اصولِ سیرت

  حافظ عثمان احمد (مصنف) / بصیرت پبلی کیشنز، ۵۵۷ – غوثیہ کالونی، ۲-کلومیٹر کٹار، بند روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ-لاہور / جنوری ۲۰۲۴ / ۳۳۴ صفحات / مجلد مع گردپوش، ۱۲۰۰ روپے

وہ علومِ اسلامیہ، جن پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی اور پیغام کے حوالے سے پہلی صدی ہجری ہی میں کام شروع ہو گیا تھا، اُن میں ایک حدیث کا اور دوسرا سیرومغازی کا علم تھا۔ دوسری صدی ہجری میں فنی اعتبار سے ‘سیرت’ کہلائی جانے والی کتابیں تالیف ہونے لگی تھیں۔ جس طرح حدیث کی تحفیظ و ترویج کے لیے کی جانے والی ابتدائی کوششیں اہم ہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو محفوظ کرنے والے سیرت نگاروں کی کاوشیں بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ سیرت اور حدیث کا گہرا ربط اور تعلق ہے۔ ابتدائی صدیوں میں ان دونوں علوم کے درمیان کوئی فرق نہ کیا جاتا تھا، اور نہ ان کے مابین حدِفاصل کھینچی جاتی تھی۔ جو طریقہ حدیث بیان کرنے کا تھا، وہی طریقہ سیرومغازی کے بیان کے لیے اختیار کیا گیا، یعنی پہلے سلسلۂ رواۃ، اور بعد ازاں متن کا بیان۔

تیسری صدی ہجری سے حدیث اور سیرت کی جداگانہ حیثیت سامنے آنے لگی اور دونوں علوم کے الگ الگ تشخص کی صورت گری ہونے لگی تھی۔

علمی دُنیا کا یہ ایک اہم اور جانا پہچانا کلّیہ ہے کہ علم پہلے وجود پذیر ہوتا ہے، اور اِس کے اصول و قواعد، اس کی ارتقائی منزل میں، بعد میں مرتب ہوتے ہیں۔ علمِ سیرت، جب اپنی جداگانہ حیثیت میں آگے بڑھا تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کے بھی کچھ اصول و ضوابط سامنے آئے۔ مختلف سیرت نگاروں نے مختلف اور منفرد اصولوں کے تحت سیرت نگاری کی، مگر انھوں نے اپنے اختیار کردہ اصولوں کو بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، بلکہ متأخر سیرت نگاروں نے ان کی نشان دہی کی۔ علم حدیث کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ متقدم محدثین نے اصول و ضوابط کے تحت روایتیں قبول کیں، مگر اپنے اختیار کردہ ہر ایک اصول کی صراحت نہیں کی۔ امام بخاری (م۸۷۰) روایت کی قبولیت کے لیے رواۃ کی باہمی رؤیت (ملاقات) کی شرط عائد کرتے ہیں، جب کہ امام مُسلم (م۸۷۵) صرف اُن کی معاصرت کو کافی سمجھتے ہیں۔ صحیح روایات کے مجموعے مرتب کرنے والے دونوں محدثین نے اپنی کتابوں میں اپنا اپنا یہ اصول تصریحاً بیا ن نہیں کیا، بلکہ بعد کے محدثین نے اپنی دقتِ نظر کے نتیجے میں ان اصولوں کا استخراج کیا، اور اپنے اپنے زاویۂ نظر کے مطابق ایک کو دوسرے پر ترجیح دی۔ محدثین، اور فقہاء کے غوروفکر کے نتیجے میں اصول الحدیث پر مستقل بالذات کتب مرتب ہو گئیں، اور اُردو میں قابلِ لحاظ تعداد میں دوسری زبانوں سے مترجمہ اور مستقل بالذات کتابیں موجود ہیں۔

اصول الحدیث کے برعکس اصولِ سیرت کے حوالے سے اردو میں کوئی قابلِ ذکر کتاب موجود نہیں۔ علّامہ شبلی نعمانی (م۱۹۱۴) نے اپنی تالیف ‘‘سیرۃ النبیؐ’’ کے مقدمے میں اصولِ سیرت نگاری ضرور بیان کیے ہیں۔ اس طویل مقدمے میں حدیث و سیرت اور مستشرق سیرت نگاروں کے حوالے سے عالمانہ نکات بیان کیے گئے ہیں۔ علّامہ نے سیرت نگاری میں اپنے متقدمین سے اختلاف کیا ہے۔ سیرت نگاری میں ایک اہم مسئلہ یہ رہا ہے کہ حدیث اور تاریخی روایات (بالفاظِ دیگر سیرت کی روایات) میں تعارض کی صورت میں ترجیح کا اصول کیا ہو؟ علّامہ کا کہنا ہے: ‘‘سیرت کی روایتیں بہ اعتبار پایۂ صحت، احادیث کی روایتوں سے فروتر ہیں، اس لیے بصورتِ اختلاف احادیث کی روایات کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی۔’’ (مقدمہ ‘‘سیرۃ النبیؐ’’، جلد اوّل، کراچی: دارالاشاعت، ۱۹۸۵:۶۱)۔ یہ اور اُن کے اخذکردہ کچھ اورر اصول، اور ان کے نتائج ایسے ہیں جن میں اختلاف کی گنجایش موجود ہے، واقدی (م قیاساً ۸۲۲) کے بارے میں اُن کا ‘‘حکم’’ بھی انہی محلِ نظر نتائج میں سے ایک ہے۔

زیرِنظر کتاب کے فاضل مصنّف (ادارہ علومِ اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی-لاہور کے حافظ عثمان احمد) نے لٹریچر ریویو میں ایک غیراہم کتاب کا ذکر کیا، اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے، ایم-فل کے ایک مقالے ‘‘اصولِ سیرت نگاری: چند بنیادی مباحث’’ کا تعارف لکھا ہے، مگر علامہ شبلی نعمانی کے فاضلانہ مقدمے کو درخورِ اعتناء نہیں سمجھا۔

جناب حافظ صاحب نے ‘اصولِ سیرت’ کے حوالے سے موجود علمی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کا یہ دوسرا ایڈیشن ہے۔ پہلا ایڈیشن ‘‘علم اصولِ سیرت’’ کے عنوان سے شائع ہوا تھا (لاہور: عکس پبلی کیشنز، ۲۰۱۸)۔ مصنّف کا کہنا ہے کہ کتاب میں، وہ اصولِ سیرت کے نئے مباحث سامنے لائے ہیں۔ دراصل یہ نئے مباحث نہیں ہیں، ان پر متقدمین کی آراء موجود ہیں، البتہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ اصولِ سیرت کے مباحث کو نئے انداز سے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب دو ابواب (جنھیں دو حصے کہنا زیادہ مناسب ہو گا)  lاصولِ سیرت (صفحات ۳۵-۱۲۸) lتحقیقاتِ سیرت (صفحات ۱۲۹-۳۳۴)  پر مشتمل ہے۔ پہلا باب ہی عنوانِ کتاب سے براہ راست متعلق ہے۔

فاضل مصنّف علم سیرت کے چار محاور بیان کرتے ہیں: ۱) ذاتِ رسولؐ، ۲)صفاتِ رسولؐ، ۳)حالاتِ رسولؐ، ۴)منسوباتِ رسولؐ۔ مصنّف سیرت نگاروں کو اصولِ سیرت کی تعیین و تشکیل میں اجتہاد کا حق دیتے ہیں، اس حوالے سے زیرِ تبصرہ دوسرے ایڈیشن کے ‘‘مقدمے’’ میں مصنّف بعض محدثین کی اختلافی راے کو دلیل بناتے ہیں۔ (صفحات ۲۸-۳۰)

فاضل مصنّف نے اصولِ سیرت کو اصول حدیث کی طرح ایک علیحدہ علم کی حیثیت میں لیا ہے، اس کی تعریف متعین کی ہے، اور اِس تعریف کی بنیاد پر علم سیرت کے اصولوں کی انواع بیان کی ہیں، تاہم یہ سوال علی حالہٖ اپنی جگہ پر ہے کہ ‘اصولِ سیرت’ ایک علیحدہ علم ہے یا ‘علم سیرت’ کا ایک جزو!

روایات پر سیرت و حدیث میں تعارض اور ان کے مابین اصولِ ترجیح کے تحت عمدہ بحث کی گئی ہے، اور یہ اصول متعین کیا گیا ہے کہ روایتِ سیرت کا تعلق، اگر تشریعی امور سے ہے تو روایتِ حدیث کو ترجیح حاصل ہو گی، اور اگر روایتِ سیرت کا تعلق تاریخی معاملات سے ہے تو تعارض کی صورت میں (اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو) روایتِ سیرت کو ترجیح دی جائے گی۔ جناب مصنّف نے اس بحث کو متعدد مثالوں سے ثابت کیا ہے۔ یہ اصول قدیم علماء اور سیرت نگاروں نے برتا ہے، اور خود مصنّف نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ‘‘یہ اصول قدیم علماء میں سب سے زیادہ واضح طور پر علّامہ سیوطی کے ہاں مستنبط ہوتا ہے اور برصغیر کے سیرت نگاروں میں مولانا ابوالبرکات عبدالروف دانا پوری اور مولانا مناظراحسن گیلانی کے ہاں اس اصول کی تصریحات موجود ہیں۔’’ (ص۴۴)

واقعاتِ سیرت میں اہلِ کفر سے روایت کی شرعی حیثیت کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ جناب مصنّف کفر کو ارتداد اور زندقہ سے الگ کرتے ہوئے کفارِ اصلیہ کی اُن روایاتِ سیرت کو (جن کا تعلق امورِ شرعیہ سے نہ ہو) قبول کرنے کی گنجایش تسلیم کرتے ہیں۔ عربِ جاہلیہ کی تفصیلات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور اہلِ بیت کے انساب کی اطلاعات انہی سے مروی ہیں، اس سلسلے میں فاضل مصنف نے موقف ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث اور علماے سیرت کا تعامل بیان کیا ہے۔

جناب مصنّف نے واقعاتِ سیرت بیان کرنے، اور ان پر کما حقہٗ بحث کرنے کے بعد اُن سے ‘اصول’ کا استخراج کیا ہے، مثلاً ‘‘واقعہ شعبِ ابی طالب کی تاریخی حیثیت’’ پر بحث کے بعد یہ اصول بیان کیا ہے: ‘‘سیرت کے تاریخی واقعات کو عقلی تناظر میں پَرکھنا درست نہیں، کیوں کہ اخبار و واقعات کی صحت محض عقلی انتقاد سے معلوم نہیں ہوتی، بلکہ خبر دینے والے کے صدق و کذب یا خبر کی شہرت و اشاعت سے اس کی حیثیت متعین ہوتی ہے۔ عہدِ رسالت میں کوئی واقعہ پیش آیا یا نہیں؟ اس کی تصدیق و تکذیب محض عقل سے نہیں کی جاسکتی۔’’ (ص۱۱۱)

کتاب کے دوسرے باب میں مختلف امور کی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں جناب مصنّف نے قبر نبوی پر قبّے کی شرعی حیثیت، حرمِ مدینہ کے شرعی احکام، مدینہ منورہ کی طرف سفر کی شرعی حیثیت، مدینہ اور اس کی اشیاء کی اہانت کا شرعی حکم، مقاماتِ مقدّسہ کے انہدام کی شرعی حیثیت وغیرہ کے تحت فقہاء کے بیانات کا تجزیہ کرکے کسی ایک موقف کو ترجیح دی ہے۔ فقہ و فتویٰ سے متعلق ان مباحث کے بعد جناب مصنّف نے مشبہون برسول اللہ (وہ افراد جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بدنی مشہابہت رکھتے ہیں) کی فہرست مہیّا کی ہے، اور باب کا خاتمہ دعوتی مکتوباتِ نبوی سے چند استنباطات اور استدلالات پر کیا گیا ہے۔

‘‘اصولِ سیرت’’ اپنے موضوع پر زیادہ تسہیل کے ساتھ اور زیادہ مربوط انداز میں روشنی ڈالتی ہے۔ اس حوالے سے جامعاتی سطح پر سامنے آنے والی اپنوں اور غیروں کی تحقیقات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ اپنے طور پر تحقیق کا ایک عمدہ موضوع بن سکتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا، اگر فاضل مصنّف کتاب کے دونوں ابواب کا ‘‘خلاصۂ بحث’’ چند صفحات میں پیش کر دیتے!

مدیر، مجلہ ‘‘الایّام’’ (کراچی)                                                                                               نگار سجاد ظہیر