فکرِ غامدی

ایک تنقیدی جائزہ  محمد مشتاق احمد (مصنّف) / روایت پبلشرز – [اسلام آباد] / ۲۰۲۴ / ۳۹۲ صفحات / جلد کارڈ بورڈ، ۱۶۰۰ روپے

[مطالعۂ مذاہب میں تصورات و احکام کی تعبیرو تشریح میں لگی بندھی آراء سے ہٹ کر شاذ اور متفرد آراء پیش کیے جانے کی کوئی کمی نہیں۔ یہ رویّہ ہر دور میں ملتا ہے۔ دورِ حاضر میں وطن عزیز، اور اردو زبان کے قارئین کی حد تک جن اہلِ علم نے اپنے تفردات کی بنیاد پر گزشتہ نصف صدی میں بتدریج توجہ حاصل کی ہے، اُن میں جناب جاوید احمد غامدی کا نام خاصا نمایاں ہے۔ اُن کے افکار و آراء پر متعدد تحریریں سامنے آچکی ہیں۔ حال ہی میں جناب محمد مشتاق احمد کی زیرنظر کاوش شائع ہوئی ہے۔

جنابِ مصنف نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی – اسلام آباد سے ایل ایل-ایم (شریعت و قانون) اور پی ایچ-ڈی (اسلامی قانون و اصول) کی سندات حاصل کی ہیں۔ اپنی مادرِ علمی میں کم و بیش ۱۵-۱۶ برس ذمہ دارانہ علمی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان دنوں شفاء تعمیر ملّت یونیورسٹی – اسلام آباد میں شعبۂ قانون کے استاد کی حیثیت سے فرائضِ منصبی ادا کر رہے ہیں۔ وہ اپنے بقول ۱۹۹۰ کی دہائی کے نصفِ آخر میں جنابِ غامدی کے فکر سے آشنا ہوئے، اور انھوں نے مولانا امین احسن اصلاحی (م۱۹۹۷) کی تفسیر ‘‘تدبرقرآن’’ کا بامعانِ نظر مطالعہ کیا۔ اسی ضمن میں انھوں نے مولانا حمیدالدین فراہی (م۱۹۳۰) کی دستیاب تحریروں سے استفادہ کیا۔ جناب غامدی سے اُن کا ربط و تعلق بتدریج بڑھتا رہا، حتیٰ کہ ۱۹۹۹ میں انھوں نے جنابِ غامدی سے مراسلت کا سلسلہ شروع کیا جو جنوری ۲۰۰۰ میں ڈاکٹر محمد فاروق خاں شہید کے توسط سے پہلی بالمشافہہ ملاقات تک پہنچا۔۲۰۰۲ کے وسط تک ذاتی روابط، اگرچہ قائم رہے، تاہم اِس دوران میں اختلاف کے پہلو سامنے آنے لگے تھے، یوں جنابِ غامدی سے اُن کا فکری ربط کمزور سے کمزورتر ہوتا چلا گیا، حتیٰ کہ جب وہ ۲۰۱۶ میں سوشل میڈیا کی دُنیا میں آئے تو انھوں نے یہاں غامدی صاحب اور اُن کے احباب و تلامذہ کی پوڈکاسٹ (podcasts) دیکھیں، جن میں اُن کے الفاظ میں: ‘‘دینی علوم اور فقہاء، اصولیین، متکلمین، مفسرین، محدثین اور صوفیہ کے متعلق عمومی طور پر تضحیک اور تحقیر کی فضا پائی جاتی’’ تھی (ص۷)، چنانچہ انھوں نے فکرِ غامدی کا جائزہ و تجزیہ شروع کیا، نتیجہ واضح تھا کہ مباحثے کی صورت پیدا ہو گئی، اور انھیں اپنے نقطۂ نظر کی کھل کر وضاحت کرنا پڑی، اور غامدی صاحب کی نمایندہ کتب سے اُن کے افکار و آراء کا محاکمہ کرنا پڑا۔ زیرنظر کاوش جناب محمد مشتاق احمد کے طویل عرصے کے مطالعے، غوروفکر اور اس کے حاصلات پر مشتمل ہے۔

ہماری استدعاء پر جناب محمد انور عباسی نے ‘‘فکرِ غامدی: ایک تنقیدی جائزہ’’ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ جناب مصنف اپنی کاوش میں جنابِ غامدی کی، اگر جُملہ شاذ اور متفرد آراء اور رویوں کا مفصّل جائزہ نہیں لے سکے، تو کم از کم انھوں نے زیادہ تر پہلووں کا احاطہ کیا ہے۔ ذیل میں کتاب کے چار حصوں اور ان کی ابواب بندی پر ایک نظر ڈال لینا عام قارئین کے ساتھ، فکرِغامدی سے آگاہ لوگوں کے لیے بالخصوص مفید ہو گا۔

m حصہ اوّل، ‘اصولی مباحث’ (صفحات ۱۰-۱۷۸) اِن چھے ابواب میں منقسم ہے: lنواستشراق کے مذاہبِ اربعہ l تصورِ نظمِ قرآن l پورے قرآن کا قطعی الدلالۃ ہونے کا نظریہ lتصوّرِ سنت و حدیث l نظریۂ اتمامِ حجت l تصور عقل و فطرت

m حصہ دوم، ‘تصورِ دین و شریعت’ (صفحات ۱۷۹-۳۲۷) کے دس ابواب یہ ہیں: lسیّدنا ابراہیمؑ و سیّدنا اسمٰعیلؑ کی قربانی l محدود تصورِ شریعت l ‘‘چند احکام’’ کا مغالطہ lاسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کی حقیقت l تصورِ زکوٰۃ کے داخلی تناقضات l کیا حدود و قصاص کی سزائیں صرف عہدِ رسالت تک تھیں؟ l زنا بالجبر کے لیے معیارِ ثبوت l عدّت کے متعلق غلط فہمیاں lوراثت اور وصیت کے متعلق غلط فہمیاں l مسلمانوں اور غیرمسلموں کے تعلقات

m حصہ سوم، ‘جہاد’ (صفحات ۳۲۸ – ۳۶۱) کے تین ابواب: l تصورِ جہاد پر اشکالات l بین الاقوامی قانون کے متعلق لاعلمی l مسئلۂ فلسطین کے متعلق غلط فہمیاں

m حصہ چہارم، ‘دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ’ (صفحات ۳۶۲ – ۳۸۱) کے ابواب کی تفصیل یہ ہے: l انتہا پسندی کے مخالفین کی انتہا پسندی l تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے! l ‘المورد’ کی خانگی سیاست میں دو قابلِ توجہ پہلو        (ادارہ)

عام طور پر کسی مسئلے کی جانچ پڑتال کرکے اُسے درست یا نادرست قرار دیے جانے میں اکثریتی راے کا بڑا دخل ہو تا ہے۔ عوام ہی نہیں، بلکہ اہلِ علم کا ایک بڑا طبقہ بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہے، تاہم اگر غور کیا جائے تو کسی راے کو اختیار کرنے والوں کی کثرت اس کے صواب و برحق ہونے کی قطعی اور شافی دلیل نہیں ہوتی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تنقید، بالعموم اُن افکار پر ہی ہوتی ہے جو مروجہ رُخ سے ذرا ہٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک زمانہ آتا ہے، جب لوگ تنقیدوں کو بھول بھال کر ان ہی افکار سے جُڑ جاتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ (م۱۳۲۸)، شاہ ولی اللہ دہلوی (م۱۷۶۲) اور مولانا مودودی (م۱۹۷۹) اس مظہر کی نمایاں مثالیں ہیں۔

شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ ایسے مسائل جن میں اختلاف تعبیر کا امکان موجود ہو، اِن میں تاویل کی راہ اختیار کرنے، اور نہ کرنے والے دونوں گروہ ہی راہ حق پر ہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے پر اپنی برتری کا اظہار کرے۔ تاریخ اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ متفرد یا شاذ آراء و اقوال کی حیثیتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ایک نسل کے علماء و مجتہدین کے شاذ تصور کیے جانے والے افکار بعد کی نسلوں میں قبولیت اختیار کرلیتے ہیں۔ اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے تفردات ہمارے ہاں کیا درجہ رکھتے ہیں۔

ہماری راے ہے کہ کسی علمی مسئلے پر انفرادی راے ہر صاحبِ علم اور صاحبِ مطالعہ و تحقیق کا حق ہے۔ کسی بھی راے پر تنقید تو ہر لحاظ سے کی جاسکتی ہے، مگر علی الاطلاق اس بنیاد پر کسی کو گمراہ وغیرہ قرار دینا قطعاً درست نہیں۔

ذیل میں جو گزارشات پیش کی جارہی ہیں، وہ ایک ایسے طالب علم کی طرف سے ہیں جو جناب غامدی صاحب کا قاری ہے، اور جناب محمد مشتاق احمد صاحب کی کاوش کا معترف ہے، ان گزارشات یا یوں کہیے کہ وارداتِ قلبی کا واحد مقصد طرفین کے موقف کی تفہیم ہے۔  ہم سخن فہم ہیں، غالب کے طرف دار نہیں۔

جناب محمد مشتاق احمد کی کتاب کا پہلا حصہ (اصولی مباحث) غامدی صاحب کی مجموعی فکر کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ تصورِ نظم قرآن کے حوالے سے غامدی صاحب اور جناب مصنّف دونوں اس حقیقت کے معترف ہیں کہ اسلاف میں سے بعض بزرگوں نے آیات و سُوّر کے ربط کے حوالے سے غوروفکر کیا ہے، مگر غامدی صاحب جس تصور نظمِ قرآن پر اپنے فکر کو استوار کرتے ہیں، اُس کی اپنی تمام جزئیات کے ساتھ دریافت کا سہرا مولانا حمیدالدین فراہی کے سر سجتا ہے۔ یہی حقیقت اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تخمین و ظن پر مبنی ایک طبقے کی سوچ ہے۔ جناب محمد مشتاق احمد صاحب نے اصولی حیثیت سے بڑے جان دار دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اس تصور نظمِ قرآن کی کوئی دینی حیثیت نہیں، تاہم تنقید میں وہ عدمِ توازن کا شکار ہو گئے ہیں جس کا ذکر ہم اپنی گزارشات کے آخر میں کریں گے۔

قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کا نظریۂ فہمِ قرآن کے لیے انتہائی اہم ہے اور اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے راقم کو غامدی صاحب کا نقطۂ نظر زیادہ اقرب الی الصواب دکھائی دیتا ہے۔ فریقین کے دلائل سے قطع نظر راقم کے نزدیک اس کی ایک ہی دلیل ہے کہ ہر لکھاری کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اُس کی تحریر بحیثیت مجموعی اور اس کی تحریر کا ایک ایک جملہ اپنے مفہوم میں واضح اور قاطع ہو۔ کوئی لکھاری بالکل یہ پسند نہیں کرے گا کہ تحریر میں کوئی جملہ یا لفظ استعمال ہو جائے جس کا مفہوم اس کے قاری پر واضح نہ ہو، اور وہ اس کا کوئی الٹا مفہوم لے اڑے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید، جب انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے تو اِسے اپنے مفہوم میں لازماً قاطع ہونا چاہیے۔ مختصراً راقم کی نظر میں غامدی صاحب کا زاویۂ نظر درست اور جناب محمد مشتاق احمد کی تنقید ناروا دکھائی دیتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

جناب غامدی کے افکار میں سب سے زیادہ متنازع فیہ اُن کا ‘تصورِ سنت و حدیث’ ہے جس پر اُن کے گمراہ ہونے پر علماء کرام متفق ہوئے ہیں۔ اس پر مختصر سا تبصرہ مناسب رہے گا۔ غامدی صاحب ترکیب ‘‘قرآن و سنت’’ کی استعمال کرتے ہیں، جس میں بظاہر قرآن کا لفظ پہلے لکھا گیا ہے، مگر اُن کے نزدیک ترتیب الٹ ہے۔ وہ قرآن کو مقدّم نہیں سمجھتے، بلکہ اُن کے نزدیک سنت اپنے تاریخی و زمانی تحقق کے لحاظ سے قرآن پر متفرع نہیں، بلکہ اس سے مقدّم ہے، چنانچہ اس واضح پوزیشن کے مطابق انھیں اپنی تحریروں میں ‘‘قرآن و سنت’’ کی ترکیب / اصطلاح استعمال کرنے کی بجاے ‘‘سنت و قرآن’’ استعمال کرنا چاہیے تھی۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی، انھیں اس کا باقاعدہ اعلان کرکے اپنے موقف اور تحریر میں ہم آہنگی پیدا کرلینا چاہیے۔ اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر سنت اور حدیث کی اصطلاحات تو انھوں نے علماے کرام ہی سے لیں، لیکن جناب محمد عمار خان ناصر کے الفاظ میں: ‘‘ان [سنت اور حدیث] کے دائرۂ کار اور ان کے باہمی تعلق کی تحدید و تعیین میں غامدی صاحب کا نقطۂ نظر جمہور سے مختلف ہے اور اپنے متعین کردہ حدود و قیود کے لحاظ سے وہ ‘سنت’ اور ‘حدیث’ کو ایک نئے اصطلاحی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔’’ (‘‘قرآن و سنت کا باہمی تعلق’’، لاہور: المورد: ۴۵۶)

غامدی صاحب سنت کی تعریف اِس طرح کرتے ہیں: ‘‘سنت سے ہماری مراد دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جِسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے’’ (‘‘میزان’’، لاہور: المورد:۱۴)۔ اس سے پہلے جمہور علماء ‘‘سنت’’ کو بطور ایک اصطلاح استعمال کرتے آئے تھے۔ اُن کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ثابت شدہ افعال و اقوال اور تقریرات سنت کہلاتی ہیں۔ اصطلاحات کا ایک خاص مفہوم ہوتا ہے جن کو ہر لحاظ سے اسی مفہوم میں استعمال کرنا ضروری ہے، ورنہ فکری انتشار سے جان چھڑانا ممکن نہیں رہتا۔ اگر غامدی صاحب کو ایک الگ راستہ ہی اپنانا تھا تو انھیں سنت کی جگہ کوئی اور اصطلاح ایجاد کرلینا چاہیے تھی۔ یہ کیا ضروری تھا کہ سنت ہی کی اصطلاح لیتے، اور اِس میں اپنا مفہوم داخل کرتے!

‘‘فکرِ غامدی: ایک تنقیدی جائزہ’’ میں بڑے خوب صورت اور مدلل انداز میں غامدی صاحب کی غلطی واضح کی گئی ہے۔ لکھا گیا ہے: ‘‘اصطلاحات اچانک وجود میں نہیں آتیں۔ ایک خاص ماحول اور حالات میں بنتی ہیں اور پھر ان کے ساتھ ایک خاص مفہوم منسلک ہوجاتا ہے۔ اہلِ فن جب کسی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں تو وہ سارا مفہوم اس ایک لفظ میں موجود ہوتا ہے۔ — اس لیے کسی بھی علم اور فن میں یہ رویہ سخت ناپسندیدہ ہے کہ اس علم یا فن کی مخصوص اصطلاحات کو ان مخصوص مفاہیم کے بجاے دیگر مفاہیم پہنائے جائیں اور جب اس اصطلاح کا مفہوم پوچھا [جائے] تو جواب یہ دیا جائے کہ ‘میں اِسے اِس مفہوم میں استعمال کر رہا ہوں!’’’ (‘‘فکر غامدی’’: ۱۰۲)

‘تصورِ سنت و حدیث’ کے بعد اتمامِ حجت کا نظریہ ایک اور کمزور فلسفہ ہے جو غامدی صاحب کے فکر میں نمایاں ہے۔ اس کی بنیاد نبی اور رسول کے فرق پر رکھی گئی ہے۔ اُن کے نزدیک نبی جس قوم کی جانب مبعوث ہوتا ہے، وہ اس قوم پر اتمامِ حجت نہیں کرسکتا، جب کہ رسول اتمامِ حجت کے لیے آیا کرتا ہے۔ رسول کو اتمامِ حجت کے بعد اپنے مخاطبین پر غالب ہونا ہوتا ہے، اس لیے رسول کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس بیان کا لازمی تقاضا ہے کہ نبی جو رسول نہیں ہوتے تھے، وہ تو ہر قوم اور ملّت کی طرف آتے رہے ہوں، لیکن رسول ہر قوم کی طرف نہ آسکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر نبی ہر قوم اور قریے کی طرف مبعوث کیے جاتے رہے ہوں اور رسول بھی تو پھر اِن میں فرق کس طرح ہو گا؟ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک قوم یا قریے کی طرف رسول بھیجنے کے بعد نبی بھی بھیجا جائے، یا نبی بھیجنے کے بعد رسول۔ ایک قوم کی طرف، اگر رسول آکر غالب رہا تو اس قوم کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ اس کے برعکس قرآن ہمیں بتاتا ہے۔ ولکل امۃ رسول (اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہے۔ یونس ۱۰:۴۷) اور ولقد بعثنا فی کل امۃ رسول ان اعبد اللہ واجتنبوا الطاغوت (اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔ النحل ۱۶:۳۶)

سیدھا سا سوال ہے کہ جب ہر قوم کی طرف رسول آیا ہے جس نے غامدی صاحب کے تصور کے مطابق غلبہ بھی حاصل کر لیا تو نبی کس کی طرف بھیجا گیا ہے اور کس لیے؟

حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے ایک ہی بات کے مختلف پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف انداز میں دہرایا ہے۔ کبھی کہا: ‘‘ہر قوم کی طرف ‘ہاد’ یعنی ہدایت دینے والے آتے رہے۔’’ (الرعد ۱۳:۷)۔ کبھی فرمایا گیا کہ ‘‘ہرامت کی طرف ‘نذیر’ یعنی ہوشیار کرنے والے بھیجے گئے۔’’ (فاطر ۳۵:۲۴)۔ کبھی ارشاد ہوا کہ ‘‘انبیاء بھیجے گئے جو خوش خبری دینے والے تھے۔’’ (البقرہ ۲:۲۱۳)۔ کبھی کہا گیا کہ ‘‘اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ہوشیار کرنے والے بنا کر بھیجا۔’’ (النساء ۴: ۱۶۵، الانعام ۶:۴۸)۔ کبھی ارشاد ہوا کہ ‘‘ہم کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے، جب تک کہ اُس میں کوئی رسول نہ بھیج دیں۔’’ بنی اسرائیل ۱۷:۱۵، القصص ۲۸:۵۹)۔ کبھی نبی یا رسول کا ذکر کیے بغیر یہ کہا گیا کہ ‘‘ہم کسی بھی بستی کو ہلاک نہیں کرتے، جب تک کوئی نذیر نہ بھیج دیں۔’’ (الشعراء ۲۶:۲۰۸)

اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہ ہو گا کہ ہر قوم کی جانب کبھی ‘‘ہادی’’ کی صفت رکھنے والے افراد بھیجے گئے، اور اِس کے معاً بعد ان سے الگ ‘‘نذیر’’ بھیجے گئے، اسی کی طرف نبی بھی آئے اور رسول بھی جو مختلف افراد ہوتے تھے، یا یہ کہ ہادی، نذیر، بشیر، نبی اور رسول الگ الگ فریضہ انجام دینے کے لیے ہر قوم کی طرف آتے رہے۔ یہ سمجھنا دشوار ہو رہا ہے کہ نبی اگر ہادی نہیں ہوتا تھا، یا رسول اگر نذیر یا بشیر نہیں ہوتا تھا تو وہ کیا کرتا تھا؟ نبی لازماً رسول ہوا کرتا تھا۔ رسول کا لغوی مفہوم پیغام پہنچانے والے (messenger) کا ہے۔ نبی ہی اگر خدا کا پیغام نہ پہنچائے تو امت کے دوسرے صلحاء اور علماء کیا خاک یہ کام سرانجام دیں گے! رسول کہتے ہی اُسے ہیں جو بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچائے، لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں ہر نبی رسول نہیں ہوتا تو گویا ہم یہ دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں کہ ہر نبی اللہ کا پیغام بندوں تک نہیں پہنچاتا تھا۔

‘‘فکرِ غامدی’’ میں ذرا زیادہ گہرے اور بہتر علمی انداز میں اِس ‘نظریۂ اتمام حجت’ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں جنھیں بالتفصیل کتاب میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ رسولوں کے لیے دُنیوی غلبے اور اتمامِ حجت کے نظریے پر جب مختلف حلقوں سے تنقید سامنے آئی تو نظریے کی، مختلف اوقات میں سات تاویلیں پیش کی گئیں جن کا کتاب میں زبردست محاکمہ کیا گیا ہے (صفحات ۱۲۹-۱۳۸)۔ اس سلسلے کی صرف ایک تاویل کی مثال کافی ہو گی۔ بنی اسرائیل کے عدمِ استیصال پر سوال اٹھایا گیا تھا کہ:

بنی اسرائیل نے جتنے سنگین جرائم کیے، اتنے شاید ہی کسی اور قوم نے کیے ہوں۔ ذرا سورۃ النساء کی آیات ۱۵۳ -۱۶۱ ملاحظہ فرمائیں جنھیں غامدی صاحب ‘فردِ قراردادِ جرم’ کہتے ہیں۔ جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اتنے سنگین جرائم کے باوجود ان کا استیصال کیوں نہیں کیا گیا، تو ایک اور تاویل پیش کی جاتی ہے کہ اگر قوم توحید پر قائم رہی ہو تو اس کا استیصال نہیں کیا جاتا۔ — مشرکین عرب کی سزا کے متعلق بھی مولانا اصلاحی اور جناب غامدی کا موقف یہ ہے کہ انھیں رسول کے ساتھیوں کی تلوار کے ذریعے سزا دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے توحید ماننے والوں کو وہی سزا دی گئی جو مشرکینِ عرب کو دی گئی، تو پھر توحید کی بناء پر استثناء کی کیا حیثیت رہی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ مشرکینِ عرب کو تو سزا رسول کے ساتھیوں کی تلوار سے ملی اور بنی اسرائیل کو عراقی و رومی بُت پرستوں کی تلوار سے۔ ایک جگہ رسول اور اس کے ساتھیوں کا غلبہ ہوا، دوسری جگہ دونوں دفعہ مشرکین اور بت پرستوں کا۔ پھر کیسے دونوں کو ایک ہی معاملہ کہا جاسکتاہے؟ (‘‘فکرِغامدی’’، صفحات ۱۳۲ – ۱۳۳)

اب اس کا جواب ایک اور تاویل کے سوا کیا ہوسکتا ہے!

‘‘فکرِ غامدی: ایک تنقیدی جائزہ’’ کا مطالعہ کرتے ہوئے کچھ کمزور پہلو بھی سامنے آتے ہیں، کئی مواقع پر جناب محمد مشتاق احمد کی تنقید درست نہیں لگتی۔ یہ تو ممکن نہیں کہ جناب جاوید احمد غامدی کی ہر بات غلط ہو جیسا کہ کتاب سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اُن کے جن افکار سے صرفِ نظر کیا گیا ہے، بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ جناب محمد مشتاق احمد کو ان سے اتفاق ہو گا، اگر اُن کا ذکر بھی کر دیا جاتا تو مبنی برانصاف ہوتا۔

کتاب کے مطالعے سے ایک تأثر یہ ابھرتا ہے کہ یہ مخالفت کے جذبے سے، ایک ذہن بنا کر لکھی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جب مصنّف نے غامدی صاحب کے ساتھی ڈاکٹر محمد فاروق خان شہید سے ملاقاتیں شروع کیں تو اُن کے بقول، ان کے عم محترم قاری عبدالمعبود انصاری رحمہ اللہ، جو تین بزرگوں میں سے ایک ہیں، جن کے نام کتاب معنون کی گئی ہے، انھیں ‘‘خبردار کرتے رہے کہ غامدی صاحب کے کام میں تحکم اور قطعیت اور امت کی علمی روایت کی نفی کے جو عناصر پاے جاتے ہیں، وہ علم کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں’’ (‘‘فکرِغامدی’’، ص۳)۔ جناب غامدی اور اُن کے وابستگان کے بارے میں مصنف کے جذبات اِن جُملوں سے ظاہر ہیں: ‘‘اُن [غامدی صاحب] کے شاگردانِ باوفا اور مریدانِ باصفا — امت کے جلیل القدر ائمہ کا ذکر انتہائی سوقیانہ انداز میں کرتے ہیں اور امت کی علمی روایت کو ایک نوع کے تکبر کے ساتھ مسترد کردیتے ہیں۔ — اس کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ یہ انداز ان کے استاذ اور پیرومرشد سے ہی ان کو منتقل ہوا ہے۔’’ (‘‘فکرِغامدی’’، حاشیہ، ص۳)

مزید براں اگر کتاب میں ‘‘تاہم اگر اِس نثری شاعری کے نمونے’’ (ص۴۰)، ‘‘قرآن و سنت کے تعلق پر غامدی صاحب کی اِس فکری قلابازی’’ (ص۶۵) اور ایسے ہی دوسرے جملہ ہائے طنز نہ ہوتے، اور علمی و ادبی انداز میں کمزوری کی نشان دہی کر دی جاتی تو کتاب کی وقعت میں اضافہ ہی ہوتا! ایسے جملے قاری کو یہ کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ کتاب مخالفت کے جذبے سے لکھی گئی ہے۔

جناب محمد مشتاق احمد کے ہاں ایک دو جگہ تنقید اور نادرست استدلال دکھائی دیتا ہے۔ ایک جگہ انھوں نے مولانا فراہی اور مولانا اصلاحی کی جانب سے کی گئی سورتوں کی گروپ بندی کے ذکر میں علماے کرام (بشمول فراہی و اصلاحی) کے نزدیک بعض سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف کا ذکر کیا ہے (‘‘فکرِغامدی’’، صفحات ۱۹-۲۰)۔ مولانا فراہی کی راے میں سورۃ لہب مکّی ہے، جب کہ مولانا اصلاحی نے اِسے مدنی لکھا ہے۔ آخرالذکر راے پر ‘‘تدبر قرآن’’ کا حوالہ نقل کرتے ہوئے حاشیے میں مزید یہ اضافہ کیا گیا ہے: ‘‘واضح رہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک بھی سورۃ لہب مکّی ہے، لیکن اُن کی تاویل مولانا فراہی سے مختلف ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ تو محض دعویٰ ہی رہا کہ نظم قرآن کے ذریعے اختلافات ختم ہوجاتے ہیں۔’’ (حاشیہ ص۲۰)

نظمِ قرآن کا نظریہ درست ہو یا نادرست، مگر اِس کا مفہوم یہ نہیں جو جناب محمد مشتاق احمد ارشاد فرما رہے ہیں۔ اِس کا مفہوم غامدی صاحب اور ان کے شاگرد جناب محمد عمار خان ناصر کے نزدیک یہ ہے کہ ‘‘قرآن کے الفاظ اور تعبیرات قطعی الدلالۃ ہیں جو ایک ہی متعین مراد کی نشان دہی کرتے ہیں اور یہ کہ فہم مدعا کے اس عمل میں قرآن کے اپنے الفاظ، اسالیب، سیاق و سباق، عرف اور نظمِ کلام فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں’’ (‘قرآن و سنت کا باہمی تعلق’، حوالہ مذکورہ:۴۲۶)۔ یہ تو کسی نے دعویٰ نہیں کیا تھا کہ مخصوص تصوّر نظمِ قرآن، تاریخِ قرآن یا سورتوں کے مکّی و مدنی ہونے کا اختلاف بھی ختم ہو جاتا ہے۔ جناب محمد مشتاق احمد خطیبانہ انداز میں ذرا دور نکل گئے۔

فراہی و اصلاحی تصورِ نظم قرآن میں سورتوں کے جوڑے بنانے کے حوالے سے تنقید کرتے ہوئے لکھا گیا ہے: ‘‘—زیادہ سے زیادہ اسے ایک علمی لطیفے کی حد تک قبول کیا جاسکتا ہے، تاہم غامدی صاحب پوری قطعیت کے ساتھ اِسے ایک مخصوص [امر] قرار دیتے ہیں’’ (‘‘فکر غامدی’’، ص۳۰)۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ یہاں غامدی صاحب کی کسی تحریر کا حوالہ درج کر دیا جاتا!

‘غیرمسلموں کے لیے دعاے مغفرت’ کے مبحث میں غامدی صاحب پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ غیرمسلموں کے لیے دعاے مغفرت کے قائل ہیں، اِس سلسلے میں سورۃ ابراہیم میں آمدہ دعاے خلیل کا ذکر کیا گیا ہے اور آیت-۴۱ ربنا اغفرلی ولوالدی و للمومنین یوم یقوم الحساب اور اِس کا ترجمہ (اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو اور مومنین کو اس دن بخش جس دن حساب قائم ہو گا’’ درج کیا گیا ہے (‘‘فکر غامدی’’، ص۳۲۱)، مگر دُعائے مغفرت کا لب لباب یہ نکالا گیا ہے کہ ‘‘وہ [حضرت ابراہیمؑ] دعاے مغفرت صرف مومنین کے لیے ہی کر رہے ہیں۔’’ (ایضاً، ص۳۲۱)

غامدی صاحب کا نقطۂ نظر درست ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر، ہمیں حیرت ہے کہ جناب محمدمشتاق احمد جذبۂ نقد میں یہ کیسے بھول گئے کہ حضرت ابراہیمؑ کے والدین غیرمسلم تھے، مومن نہیں، اور آپؑ اپنے والدین کے لیے التجاے مغفرت کر رہے ہیں۔

غامدی صاحب نے اختلافِ قراء ت پر کافی لکھا ہے۔ جناب محمد مشتاق احمد کا خیال یہ ہے کہ اُن کی ‘‘یہ کاوش دراصل جناب تمنّا عمادی کے کام کی بازگشت اور خلاصہ ہے۔ صرف اختلافِ قراء ت کے موضوع پر ہی نہیں، بلکہ جمعِ قرآن کے مسئلے میں بھی غامدی صاحب نے عمادی صاحب کی تنقید پر بھروسا کیا ہے۔ — کیا یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ غامدی صاحب اپنی تحریرات میں کہیں بھی عمادی صاحب کے کام کا حوالہ نہیں دیتے۔’’ (‘‘فکر غامدی’’، ص۱۲)

اگر مثال کے طور پر ہی، غامدی صاحب اور عمادی صاحب کی تحریروں کی لفظی اور سیاق و سباق کی مماثلت کے ایک دو نمونے پیش کر دیے جاتے تو بہتر ہوتا، ورنہ محض موضوعات کی مماثلت تو سیکڑوں اہل علم کی کاوشوں میں ملتی ہے، ہزاروں مفسرین سالہا سال سے یہی کام کر رہے ہیں۔

غامدی صاحب کے بعض دوسرے افکار (تصور عقل و فطرت، تصور دین و شریعت، ریاست کے متعلق جوابی بیانیے، تصوّر زکوٰۃ، حدود و قصاص، وراثت و وصیت اور تصورِ جہاد وغیرہ) پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ علم و فکر کی تنقیح و ترقی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ اہلِ علم کے درمیان تبادلۂ خیال ہوتا رہے۔ اگر تبادلۂ خیال نہ ہو گا تو فکر پانی کی شفاف نہر بننے کے بجاے ایک جوہڑ بن کر رہ جائے گی اور فکر و دانش سب تاریخ میں طاقِ نسیاں پر دھری رہ جائے گی۔ ایک بات سمجھنے کی ہے کہ غامدی صاحب ہوں یا جناب محمد مشتاق احمد جیسے اُن کے فکرو دانش کے ناقد، صاحبانِ علم ہیں اور اِن میں سے کوئی بھی وحی کی زبان نہیں بولتا۔ تفہیم، تشریح اور تطبیق کی غلطی سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔

اسلام آباد                                                                                                            محمد انور عباسی