صداے ایاز

 شیخ ایاز (شاعر)، مختیار احمد کاندھڑو (مترجم و حواشی نگار) / مہران اکیڈمی، واگنہ گیٹ – شکارپور / ۲۰۲۴ / ۲۵۲ صفحات / مجلد مع گردپوش، قیمت درج نہیں۔

پاکستان کے ایک بڑے ادیب و شاعر اور سندھی زبان و ادب کی آن سمجھے جانے والے شیخ ایاز (۱۹۲۳-۱۹۹۷) کی ادبی و شعری زندگی چھے عشروں پر محیط ہے۔ انھوں نے طویل عرصے تک ایک آزاد خیال، قوم پرست انقلابی اور رومانی شاعر کی زندگی گزاری، زندگی کے آخری برسوں میں اُن کے فکر میں اتنی بڑی تبدیلی آئی کہ جو لوگ کبھی اُن کے قصیدے پڑھتے نہ تھکتے تھے، وہ اُن کا نام لینے کے روادار نہ رہے، اور وہ جو انھیں ملحد و بے دین سے کم نہ خیال کرتے تھے، وہ شیخ ایاز کے انقلابِ حال پر قادرِمطلق کی کارفرمائی پر حیرت زدہ تھے۔ شیخ ایاز نے اِس دورِ آخر میں قرآن مجید کا مطالعہ کیا، اور اُن کے ملاقاتی راوی ہیں کہ وہ تأسف کا اظہار کرتے تھے کہ کاش! انھوں نے پہلے قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہوتا!

اُن کے زمانۂ آخر کی تخلیقات میں سرِفہرست اُن کی دعائیں ہیں جو اُن کی ادارت میں چھپنے والے سندھی اخبار ‘‘برسات’’ (کراچی) میں باقاعدگی سے چھپتی رہی تھیں۔ ان دعاؤں پر مشتمل مجموعے کی کتابت ہو چکی تھی، اور وہ بچشم خود اِس کے پروف دیکھ چکے تھے، مگر اِس سے پہلے کہ مجموعہ شائع ہوتا، وہ اپنے خالق کے حضور میں حاضر ہو گئے جس سے انھوں نے دعاؤں کی شکل میں رازونیاز کی باتیں کی تھیں۔ مجموعے کے چھپنے پر اُن کے چاہنے والوں نے مناسب خیال کیا کہ اِسے اُردو میں منتقل کیا جائے، یاد پڑتا ہے کہ جناب محمد موسیٰ بھٹو نے اُن کی رحلت کے فوراً بعد اپنے مطالعے ‘‘شیخ ایاز کے آخری دس سال’’ میں اُن کی سب یا منتخب دعاؤں کا ترجمہ شامل کیا تھا۔

شیخ صاحب اپنے آخری برسوں میں تعریف و توصیف یا طنزوتعریض ہر دو سے بڑی حد تک بے نیاز ہو چکے تھے۔ وہ اپنے سابق ارادت مندوں کی دل شکنی اور ناراضی کو بھی سمجھتے تھے، اور اپنے سکونِ قلب سے بھی پوری طرح مطمئن تھے۔ بحیثیتِ مجموعی اُن پر خاص رنگ کی متصوفانہ سوچ کا غلبہ تھا۔ یہ صورتِ حال اِس لیے چنداں تعجب خیز نہیں کہ آخر انھوں نے رومی کے ارادت مند شاہ عبداللطیف بھٹائی (م۱۷۵۲) کے ‘‘شاہ جو رسالو’’ کو دل کی گہرائیوں سے پڑھا تھا، اور اس کا منظوم اردو ترجمہ بھی کیا تھا۔

اُن کی دعائیں پڑھتے ہوئے گمان گزرتا ہے کہ وہ اس منزل میں تھے جس کی جانب اقبال نے بایں الفاظ اشارہ کیا ہے:

خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں        میرے مولا! مجھے صاحبِ جنوں کر

اب انھیں نہ فکرِ ارسطو کی ضرورت تھی، اور نہ جدید مغرب کے کیرگی گارڈ، دوستووُسکی، کارل مارکس، نٹشے اوزسارترے کی۔ اب یہ سب شیخ صاحب کے نزدیک ‘‘نادان دانا’’ ٹھہر چکے تھے۔

ذرا یہ دعائیں دیکھیے:

l           میرے پروردگار!

تو طبیعیات اور مابعد الطبیعیات دونوں سے ماوراء ہے۔

مجھے تجھ پر اعتبار کرنے کے لیے ارسطو کے مطالعے کی ضرورت نہیں۔

اس چیونٹی کو پہلے ہی خبر ہے کہ بارش آرہی ہے اور اس لیے بِل کی طرف لوٹ رہی ہے اور برستی بارش میں اس نے کبھی بھی خوراک کی کمی محسوس نہیں کی۔ کیا میرے لیے یہ علم کافی نہیں!

l           میرے پروردگار!

میں زرتشت تو ہوں نہیں کہ تجھے ‘‘اہرمزد’’ اور ‘‘اہرمن’’ میں بانٹوں!

میرے دین نے مجھے عبودیت دی ہے۔

زرتشت نے نہیں کہا تھا کہ انسان ازل سے آزاد ہے، اور اچھائی اور برائی منتخب کرسکتا ہے!

میں کون ہوں کہ تیری مشیّت کے آڑے آؤں؟

میں نے اپنی آزادی تیرے قدموں میں اس طرح رکھ دی ہے جیسے شکست خوردہ سپہ سالار فاتح سپہ سالار کے آگے اپنی تلوار اور ڈھال رکھ دیتا ہے۔

میرے پروردگار!

میرے لیے فیصلے بھی تو کر اور مجھے سیدھے راستے پر بھی تو ڈال! میں نے ہر غلامی سے نفرت کی ہے سواے تیری غلامی کے۔

میرے پروردگار!

میں سارترے کی وجودیت کو مسترد کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری راہ بھی تو ہے اور رہ نما بھی تو ہے۔

میری تیز رفتاری بھی تو ہے، اور جب میں تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہوں، تب میرے لیے شجرسایہ دار بھی تو ہے۔

میرے پروردگار!

میں نے اپنی باگ ڈور تیرے قبضے میں دے دی ہے، میں خود آزاد اور خودمختار نہیں بننا چاہتا، آزاد اور خودمختار بن کر نٹشے کو دیوانگی ہی تو میسّر آئی!

میں تیری مشیت کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہوں۔

میرے پروردگار!

تیرا نام وہ زرہ ہے جس کے آگے ہر چنگیز و ہلاکو یلغار کرنے سے عاجز و بے بس ہے۔

میرے پروردگار!

مجھے اپنی پناہ میں رکھ!

-03

شیخ ایاز کی ان دعاؤں میں خالق و مولا کی حمدوثناء ہے، اُس سے شدید محبت کا اظہار ہے، نبی اکرمؐ کے احسانات کا تذکرہ ہے، اپنی ہیچ میرزی کا ذکر ہے۔ امن و سکون دیکھنے کی خواہش ہے۔ تشدّد اور قتل و غارت سے برأت ہے، عفو و درگزر کی باتیں ہیں، اللہ سے رحم و کرم کی التجائیں ہیں، اور انسانوں کو اپنے ہم جنسوں کے ساتھ رحمت و رافت سے رہنے کی تلقین ہے۔

یوں تو، جملہ دعاؤں کی تعداد گنتی میں ۹۴ ہے، مگر قاری کو پڑھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دُعادردُعا کے زنجیرے ہیں۔ بجا کہا گیا ہے کہ ع

بحرفے می تواں گفتن تمناے جہانے را          من از ذوقِ حضوری طول د ادم داستانے را

چند دعائیں اور دیکھ لیجیے:

l           میرے پروردگار!

میرے دشمن پر بھی رحم کر! اس کو کسی عذاب اور آزمایش میں مبتلا نہ کر! تُو تو رحیم ہے، میں کون ہوں جو تیری فطرت میں رکاوٹ ڈالوں! میں کون ہوں جو کہہ سکوں کہ تو کسی کے لیے قہر و غضب کا سیلاب بن جا!

میرے پروردگار!

تو میرے دشمن پر بھی اپنا سایہ پھیلا! اگر میں تجھ سے کہوں کہ پہاڑ اٹھا کر اس پر گرا دے، تو میری نہ سن! میری روح کو اپنی بے پایاں رحمت کی موج بنا۔ سب پر رحم و کرم کر کہ تو مہربان ہے، موسمِ بہار کی کونپل سے بھی نرم ہو جا! میرے دشمن کی آنکھوں سے آنسو اِس طرح پونچھ، جیسے آفتاب نرگس کے پھول سے شبنم کو پونچھ دیتا ہے!

میرے پروردگار!

جذبۂ عداوت میرا سب سے بڑا دشمن ہے، کسی اور کے لیے ایذا رسانی کا خیال بھی وہ خنجر ہے جو میں اپنے سینے میں گھونپ رہا ہوں۔ مجھے اپنے غیظ و غضب سے پناہ میں رکھ اور خودکشی سے بچا!

میرے پروردگار!

مجھے اپنی نعمتوں کی بھیک عطا کر! میرے باطن سے تمام برائیوں کا صفایا کر دے اور مجھ میں ہر کسی کے لیے خیر کا جذبہ پیدا کر! تو سب کے لیے اپنے رحم و کرم کی برکھا بن جا! مجھ پر ہی رحم نہ فرما، میرے بدخواہ پر بھی اپنا فضل کر اور اس کے اندر نیک تمنائیں اس طرح پیدا کر جیسے تھوہر میں ہرے بھرے پھول اُگ آتے ہیں اور ریگستاں لہلا اٹھتا ہے!

میرے پروردگار!

مجھے توفیق عطا کر کہ باقی عمر تیری شکرگزاری بجا لاؤں، عارضی اور فانی چیزوں کو اپنی توجہ سے ہٹادوں اور اپنی روح کی نظموں کو تجھ میں ایسے سمو دوں جیسے دریا خود کو سمندر میں سمو دیتا ہے۔ یہ میری آخری صدا و التجا ہے، اسے قبول کر!

آمین ثم آمین

l           میرے پروردگار!

مجھے دارا و سکندر کا قدوقامت نہیں چاہیے۔ مجھے حافظ کا ترنم اور خیام کی سرمستی عطا کر! مجھے شمس تبریزی اور رومی کی حیرت و تحیّر عطا کر اور اس میں شانِ قلندری پیدا کر! میں اپنے آپ سے بھی حقارت نہ کروں اور نہ ہی حقیر سمجھوں۔

میرے رب!

یہ زندگی مختصر ہے۔ پتے پر شبنم کے قطرے کی طرح جو دھوپ میں اڑجاتا ہے۔ اس کو صاف و شفاف بنا اور اس میں نرمی پیدا کر!

میرے پروردگار!

عزت بھی تو ہی دیتا ہے اور ذلّت بھی تو! میرے اندر یہ صلاحیّت پیدا کر کہ عزت پاکر اترانے نہ لگوں اور ذلّت کی آزمایش سے دوچار ہو کر حوصلہ ہار کر بیٹھ نہ جاؤں!

میرے پروردگار!

مجھے گھاس کے پتے سے بھی زیادہ منکسر بنا اور ہر طوفان سے بڑھ کر مضبوط بنا۔

l           میرے پروردگار!

مجھے انسان اور اس کی جدوجہد پر کتنا یقین اور اعتماد ہوتا تھا!

میں نے انسان کو وحشی درندے کے روپ میں بھی دیکھا ہے اور گندے اور بے کار جرثومے کی طرح رینگتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

مجھے اس کی جدوجہد میں اب ویسا یقین نہیں رہا۔

وہ راہ جو تیرے پیغمبر دکھا کر گئے ہیں، وہی منزل تک پہنچاتی ہے۔ باقی راہیں تو کسی گہرے گڑھے میں جا کر ختم ہو جاتی ہیں۔

-03

مندرجہ بالا دعاؤں میں متعدد افراد دارا، سکندر، حافظ، خیام، شمس تبریزی، رومی، ارسطو، سارترے، نٹشے، چنگیز اور ہلاکو وغیرہ کے نام آئے ہیں اور ذاتِ خداوندی کے حوالے سے اہرمزد اور اہرمن کا ذکر آیا ہے۔ افراد اور اِن تصورات پر حواشی لکھے گئے ہیں، اور کتاب کے سرورق پر جناب مختیار احمد کاندھڑو کی ترجمہ کاری کے ساتھ تحقیق اور جن حواشی کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اسی کاوش کی طرف اشارہ ہیں۔ کتابت کی اکادکا اغلاط تو کتاب کے متن میں بھی ہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آغا نور محمد پٹھان کے مقدمے کے پروف پڑھنے میں کچھ زیادہ ہی بے احتیاطی برتی گئی ہے۔