قائد ِاعظم اور مشاہیرِ کشمیر

 (مراسلت)  ظفر حسین ظفر (مرتب) / قرطاس، فلیٹ نمبر ۱۵-اے، گلشنِ امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک-۱۵، کراچی / اگست ۲۰۲۴ / ۱۸۲ صفحات / مجلد، قیمت درج نہیں۔

قائدِاعظم محمد علی جناح اور مشاہیر کشمیر کے مابین مراسلت کا یہ مجموعہ قائداعظم کے اُن ذاتی کاغذات پر مبنی ہے جن کے تحفّظ میں سیّد شمس الحسن (م۱۹۸۱، اسسٹنٹ سیکرٹری، مرکزی دفتر آل انڈیا مسلم لیگ، دریا گنج-دہلی از جولائی ۱۹۱۴ تا ۱۴ اگست ۱۹۴۷، بعد ازاں سیکرٹری مرکزی دفتر آل پاکستان مسلم لیگ، کراچی تا ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۸) نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، اور ان ہی کے نام پر یہ ذخیرۂ دستاویزات ‘‘شمس الحسن کلیکشن’’ کہلاتا ہے، اور اِس کا بڑا حصہ مرتب شکل میں اب اہلِ علم کے ہاتھوں میں ہے۔

مکاتیب، اور بالخصوص قائداعظم کے مکاتیب انگریزی میں تھے جنھیں زیرنظر مجموعے کے مرتب پروفیسر ظفر حسین ظفر نے احباب کے تعاون سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ جہاں تک دورِ مراسلت کا تعلق ہے، تو قدیم ترین مکتوب ۱۸ مارچ ۱۹۴۳ کا مرقومہ ہے، اور آخری مکتوب ۱۷ نومبر ۱۹۴۶ کو لکھا گیا تھا۔ پونے چار سال کا یہ عرصہ برعظیم کی تحریکِ آزادی کے فیصلہ کن دور کا حصہ تھا۔ اگرچہ تحریکِ آزادی اپنے پورے جوش اور جذبے کے ساتھ تو، حقیقتاً برطانوی راج کے براہ راست زیرِانتظام علاقوں میں آگے بڑھ رہی تھی، مگر مذکورہ علاقوں اور صوبوں کے ساتھ ساتھ اُن ۵۷۸ نوابی ریاستوں میں سے ان میں بھی اِس کے اثرات محسوس کیے جارہے تھے جو مستقبل میں کوئی بڑا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں تھیں۔ (آبادی اور رقبے ہر دولحاظ سے اہم ترین ریاستوں میں سرفہرست ریاست جموں و کشمیر تھی۔ مختلف کتابوں میں برعظیم کی نوابی ریاستوں کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہم نے ۱۹۳۵ کی ایک دستاویز Memoranda on the Indian States  کلکتہ: سنٹرل پبلی کیشن برانچ  کے مطابق تعداد ۵۷۸ درج کی ہے۔)

عرصۂ مراسلت کے دوران میں ریاست جموں و کشمیر پر ڈوگرہ خاندان کا مہاراجا ہری سنگھ (م۱۹۶۱) حکمران تھا۔ اس کے دور میں حسبِ سابق مسلم مخالف فسادات ہوتے رہے اور مسلمان آبادی جانی و مالی نقصان برداشت کرنے پر مجبور رہی۔ چودھری غلام عباس (م۱۹۶۷) کے ایک بیان کے مطابق ستمبر ۱۹۴۵ میں کیفیت یہ تھی: ‘‘ریاست میں ہمارے لیے کوئی مذہبی آزادی نہیں ہے۔ اسلام قبول کرنے والے کو اپنی جائداد اور بچوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ گاؤکشی ایک فوج داری جُرم ہے جس کی سزا دس سال کی سخت قید ہے۔ ہندووں کے بعض طبقات آتشی اسلحہ رکھ سکتے ہیں، جب کہ آرمز ایکٹ کی رُو سے مسلمانوں پر اِس کی پابندی ہے۔ ہندی کو حال ہی میں ذریعۂ تعلیم بنایا گیا ہے جو گلانسی کمیشن کی ضمانت کے برعکس اور برطانوی ہند کے ماہرینِ زبان کی مجلس کی سفارشات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ تیس اہم عہدوں (وزراء اور سربراہانِ محکمہ جات وغیرہ) میں سے ۸۰ فی صد آبادی والے مسلمان صرف چار عہدوں پر فائز ہیں — (ص۱۰۹)

برعظیم کا آئینی مسئلہ سلجھانے کی غرض سے جب ۱۹۴۶ میں برطانوی کابینہ کے وفد نے ہندوستان کا دورہ کیا تو چودھری غلام عباس نے وفد کو توجہ دلائی:

یہ کہا جارہا ہے کہ برطانوی پارلیمانی وفد کو مسلم ریاست [کشمیر] کا دورہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے معزز ارکان کو اُن خوف ناک حالات کو براہ راست جاننے کے موقع سے محرومی ہوسکتی ہے جن میں ریاست کی موجودہ حکومت کے جابرانہ اقدامات کے نتیجے میں تقریر، اجتماع اور اخبارات کی آزادی کی مکمل نفی اور ریاست کی کل آبادی کے ۸۲ فی صد مسلمانوں کی مذہبی آزادی سے انکار شامل ہے۔ اگر ان پسے ہوئے لوگوں کی آواز برطانوی پارلیمنٹ کے کانوں تک پہنچ جائے تو یہ نہایت اہم ہو گا کہ اس معزز ادارے کے منظورشدہ نمائندگان گزشتہ تقریباً سو سال سے غربت، بھوک، ننگ اور مصائب میں مبتلا ریاست کے مسلمانوں کی صورتِ حال کا خود مشاہدہ کرسکیں۔ مشرق کی جنّت نظیر کشمیر اب محض قرونِ وسطیٰ کی ریاست ہے جن کے قانون کی کتاب آج بھی مسخ شدہ ہے اور چند بربریت کے قوانین پر قائم ہے۔ میں دعاگو ہوں کہ وفد کشمیر کا دورہ کرے اور غم والم کی داستان سننے کے لیے مسلمانوں کے تسلیم شدہ راہ نماؤں سے رابطہ کرے، اگر کشمیر کا دورہ ممکن نہ ہو تو بہ مہربانی کشمیر کے مسلم وفد کو ملنے کی اجازت دیں۔ (ص۱۱۱)

مسلمانانِ کشمیر نے بیسویں صدی کے آغاز میں معاشرتی اصلاح و بہبود کی خاطر منظم ہونے کا آغاز کیا تھا، اِس سلسلے کا اہم اور تاریخی سنگ میل ۱۴-۱۶ اکتوبر ۱۹۳۲ کے ایک اجتماع (پتھر مسجد – سری نگر) میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام تھا۔ شیخ محمد عبداللہ (م۱۹۸۲) کو اِس کا صدر اور چودھری غلام عباس کو سیکرٹری جنرل چُنا گیا۔ بعد میں اِسے تمام اہلِ کشمیر کی نمایندہ تنظیم بنانے کی خاطر ‘مسلم کانفرنس’ کی جگہ ‘نیشنل کانفرنس’ کا نام دے دیا گیا۔ اِس تبدیلی کا یہ نتیجہ نکلا کہ شیخ محمد عبداللہ، انڈین نیشنل کانگرس کے جواہرلال نہرو کے قریب ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ ‘‘آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس’’ آل انڈیا سٹیٹس پیپلز کانفرنس کی نمایاں رکن بن گئی جو انڈین نیشنل کانگرس کی حمایت یافتہ تنظیم تھی۔ بدلتی ہوئی صورتِ حال میں نیشنل کانفرنس کا وہ طبقہ جو مسلم انفرادیت اور شناخت کا قائل تھا، اس نے چودھری غلام عباس اور کشمیر کے میرواعظ یوسف شاہ (م۱۹۶۸) کی قیادت میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا احیاء کردیا (۱۹۴۱)، اور احیاء یافتہ مسلم کانفرنس نے نظریاتی طور پر اپنی ہم آہنگ تنظیم آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ خیرسگالی کے تعلقات قائم کرلیے۔

زیرِبحث عرصۂ مراسلت میں قائداعظم محمد علی جناح مئی-جولائی ۱۹۴۴ میں ریاست میں مقیم رہے تھے۔ شیخ محمد عبداللہ اور چودھری غلام عباس کے زیرقیادت کام کرنے والی دونوں تنظیموں نے الگ الگ قائداعظم کا استقبال کیا، اور اُن کے اعزاز میں استقبالیے دیے۔ قائداعظم علیہ الرحمہ کی خواہش تھی کہ کسی طرح دونوں تنظیموں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی صورت نکل آئے۔ قائداعظم کی خواہش اور عمل کا اظہار کشمیری مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گئے اُن کے اِن الفاظ سے ہوتا ہے: ‘‘آپ کی نجات — مکمل اتحاد میں ہے۔ یقینا ہمیشہ کچھ ایسے [لوگ] ہوں گے، جن کو ہم ان کا نقطۂ نظر تبدیل کرنے پر مائل نہیں کرسکتے، لیکن جس امر کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان ایک عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر متحد ہو کر ایک جسدِ واحد میں ڈھل جائیں۔’’ (مکتوب ۹، ص۳۹)

حقیقتِ واقعہ یہ تھی کہ شیخ محمد عبداللہ نے قائداعظم کو مایوس کیا۔ پنڈت پریم ناتھ بزاز (م۱۹۸۴) نے ایک مکتوب میں قائداعظم کا وہ بیان نقل کیا ہے جو انھوں نے کشمیر سے روانگی کے وقت جاری کیا تھا، اِس سے صورتِ حال واضح ہوتی ہے۔ قائداعظم کے بقول:

مجھے افسوس ہے کہ اگرچہ شیخ عبداللہ اور اس کی جماعت اور مسلم کانفرنس نے میری یہاں آمد سے پہلے دہلی اور لاہور میں میرے ساتھ معاملات پر بات کی تھی اور میرے اعزاز میں کافی اچھا استقبالیہ بھی دیا تھا، اور خواہش مند تھے کہ مجھے دونوں طرف کی بات سننا چاہیے اور انھیں ایک سمجھوتے پر لانا چاہیے، تاہم جب میں نے محتاط غور کے بعد تجویز کیا کہ مسلمانوں کو ایک جھنڈے کے تلے اور ایک پلیٹ فارم پر منظم ہونا چاہیے تو نہ صرف یہ کہ میری نصیحت شیخ عبداللہ کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی، بلکہ جیسا کہ اس کی عادت ہے جو اس کی دوسری فطرت بن چکی ہے، وہ انتہائی جارحانہ اور توہین آمیز زبان کے ساتھ مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔ میری مسلمانوں کو نصیحت ہے کہ اختلافات صرف دلائل، گفتگو، تبادلۂ خیال اور معقولات سے ہی طے کیے جاسکتے ہیں — (مکتوب۲۹، ص۱۰۳)

قائداعظم کے اِس سفرِ کشمیر کے بعد شیخ محمد عبداللہ کی تنظیم ‘‘نیشنل کانفرنس’’ اپنے نظریہ و عمل میں شدت اختیار کرتی چلی گئی، اور اس نے ریاست کے ڈوگرہ راجا کی انتظامیہ اور انڈین نیشنل کانگرس کے اثرورسوخ کو نہ صرف اپنے حق میں استعمال کیا، بلکہ اُنھیں جہاں موقع ملا، آل انڈیا مسلم لیگ کی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات میں انھوں نے کبھی دریغ نہ کیا۔ ریاستی انتظامیہ کا بحیثیتِ مجموعی جھکاؤ شیخ محمد عبداللہ کی جانب رہا، یہ الگ بات ہے کہ شیخ صاحب نے ۱۹۴۷ میں ‘‘کشمیر چھوڑ دو’’ کی تحریک شروع کرکے اپنا امیج (image) بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔

‘‘مراسلت’’ کے مختصر عرسے میں قائداعظم کی ذاتِ گرامی، مسلمانانِ کشمیر اور ‘‘مسلم کانفرنس’’ کا بڑا سہارا تھی۔ قائداعظم کشمیری مسلمانوں کے حقوق کے لیے مسلسل آواز اٹھاتے رہے، اور حسبِ ضرورت وائسراے ہند لارڈ ویول کی توجہ اِس جانب مبذول کراتے رہے تھے (دیکھیے: مکتوبات ۱۴، ۱۶، نیز ان کے حواشی)۔ یہی سبب تھا کہ قائداعظم کشمیری مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کی آنکھوں کا تارا تھے۔ اُن کی شدید خواہش تھی کہ قائد ایک بار پھر کشمیر تشریف لائیں، اِس مقصد کے لیے وہ اپنے گھر، اُن کی رہایش کے لیے پیش کر رہے تھے، مگر قائد خواہش کے باوجود اپنی بے پناہ مصروفیات سے وقت نکال کر کشمیر نہ جاسکے۔ مسلمانانِ کشمیر، آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی کامیابیوں کو اپنی کامیابی خیال کرتے تھے۔ ۱۹۴۵ میں ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ نے جو تاریخی کامیابی حاصل کی تھی، اِس پر انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا، اور صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی کے متمنی تھے۔

کشمیری مسلمانوں کے حوالے سے یہ مختصر سا مجموعۂ مراسلت معلومات افزا ہے۔ مزید براں مسلمانانِ کشمیر، اور بالخصوص ‘‘مسلم کانفرنس’’ کے اندرونی خلفشار پر بھی اس سے روشنی پڑتی ہے۔

قائداعظم کے مکاتیب سے اُن کے مزاج کا اندازہ بھی خوب ہوتا ہے۔ ۱۹۴۴ میں جب وہ سری نگر جارہے تھے تو انھوں نے مہاراجا صاحب کشمیر کو لکھا کہ: ‘‘اگر آپ اپنے مہمان خانوں میں سے کسی ایک کا ایک ہفتے یا دس دنوں کے لیے میرے لیے انتظام کرسکیں تو میں بہت ممنون ہوں گا’’ (ص۲۵)۔ انھوں نے اِس کا سبب یہ بتایا کہ کسی دوسرے کو ان کی ضروریات کے مطابق ایک ہاؤس بوٹ کے انتخاب کا معاملہ سپرد کرنا درست نہیں ہے۔ اِس وجہ سے میں موقع پر اور اپنی موجودگی میں خود کسی ایک کا انتخاب کرنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں۔ (ص۲۵)

ایک موقع پر معروف کشمیری صحافی پنڈت پریم ناتھ بزاز (م۱۹۸۴) نے جو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی تائید کرتے تھے، لیکن نظریاتی طور پر کانفرنس سے متفق نہ تھے، قائداعظم کے سامنے اپنے زاویۂ نظر کے مطابق صورتِ حال رکھ کر لکھا: ‘‘کیا میں اس نازک دوراہے پر کھڑے کشمیری مسلمانوں کے لیے آپ کا مشورہ جان سکتا ہوں؟ مجھے امید ہے کہ — آپ مجھے اپنا جواب شائع کرنے کی اجازت دیں گے’’ (ص۱۰۴)۔ بزاز کے خط اور تجزیے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قائداعظم نے اُنھیں لکھا: ‘‘میں نہیں سمجھتا کہ یہ مناسب ہے کہ آپ میر ے خط کا جواب شائع کریں، جب تک مجھے چودھری غلام عباس اور مسلم کانفرنس کے رہ نماؤں سے مزید معلومات نہ مل جائیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کسی طور مفید رہے گا، اس وجہ سے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اِسے شائع نہ کریں۔’’ (صفحات ۴۷-۴۸)

ورق گردانی کرتے ہوئے یہ چند باتیں سامنے آئی ہیں جو غوروفکر کی متقاضی ہیں:

 l          ریاست جموں و کشمیر میں قائداعظم کی آمدورفت کی تاریخیں، ایک دو جگہ بالترتیب ۲۸ مئی اور ۲۴ جولائی ۱۹۴۴ درج کی گئی ہیں (ص۱۳، ص۳۳)، مزید بتایا گیا ہے کہ سری نگر میں قائداعظم کا قیام دو ماہ چودہ دن رہا تھا (ص۳۳)، مگر پریم ناتھ بزاز کے خط (بنام قائداعظم) میں ریاست سے اُن کی روانگی کی تاریخ ۲۶ اگست ۱۹۴۴ لکھی گئی ہے (ص۱۰۳)۔ ایک بات ہی درست ہو سکتی ہے۔

l           ۳۶ویں مکتوب (میرواعظ محمد یوسف بہ نام قائداعظم) کی تاریخ ترسیل یکم نومبر ۱۹۴۶ درج کی گئی ہے (ص۱۱۷)، جب کہ مکتوب میں لکھا گیا ہے: ‘‘انتخابات دسمبر کے مہینے یا جنوری ۱۹۴۷ میں ہو رہے ہیں۔ ہم اپنا سالانہ اجتماع اکتوبر میں منعقد کر رہے ہیں۔’’ (ص۱۱۷)

l           جہاں تک انگریزی مکاتیب کے اردو ترجمے کا تعلق ہے، مفہوم سمجھنے میں چنداں دقت نہیں، تاہم پچھلی سطروں میں ہم نے چودھری غلام عباس کے برقی مراسلے (بنام ارکانِ کابینہ وفد) میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ‘‘میں دعاگو ہوں— (ص۱۱۱)۔ غالباً یہ I pray کا ترجمہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے کوئی درخواست کی جائے تو وہ بلاشبہ دعا کرنا ہے، مگر جب کسی بڑے شخص یا ادارے سے رعایت حاصل کرنے کے لیے I pray کہا جائے تو یہ دُعا (prayer) نہیں، بلکہ استدعا (request) ہے۔

l           کتاب میں ایسے جملے نظر آتے ہیں: ‘‘تمام چیزیں بہت مضحکہ خیز بن گئیں ہیں’’ (ص۲۰، ص۸۶)، ‘‘کئی رودادیں موصول ہوئیں ہیں’’ (ص۳۷)، ‘‘تصاویر — لٹکائی گئیں تھیں’’ (ص۷۶)  اگر جملے ماضی مطلق میں ہوں تو ‘‘گئیں، ہوئیں’’ درست ہیں اور اگر ماضی قریب میں ہیں تو ‘‘گئی ہیں’’، ‘‘ہوئی ہیں’’ مناسب ہوں گے۔ ایک جگہ یہ ترجمہ ہے: ‘‘میں نے قائداعظم کا بہت سا قیمتی وقت ضائع کیا ہے جو برطانیہ کے جوے غلامی اور گاندھی کی عیّاری کو پچھاڑنے کی منصوبہ بندی میں صَرف ہو سکتا تھا’’ (ص۵۰)۔ ‘‘غلامی کے جوے’’ کو ‘جوے غلامی’ لکھنا بہت ہی عجیب ہے۔