محمد اسلم مکھڈی (مرتب) /نظامیہ دارالاشاعت – مکھڈ شریف، ضلع اٹک، بہ اشتراک دارالاسلام، جامع مسجد و محلہ مولانا روحی، اندرون بھاٹی دروازہ – لاہور / جولائی ۲۰۲۴ / ۳۰۲صفحات / مجلد، ۷۰۰ روپے
مکھڈ دریاے سندھ کے کنارے آباد شمالی پنجاب کے ضلع اٹک کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ ماضی میں دریا کے راستے اٹک سے مکھڈ تک ہونے والی آمدورفت اور تجارت نے اِس کی سماجی زندگی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ مسلم اکثریتی آبادی کے خطے میں مکھڈ تجارت پیشہ مسلم برادریوں (مثلاً پراچگان) اور ہندوآبادی (جو زیادہ تر ساہوکاری اور بقالی سے منسلک تھی) کا مرکز بن گیا تھا۔ مغلوں کے عہدِ زوال میں مسلم قبائل کی باہمی اکھاڑ پچھاڑ میں مکھڈ غیرزراعت پیشہ اور دست کار برادریوں کے لیے بھی نسبتاً زیادہ محفوظ قصبہ تھا۔ ان لوگوں کی ہنرمندی نے بھی مکھڈ کی کاروباری حیثیت میں اضافہ کیا تھا۔ انیسویں صدی کے نصف اوّل میں سکھ راج کے زیرِاثر سکھ آبادی میں اضافہ ہوا، تاہم نوآبادیاتی دور میں خطے کی سیاست، آبادی کی بنیاد پر مسلمان اہلِ دین و دولت کے ہاتھ میں رہی اور مکھڈ کے دینی خانوادوں نے اپنا سا کردار ادا کیا۔
مکھڈ کی مذہبی زندگی میں مولانا محمد علی مکھڈی (۱۷۵۰ – ۱۸۳۷) اور اُن کی علمی و دینی روایت کے پاس دار جانشینوں کی مساعی کی بدولت اِس قصبے کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ مولانا موصوف بٹالہ (ضلع گورداس پور) کے ایک علم دوست خاندان کے فرد تھے اور اپنی رحلتِ علمی کے دوران میں اٹھارہویں صدی کی، قیاساً ساتویں دہائی میں کسی وقت مکھڈ تشریف لائے تھے، مقامی عالم مولانا محکم الدین کی علمی شخصیت اور اُن کے درس و تدریس نے انھیں پھر کہیں اور نہ جانے دیا، اور جب ۸۵-۱۷۸۴ میں مولانا محکم الدین کا انتقال ہوا تو مولانا محمد علی نے اپنے استاذِ مرحوم کی مسندِ درس کو زینت بخشی۔
مولانا محمد علی مکھڈی نے خواجہ محمد سلیمان تونسوی (م۱۸۵۰) کے ہاتھ پر چشتی سلسلے میں بیعت کی تھی، اور اُن کے نامور خلفاء میں سے تھے۔ انھوں نے متعدد حضرات کو اپنے شیخِ طریقت کے درِاصلاح تک پہنچایا تھا۔ اس حوالے سے پنجاب کے مشائخِ چشت میں اُن کا نام بہت نمایاں ہے۔ اُن کی نگرانی میں مکھڈ کی درس گاہ نے خوب ترقی کی، درس گاہ کے ساتھ، اُن کے ذوقِ علم و ادب کے تحت کتب خانے میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا، اور اُن کے جانشینوں نے اِس جانب خصوصی توجہ دیے رکھی۔
مولانا محمد علی نے تجرد کی زندگی بسر کی تھی، اُن کے جانشین اُن کے خلیفہ مولانا عابد جی مہاروی (م۱۲۶۲ھ / ۴۶-۱۸۴۵) ہوئے۔ جناب مہارویؒ کی رحلت پر خواجہ محمد سلیمان تونسوی نے مولانا محمدعلی کے ایک دوسرے خلیفہ، مولانا زین الدین (م۱۸۷۸) کو مسند نشین کیا جو انگہ (ضلع خوشاب) کے رہنے والے تھے۔ مولانا زین الدین نے مولانا محمد علی مکھڈی سے درسیات، بالخصوص کتبِ معقولات میں استفادہ کیا تھا اور اُن کے زیرِنگرانی تدریس کرنے لگے تھے۔
مولانا زین الدین کے نواسے مولانا غلام محی الدین احمد (م۱۹۲۰) اُن کے بعد رونقِ مسند ہوئے اور یہ سلسلہ اسی خاندان میں اب تک چلا آرہا ہے۔ مولانا غلام محی الدین احمد کے جانشین مولانا احمد الدین (م۱۹۶۹) بڑے کتاب دوست عالم تھے۔ اُن کی حیات میں دائرۃ المعارف العثمانیہ – حیدرآباد- دکن کتبِ نادرہ کی تصحیح و تعلیق کا کام کر رہا تھا،اور اس کا چرچا دور و نزدیک پہنچ رہا تھا۔ انھوں نے دائرۃ المعارف العثمانیہ کے مہتمم کی نظرِ کرم سے استفادے کے لیے اُنھیں ایک مکتوب ارسال کیا، جس کی آب رسیدہ نقل کا عکس زیرنظر ‘‘ارمغانِ مکھڈ’’ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے:
جنابِ والا! قصبہ مکھڈ شریف ضلع اٹک علاقہ پنجاب میں میرے پیشوا و مورثِ اعلیٰ شیخ المشائخ استاذ الفضلاء بحرالعلوم حضرت مولانا مولوی محمد علی صاحب چشتی قدس سرہٗ کا قائم فرمایا ہوا ایک قدیم اسلامیہ مدرسہ ہے جو تخمیناً ڈیڑھ صدی (۱۵۰سال) سے دینی خدمات باحسن الوجوہ انجام دے رہا ہے۔ اِس مدرسہ اسلامیہ میں بخارا شریف، افغانستان اور پنجاب کے مختلف اقطاع و امصار سے علماء آکر شریک ہوتے اور علومِ ظاہری و باطنی کی تحصیل و تکمیل کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں جاکر ان علوم کی اشاعت کیا کرتے ہیں۔
اس دینی درس گاہ اور حضرت مولانا صاحب قدس سرہٗ کی درگاہ شریف سے متعلق حضرت قبلہ کا قائم فرمایا ہوا ایک قدیم کتب خانہ بھی ہے جس سے نہ صرف اس مدرسہ کے طلباء و مدرسین اور درگاہ شریف کے زائرین بھی استفادہ کیا کرتے ہیں، بلکہ اطراف و اکناف کے علماء و فضلاء بھی مطالعہ اور درس و تدریس کی غرض سے مطلوبہ کتابیں مستعار لے جاکر اس کتب خانہ سے مستفید ہوا کرتے ہیں۔
مدرسے اور کتب خانے کی صورتِ حال واضح کرکے دائرۃ المعارف کے مہتمم سے التماس کی گئی تھی کہ ‘‘براہ کرم [مطبوعاتِ دائرۃ] المعارف سرکار عالی کا ایک ایک نسخہ اس قدیم مدرسہ اسلامیہ کے لیے ہدیۃً [ارسال] فرمایا جائے’’ (ص۷۵)۔ واللہ اعلم اِس مکتوب کا نتیجہ کیا برآمد ہوا تھا، تاہم اِس سے مدرسے اور کتب خانے کے مہتمم کی خواہش و کاوش کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔
شہری زندگی سے، ایک حد تک دور یہ ادارہ کام کرتا رہا اور اس کا ذخیرۂ کتب (بالخصوص مخطوطات) عام نگاہوں سے اوجھل رہے، حتیٰ کہ اٹک کے کچھ باہمت اہلِ علم و دانش نے ‘‘مجلس نوادراتِ علمیہ – اٹک’’ کی داغ بیل ڈالی اور ضلع بھر کے خطی ذخائر کے چیدہ چیدہ نسخوں کی نمایش کا اہتمام کیا۔ اس کے بعد ‘‘مجلس’’ کے سیکرٹری مرحوم نذر صابری (کتاب دار، گورنمنٹ کالج – اٹک) رضاکارانہ طور پر مکھڈ کے کتب خانے کی ترتیب، فہرست نگاری اور فہرست کی اشاعت میں لگ گئے۔ مرحوم کی مساعی کا نتیجہ ہے کہ آج کتب خانۂ مولانا محمد علی مکھڈی دور و نزدیک معروف ہے، اور موجودہ اربابِ اہتمام اِس کے نادر نسخوں کی طباعت و اشاعت کے لیے کوشاں ہیں۔
کتب خانے کے فارسی اور پنجابی خطی ذخیرے کی فہارس شائع ہوئی ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ کتب خانے کے عربی خطی نسخوں کی فہرست بھی مرتب کی جائے۔ (اگر مرتب شدہ ہے تو اِس کی اشاعت کا اہتمام کیا جائے)، نیز ۱۹۴۷ سے پہلے کی مطبوعات بھی اب النادر کالمعدوم کے زمرے میں آگئی ہیں، اگر ان مطبوعات کی مجمل فہرست بھی سامنے آجائے تو فائدے سے خالی نہ ہو گی!
کتب خانے کے ساتھ مدرسہ بھی، ایک حد تک اپنی روایت قائم رکھے ہوئے ہے، اگرچہ حالات خاصے بدل گئے ہیں۔ مکھڈ جیسے قصبوں اور دیہات میں اولاً رہایش اور خورونوش کی وہ سہولتیں میسّر نہیں جو بڑے شہروں کے مدارس بالعموم طلبہ کو فراہم کرتے ہیں، مزید براں منتہی طلبہ کی خواہش ہوتی ہے کہ تعلیم کے آخری برسوں میں وہ کہیں خطابت یا ٹیوشن کی مصروفیت پیدا کرلیں، اِس کا امکان بڑے شہروں ہی میں بآسانی ممکن ہے۔ اِن دنوں مدرسے میں حافظ محمد اسلم مکھڈی تدریسی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، اور قلم و قرطاس سے اچھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ چند برس پہلے ‘‘تذکرہ علماے اہلِ سنت ضلع اٹک’’ مرتب کر چکے ہیں، اور اب انھوں نے بزرگانِ مکھڈ کی تدریسی خدمات کا ایک پہلو منتخب کیا ہے، اور اٹھارہویں صدی سے اب تک اُن اہل علم کے احوال و آثار پر اطلاعات یک جا کرنے کی کوشش کی ہے جو یہاں تدریس میں مصروف رہے تھے۔
انھوں نے اپنی کاوش ‘‘ارمغانِ مکھڈ’’ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں انھوں نے تاریخی اعتبار سے ‘‘حضرات مکھڈ شریف’’ کے سوانحی احوال درج کیے ہیں جو درس گاہ کے انتظام و انصرام کے ساتھ باقاعدہ تدریس بھی کرتے تھے۔ دوسرے حصے میں بالترتیب ‘اساتذہ درس نظامی’ اور ‘اساتذہ حفظ’ کا تعارف ترتیب دیا ہے۔ ماضی کے بزرگوں کے حوالے سے انھوں نے کتبِ تذکرہ پر انحصار کیا ہے، البتہ جو مدرسین بقیدِحیات ہیں، اُن کے بارے میں خود اُن سے، یا اُن کے متعلقین سے بالمشافہہ ملاقاتوں، یا خط کتابت سے اطلاعات یک جا کی ہیں، اِس طرح جناب محمد اسلم مکھڈی ۵۵ مدرسینِ درس گاہ مکھڈ شریف کا تذکرہ مرتب کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جن اساتذہ کے بارے میں اطلاعات فراہم نہیں ہو سکیں، اُن کی فہرست اس امید پر دے دی گئی ہے، کہ قارئین کی جانب سے، شاید کچھ اطلاعات آ جائیں! خود مرتب (ولادت: ۱۹۷۶) کے بارے میں محمدالیاس رضا قادری نے بنیادی اطلاعات فراہم کر دی ہیں۔
‘‘ارمغانِ مکھڈ’’ کی ترتیب و اشاعت پر جناب مرتب، درس گاہ کے صاحبِ اہتمام جناب صاحبزادہ محمد ساجد نظامی، اور ناشرین (‘نظامیہ دارالاشاعت – مکھڈ شریف’ اور ‘‘دارالاسلام – لاہور’’) سبھی ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں۔
‘‘ارمغان’’ میں درس گاہ مکھڈ شریف کی فیض رسانی کے حوالے سے جناب صاحبزادہ محمدساجد نظامی نے لکھا ہے کہ ‘‘یہاں ایک طرف سمرقند و بخارا، روس کی مختلف ریاستوں اور ایران و افغانستان سے اہل علم کے قافلے مکھڈ جیسی دور افتادہ بستی میں اترنے لگے تو دوسری طرف لاہور و دہلی، ملتان و سندھ، اجمیر و دکن اور ممبئی و کلکتہ تک اِس کا علمی شہرہ بڑھتا چلا گیا۔ علی گڑھ و رام پور، کان پور و لکھنؤ اور بٹالہ (گورداس پور) و امرتسر کے طلباء یہاں سے فیض حاصل کرنے جوق در جوق پہنچنے لگے’’ (صفحات ۱۱-۱۲)۔ کیا ہی اچھا ہو کہ درس گاہ مکھڈ شریف کے فیض یافتگان کا ایک تذکرہ بھی مرتب کر دیا جائے جو اس خطے کی سماجی اور برعظیم کی علمی و تعلیمی تاریخ کی ایک بڑی خدمت ہو گی۔
‘‘ارمغان’’ کی ورق گردانی کرتے ہوئے بعض مقامات پر ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ روایات اور بیانات کی تصدیق کتبِ تاریخ و تذکرہ سے ہونا چاہیے تھی۔ ‘‘درس گاہ حضرت مولانا محمد علی مکھڈی’’ کا علمی شجرہ شاہ ولی اللہ دہلوی (م۱۷۶۲) سے، اور اصلاحی سلسلۂ فیضان خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی ذاتِ گرامی سے جوڑا گیا ہے (ص۹)۔ شاہ ولی اللہ سے تعلق کی بنیاد یہ روایت ہے کہ مولانا محمد علی مکھڈی کے والدِ گرامی قاضی محمدشفیع نے اُن سے کتبِ حدیث پڑھی تھیں، نیز اُن کو ‘‘شرفِ بیعت و خلافت بھی سلسلۂ نقشبندیہ میں حضرت شاہ صاحب سے حاصل’’ تھا۔ (ص۲۴)
خواجہ محمد سلیمان تونسوی سے مولانا مکھڈی کے تعلق کا ذکر سلسلۂ سلیمانیہ چشتیہ کے لٹریچر میں جس تواتر سے ملتا ہے، یہ کیفیت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی سے اُن کے ربط و تعلق کی دکھائی نہیں دیتی۔
ایک دو ایسی ہی مزید روایات دیکھ لی جائیں۔ لکھا گیا ہے:
l خواجہ غلام محی الدین احمد (۱۸۵۸ – ۱۹۲۰) کی حیات میں وائسراے ہند کے مکھڈ آنے، اور ملاقات کی غرض سے خواجہ مرحوم کی مسجد میں اُس کی حاضری دینے کا ذکر کیا گیا ہے (صفحات ۴۶-۴۷)۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وائسراے ہند کی آمد کا ماہ و سال کے ساتھ ذکر کیا جاتا تاکہ مکھڈ، بلکہ ضلع اٹک کی تاریخ کے اس اہم واقعے کی تفصیلات دریافت کی جاسکتیں!
l لکھا گیا ہے:
ایک روایت کے مطابق جب علامہ اقبال (ف۱۹۳۸) کو ‘‘غایۃ الامکان فی معرفۃ الزمان و المکان’’ کی ضرورت پیش آئی تو کوششِ بسیار کے بعد یہ رسالہ نہ مل سکا۔ بالآخر علّامہ نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے رابطہ کیا۔ پیر صاحب کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا، پھر کسی نے مولانا غلام محمود پیلانوی کی طرف راہ نمائی کی، جب علّامہ نے مولانا پیلانوی سے رابطہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ رسالہ مکھڈ شریف کے کتب خانہ میں حضرت غلام محی الدین احمد مکھڈی کے ہاں محفوظ ہے، وہ اِسے عطا کرنے میں کسی قسم کا بخل نہیں فرمائیں گے، لہذا آپ چند ایّام کے بعد رابطہ فرمائیں، تاکہ میں یہ رسالہ مکھڈ شریف سے لے آؤں۔ بعدازاں یہی رسالہ حاصل کرنے کے لیے علامہ اقبال پپلاں اسٹیشن پر علّامہ غلام محمود پپلانوی سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ (ص۵۷)
علّامہ محمد اقبال کو مسئلۂ زمان و مکان سے دلچسپی تھی، اس سلسلے میں مولانا انور شاہ کاشمیری نے انھیں مذکورہ رسالے (جو اہل علم کے حلقوں میں مختلف ناموں سے موسوم چلا آرہا تھا) کا ایک نسخہ فراہم کیا تھا، اور علّامہ غلطی سے اِسے فخرالدین عراقی (م۱۲۸۹) کی تالیف خیال کرتے رہے تھے۔ انھوں نے مسئلۂ زمان و مکان پر مزید اطلاعات کے لیے پیر مہرعلی شاہ گولڑوی سے رابطہ قائم کیا تھا، مگر پیر صاحب کی جانب سے انھیں کوئی جواب ملا تھا یا نہیں، وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، البتہ اتنا واضح ہے کہ وہ ‘‘غایۃ الامکان’’ کی تلاش میں نہ تھے، بلکہ مسئلۂ زمان و مکان پر مسلم فلاسفہ کی دوسری تحریروں کی تلاش میں تھے۔ (تفصیل کے لیے دیکھے: یونس جاوید کا مرتبہ مجموعۂ مقالات، ‘‘اقبالیات کی مختلف جہتیں’’، لاہور: بزمِ اقبال، ۱۹۸۸: ۶۳-۶۸)
l مولانا احمد الدین کے احوال میں درج کیا گیا ہے: ‘‘قیامِ پاکستان کی تحریک میں بھی شامل رہے۔ مولوی غلام محی الدین کے بقول جب محمد علی جناح گورنر جنرل بنے تو آپ کو بھی اپنی کابینہ میں شمولیت کے لیے پیش کش کی، لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا۔’’ (ص۶۶) پارلیمانی نظام میں سربراۂ ریاست کی کابینہ کا کوئی تصور نہیں، گورنر جنرل ایسا ہی منصب تھا۔ کابینہ وزیراعظم کی ہوتی ہے۔ مزید براں ایک مدرّس اور عالمِ دین کو کابینہ میں شامل کرنے کی، بھلا کوئی بنیاد ہو سکتی تھی؟ جہاں تک ‘‘ارمغانِ مکھڈ’’ کے حسنِ طباعت کا تعلق ہے، خوب بلکہ بہت خوب ہے۔
