کی جامعات اور دوسرے تعلیمی و تحقیقی اداروں کی جانب سے شائع ہونے والا کوئی معروف مجلہ اٹھایے تو اِس کے مدیر اور مجلس ادارت کے ساتھ بھاری بھرکم ناموں پر مشتمل مجلس مشاورت، (اکثر قومی، اور بعض اوقات بین الاقوامی کا بھی) اندراج دکھائی دے گا۔ کسی بھی کام میں مشاورت باعثِ خیروبرکت ہے، ایک ایک اور دو گیارہ کی ضرب المثل بار بار سچ ثابت ہوتی ہے۔ مجلے کی پالیسی تو مدیر اور اس کے ادارے کی طے کردہ ہوتی ہے، اور اس کے دائرۂ کار میں آنے والے موضوعات پر تحریروں کا انتخاب بالعموم مجلسِ ادارت ہی کرتی ہے جس کے ارکان کی رسمی اور غیررسمی ملاقات چنداں بار نہیں ہوتی، اور آج کے دور میں ذرائع اطلاعات نے یہ بھی ممکن بنادیا ہے کہ دور دراز کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ارکانِ مجلسِ مشاورت سے راے لے لی جائے۔ یہ سب کچھ اچھا ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجالسِ ادارت و مشاورت واقعی کوئی فعّال کردار ادا کرتی ہیں!
نظر بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ یہ مجالسِ ادارت اپنی فعّالیت کے اعتبار سے شاید کچھ کردار ادا کرتی ہوں، مگر مجالسِ مشاورت تو زیادہ تر تزئینی نوعیت کی ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ بعض حضرات کسی مجلے کے ناشر ادارے کے سربراہ یا مدیر سے اپنا نام مجلس ادارت / مشاورت میں شامل کرنے کی ‘‘معصوم’’ خواہش کا اظہار بھی کردیتے ہیں، اور اکثر اُن کی خواہش کا احترام طوعاً یا کرہاً کرلیا جاتا ہے، کیوں کہ فریقین جانتے ہیں کہ عملاً اِس سے مجلے کے معیار میں کوئی فرق تو پڑنے والا ہے نہیں۔
السنۂ شرقیہ اور سماجی علوم سے تعلق رکھنے والے جو مجلات ہماری نظر سے گزرتے ہیں، ان کی مجالسِ ادارت و مشاورت میں، جامعاتی مجلات کی حد تک، وطن عزیز کی مختلف جامعات کے انہی شعبوں کے سربراہوں کے نام شامل ہوتے ہیں۔ اپنے ادارے کے مجلے میں وہ مدیر ہوتے ہیں، اور باقی مجلات میں شریکِ ادارت یا مشیر۔ کیا ان حضرات کے پاس اپنی مفوضہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اتنا وقت بچ جاتا ہے کہ چھے چھے سات سات مجلات کی مجالسِ مشاورت کی رکنیت کا حق ادا کر سکیں! کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک مدیرِ مجلہ جن افراد کے نام اپنے مجلے کی مجلسِ مشاورت میں شامل کرتا ہے، اُس کا نام، بدلے میں دو چار مجلّوں کی مجالسِ مشاورت میں درج ہو جاتا ہے۔ جامعاتی دائرے سے باہر بھی احباب نوازی، اور ایک حد تک دنیا داری کے یہی انداز پائے جاتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم و تحقیق کی سطح پر جامعاتی مجلات کو موجودہ اہمیت ۲۰۰۲ کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سطح پر اٹھائے گئے اقدامات سے حاصل ہوئی۔ کمیشن نے مجلات کی درجہ بندی کی، ان کے خطوطِ کار تجویز کیے، غالباً انہی خطوطِ کار میں معیاری تحقیق کی خاطر مجالسِ ادارت و مشاورت تجویز کی گئی تھیں، نیز کمیشن نے مالی incentives بھی دیے۔ مجالسِ ادارت و مشاورت کی فعالیت کی ذمہ داری متعلقہ مجلے کے ناشر اداروں پر عائد ہوتی ہے، اگر وہ انھیں کاغذی اہمیت دینے سے زیادہ کے لیے تیار نہیں تو اِس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے!
