معین الدین عقیل (مصنّف) / دارالاحسن – کراچی/ نومبر۲۰۲۱ / ۶۴ صفحات / جلد کارڈبورڈ، ۲۰۰ روپے
سلاطینِ دہلی میں سے علاء الدین خلجی (م۱۳۱۶) اور محمد بن تغلق (م۱۳۵۱) نے یکے بعد دیگرے اپنے اقتدار کو دکن تک بڑھا دینے کی عسکری کوششیں کی تھیں، مگر مقامی قوتوں کے سامنے اُن کی پیش نہ جاسکی، اس اکھاڑ پچھاڑ کے دوران میں ۱۳۴۷ میں علاء الدین حسن گنگو بہمن شاہ نامی ایک فرد ابھر کر سامنے آیا جس کے خاندان نے ۱۵۲۸ تک کوس لمن الملک بجایا۔ تاریخ نے اس خانوادے کے اقتدار کو سلطنتِ بہمنیہ کے طور پر یاد رکھا ہے۔
سلطنتِ بہمنیہ اور شاہانِ ایران کے درمیان سرکاری سطح پر تو حلیفانہ یا حریفانہ کسی قسم کے تعلقات اور روابط کا کوئی سراغ نہیں ملتا، مگر اُس دور کے تقاضوں کے مطابق ایرانی تاجروں، اہل ہنر اور صاحبانِ علم و ادب کا برعظیم کی جانب شدِرحال کرنا معمول کی بات تھی، یہی سبب ہے کہ سلطنتِ دہلی میں فارسی زبان کا چلن ہو گیا تھا، اور ایران کے ثقافتی اثرات دکھائی دینے لگے تھے۔ جناب معین الدین عقیل نے کوئی نصف صدی پہلے سلطنتِ بہمنیہ اور ایران کے علمی و ادبی روابط کا کھوج لگایا تھا، اور زیرِنظر مقالہ چھپا تھا۔ دوبارہ انھوں نے ایک اختتامیے کے ساتھ اِسے ۲۰۲۱ کے آخر میں طباعت کے لیے تیار کیا۔ اپنے موضوع پر، مقالہ گو مختصر ہے، مگر دستیاب لوازمے کا بھرپور احاطہ کرتا ہے۔
دارالاحسن نے زیرنظر اشاعت سفید کاغذ پر پیش کی ہے، مگر اِسے کتابت کی اغلاط سے بچا نہیں سکے۔ ایک دو اغلاط کی نشان دہی نامناسب نہ ہو گی، صفحہ ۲۳ پر احمد شاہ اوّل (۱۴۲۲-۱۴۳۶) کا ذکر کرتے ہوئے اسے ‘احمد شاہ ابدالی’ لکھ دیا گیا ہے، اور صفحہ ۳۶ پر جلال الدین دوانی (م۱۵۰۲) کو ‘‘اخلاقِ جلالی’’ کے مصنّف کی جگہ مترجم کی حیثیت دے دی گئی ہے۔
