مفتی محمد عطاء النبی الحسینی (مرتب)/ ختم نبوت اکیڈمی- برہان ضلع اٹک / [۲۰۲۴] / ۱۳۶ صفحات / مجلد مع گردپوش
مختلف صحابہ کرامؓ کے واسطے سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت میں سے جو شخص چالیس احادیث حفظ کرے گا، جن سے افرادِ امت نفع اٹھائیں گے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز عالم اور فقہیہ کے طور پر اٹھاے گا۔ علامہ ناصر الدین البانی (م۱۹۹۹) کی تحقیق کے مطابق یہ روایت ضعیف ہے، لیکن جو بزرگ فضائل میں ضعیف احادیث پر عمل کرنے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں کرتے، انھوں نے تواتر کے ساتھ چالیس حدیثوں کے چھوٹے بڑے متعدد مجموعے مرتب کیے ہیں جو ‘چہل حدیث’ اور ‘الاربعین’ کے ناموں سے معروف ہیں،اور آج اِن کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ عالمِ اسلام کی سطح پر ان میں سب سے زیادہ مقبول و مشہور شامی محدّث امام شرف الدین نووی (م۱۲۷۷) کا مجموعہ ہے جس کے مختلف زبانوں میں کثرت سے ترجمے ہوئے ہیں، اور شرحیں لکھی گئی ہیں۔
‘چہل حدیث’ یا ‘اربعین’ مرتب کرتے ہوئے مختلف اہلِ علم نے اپنے اپنے معیارات اور موضوعات پیشِ نظر رکھے ہیں۔ ایک عمومی پیمانہ تو یہ رہا ہے کہ احادیث جو مختصر ہوں، اور ان کا یاد کرنا آسان ہو، اُنھیں یک جا کیا جائے۔ مزید براں جو عقیدہ و عمل کے اعتبار سے بنیادی اہمیت کی حامل ہوں، تاہم مرتبین نے اپنے ذوقی تخصص کے تحت بھی مجموعے ترتیب دیے ہیں، توحید، ردِ شرک، ردِ بدعات، فضائلِ نماز، فضائلِ قرآن اور اِسی طرح کے سیکڑوں موضوعات سامنے آئے ہیں۔ ایک موضوع ختمِ نبوت کا ہے جو زیرِنظر مجموعے کے مرتب و شارح نے بھی پسند کیا ہے۔
مرتب جناب مفتی عطاء النبی الحسینی نے اپنی پیشکش میں ایک اور جدّت یہ پیدا کی ہے کہ موضوع پر چالیس احادیث مرتب کرنے کے ساتھ ‘‘اربعین آیات ختم نبوت’’ اور اسی طرح ‘‘اربعین اقوال اسلاف’’ بھی مرتب کیے ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی چالیسویں آیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واشگاف لفظوں میں، اور قطعیت کے ساتھ ‘‘خاتم النبین’’ قرار دیا گیا ہے، مگر دوسری آیات جو پیش کی گئی ہیں، اُن سے مرتب کے بقول ختم نبوت کا تصور مستنبط ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کو ‘‘امتِ وسط’’ اور ‘‘خیرامت’’ قرار دینے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اُن کے بعد کوئی اور امت نہیں، اور جب کوئی اور امت نہیں، اُمت کے نبی و رسول آخری نبی و رسول ہیں۔
