دیب الخضراوی (مرتب)، اخلاق احمد قادری (مترجم و محقق) / سٹی بک پوائنٹ، اردو بازار، نزد مقدس مسجد – کراچی / ۲۰۲۱ / ۸۱۵ صفحات / مجلد مع گردپوش، ۲۲۰۰ روپے
دیب الخضراوی نے عربی سے انگریزی، اور انگریزی سے عربی ‘‘قاموس الالفاظ الاسلامیہ’’ مرتب کی جس کے غالباً دو ایڈیشن شائع ہوئے ہیں۔ الیمامہ للطباعۃ و النشر و التوزیع کی جانب سے اس کا شائع شدہ (بدونِ سال طباعت) ایڈیشن ہمارے پیش نظر ہے۔ جناب مرتب نے حصۂ انگریزی – عربی کے دیباچے میں اپنے قارئین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے: ‘‘زندگی کے متعدد شعبوں سے متعلق قوامیس موجود ہیں، لیکن ہمارے ہاں اب تک اسلامی اصطلاحات کے بارے میں کوئی تشریحی قاموس نہیں، اس لیے میں نے زیرِنظر قاموس سے یہ خلا پُر کرنے کی کوشش کی ہے، اور مجھے امید ہے کہ یہ قاموس اسلام کی بہتر تفہیم کی جانب ایک بڑا ذریعہ [ثابت] ہو گی — جہاں تک اِس قاموس کے مندرجات کا تعلق ہے، اس میں اسلام کے مختلف پہلو شامل ہیں، مثلاً الفاظِ قرآن (قرآن پاک کی بعض آیات سے واضح کردہ)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، عبادت، شادی بیاہ، تفریق و طلاق، ہماری تراث، اصطلاحاتِ فقہ، اسلام میں حلال و حرام، اسلام میں قانون سازی کے مصادر اور متعدد دوسرے مسائل و مباحث۔’’
قاموس سے استفادے کے بارے میں دیب الخضراوی نے لکھا کہ عرب قارئین کسی بھی عربی-انگریزی اور انگریزی-عربی قاموس کی طرح اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ عربی زبان کے لغت بالعموم الفاظ کے سہ حرفی مادے کی الف بائی ترتیب پر تیار کیے جاتے ہیں، اور سہ حرفی مادے سے مشنق الفاظ بھی اِسی ضمن میں مرتب کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ ‘‘اسلام’’ کا معنی و مفہوم جاننے کے لیے اِسے مادہ س ل م کے تحت تلاش کرنا ہو گا، اور وہیں س ل مسے بننے والے الفاظ اَسْلَمَ، سلَّم، اِسْتِلام، اسلام، اسلامی، اسلامیۃ، سِلم، سالِم، سلّام، مُسلم، مُسْتَسْلِم، مسلّمہ، سلیم، تَسْلِیم، السّلام وغیرہ اور ان کے معانی بیان کر دیے جائیں گے۔ انگریزی-عربی لغت میں انگریزی الفاظ الف بائی ترتیب کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، البتہ ایک لفظ میں کچھ اضافے یا تبدیلی سے بننے والے الفاظ یک جا بھی ہوسکتے ہیں۔
جناب اخلاق احمد قادری نے دیب الخضراوی کی اِس قاموس کو اردو دان قارئین کے لیے عربی و انگریزی سے اُردو میں منتقل کیا ہے۔ عربی اور اُردو لغات کی ترتیب و تدوین میں یہ اصولی فرق پایا جاتا کہ عربی لغت نگاری کے اصول کے برعکس اُردو لغات میں ہر لفظ کو کامل طور پر لیتے ہوئے، اس کے بنیادی مادے سے قطع نظر، اسے الف بائی ترتیب سے درج کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مادہ س ل م کے تحت درج شدہ تراکیب اُردو لغت میں الف بائی ترتیب سے بکھر کر مختلف اجزاے لغت کا حصہ بن جائیں گے۔ اگر جنابِ قادری اُُردو لغت کے طور پر ‘‘قاموس الالفاظ الاسلامیہ’’ کو بغیر کسی اضافے کے مرتب کردیتے تو بھی اپنے طور پر یہ ایک کام ہوتا، مگر انھوں نے لُغت کو بنیاد بناتے ہوئے اِسے انسائیکلو پیڈیا (دائرۃ المعارف) بنانے کا ارادہ کرلیا جو اُن کے بلند حوصلے کی علامت ہے۔
جنابِ قادری کے کریڈٹ پر زیرنظر کام جیسی متعدد دوسری مہمات ہیں۔ ‘‘نقطۂ نظر’’ کے گزشتہ شمارے میں اُن کی مترجمہ (مع اضافاتِ کثیرہ) کاوش ‘‘انسائیکلو پیڈک ڈکشنری آف صوفی ازم’’ کا تعارف شائع ہو چکا ہے۔ اس نوعیت کے کام بالعموم ادارے انجام دیتے ہیں جو اپنے اپنے شعبہ ہاے علم کے متخصص افراد سے مدد لیتے ہیں، اُن سے اندراجات لکھواتے ہیں، یا کم از کم اُن کی نظرثانی کے بعد انھیں کتاب کا جزء بناتے ہیں، نیز ادارے پورے غوروفکر کے ساتھ بنیادی اُمور طے کرلیتے ہیں، اور ان کی روشنی میں ہی اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اِس سلسلے کا پہلا کام تو یہ ہوتا ہے کہ کون کون سے علمی و فکری موضوعات پیشِ نظر رکھے جائیں گے۔ ان موضوعات کے حوالے سے کن اہلِ فکر، اہم علمی و تعلیمی اداروں، بلاد و اماکن، امہاتِ کتب وغیرہ پر اطلاعات یک جا کی جائیں گی۔ اِس بنیادی کام کے بعد طے کیا جاتا ہے کہ کسی اندراج کی طوالت زیادہ سے زیادہ کس قدر ہو گی؟ کون کون سی اطلاعات (دستیاب ہونے کی صورت میں) لازماً فراہم کی جائیں گی؟ فراہم کردہ اطلاعات کا مأخذ مذکور ہو گا یا نہیں؟ اگر مأخذ کا ذکر ضروری سمجھا جائے تو اسلوبِ اظہار کیا ہو گا؟ سنین کے سلسلے میں کس تقویم سے کام لیا جائے گا، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دائرۃ المعارف میں صرف ہجری تقویم کافی رہے گی یا مروجہ عیسوی تقویم سے کام لیا جائے گا، یا دونوں کا اندراج ہو گا، مزید براں ہجری تقویم میں بھی ہجری قمری تقویم پیشِ نظر ہو گی، یا ہجری شمسی؟
دائرۃ المعارف کے لیے جملہ اطلاعات فراہم ہو جانے کے بعد دوسرا بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ اطلاعات کسی غلطی کے بغیر قارئین تک پہنچائی جائیں، اگر بہت محنت اور لگن سے مہیا کردہ اطلاعات اغلاطِ کتابت سے مملو زبان میں شائع کی جائیں تو سارے کام پر پانی پھر جائے گا۔ یوں تو ہر کتاب کا متن اغلاطِ کتابت سے پاک ہونا چاہیے، مگر یہ احتیاط لغات اور دائرۃ المعارف طرز کی کتابوں میں کہیں زیادہ ہونا چاہیے۔ اگر کاتب کی غلطی سے اعداد صحیح طور پر درج نہ ہوسکیں تو افراد / واقعات کے عہد میں برسوں، بلکہ صدیوں کا فرق پڑ جاتا ہے۔
جناب اخلاق احمد قادری نے عربی-انگریزی لغت کو، جو عربی الفاظ کے مادے کی بنیاد پر مرتب کی گئی تھی، جب اُردو میں منتقل کرنے کا ارادہ کیا تو آغاز ہی میں الف ممدودہ اور الف مقصورہ کے ابواب کا مسئلہ پیدا ہوا۔ (جب کہ دیب الخضراوی کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہ تھا)۔ آثم ‘اث م’ کے تحت اور الآخرہ ‘اخ ر’ کے تحت باب ‘‘أ’’ میں تھے، جب کہ اردو ترجمۂ لغت میں آثم الف ممدودہ ‘‘آ’’ اور اثم الف مقصورہ کے ابواب میں آئے۔ جناب قادری نے اُردو میں ‘‘آ’’ کے تحت آنے والے الفاظ الگ کرنے کی کوشش کی اور ترکی و فارسی الفاظ و تراکیب (مثلاً آب دست، آخوند اور آق سراے وغیرہ) اپنے طور پر اضافہ کیے ہیں۔ ہم نے عربی اور اُردو لغاتوں کے ترتیبی فرق پر اوپر مادہ س ل م کی نسبت سے جو مثال دی تھی، جناب قادری نے بجا طور پر ‘اسلام’ کو الف سین کے ذیل میں، تسلیم ت س کے تحت، سالم اور سلیم بالترتیب س ا اور س ل کی پٹی میں درج کیے ہیں، مگر یہ انداز پوری قاموس میں اختیار نہیں کیا جاسکا۔
‘انسائیکلو پیڈک ڈکشنری آف اسلام’ میں ‘‘قاموس الالفاظ الاسلامیہ’’ کے انداز پر ہر لفظ / ترکیب کے بعد اس کا متقابل انگریزی لفظ یا اس کا مفہوم درج کیا گیا ہے، اور حسبِ ضرورت تشریح کی گئی ہے۔ کبھی تو تشریح اصل متن کے مطابق ہے، اور کبھی متن کی تشریح کو نظرانداز کرتے ہوئے نئی تشریح لکھی گئی ہے۔ کہیں کہیں متن سے اختلاف بھی کیا گیا ہے۔
اندراجات کی صحت و سقم کے بارے میں کچھ لکھنا، کتاب کی اِس اشاعت کے حوالے سے بالکل بے سُود دکھائی دیتا ہے۔ اس میں کتابت کی اِس قدر اغلاط ہیں کہ اِس سے استفادے کی سفارش کرنا بھی مشکل ہے۔ نظر بظاہر جناب قادری نے بے حد محنت کی ہے، مگر کتابت کی صحت کا خیال نہ رکھنے پر وہ ساری اکارت چلی گئی ہے۔
محسوس ہوتا ہے کہ جناب اخلاق احمد قادری کو صحتِ کتابت کے بارے میں اطمینانِ خاطر نہ تھا، چنانچہ انھوں نے اپنے الفاظ میں یہ ‘‘اعترافِ کم مائیگی’’ شامل کیا ہے: ‘‘میں اخلاق احمد قادری اور میرے عزیز دوست محمد عمر ندیم صاحب اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم دونوں نے کتابِ ہذا یعنی ‘انسائیکلو پیڈک ڈکشنری آف اسلام’ کی پروف ریڈنگ پورے ہوش و حواس میں کی ہے، مگر کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ میں بعض اوقات غلطیاں رہ جاتی ہیں۔ قارئین سے التماس ہے کہ ایسی کوئی غلطی یا اغلاط نظر سے گزریں تو انھیں انسانی سہو سمجھتے ہوئے معاف کردیں، کیوں کہ انسان تو .غلطی اور خطا کا پُتلا ہے، اور ایسی اغلاط کی نشان دہی فرمائیں تاکہ آیندہ ایڈیشن میں اِن غلطیوں سے بچا جا سکے۔’’ (ص۶)
جناب قادری کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ‘‘قاموس’’ (‘انسائیکلو پیڈک ڈکشنری آف اسلام’) کے پہلے صفحے پر صحتِ کتابت کے لحاظ سے ایک نظر ڈال لیتے ہیں (ہر صفحہ دو کالموں میں منقسم ہے۔ زیرِنظر صفحے کے دونوں کالموں میں ۲۷، ۲۷ سطریں ہیں)۔ اغلاط من و عن نقل کرتے ہوئے قوسین میں درست لفظ یا الفاظ/ ترکیب لکھ دی گئی ہے:
کالم-۱، سطر۵: Abulution (Ablution)
سطر۶: Run Away (Runaway)
سطر ۸: آبی الزکاۃ (آتی الزکاۃ)
سطر ۸: Zakkah (Zakat / Zakah)
سطر ۱۴: ضیانت (صیانت)
سطر ۱۰: پیش (پیش پیش)
سطر ۲۰: سطر کی آخری ترکیب (مرکب عطفی) کا اندراج ‘‘آثم’’ سے کوئی تعلق نہیں۔
اسے یعنی ترکیب ‘‘آجرواجیر’’ کو نئی سطر سے شروع ہونا چاہیے۔
سطر ۲۲: الآخرۃ (آخَرُ) ‘‘قاموس الالفاظ الاسلامیہ’’ میں پہلے لفظ ‘آخَرُ’ اور پھر ‘آخرۃ’ کا اندراج اور وضاحت ہے۔ سطر ۲۲ اور سطر ۲۳ دونوں میں ‘‘الآخرۃ’’ درج ہو گیا ہے۔
کالم-۲، سطر۲: الآخرت والاولیٰ (الآخرۃ والاولیٰ)
۴: آلآخر الموجودات (آخر الموجودات)
۹-۱۰: Judgment Day (Judgement Day)
۲۱: جدید دور اسلامی اساتذہ [جدید دور کے اسلامی اساتذہ] برسبیل تذکرہ ‘‘آخوند سوات’’ کے بارے میں یہ اطلاعات فراہم کی گئی ہیں: ‘‘جدید دور [کے] اسلامی اساتذہ اور معلموں میں سے ایک۔ اس نے ۱۸۷۶ میں وفات پائی تھی۔ وہ سوات کے شہر سیدوشریف میں رہتا تھا’’ (ص۸۲)۔ اخوند صاحب سوات انیسویں صدی کے معروف قادری بزرگ تھے، اُن کا اسمِ گرامی عبدالغفور تھا، اور اُن کے معتقد خلفاء میں اوان شریف (ضلع گجرات) کے مولانا سلطان محمود (م۱۹۱۹) شامل تھے، اِسی طرح خانقاہ مانکی شریف کے بانی پیر عبدالوہاب کو بھی آخوند صاحب سوات سے خلافت حاصل تھی۔
