افتخار احمد حافظ قادری / مؤلف، بغدادی ہاؤس، مکان نمبر ۹۹۹ /۶-اے، گلی نمبر۹، افشاں کالونی – راول پنڈی کینٹ / اکتوبر ۲۰۲۰ / ۲۰۰صفحات
مسلم مورخین کے ایک بڑے طبقے نے اسلام کی ابتدائی تاریخ کو بنوامیہ اور بنو ہاشم کی اساطیری دشمنی کے تناظر میں اِس طرح رقم کیا ہے کہ بنو اُمیہ کے کارہاے نمایاں پر گرد جم گئی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بنو امیہ کے ساتھ رشتے ناتے بھی نظرانداز کر دیے گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار صاحبزادیوں میں سے تین بنو اُمیہ میں، اور ایک بنو ہاشم میں بیاہی گئی تھی۔ اہل سنت و جماعت کے نقطۂ نظر کے مطابق حضرت معاویہؓ کا دورِ اقتدار خلافتِ راشدہ کا حصہ تو نہ تھا، تاہم اُن کا شرفِ صحابیت ایک ایسا وصف ہے کہ تاریخی واقعات کے بیان میں اُن کے مقام و مرتبہ پر کوئی آنچ نہ آئے۔
زیرنظر مختصر مطالعے کے چار ابواب میں حضرت معاویہؓ کے بارے میں اختصار کے ساتھ جملہ اطلاعات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ l باب اوّل، احوال سیّدنا معاویہؓ l باب دوم، خلافت مولاے کائنات سیّدنا علیؓ l باب سوم، سیّدنا معاویہؓ کی خلافت و امارت l باب چہارم، مناقبِ سیّدنا معاویہؓ (منظومات) آخرِ کتاب میں مؤلف نے وہ پیغامات و تأثرات یک جا کیے ہیں جو انھیں زیرنظر کتاب کے بارے میں موصول ہوئے ہیں۔
واللہ اعلم جناب مؤلف نے حضرت معاویہؓ کو ساسانی بادشاہوں کے لقب ‘کسری’ سے کیوں موسوم کیا ہے؟
