خالد امین (مرتب) / اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک-۵، فیڈرل بی ایریا-کراچی / دسمبر ۲۰۲۳/ ۳۵۰ + ۶۲ صفحات / مجلد مع گردپوش، ۲۵۰۰ روپے
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ – ۱۹۷۹) کی قائم کردہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی-کراچی (تأسیس: ۴مارچ ۱۹۶۳) نے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے تقریباً ۶۲ سال پورے کر لیے ہیں۔ اس کے ۶۰ سال پورے ہونے پر اکیڈمی کے ذمہ داروں نے اردو اور انگریزی تحریروں پر مشتمل زیرِنظر یادگاری مجلہ بہ عنوان ‘‘عصرِ حاضر میں اسلامی تہذیب کی علمی و ادبی جہتیں’’ شائع کیا تھا۔ مجلے کی تحریروں کی تفصیل یہ ہے: حصہ اُردو l‘پیش لفظ’ [مرتب] l ‘بین المذاہب مطالعات: خوش آیند رجحانات کے چند نادر پہلو’ (عبدالرحیم قدوائی) l‘مولانا ابو محمد مصلح: جنوبی ایشیا میں تحریکِ قرآن کے داعی’ (معین الدین عقیل) l‘قرآن کا تصوّرِ امن اور اس کے اساسی پہلو’ (ابوسفیان اصلاحی) l‘مولانا حالی کی نثری تصنیف ‘‘مولودشریف’’ کی تدوینِ نو: جائزہ اور محاکمہ’ (ارشد محمود ناشاد) l‘جدید قوانین بین الممالک: ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی خدمات’ (زیبا افتخار) l‘تشکیلِ جدیدیت کے تہذیبی و تاریخی عناصر’ (محمد رشید ارشد) l‘بین المذاہب تعلقات میں میثاقِ مدینہ کا عصری اطلاق’ (محمد سہیل شفیق) l ‘مولاناسیّد ابوالاعلیٰ مودودی کا ترجمۂ قرآن: لسانی اور علمی انفرادیت’ (حافظ سراج الدین) l‘سیّد ابوالاعلیٰ مودودی: مسئلۂ فلسطین کا تاریخی تناظر’ (نگار سجاد ظہیر) l‘مکاتیب غلام رسول مہر بہ نام محمد حمزہ فاروقی: مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے’ (محمدحمزہ فاروقی) l‘تاریخ قضیۂ فلسطین: علّامہ اقبال، فیض احمد فیض اور اقوامِ عالم’ (فیض الدین احمد) l‘خطوط نعیم صدیقی بہ نام معین الدین عقیل’ (خالد امین) l‘اردو زبان میں انگریزی قوانین کے تراجم کا آغاز’ (رفیق یارخان یوسفی) l‘کیا مغربی تہذیب آفاقی ہے؟’ (مریم جمیلہ، مترجم فیضان الحق) l‘مذہب اور عروجِ سرمایہ داری: سولہویں اور سترہویں صدی کے تناظر میں’ (اظہارالحق) l‘اسلامک ریسرچ اکیڈمی: علمی و فکری کاموں کا اجمالی تعارف’ l۴مارچ ۱۹۶۳ – اسلامک ریسرچ اکیڈمی – کراچی کے قیام کی پہلی روداد (عکس)
حصۂ انگریزی کی تحریروں کی تفصیل یہ ہے:
l The Poet of the East, Muhammad Iqbal in a Turkish Setting [شاعرِ مشرق محمد اقبال: ترک تناظر میں] (تنویر واسطی)
l Zia Gokalp’s Intellectual Influence on the Independence of Modern Pakistan [جدید پاکستان کی آزادی پر ضیا گوکلپ کا فکری اثر] (بُراق نور کچو)
l Flexcile Dunes in Urdu Press: Development of Urdu Language Culture from pre-to post-Mutiny [اردو پریس کا بدلتا طرزِ اظہار: ماقبل غدر تا بعد، اُردو کے لسانی کلچر کا ارتقاء] (محمد ذی شان اختر)
مجلے کی ایک ایک تحریر کے مفصل جائزے کی تو ‘‘نقطۂ نظر’’ کے صفحات میں چنداں گنجایش نہیں (اور انگریزی تحریریں اس کے حیطۂ کار سے باہر ہیں)، تاہم تحریروں پر ایک نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہے کہ جہاں لکھنے والوں میں بعض معروف نام شامل ہیں، وہیں اِس میدان میں آنے والے نووارد بھی ہیں۔ اِس لیے تحریروں کے معیار میں بہت فرق پایا جاتا ہے، بعض تحریریں اِس طرز کے یادگاری مجلے کے بجاے کسی عام ادبی رسالے میں چھپ جاتیں تو زیادہ مناسب ہوتا، ‘خطوط نعیم صدیقی’، ‘اُردو زبان میں انگریزی قوانین کے تراجم کا آغاز’، ‘کیا مغربی تہذیب آفاقی ہے؟’ اور ‘مذہب اور عروجِ سرمایہ داری’ آخرالذکر قبیل میں شامل ہیں۔
‘جدید قوانین بین الممالک: ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی خدمات’ بھی رواروی میں لکھی ہوئی تحریر ہے۔ تحریر کے عنوان کا تقاضا تھا کہ ‘جدید قوانین بین الممالک’ کی جگہ شعبۂ علم (discipline) کا نام ‘جدید قانون بین الممالک’ یا ‘جدید بین الاقوامی قانون’ شامل کیا جاتا۔ حکومت و ریاست / ‘‘دار’’ کی تقسیم بھی زیادہ توجہ طلب تھی۔ اس میں وقت کے ساتھ جو ارتقاء ہوا، وہ بھی توجہ طلب تھا، حواشی میں سرعبدالرحیم کی تالیف ‘‘اصولِ فقہ اسلام’’ شامل ہے، مگر حوالہ خاصا ناقص ہے، ناشرِ کتاب اور اِس کا سالِ اشاعت درج نہیں کیا جاسکا۔
بین الاقوامی قانون / علم السیر میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے کارنامے کے بارے میں لکھا گیا ہے:
عہدِ جدید میں جس مفکر نے علم السیر پر سب سے زیادہ اور اپنی نوعیت کا انتہائی اہم کام کیا، وہ بلاشبہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ ہیں۔ تقریباً تمام دانش ورانِ عصر نے، جنھوں نے ڈاکٹر محمد حمیداللہ پر اظہارِ خیال کیا ہے، ان کے اِس کام کو کثیرالجہتی (multi-dimensional) قرار دیا ہے، کیوں کہ انھوں نے تحقیق کے میدان میں بڑے معرکے کی چیزیں پیش کیں۔ (ص۹۳)
اقتباس میں پیش کی گئی راے کے لیے پروفیسر خورشید احمد کی تحریر (مشمولہ سہ ماہی ‘‘فکرونظر’’، ڈاکٹر محمد حمیداللہ نمبر، ۲۰۰۳) کا حوالہ درج کیا گیا ہے۔ انھوں نے کیا لکھا تھا، اور اُسے کیا سمجھا گیا، اس کے لیے پروفیسر صاحب کا اقتباس دیکھیے:
ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی علمی دلچسپیوں کا دائرہ بڑا وسیع تھا اور اِس حیثیت سے اُن کا کام کثیرجہتی (multi-dimensional) تھا۔ انھوں نے تحقیق کے مختلف میدانوں میں بڑے معرکہ کی چیزیں پیش کیں، لیکن شاید اُن کی سب سے زیادہ دین (contribution) مسلمانوں کے بین الاقوامی قانون کے میدان میں ہے۔
اسلامک ریسرچ اکیڈمی-کراچی کی تاسیسی مجلس کی روداد اور سیّد مودودی علیہ الرحمہ کے بارے میں شامل تحریریں اپنی یادگاری نوعیت کے لحاظ سے خُوب ہیں۔ سیّد مرحوم کے ترجمۂ قرآن پر متعدد تحریریں سامنے آچکی ہیں، اور اُن کے اسلوبِ تحریر پر بھی ایک حد تک لکھا جا رہا ہے، جناب حافظ سراج الدین کو اپنے موضوع کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ محترم نگارسجادظہیر نے مسئلۂ فلسطین کے تاریخی پس منظر میں سیّد مودودی کی اس تقریر سے بجا طور پر استفادہ کیا ہے جو انھوں نے مسجدِ اقصیٰ کی آتش زدگی (۲۱؍اگست ۱۹۶۹) کے سانحے پر لاہور میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے سامنے کی تھی (۲۴؍اگست ۱۹۶۹)، یہ تقریر پہلے ماہ نامہ ‘‘ترجمان القرآن’’ (لاہور)، اور پھر کتابچے کی صورت میں یکے بعد دیگرے ستمبر ۱۹۶۹ ہی میں ادارہ ترجمان القرآن-لاہور نے شائع کر دی تھی۔ بعد میں عنوانات میں معمولی ردوبدل اور چند حواشی کے اضافے کے ساتھ ادارہ معارف اسلامی [اسلامک ریسرچ اکیڈمی] – کراچی کے ڈائریکٹر کے ‘پیش لفظ’ کے ساتھ ‘‘القدس: پس منظر اور صیہونی عزائم’’ کے عنوان سے جولائی ۲۰۰۳ میں چھپی تھی۔ ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ سیّد مودودی نے ہفت روزہ / سہ روزہ ‘‘مسلم’’ (دہلی) کی ادارت (یکم نومبر ۱۹۲۱ – ۲۲ دسمبر ۱۹۲۳) اور بعد ازاں ہفت روزہ ‘‘الجمعیۃ’’ (دہلی) کے زمانۂ ادارت (جون ۱۹۲۵ – ۱۵ مئی ۱۹۲۸) میں مسئلۂ فلسطین پر اپنے اداریوں میں کچھ لکھا تھا یا نہیں؟ (‘‘مسلم’’ کے اداریے ڈاکٹر رفیع الدین فاروقی، اور ‘‘الجمعیۃ’’ کے اداریے فاروقی صاحب کے تعاون سے خلیل احمد حامدی نے مرتب کیے تھے، آخرالذکر اداریے تو لاہور سے چھپے تھے۔)
جناب معین الدین عقیل کی تحریر ‘مولانا ابومحمدمصلح: جنوبی ایشیا میں تحریکِ قرآن کے داعی’ بھی ایک حد تک سیّد مودودی سے متعلق سمجھی جاسکتی ہے۔ مولانا ابو محمد مصلح (۱۸۷۷-۱۹۶۸) وہی بزرگ ہیں جنھوں نے رجب ۱۳۵۱ھ / [ نومبر ۱۹۳۲] میں ماہ نامہ ‘‘ترجمان القرآن’’ (حیدرآباد-دکن) جاری کیا تھا، چھے ماہ بعد محرم ۱۳۵۲ھ / [اپریل-مئی ۱۹۳۳] سے ماہ نامے کی ادارت سیّد مودودی نے سنبھال لی تھی، (البتہ اِس کے طابع و ناشر کے طور پر مولانا ابومحمد مصلح کا نام اُس وقت، یعنی شعبان ۱۳۵۲ھ / [نومبر-دسمبر ۱۹۳۳] تک چھپتا رہا، جب تک سیّد مودودی نے اُن سے پرچہ خرید نہ لیا تھا۔)
مولانا ابو محمد مصلح کی زندگی پر مربوط اور مفصل اطلاعات دستیاب نہیں ہیں۔ اِدھراُدھر بکھری ہوئی تحریروں میں اُن کی داستانِ حیات کے بعض پہلووں پر اشارے ملتے ہیں، مگر یہ بھی تناقضات سے خالی نہیں۔ جنابِ عقیل نے ایسی ہی تحریروں سے کچھ اطلاعات یک جا کی ہیں۔ اُن کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ: ‘‘۱۹۰۰ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہو کر انور شاہ کشمیری (۱۸۷۵-۱۹۳۳) سے [انھوں نے] استفادۂ علمی کیا تھا’’ (ص۲۷)۔ ۱۹۰۰ میں مولانا ابومحمد مصلح کی عمر ۲۳برس تھی، اُس دور کے چلن کے مطابق دوردراز کے طلبہ اپنے ہاں کے مدارسِ عربیہ سے درس نظامی کا نصاب پڑھ کر دارالعلوم آتے تھے، زیادہ تر کو براہ راست دورۂ حدیث میں شرکت کی اجازت دے دی جاتی تھی، اور بعض کو درسِ نظامی کے منتہی درجے کی بعض کتابیں دوبارہ پڑھنے کے بعد دورۂ حدیث میں شامل ہونے کی اجازت ملتی تھی۔ مولانا ابومحمد مصلح نے ایک دو برس کے قیامِ دارالعلوم میں دورۂ حدیث کرلیا ہو گا۔ یوں ۱۹۰۰ کے لگ بھگ اُن کا مولانا کاشمیری سے استفادہ ممکن نہ تھا، کیوں کہ مولانا کاشمیری نے دارالعلوم میں بطور مدرس ۱۹۰۹ سے کام شروع کیا تھا، تاہم بعد میں ان کے ہم عمر مولانا کاشمیری سے ان کی ملاقات اور باہم تبادلۂ خیال کو سرے سے رد نہیں کیا جاسکتا۔ دارالعلوم دیوبند سے اُن کا تعلق بہرحال موجود تھا، اُن کی تالیف ‘‘تاریخِ سہسرام’’ (جلداوّل) ۱۹۲۰ میں قاسمی پریس-دیوبند سے چھپی تھی۔
مولانا مصلح اپنی قائم کردہ تنظیم ‘‘عالمگیر تحریکِ قرآن’’ کے تحت چھوٹے چھوٹے کتابچے شائع کرتے رہتے تھے، مگر آج یہ کتابچے کہیں یک جا دستیاب نہیں ہیں۔ جنابِ عقیل کی کتاب دوستی، محققانہ مزاج اور دکن سے اُن کے مختلف جہتی تعلق کا نتیجہ ہے کہ ان کتابچوں کا خاصا بڑا حصہ اُن کے ذاتی ذخیرۂ کتب میں موجود ہے، جس کے بارے میں انھوں نے آگاہی دی ہے اور بالخصوص ایک کتابچے ‘‘مکتوباتِ قرآنی’’ (جو اُن کے دو مکتوبات پر مشتمل ہے، ایک مکتوب علامہ اقبال کے نام ہے اور دوسرا اُن کے دوست میرغلام بھیک نیرنگ کے نام ہے۔) سے اوّل الذکر کے نام مکتوب کا متن اپنی تحریر میں شامل کیا ہے۔ علّامہ کے نام یہ مکتوب مولانا مصلح نے اُن دنوں لکھا تھا جب علّامہ اقبال کا دوسری گول میز کانفرنس (لندن: ۷ستمبر-یکم دسمبر ۱۹۳۱) میں شریک ہونا متوقع تھا۔ کانفرنس کا مقصد کیا تھا، اور اُس میں علّامہ اقبال کیا کچھ کہہ سکتے تھے، اِس سے قطع نظر مولانا مصلح نے اپنی تحریک کا پیغام پہنچانا ضروری خیال کیا۔ کانفرنس میں تو مکتوب کا ذکر کیا ہونا تھا، البتہ مکتوب اُن کے کتابچے کا حصہ ضرور بن گیا۔
سیّد مودودی کے بارے میں تحریروں سے ہٹ کر چند دوسری تحریروں میں سرِفہرست جناب عبدالرحیم قدوائی کی تحریر ہے۔ انھوں نے اپنی تحریر میں صدیوں پر محیط، مغرب کی اسلام دشمنی کے پس منظر میں ‘‘بین المذاہب مطالعات کے خوش آیند رجحانات کے چند نادر پہلو’’ کے زیرِعنوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے بارے میں مغرب کے چند مصنفین کی کاوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور ‘‘چند مغربی [یورپی اور امریکی] اہلِ قلم کی حق پسندانہ استثنائی کتابوں’’ (ص۱۳) کا ایک ایک کرکے ذکر کیا ہے۔
انھوں نے توجہ دلائی ہے کہ ‘‘استشراق کی عام اسلام مخالف روایت سے انحراف، بلکہ اس کی تردید کی سب سے پہلی خوش گوار مثال ہنری اسٹب (Henry Stubbe، ۱۶۳۲-۱۶۷۶) کی اسلام / سیرۃِ طیّبہ پر تصنیف An Account of the Rise and Progress of Mahometanism ہے’’ (ص۱۴) جو تصنیف کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد ۱۹۱۱ میں شائع ہو سکی تھی۔ اس کی ترتیب و اشاعت کا کریڈٹ حافظ محمود شیرانی (م۱۹۴۶) کو جاتا ہے جو ان دنوں کتاب کے ناشر ادارے لیوزک اینڈ کمپنی- لندن سے وابستہ تھے، بعد میں حافظ صاحبب اورینٹل کالج (پنجاب یونیورسٹی-لاہور) سے منسلک ہوئے اور اُن کے شہرِ سکونت لاہور سے اس کتاب کے کم از کم تین ایڈیشن شائع ہوئے، اور چوتھی بار حافظ صاحب کے پوتے پروفیسر مظہر محمود شیرانی نے ‘‘مقالاتِ حافظ محمود شیرانی’’ کی جلد دہم (لاہور: مجلس ترقی ادب، فروری ۲۰۰۷) کا اِسے حصہ بنا دیا۔
جنابِ قدوائی نے اطلاع دی ہے کہ: ‘‘ممتاز فاضل نبیل متر (Nabil Matar) کے عالمانہ مقدمے اور بصیرت افروز حواشی سے مملو’’ یہ تصنیف بڑی آب و تاب کے ساتھ ۲۰۱۳ میں کولمبیا یونیورسٹی پریس-امریکہ سے شائع ہوئی ہے۔ (ص۱۴)
جناب قدوائی کی مختصر سی تحریر بہت معلومات افزا ہے، اِس میں امریکی مصنّف مائیکل ہارٹ کی The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History کا ذکر کیا گیا ہے۔ فاضل مصنّف نے اپنی فہرست میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانیت کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ مؤثر فرد قرار دیا ہے، اس میں مائیکل ہارٹ کی ناقدانہ ‘‘فراست’’ تو یقینا موجود ہے، کہ وہ مسیحیت کا پیروکار ہوتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دیتا ہے۔ اُس نے کتاب کے دیباچے میں اس کا سبب بھی بیان کر دیا ہے کہ ‘‘مسلمانوں کے مذہب کی تشکیل میں محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] کا ذاتی اثر اُس سے کہیں زیادہ ہے، جتنا اثر مسیحی مذہب کی تشکیل میں حضرت عیسیٰ [علیہ السلام] کا ہے’’، تاہم اِس کے ساتھ ہی اُس نے بطور استدراک واضح کیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درجہ بندی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اوپر رکھنے کا ‘‘ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میرے نزدیک محمد [صلی اللہ علیہ وسلم]، عیسیٰ [علیہ السلام] سے عظیم تر انسان تھے۔’’ نیز یہ کتاب ‘‘تاریخ کے موثر ترین (The most influential) افراد کی فہرست ہے، عظیم ترین (The greatest) افراد کی نہیں۔’’
اِس پس منظر میں مائیکل ہارٹ کو بانس پر چڑھانے کی چنداں ضرورت نہیں معلوم ہوتی!
‘‘قرآن مجید کا تصوّرِ امن اور اس کے اساسی پہلو’’ جناب ابوسفیان اصلاحی کی تحریر ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ: ‘‘اسلام کا مفہوم ہی سلامتی، مفاہمت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہے، ایمان کا مفہوم و معنی ہی یہ ہے کہ سوسائٹی کو پُرامن اور خوش گوار بنایا جائے’’ (ص۴۳)۔ اُن کے مطابق قرآن مجید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بہ تکرار اِنّی لکم رسول ٌامین کا اعلان کرنے کو کہا گیا تھا’’، [اُس] کی تفسیر یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ دُنیا کو پیغامِ امن دیا جائے’’ (ص۴۳)، مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں جہادی سرگرمیوں کا بھی اپنا حصہ ہے، چنانچہ انھوں نے جہاد کے ایجابی پہلو پر بھی گفتگو کی ہے، مگر اُن کا سرسیّد احمد خاں، ڈاکٹر محمد حمیداللہ اور سیّد مودودی کو ایک ہی صف میں رکھنا غوروفکر کا تقاضا کرتا ہے۔
‘بین المذاہب تعلقات میں میثاقِ مدینہ کا عصری اطلاق’ اور قضیۂ فلسطین پر محمد حمزہ فاروقی اور فیض الدین احمد کی تحریریں معلومات افزا ہیں۔
تحقیق اور تدوین کے حوالے سے جناب ارشد محمود ناشاد کی کاوش ‘مولانا حالی کی نثری تصنیف ‘‘مولود شریف’’ کی تدوینِ نو: جائزہ اور محاکمہ’ نمونے کی تحریر ہے۔ ‘‘مولود شریف’’ کا زیرِبحث ایڈیشن پہلے ہندوستان میں چھپا، اور وطن عزیز میں ۲۰۲۱ میں ورلڈویو پبلشرز- لاہور نے اِسے دوبارہ بصورتِ عکس شائع کیا تھا۔ جنابِ ناشاد نے بڑی محنت اور دقتِ نظر سے واضح کیا ہے کہ:
ڈاکٹر [آفتاب احمد] آفاقی نے ‘‘مولود شریف’’ کے متن کو بظاہر تدوینی آداب کے ساتھ مرتب کیا ہے، مگر توجہ سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے متن کی پیشکش اور تدوینِ نو میں تحقیقی اصولوں اور تدوینی آداب کا مطلقاً خیال نہیں رکھا۔ وہ بلاشبہ متن میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انھوں نے متن میں کئی لفظ اور عبارتیں حذف کی ہیں اور کئی الفاظ اور جملے اضافہ کیے ہیں، جسے کسی طرح بھی منشاے مصنّف کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (ص۶۸)
اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے زیرنظر مجموعے کے لیے نفیس سفید کاغذ، سادہ، مگر جاذبِ نظر گردپوش، اس کے ہم رنگ استر اور مناسب جلدبندی کا اہتمام کیا ہے! کاش اتنا ہی اہتمام تحریروں کے انتخاب میں برتا جاتا، اُن کی نوک پلک درست کی جاتی، حوالے مکمل اور درست ہوتے، طرزِ املا اور رموزِ اوقاف کا یکسانیت کے ساتھ انطباق کیا جاتا۔ محسوس ہوتا ہے کہ جو تحریر جیسی ملی، اُسے کمپوزر کے حوالے کر دیا گیا، پروف ریڈنگ کا حال بھی خاصا پتلا ہے۔
جناب محمد حمزہ فاروقی کی مولانا غلام رسول مہر (م۱۹۷۱) سے خط کتابت تھی، مزید براں انھیں معروف مصنّف بشیر احمد ڈار (م۱۹۷۹) کے نام بھی مولانا مہر کے مکتوبات مل گئے۔ انھوں نے اپنے اور ڈار صاحب کے نام یہ مکتوبات مرتب کر رکھے تھے۔ جب انھوں نے مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے اپنے نام مولانا مہر کے مکتوبات زیرِنظر مجلے کے لیے روانہ کیے تو اپنی تمہیدی تحریر سے بشیر احمد ڈار کے بارے میں وہ طویل پیراگراف حذف نہ کرسکے جو عنوان سے غیرمتعلق تھے۔ جناب مرتب بے خبر رہے، اور وہ من و عن چھپ گئے ہیں۔ (دیکھیے: ص۱۵۹)
حوالوں کے اندراج میں رنگا رنگ کی اغلاط ہیں۔ ص۱۰۱ پر حاشیہ-۲ میں کتاب کے ناشر اور سالِ اشاعت کا ذکر نہیں۔ صفحہ ۱۴۰ پر حاشیہ-۵ میں مرتب کا نام نثار احمد فاروقی درج ہو گیا ہے، جب کہ مرتب کا درست نام ‘‘نثاراحمدقریشی’’ ہے۔ حاشیہ-۸ میں مصنّفِ کتاب ڈاکٹر عبدالغنی نہیں، بلکہ ڈاکٹر عبدالمغنی ہیں۔ صفحہ ۲۹۸ پر حاشیہ-۵ میں وحید الدین سلیم پانی پتی کو سلیم الدین پانی پتی بنا دیا گیا ہے۔
زبان و بیان پر کتنی توجہ دی گئی ہے! مرتب کے ‘پیش لفظ’ کا یہ طویل جملہ دیکھیے: ‘‘اکیڈمی کے شعبۂ تحقیق سے وابستہ محمد عمید فاروقی اور میرے رفیق منیب الحسن رضا کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود اس کی تیاری میں میرے ساتھ شریک رہے’’ (ص۱۰)۔ اسلوب اور آدابِ تدوین کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے تحریر ‘اردو زبان میں انگریزی قوانین کے تراجم کا آغاز’ تو شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔
کیا مریم جمیلہ کی تحریر کا ترجمہ اصل متن کے ساتھ ملا کر دیکھا گیا تھا؟ ہمارے لیے تو ممکن نہیں کہ یہ فریضہ انجام دے سکیں، البتہ مریم جمیلہ نے اپنی تحریر میں امریکی اعلانِ آزادی (۴جولائی ۱۷۷۶) کے ابتدایے کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔ پہلے اِس کا ترجمہ جو زیرِنظر تحریر میں دیا گیا ہے، دیکھیے:
ہم ان حقیقتوں کو ایک خودساختہ سچ مانتے ہیں کہ تمام انسانوں کو برابری کی بنیاد پر پیدا کیا گیا ہے۔ انھیں ان کے خالق نے کچھ ناقابلِ تنسیخ حقوق سے نوازا ہے، ان میں زندگی، آزادی اور خوشی کا حصول شامل ہے۔ ان حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے لوگوں کے لیے حکومتیں قائم کی گئی ہیں، اور اُن کے منصفانہ حقوق کو ان ہی کی رضامندی سے بنایا گیا ہے۔ اور جب کبھی کسی بھی قسم کی حکومت ان حصول کے مقاصد کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے، تو یہ عوام کا حق ہے کہ وہ اِسے ختم کردیں اور ایک نئی حکومت قائم کریں جس کی بنیاد ایسے اصولوں پر وضع کی جائے جس میں لوگوں کی حفاظت اور خوشی کو اولیں ترجیح دی جائے۔ (ص۳۰۵)
اب اصل انگریزی متن پر نظر ڈال کر خود فیصلہ کرلیجیے کہ ترجمہ کس حد تک درست ہے! انگریزی متن یہ ہے:
We hold these truths to be self-evident that all men are created equal, that they are endowed by their creator with certain Unalienable Rights that among these are life, liberty and the pursuit of happiness, that to secure these rights, Governments are instituted among Men, deriving their just powers from the consent of the governed, that whenever any Form of Government becomes destructive of these ends, it is the Right of the People to alter or to abolish it, and to institute new Government, laying its foundation on such principles and organizing its powers in such form, as to them shall seem most likely to effect their safety and happliness.
مجموعۂ مضامین کے مرتب کی اپنی کاوش ‘خطوطِ نعیم صدیقی بہ نام معین الدین عقیل’ کا پہلے ذکر کیا جاچکا ہے۔ یہ خط کتابت ۱۹۷۷ اور ۱۹۹۲ کے درمیان ہوئی تھی۔ اِسے مرتب کرتے ہوئے تاریخی ترتیب کی جگہ جناب خالد امین نے یہ جدّت اختیار کی ہے کہ تاریخی ترتیب الٹ دی ہے۔ سب سے آخر میں لکھا گیا خط سب سے پہلے درج کیا گیا ہے، اور اِسی طرح دوسرے خطوط پیش کیے گئے ہیں۔ بے تاریخ خطوط کی قیاسی تاریخ متعین کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، اور اُنھیں آخر میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس ‘‘جدّت’’ میں کیا افادیت ہے؟ تاریخی ترتیب سے تو جانبین کے درمیان بڑھتے ہوئے ربط و تعلق پر روشنی پڑتی ہے، نیز واقعات کی ترتیبی تفہیم میں سہولت رہتی ہے۔
نعیم صدیقی کے ماہ نامہ ‘‘سیّارہ’’ (لاہور) کے بارے میں جناب خالد امین کی اطلاع ہے کہ اگست ۱۹۶۲ میں اس کا آغاز ہوا تھا (حاشیہ-۲، ص۲۵۷)، مگر خود نعیم صاحب نے عقیل صاحب کو لکھا: ‘‘ماہ نامہ سیّارہ-لاہور— ستمبر ۱۹۶۴ سے اپنی تعمیرپسندانہ ادب کی امتیازی روایات کے ساتھ شائع ہو رہا ہے’’ (ص۲۴۹)۔ کون سی بات درست ہے؟ روزنامہ ‘‘تسنیم’’ (لاہور) کا ذکر ہفتہ وار یا ماہوار ‘‘رسالے’’ کے طور پر کیا گیا ہے۔ (حاشیہ-۱، ص۲۵۷)
کتابت کی اغلاط، جنھوں نے بعض مقامات پر حقائق ہی کو بدل کر رکھ دیا ہے، مذکورہ بالا فروگزاشتوں پر مستزاد ہیں۔
