سہ ماہی تدبّر (لاہور)

مولانا حمیدالدین فراہی (۱۸۶۲-۱۹۳۰) کی رحلت پر سیّد سلیمان ندوی نے اپنی تعزیتی تحریر میں اُن کے مرتبہ و مقام کی تعیین میں اپنی والہانہ محبت کا بھرپور اظہار کیا تھا۔ آغاز ایک طویل پیراگراف سے کیا گیا تھا جس کا کچھ حصہ یہ ہے:

الصلوٰۃ علی ترجمان القرآن (مفسّرِ قرآن کی نمازِجنازہ) وہ صدا ہے جو آج سے ساڑھے چھے سو برس پیشتر مصروشام سے چین کی دیواروں تک ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی نمازِجنازہ کے لیے بلند ہوئی تھی، حق یہ ہے کہ یہ صدا آج پھر بلند ہو، اور کم از کم ہندوستان سے مصروشام تک پھیل جائے کہ اس عہد کا ابن تیمیہ ۱۱ نومبر ۱۹۳۰/ ۱۹ جمادی الثانی ۱۳۴۹ھ کو اِس دنیا سے رخصت ہو گیا۔  وہ جس کے فضل و کمال کی مثال آیندہ بظاہر حال عالمِ اسلامی میں پیدا ہونے کی توقع نہیں، جس کی مشرقی و مغربی جامعیت عہدِ حاضرہ کا معجزہ تھی، عربی کا فاضلِ یگانہ، اور انگریزی کا گریجویٹ، زہدو ورع کی تصویر، فضل و کمال کا مجسّمہ، فارسی کا بُلبلِ شیراز، عربی کا سوقِ عکاظ، ایک شخصیتِ مفرد، لیکن ایک جہانِ دانش، ایک دنیاے معرفت، ایک کائناتِ علم، ایک گوشہ نشین مجمعِ کمال، ایک بے نوا سلطانِ ہنر، علومِ ادبیہ کا یگانہ، علومِ عربیہ کا خزانہ، علومِ عقلیہ کا ناقد، علومِ دینیہ کا ماہر، علوم القرآن کا واقفِ اسرار، قرآنِ پاک کا داناے رموز، دنیا کی دولت سے بے نیاز، اہلِ دنیا سے مستغنی، انسانوں کے ردوقبول، اور عالم کی دادوتحسین سے بے پروا، گوشۂ علم کا معتکف، اور اپنی دُنیا کا آپ بادشاہ، وہ ہستی جو تیس برس کامل قرآنِ پاک اور صرف قرآنِ پاک کے فہم و تدبر اور درس و تعلیم میں محو، ہر شے سے بے گانہ، اور ہر شغل سے ناآشنا تھی، — افسوس یہ ہے کہ یہ ہستی آئی اور چلی گئی، لیکن دُنیا اُن کی قدرومنزلت کو نہ پہچان سکی، اور اُن کے فضل و کمال کی معرفت سے ناآشنا رہی۔

تو نظیری زفلک آمدہ بودی چو مسیح

بازپس رفتی و کس قدرِ تو نشناخت دریغ

مزید براں لکھا:

آج — ہم نئے عہد کے سب سے پہلے عالم کی وفات کے ماتم میں مصروف ہیں۔ ہم ایک ایسے گریجویٹ عالم کا ماتم کرتے ہیں جو اپنے علم و فضل، زہدوورع اور اخلاق و فضائل میں سلفِ صالح کا نمونہ، اور جدید علوم و فنون کی اطلاع و واقفیت اور مقتضیاتِ زمانہ کے علم و فہم میں عہدِ حاضر کی سب سے بہتر مثال تھا۔ اس سے پہلے اُن تمام علماء نے جو نئے علمِ کلام کا اپنے کو بانی کہتے اور سمجھتے ہیں، جو کچھ کہا اور لکھا، وہ دوسروں سے سُنی سنائی باتیں تھیں، لیکن اِس جماعت میں یہ پہلی ہستی تھی جس نے فلسفۂ حال کے متعلق نفیاً یا اثباتاً جو کچھ کہا اور لکھا، وہ اپنی ذاتی تحقیق اور ذاتی علم و مطالعہ سے [لکھا]۔

سیّد صاحب نے اِس امر پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اُن کے مسودات کا ایک دفتر چھپے بغیر رہ گیا، اور جو تحریریں شائع ہوئیں، وہ زیادہ تر عربی میں ہیں، اور عوام کی پہنچ سے باہر۔ جہاں تک علماء کا تعلق ہے، وہ بھی قدرناشناس ہی رہے، تاہم مثبت پہلو یہ تھا کہ مولانا حمیدالدین نے اپنی حیاتِ مستعار کے آخری کامل بارہ برس مدرسۃ الاصلاح-سراے میر اور اِس کے طلبہ کی خدمت میں گزارے تھے۔ اِس کا نصاب مرتب کیا تھا، مالی طور پر اِسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی تھی، اور ذاتی تصنیف و تالیف سے ہٹ کر تمام تر وقت طلبہ کی تعلیم و تربیت اور غوروپرداخت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ انھوں نے ‘‘خود مدرسین اور اعلیٰ [درجے کے] طلبہ کا ایک حلقہ بنا کر اِس کو پورے قرآن مجید کا درس کئی دفعہ مختلف نقطہ ہاے نظر سے دیا، ساتھ ساتھ جدید فلسفہ کی بعض شاخیں بھی ان طلبہ کو پڑھائیں۔’’ اور آخر میں پُرامید انداز میں سیّد صاحب نے لکھا: ‘‘بعض مستعد طلبہ نے مولانا کے اس درس سے پورا فائدہ اٹھایا، جن میں قابلِ ذکر مولوی امین احسن صاحب اصلاحی ہیں، ہماری آیندہ توقعات اُن سے بہت کچھ وابستہ ہیں۔’’ (‘‘یادِرفتگاں’’، کراچی: مکتبۃ الشرق، جنوری ۱۹۵۵: ۱۲۴-۱۵۳)

سیّد سلیمان ندوی کی مولانا امین احسن اصلاحی (۱۹۰۴-۱۹۹۷) سے وابستہ توقعات بے جا نہ تھیں۔ مولانا اصلاحی کی تعلیم مدرسۃ الاصلاح کے اُس آٹھ سالہ نصاب کے مطابق ہوئی تھی جسے تجویز کرنے میں مولانا فراہی کا بڑا حصہ تھا، نیز ۱۹۲۵ سے مولانا فراہی کی رحلت تک اُن کے بہت قریب رہے تھے، اور اُن کے فکرودانش، اور بالخصوص قرآن فہمی سے جتنی واقفیت وہ رکھتے تھے، اِس میں کوئی دوسرا اُن کا سہیم نہ تھا۔ مزید براں مولانا اصلاحی نے قلم و قرطاس سے اپنے تعلق کا اظہار ادارہ ‘‘مدینہ’’ (بجنور) و ‘‘سچ’’ (لکھنؤ) کے زمانۂ وابستگی میں کر دیا تھا۔

مولانا فراہی کی بعض تحریریں اُن کی زندگی میں شائع ہو چکی تھیں، تاہم وہ متعدد موضوعات پر مطالعہ و تحقیق کرتے رہے تھے، ان میں سے بعض پر اُن کے مسودات بڑی حد تک مرتب و مہذب شکل میں تھے، کچھ پر ابتدائی نوعیت کا کام کیا تھا، اور ضروری شذرات لکھ رکھے تھے، اِسی طرح بعض تحریریں مرتب، مگر نامکمل شکل میں تھیں۔ ان سب کی اشاعت و تعارف ضروری تھا، نیز اُن کی جو چند اہم تحریریں شائع ہوئی تھیں، وہ عربی زبان میں تھیں، جن سے عامۃ الناس کا استفادہ ممکن نہ تھا۔

مولانا فراہی کے علم و دانش کی اشاعت کے لیے غوروفکر جاری رہا اور آخرِکار ان کے بعض ارادت مندوں کی خواہش پر ‘‘دائرۂ حمیدیہ، مدرسۃ الاصلاح-سراے میر’’ کی داغ بیل ڈالی گئی اور اِس کے زیراہتمام مولانا اصلاحی کی ادارت میں ماہ نامہ ‘‘الاصلاح’’ کا اجراء کیا گیا (جنوری ۱۹۳۶)۔ ‘‘دائرۂ حمیدیہ کا ماہ وار علمی و مذہبی رسالہ’’ تقریباً تین برس جاری رہا۔ اِس میں مولانا فراہی کی نامکمل تفسیر ‘‘نظام القرآن و تاویل الفرقان’’ کے بعض مرتب اجزاء کا اردو ترجمہ، نیز ‘‘الرای الصحیح فی من ھو الذبیح’’ اور ‘‘امعان فی اقسام القرآن’’ کے تراجم شائع ہوئے جو مولانا اصلاحی کے قلم سے تھے۔ بعد میں ‘‘نظام القرآن’’ کے بعض مزید اجزاء کے ترجمے شامل کرتے ہوئے مولانا اصلاحی نے ان کا مجموعہ ‘‘مجموعۂ تفاسیر فراہی’’ کے نام سے مرتب کردیا تھا (لاہور: مکتبۂ جماعتِ اسلامی پاکستان)۔ اِسی طرح ‘‘الرای الصحیح‘‘ اور ‘‘امعان فی اقسام القرآن’’ کے ترجمے ‘‘دائرۂ حمیدیہ’’ کی جانب سے پہلی بار کتابی شکل میں ۱۹۴۱ میں چھپ گئے تھے، جو بعد ازاں مختلف ناشرین کی جانب سے بار بار چھپتے رہے ہیں۔

مولانا اصلاحی جب جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے تو اُن کے وقت کا بڑا حصہ جماعت کی اصلاحی اور تنظیمی سرگرمیوں میں، نیز جماعتی تربیت کے پیشِ نظر موضوعات پر تصنیف و تالیف میں گزرنے لگا، اور خواہش کے باوجود اپنے استاذ گرامی مولانا فراہی کے فکرودانش کی توزیع و اشاعت میں حصہ نہ لے سکے، اور جب جماعتِ اسلامی پاکستان سے انتخابی سیاست کے حوالے سے ان کے شدید اختلافات پیدا ہو گئے تو جماعت سے الگ ہونے (یکم جنوری ۱۹۵۸) سے کچھ پہلے انھوں نے تفسیرِ قرآن لکھنے کا آغاز کیا اور اُن کے اپنے بقول: ‘‘قرآن مجید ۲۳ سال میں نازل ہوا ہے، اتنی ہی مدّت میں نے ‘تدبرقرآن’ کی تکمیل میں صرف کی ہے۔ ‘‘تدبرقرآن’’ کی آٹھویں جلد ۲۹ رمضان ۱۴۰۰ھ/ اگست ۱۹۸۰ کو مکمل ہوئی تھی۔’’ (واضح رہے کہ ‘‘تدبرِقرآن’’ کے نمونے کے طور پر ‘‘تفسیر آیت بسم اللہ و تفسیر سورۃ فاتحہ’’ ماہ نامہ ‘میثاق’ کے اولیں شمارے بابت جون ۱۹۵۹/ ذی قعدہ ۱۳۷۸ھ میں چھپی تھی، اور اِس کے ساتھ ہی بصورت کتابچہ بھی۔)

مولانا اصلاحی نے جہاں ایک طرف تفسیر ‘‘تدبر قرآن’’ پر کام کا آغاز کیا تو وہیں جدید تعلیمی اداروں کے باصلاحیّت نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ۱۳۷۸ھ/ ۱۹۵۸ میں ‘‘حلقۂ تدبر قرآن’’ کے نام سے اُنھیں ایک پلیٹ فارم مہیّا کیا۔ ‘‘تدبرقرآن’’ کی تکمیل پر مولانا مرحوم سے قرآن کے ساتھ حدیث کا مطالعہ کرنے کی خاطر ‘حلقہ تدبرقرآن’ کو باقاعدہ ‘‘ادارہ تدبرِ قرآن و حدیث’’ میں بدل دیا گیا (یکم محرم ۱۴۰۱ھ/ ۱۰ نومبر ۱۹۸۰)، اِس کا باقاعدہ دستور مرتب کیا گیا، ادارے کی قراردادِ تأسیس اور اس کے دستور کے ‘تعارف’ میں مولانا نے لکھا کہ ‘‘جس طرح قرآن دین کا مأخذ ہے، اسی طرح حدیث بھی دین کا مأخذ ہے۔ صراطِ مستقیم کی معرفت اور امت میں وحدتِ فکر پیدا کرنے کے لیے جس طرح یہ ضروری ہے کہ قرآن پر غور کرنے کا صحیح راہ باز ہو — اسی طرح حدیث کے خزانۂ حکمت سے بہرہ مند ہونے کے لیے بھی اِس راہ کا کھُلنا ضروری ہے’’ (ص۱)۔ مولانا نے اسی تحریر میں، مزید یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت مطالعۂ حدیث کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ درست نہیں۔ مزید براں انھوں نے بتایا کہ وہ جن دنوں (۱۹۳۱) مولانا عبدالرحمن مبارک پوری (م۱۹۳۵) سے درسِ حدیث لے رہے تھے، اسی وقت سے وہ صحیحین میں سے کسی ایک کی شرح لکھنے کی خواہش رکھتے تھے، مگر ‘‘تدبرِقرآن’’ نے بہت وقت لے لیا، اور اب اُن کے الفاظ میں: ‘‘اپنے اندر وہ طاقت باقی نہیں رہی ہے جو اس قسم کے محنت طلب کام کے لیے مطلوب ہے’’ (ص۳)۔ حل یہی ہے کہ ‘‘ادارہ تدبرِقرآن و حدیث’’ کے مقاصد میں یہ شامل ہو گا، اور جو ہو سکے گا، کیا جائے گا۔

‘‘ادارہ تدبرِ قرآن و حدیث’’ کے تحت سہ ماہی سلسلۂ ‘‘تدبّر’’ کا آغاز کیا گیا (رمضان ۱۴۰۱ھ / جولائی ۱۹۸۱۔ حالیہ دور ثانی کے پہلے شمارے میں ‘‘تدبر’’ کے اولیں شمارے کا اجراء، غالباً حافظے کی بنیاد پر جنوری ۱۹۸۱ درج کیا گیا ہے جو درست نہیں، شمارہ ۹۶:۴)۔ اس سلسلے کی ادارت کا قرعہ مولانا خالد مسعود صاحب کے نام پڑا۔ اُن کی رحلت (یکم اکتوبر ۲۰۰۳) کے بعد یہ ذمہ داری عبداللہ غلام احمد صاحب نے ادا کی۔ دسمبر ۲۰۰۷ میں سلسلے کے ۹۵ویں نمبر کے ساتھ اشاعت رک گئی۔ اب جنوری ۲۰۲۴ سے ‘‘تدبر’’ کا احیاء کیا گیا ہے اور اِس کی ادارت ‘‘ادارۂ تدبرِ قرآن و حدیث’’ کے ایک تأسیسی رکن جناب منصورالحمید اور مولانا خالد مسعود کے صاحبزادے جناب حسّان عارف نے سنبھالی ہے۔

مولانا اصلاحی نے کبرسنی اور اپنی صحت کے پیش نظر حدیث سے متعلق کسی بڑے کام میں تو ہاتھ نہ ڈالا، تاہم ‘‘ادارۂ تدبرِ قرآن و حدیث’’ کے تحت انھوں نے دروس کا سلسلہ شروع کیا۔ آغازِکار تدبّرِ حدیث کے اصولوں پر گفتگو سے ہوا۔ اِس کے بعد مؤطا امام مالک کے منتخب ابواب کی منتخب احادیث کے ترجمہ و تشریح پر درس دیے گئے۔ اِسی طرح ‘‘الجامع الصحیح’’ (بخاری) کے آغاز سے کتاب الوضو تک مسلسل، اور کتاب البیوع سے کتاب الاجارات تک کے ابواب کے اجزاء کی تشریح و توضیح کی گئی۔ یہ سبھی درس سلسلۂ ‘‘تدبر’’ میں چھپتے رہے، اور بعد میں باقاعدہ کتابی صورت میں بالترتیب ‘‘مبادئ تدبرِ حدیث’’ (مرتبہ ماجد خاور)، ‘‘تدبر حدیث شرح مؤطا امام مالک’’ (مرتبہ خالد مسعود و سعید احمد) اور ‘‘تدبر حدیث شرح صحیح بخاری’’ (مرتبہ خالد مسعود، سعید احمد اور سیّد اسحاق علی) کے ناموں سے شائع ہوئے۔

‘‘ادارۂ تدبرِقرآن و حدیث’’، اور اِس سے پہلے حلقۂ تدبر قرآن میں جو افراد بہت نمایاں تھے، مولانا اصلاحی نے ۱۹۸۲ کے ایک انٹرویو میں ان میں مولانا خالد مسعود، جناب عبداللہ غلام احمد اور جناب جاوید احمد کا نام لیا تھا، اور اِن سے مولانا کی امیدیں وابستہ تھیں۔

اِن حضرات نے باہم مل کر فکرِفراہی و اصلاحی کا جھنڈا بلند کیے رکھا، تاہم اُن میں جاوید احمد صاحب اپنے ہم سفروں سے کچھ مختلف تھے۔ وہ مولانا اصلاحی کی قربت، اس کی جو بھی سطح تھی، کے باوجود جماعتِ اسلامی پاکستان کے نصب العین سے اتفاق رکھتے تھے، اور انھیں سیّد مودودی کے ہاں ‘‘اکثر حاضر ہونے کا موقع ملتا تھا۔’’ ایک ملاقات (اوائل ۱۹۷۶) میں انھوں نے سیّد مودودی کی نگرانی میں، اُن افراد کی علمی و ذہنی تربیت کے لیے، جو ذاتی طور پر اُن کے ساتھ وابستہ تھے، جماعتِ اسلامی پاکستان کے ساتھ نہ صرف اشتراک کر لیا تھا، بلکہ اُنھوں نے جماعتِ اسلامی پاکستان کی رکنیت بھی اختیار کر لی تھی۔ یہ تجربہ بوجوہ ناکام رہا۔ بعد ازاں جاوید احمد صاحب مختلف تجربات کرتے رہے، حتیٰ کہ ‘‘ادارۂ تدبرِ قرآن و حدیث’’ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ (جاوید احمد صاحب کے مطابق اس ادارے کی تجویز اُنھوں نے پیش کی تھی۔ مولانا اصلاحی کے ایماء پر اس کا دستور بھی انھوں نے لکھا تھا اور ‘‘ادارۂ تدبرِ قرآن و حدیث’’ کے تحت کام کرنے کی خواہش رکھتے تھے، مگر ‘‘بہت جلد [اُن پر] واضح ہو گیا کہ [سابق] حلقۂ [تدبرِ قرآن] کے بزرگ اِسے پسند نہیں کریں گے۔ اس کے بعد [اُنھوں نے] یہی مناسب [سمجھا] کہ کوئی کشمکش پیدا کرنے کے بجاے ادارے سے الگ ہو کر اپنے طریقے پر کام [کرتے رہیں]۔’’ (‘‘مقامات’’، لاہور: المورد، نومبر ۲۰۰۸:۴۱)

اِس پس منظر میں جناب جاوید احمد صاحب نے مولانا اصلاحی کی زندگی میں ‘‘المورد’’ قائم کیا (جون ۱۹۸۳)، ماہ نامہ ‘‘اِشراق’’ (لاہور) اور ماہ نامہ Renaissance اِس کے ترجمان ہیں۔

‘‘ادارہ تدبّرِ قرآن و حدیث’’ کے رفقاء مولانا حمیدالدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے فکرودانش کے خوشہ چین ضرور ہیں، مگر ان کے مقلدِ محض نہیں، (خود مولانا اصلاحی قرآن و سنت پر اپنے آزادانہ غوروفکر میں ‘‘تدبّرِ قرآن’’ میں مختلف مقامات پر مولانا فراہی کی راے اور اخذکردہ نتائج سے اختلاف کرتے ہیں) وہ خود بھی غوروفکر سے کام لیتے ہیں، اور دلیل و برہان کی بنیاد پر جہاں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں، وہیں اپنے ان بزرگوں سے بھی مختلف زاویۂ نظر اختیار کرنے میں کوئی تردّد محسوس نہیں کرتے۔ ایک موقع پر مولانا امین احسن اصلاحی کی نسبت سے مولانا خالد مسعود نے مولانا عبدالغفار حسن کو مخاطب کرتے ہوئے اپنا زاویۂ نظر ان الفاظ میں واضح کیا تھا:

مولانا! ہم طالب علم لوگ ہیں اور کسی مدرسے میں نہ پڑھنے کے باعث ہماری وابستگی کسی کے ساتھ جذباتی طور پر نہیں ہے۔ اپنے علم کی حد تک غور کرتے ہیں اور اپنی راے قائم کرتے ہیں کہ علماء کے باہمی مباحث میں دلیل کس کے ساتھ ہے۔ مولانا اصلاحی رحمہ اللہ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہماری تربیّت میں اُن کا بڑا حصہ ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ مولانا رحمہ اللہ اپنے استادوں سے بعض امور میں مختلف راے رکھتے ہیں اور اس کے اُن کے پاس دلائل ہیں۔ ہم بھی مولانا رحمہ اللہ کو سنتے ہیں تو اُن کی بات کو ‘‘پیرجی’’ کی بات نہیں سمجھتے، بلکہ ان کی دلیل سنتے ہیں۔ میں اپنی حد تک تو سمجھتا ہوں کہ جہاں مولانا رحمہ اللہ کی کسی دلیل کا وزن سمجھ میں نہیں آتا، تو میں اِس راے کو اختیار کرنے میں توقف کرتا ہوں اور کہیں الگ راے بھی قائم کرتا ہوں۔ ہاں میں ہاں ملانا جائز نہیں سمجھتا۔ (‘‘توضیحاتِ فکر فراہی’’ حصہ دوم: ۹۴)

تاہم حقیقت یہی ہے کہ مطالعۂ قرآن کے بنیادی مسائل و مباحث پر مولانا فراہی اور مولانا اصلاحی کے پیش کردہ دلائل و براہین سے اُن کے ارادت مند کم و بیش متفق الراے ہیں، چنانچہ اپنے اِن بزرگوں کے ساتھ وہ خود بھی تنقید، اور بعض اوقات تعریض کا ہدف بنا لیے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف و تردید جہاں باہر کے حلقوں کی جانب سے ہوتا ہے، وہیں ماضی کے ہم نواوں کی جانب سے بھی سامنے آجاتا ہے۔

‘‘تدبر’’ کے دورِ ثانی کا ایک سال

۲۰۲۴ میں ‘‘تدبّر’’ کے جو چار شمارے (۹۶-۹۹) بالترتیب جنوری، اپریل، جولائی اور اکتوبر میں سامنے آئے ہیں، ان کے حوالے سے پہلا تأثر تو یہ بنتا ہے کہ فراہی و اصلاحی مکتبِ فکر سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی طالب علم کا انھیں دیکھے بغیر اپنی اطلاعات کو (up to date) قرار دینا درست نہ ہو گا۔

فراہی مکتبِ فکر سے آگاہی اور اِس کی قبولیت برعظیم کی روایت دوست اہلِ سنت آبادی میں تو چنداں قابلِ لحاظ نہیں، تاہم اِس کے اثرات جو کچھ ہیں، وہ جدید تعلیم یافتہ دین دار طبقے میں ہیں۔ جامعات کے شعبہ ہاے علوم اسلامیہ میں دوسرے عنوانات کے ساتھ فراہی مکتبِ فکر پر مختلف سطح کے مقالات لکھے گئے ہیں، اور یہ سلسلہ مزید چلتا دکھائی دیتا ہے۔ جناب سعید الرحمن نے ‘تحقیقاتِ مکتبِ فراہی’ کے زیرعنوان جامعاتی سندی مقالات کی کتابیات مرتب کی ہے جس کی دو اقساط شمارہ ۹۶ اور ۹۷ میں شامل کی گئی ہیں۔

ان شماروں میں مولانا فراہی کی نادر اور غیرمدون تحریریں، اُن کی بعض تحریروں کے تراجم، اور اُن کے فکرودانش پر اہلِ قلم کے مضامین شائع ہوئے ہیں۔

اُن کی ایک اردو تحریر ‘‘رفعِ انجیل’’ مولانا ظفر علی خاں (م۱۹۵۶) کے علمی اور ادبی ماہ نامے ‘‘پنجاب ریویو’’ (لاہور) کے نومبر اور دسمبر ۱۹۱۰ کے مشترک شمارے میں چھپی تھی جو باقاعدہ ایک مباحثے کا سبب بن گئی تھی، بحث کے پھیل جانے پر مولانا ظفر علی خاں نے مارچ-اپریل ۱۹۱۱ کے شمارے میں مولانا فراہی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ‘‘یہ بحث آپ کی ایک قطعی اور فیصلہ کن تحریر کی محتاج ہے’’، چنانچہ انھوں نے اختتامی/ حتمی تحریر بعنوان ‘‘نویدِ مسیحا’’ لکھی جو جولائی ۱۹۱۱ کے شمارے میں چھپی تھی۔ مذکورہ دونوں تحریریں بالترتیب شمارہ ۹۶ (صفحات ۱۲۱-۱۳۰) اور شمارہ ۹۷ (صفحات ۸۲-۸۵) میں پیش کی گئی ہیں۔

مولانا فراہی کی تفسیر ‘‘نظام القرآن و تاویل الفرقان’’ کا ایک ایڈیشن ماضی قریب میں سامنے آیا ہے (تیونس: دارالغرب الاسلامی / سراے میر: دائرۂ حمیدیہ مدرسۃ الاصلاح)۔ اس میں شامل ‘تفسیر سورۃ آل عمران’ کو راشد ایوب اصلاحی نے اُردو میں منتقل کیا ہے۔ مولانا کے مسودات میں ‘تفسیر سورۃ آل عمران’ کے دو ورژن (version) تھے، دونوں کو متن اور ترجمے میں شامل کیا گیا ہے۔ ‘تفسیر سورۂ آل عمران’ کی اقساط چاروں شماروں میں شامل ہیں، اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

مولانا کی ایک دوسری تالیف ‘‘مفردات القرآن’’ ہے جو محمد اجمل ایوب اصلاحی کی تحقیق و شرح کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اِس کا ترجمہ اور تلخیص حافظ قمر حسن نے کی ہے جو شمارہ ۹۶، ۹۷ اور ۹۸ میں شامل ہے۔ اسی طرح مولانا فراہی کی معروف تالیف ‘‘جمہرۃ البلاغۃ’’ کی اشاعتِ تُرکیا (تقدیم و تخریج محمد خالد رہاوی و عامر خلیل جراح) پر تبصرہ شامل کیا گیا ہے۔ (شمارہ ۹۷: ۱۴۹-۱۵۰)

‘مولانا فراہی کی طرف منسوب ‘‘مختارات’’ کی حقیقت’ کے زیرِعنوان بتایا گیا ہے کہ مولانا فراہی کے پوتے (ابوالحسن علی فراہی، م۱۹۸۷) کے ہاں ایک خطی نسخہ بنام ‘‘مختارات’’ / ‘‘مختارات من قسم الشعر’’ تھا، جسے ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی (م۲۰۱۱) نے زبانی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے مولانا فراہی کی مرتبہ تسلیم کر لیا تھا (دیکھیے: ماہ نامہ ‘‘فکرونظر’’، اسلام آباد: اپریل ۱۹۸۱، نیز شرف الدین اصلاحی کی تالیف ‘‘ذکرِ فراہی’’، سراے میر: دائرۂ حمیدیہ، مدرسۃ الاصلاح، ۲۰۰۱: ۶۴۲)۔ ڈاکٹر محمداجمل اصلاحی نے واضح کیا ہے کہ یہ ‘‘نسخہ جرمن مستشرق الورد [W. Ahlwardt] کی کتاب ‘مجموع اشعار العرب’ کے حصۂ اوّل سے ‘اصمعیات’ اور اِس سے ملحق لغوی قصائد کی ہوبہو نقل ہے۔’’ (شمارہ ۹۷: ۱۳۳)

مولانا فراہی کے فکروفن کے حوالے سے یہ تحریریں سامنے آئی ہیں: l نسیم ظہیر اصلاحی، ‘مولانا حمیدالدین فراہی رحمہ اللہ اور حدیث و سنت’، شمارہ ۹۶: ۳۵-۵۹، شمارہ ۹۷: ۳۰-۴۷ l محمد اشرف اعظمی، ‘فکرِ فراہی کے بنیادی عناصر’، شمارہ ۹۷: ۹۳-۱۰۶

مولانا اصلاحی کی نسبت سے جو تحریریں زیرِنظر شماروں میں شامل ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے:

اولاً، مولانا کی زندگانی اور شخصیت کے حوالے سے تحریریں: l محمد مرسلین اصلاحی، ‘ڈاکٹر حفیظ اللہ کی وقف رقم کا قصہ’، شمارہ ۹۸: ۱۳۱-۱۴۱        l مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا مودودی اور مدرسۃ الاصلاح: ایک تاریخی مراسلت کے حوالے سے، شمارہ ۹۸: ۱۴۲-۱۴۳ (جماعتِ اسلامی کے قیام پر مولانا اصلاحی، مدرسۃ الاصلاح- سراے میر چھوڑ کر سیّد مودودی کے دست و بازو بن گئے تھے۔ اس سے مدرسے میں جو خلا پیدا ہو گیا تھا، اس کا احساس کرتے ہوئے مدرسے کے مہتمم حاجی رشید الدین نے، جو مولانا حمیدالدین فراہی کے برادرِ خُرد تھے، سیّد مودودی کو مکتوب میں یہ تجویز پیش کی کہ مولانا اصلاحی، اگر سال کا آدھا حصہ مدرسے میں رہیں اور آدھا حصہ جماعت اسلامی کے لیے وقف رکھیں تو مناسب ہو گا، سیّد مودودی نے تجویز قبول نہ کی۔) l ساجد علی، ‘مولانا امین احسن اصلاحی: چند یادیں، چند تأثرات، شمارہ ۹۹: ۱۲۴-۱۳۰)

ثانیاً، مولانا اصلاحی کی تحریریں: l ‘قربانی’، شمارہ ۹۷: ۸۶-۹۲  یہ تحریر ماہ نامہ ‘‘ندیم’’ (گیا) کے شمارہ بابت نومبر ۱۹۴۴ سے نقل کی گئی ہے۔ غالباً یہ وہی تحریر ہے جو پہلے ماہ نامہ ‘‘الاصلاح’’ (سراے میر) بابت اکتوبر ۱۹۳۷ میں شائع ہوئی تھی۔ l مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے نام مولانا امین احسن اصلاحی کا نامۂ گرامی، مکتوبہ ۲ اکتوبر ۱۹۸۲، شمارہ ۹۷: ۱۴۰ l مولانا عبدالرحمن مبارک پوری، شمارہ ۹۸: ۵۳-۵۹ l شیکسپیئر کے نظریہ کی تغلیط، شمارہ ۹۹: ۶۹-۷۴  یہ تحریر ماہ نامہ ‘‘ندیم’’ (گیا) سے اخذ کی گئی ہے۔ کسی نے شیکسپیئر کے ڈرامے ‘دی مرچنٹ آف وینس’ سے یہ ذہن لے کر خدا وندِ کریم پر اعتراض اٹھایا تھا کہ اگر وہ رحیم و کریم ہے تو قوموں پر قہروغضب کیوں برساتا ہے۔ اسی ذہن کی تردید کی گئی ہے۔

ثالثاً، مولانا اصلاحی کے فکروفلسفہ کے حوالے سے تحریریں: l محمد صدیق بخاری، ‘تفسیر تدبّر قرآن میں دعوتی اسلوب’، شمارہ ۹۶: ۶۰-۸۱ l عبدالخالق فاروقی، ‘فوزوفلاح اور قرآن کریم: تفسیر تدبّر قرآن کے مطالعے کی روشنی میں، شمارہ ۹۸: ۶۰-۶۸ l نِیل رابنسن / حسّان عارف (مترجم)، ‘سورتوں کا نظم: مولانا امین احسن اصلاحی کی توضیح، شمارہ ۹۶: ۱۰۴-۱۲۰ l عبدالخالق فاروقی، ‘‘فلسفے کے بنیادی مسائل: قرآن حکیم کی روشنی میں’’ [مولانا اصلاحی کے لیکچروں کا مجموعہ، مرتبہ محبوب سبحانی و خالد مسعود]، شمارہ ۹۹: ۸۹-۱۰۳

مکتبِ فراہی کے ہر دو بزرگوں کے حوالے سے مذکورہ تحریروں کے علاوہ باقی تحریروں کا ایک قابلِ لحاظ حصہ مطالعۂ قرآن سے متعلق ہے۔ قرآن کے انگریزی تراجم کے حوالے سے حیدرآباد (آندھرا پردیش) کے سیّد داو ٗد اشرف نے مختلف تحریروں اور بالخصوص آندھرا پردیش سٹیٹ آرکائیوز سے حاصل کردہ لوازمے سے دو تحریریں  l ‘مارماڈیوک پکتھال اور ترجمۂ قرآن مجید’ (شمارہ ۹۸: ۱۰۸-۱۱۲ l‘عمادالملک کا ترجمۂ قرآن مجید’، شمارہ ۹۹: ۱۱۲-۱۱۵)  پیش کی ہیں۔

نواب عماد الملک سیّدحسین بلگرامی (م۱۹۲۶) کے انگریزی ترجمۂ قرآن سے مولانا شبلی نعمانی (م۱۹۱۴) کو بڑی دلچسپی تھی، اور انھوں نے مترجم مرحوم کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنا ترجمہ مولانا حمید الدین فراہی کو دکھا کر اُن سے مشورہ لیں، اور نواب مرحوم نے بخوشی یہ مشورہ قبول کر لیا تھا، تاہم نواب عمادالملک ترجمۂ قرآن مکمل نہ کرسکے، اور سورۃ طٰہٰ سے آگے کام نہ بڑھ سکا۔ نواب صاحب مرحوم کی رحلت کے بعد ترجمۂ قرآن کے کاغذات کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکا تھا۔ سیّد سلیمان ندوی نے کھوج لگانے کی اپنی سی کوشش کی، مگر انھیں کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ سیّد صاحب نے لکھا ہے: ‘‘میں نے نواب صاحب کے خلف الرشید نواب مہدی یارجنگ بہادر کو تحریری و زبانی کئی دفعہ ان [کاغذاتِ ترجمہ] کی تلاش کی طرف توجہ دلائی، مگر انھوں نے ان کے ملنے سے مایوسی ہی ظاہر کی۔’’ (‘‘یادِرفتگاں’’، حوالہ مذکورہ: ۱۴۰)

سیّد داو ٗد اشرف نے اب یہ خوش خبری سنائی ہے کہ بیس سورتوں (سورۃفاتحہ تا سورۃ طٰہٰ) کے اس ترجمے کی سو ڈیڑھ سو کاپیاں (بطور پروف) چھپوا لی گئی تھیں، اِن میں سے ایک کاپی حیدرآباد کے ڈاکٹر حسن الدین احمد کے پاس محفوظ ہے۔

‘قرآنیات’ سے متعلق باقی تحریروں کی تفصیل یہ ہے: l ابوسفیان اصلاحی، ‘تفسیروں میں اسرائیلی روایات کا اجمالی جائزہ’، ۹۹: ۴۱-۶۸ l حسّان عارف، ‘قرآن کریم میں جغرافیائی اشارات’ (مصر)، ۹۶: ۸۲-۹۶ l محمد صدیق بخاری، ‘نشوز کا مطلب’ (سورہ نساء کی آیت ۳۴ اور ۱۲۸ کے حوالے سے)، ۹۹: ۱۰۴-۱۰۸ l مستنصرمیر، ‘قرآن مجید کی سائنسی تفسیر: ایک قابلِ عمل پروجیکٹ؟’، ۹۹: ۳۱-۴۰ l وہی مضمون نگار، ‘داستانِ یوسف علیہ السلام اور قرآن مجید’، ۹۷: ۵۷-۷۴ l وہی مضمون نگار، ‘سورۃ نمل میں ملکۂ سبا کا قبولِ اسلام: ایک معمہ کا جائزہ’، ۹۸: ۴۰-۵۲ l منصورالحمید، ‘برمنگھم کا قرآن، برطانوی لائبریری میں عہدِ نبوی کا نادر صحیفہ’، ۹۷: ۱۱۹-۱۲۸

اِسی ضمن میں ‘‘قرآن کے ادبی اسالیب ‘‘(مؤلفہ خالد مسعود)، ‘‘نظمِ قرآن: ایک تجزیاتی مطالعہ’’ (مؤلفہ الطاف احمد اعظمی) اور ‘‘قرآن کی تدوین’’ (مؤلفہ محمد عنایت اللہ سبحانی) پر تبصروں، اور آخرالذکر کتاب کے بیانیے پر اختلاقی تحریروں کو شمار کیا جاسکتا ہے۔

‘‘قرآنیات’’ کے ساتھ دوسرے موضوعات  مطالعۂ حدیث، سیرۃ النبیؐ، فقہ و اصولِ فقہ اور اصلاح و دعوت پر بھی تحریریں شامل کی گئی ہیں، اور منّہ کا ذائقہ بدلنے کی حد تک ماضی قریب کی، اور حالیہ سیاست پر بھی اظہارِ خیال کیا گیا ہے، اگرچہ یہ آخرالذکر تحریریں مجلے کے مزاج کے قریب نہیں ہیں۔

‘‘تدبّر’’ کا ہر شمارہ سفید کاغذ پر شائع ہوا ہے، ضخامت ۱۶۰ صفحات کی ہے، ادارت سے لے کر طباعت تک سب بہت خوب ہے، اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ مدیر مجلہ کو ساتھیوں کی ایک اچھی ٹیم میسّر ہے، یہی سبب ہے کہ اپنی نوعیت کا یہ قابلِ قدر مجلہ اب تک بروقت شائع ہوتا رہا ہے، اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر مالی مشکلات آڑے نہ آئیں تو ان شاء اللہ مستقبل میں بھی خدمات انجام دیتا رہے گا۔

‘تدبّر’ کی قیمت فی شمارہ پان صد روپیہ مقرّر کی گئی ہے اور سالانہ زرِتعاون دوہزار روپے ہے۔ مجلے کے ناشر ‘‘ادارۂ تدبّرِ قرآن و حدیث’’ (رحمان سٹریٹ، مسلم روڈ، سمن آباد- لاہور) سے 0323-4015825 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ نیز ای-میل یہ ہے: tadabbur72@gmail.com