رفیع الدین ہاشمی (صاحبِ مکالمات)، سلیم منصور خالد (مرتب) / قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، بنک سٹاپ، والٹن روڈ- لاہور کینٹ / ۲۰۲۳ / ۳۱۲ صفحات / جلد کارڈ بورڈ، ۱۲۰۰ روپے
پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی (۱۹۴۰-۲۰۲۴) نے بڑی بھرپور تدریسی اور تصنیفی و تحقیقی زندگی گزاری۔ اُن کی زیادہ شہرت ایک اقبال شناس کی ہے۔ اُن کی پہلی باقاعدہ تصنیفی کاوش ‘‘اقبال کی طویل نظمیں’’ (تالیف: ۱۹۷۰) بیک وقت تدریسی اور ‘اقبالیاتی’ نوعیت کی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی – لاہور کے ایم-اے اُردو کے نصاب میں اقبال کی جو طویل نظمیں شامل تھیں، یہ اُن کی توضیح و تشریح تھی، اور آخری کتاب جو اُن کے حینِ حیات سامنے آئی، وہ ‘‘کتابیاتِ اقبال’’ ہے، تاہم اقبال اُن کا ایک عشق تھا۔ انھیں سیّد ابوالاعلیٰ مودودی اور اُن کے فکرودانش سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ انھوں نے سیّد مودودی کے ہاں جمنے والی مجلسِ عصر کی رپورٹنگ کی، ‘‘کتابیات اقبال’’ کی طرز پر انھوں نے ‘‘کتابیاتِ مودودی’’ کی داغ بیل ڈالی۔ اُن پر ایک کتاب ‘‘سیّدمودودی: شخصیت اور افکار و نظریات’’ لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ (ممکن ہے انھوں نے موضوع پر کچھ ابتدائی نوعیت کا کام کیا بھی ہو، اگر یہ گمان درست ہے تو یقینا اُن کے کاغذات میں محفوظ ہو گا)۔ سیّد مودودی کے ہم رکاب لکھنے پڑھنے والے اسلامی ادب کی تحریک کے منّاد تھے۔ ڈاکٹر ہاشمی کے روابط ان سبھی افراد کے ساتھ تھے، اور انھوں نے اپنے متعدد بزرگ اور معاصر ساتھیوں کی یادیں اور کارنامے تازہ رکھنے کی خاطر اُن پر ایم-اے، ایم-فل اور پی ایچ-ڈی سطح کے اُردو مقالات لکھوائے جن میں سے بعض شائع ہوچکے ہیں، اور خود بھی ان ادب دوستوں کی تحریروں کی ترتیب و تدوین میں مصروف رہے تھے۔ مزید براں انھوں نے ۵۳ برس اردو زبان و ادب کی تدریس کی، اس سلسلے میں انھوں نے طلبہ کی ضرورت اور اپنے شوق کی تسکین کے لیے جو کام کیا، وہ اِس پر مستزاد ہے۔
ہاشمی صاحب کو بیرونِ ملک سفر کے مواقع ملتے رہے، ان میں سے بعض سفروں کی روداد انھوں نے بڑے اہتمام سے لکھی ہے، اُن کی مراسلت اقبال، سیّد مودودی، اردو زبان و ادب کے مسائل و معاملات وغیرہ سے متعلق بلامبالغہ سیکڑوں افراد سے رہی، وہ باصلاحیت دوستوں اور نوجوانوں کو آگے بڑھانے کے مواقع فراہم کرتے تھے، بلکہ مواقع پیدا کرنے کے لیے کوشاں رہتے تھے، اُن کی تحریریں دیکھتے، اُن کی نوک پلک درست کرتے اور اُن کی طباعت و اشاعت تک کا اہتمام کردیتے تھے۔ اُن کے نام بعض مشاہیر کے مکتوبات اُن کے شاگردوں اور احباب نے مرتب کرکے شائع کیے ہیں، اور جناب عبدالعزیز ساحر نے کافی عرصہ پہلے ہاشمی صاحب کا کتاب نامہ بھی مرتب کردیا تھا۔ مختصراً کہا جاسکتا ہے کہ پروفیسر ہاشمی نے اپنے وقت سے، کمزور صحت کی مجبوریوں کے ساتھ خوب ترین انداز میں فائدہ اٹھایا۔ یہ کیسے ممکن ہوا، یہ کہانی اُن کی خودنوشت سوانح عمری ہی سے پوری طرح کھُل سکتی تھی، مگر وہ یہ کام نہ کرسکے۔ اُن کے رفیقِ کار جناب سلیم منصور خالد شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے پروفیسر صاحب کے انٹرویوز (جو انھوں نے مختلف اوقات میں اخبارات، جرائد کے نمایندوں، طالب علموں اور بعض ضرورت مندوں کو دیے) اور اُن کے بعض مرحوم معاصر بزرگوں اور دوستوں کے بارے میں تأثرات یک جا کیے ہیں۔ ان سے ‘‘خودنوشت’’ کی کمی پوری تو نہیں ہوتی، تاہم ایک حد تک ‘‘اُن کی کہانی، اُن کی زبانی’’ سامنے آجاتی ہے۔
کتاب کے پہلے حصے ‘‘مکالمے’’ میں ۱۹۷۸ سے ۲۰۱۹ تک کے انٹرویوز یک جا کیے گئے ہیں، اور دوسرے حصے ‘‘یادیں’’ میں معاصرین کی رحلت پر اُن کی خوشگوار یادوں کا تذکرہ ہے۔ انٹرویوز میں دو انٹرویو بالخصوص اہمیت کے حامل ہیں، پہلا انٹرویو (جو پروفیسر خالد ہمایوں نے ماہ نامہ ‘‘قومی ڈائجسٹ’’ کے لیے لیا تھا) اکتوبر ۲۰۰۳ کا ہے (صفحات ۳۵-۷۴)، اس میں اُن کی ابتدائی تعلیم اور پڑھنے لکھنے کے مراحل کا ذکر ہے۔ ۱۹۶۵ میں بغرضِ تعلیم لاہور آنے اور سیّدمودودی کے ہاں آنے جانے، اورینٹل کالج میں دورانِ تعلیم کی سرگرمیوں، اُس دور کے اساتذہ کے ذکرِخیر، تکمیلِ تعلیم کے بعد لاہور سے باہر رہنے، دوبارہ ۱۹۸۰ میں بطور لیکچرار لاہور آنے، نیز اُن کی اقبالیاتی دلچسپیوں اور ہندوستان، یورپ اور ترکیہ کے سفروں، ان ملکوں میں اقبال شناسی اور وہاں کے حالاتِ حاضرہ وغیرہ پر روشنی پڑتی ہے۔
دوسرا انٹرویو جولائی ۲۰۱۸ کا ہے (صفحات ۱۶۸-۱۹۲)، جو جناب اے-اے-سیّد نے ہفت روزہ ‘‘فرائیڈے اسپیشل’’ (کراچی) کے لیے لیا تھا۔ اس انٹرویو میں بطورِ خاص پروفیسر صاحب کی اقبال سے ابتدائی دلچسپی سے لے کر وطن عزیز میں اقبال کی معنویت، ناقدینِ اقبال کے اعتراضات اور اُن کے روّیوں، اقبال کی ذات و صفات، فکرِاقبال کے جائزے، اقبال اور سیّد مودودی کے تعلق اور دونوں کی فکری ہم آہنگی اور بحیثیتِ مجموعی اقبال کے فکرودانش پر گفتگو کی گئی ہے۔
کتاب میں اقبالیات، ادبیات اور تأثرات کا حصہ اُسی تناسب سے ہے، جس کا اظہار بالترتیب عنوانِ کتاب میں ہے۔ کم و بیش ۸۰ فی صد حصۂ کتاب اقبالیات کے ذیل میں آتا ہے، اور یہی پہلو پروفیسر صاحب کے سرمایۂ قلم میں جھلکتا ہے۔
پروفیسر صاحب اپنے ابتدائی زمانۂ تعلیم میں اُس دور کے سیکڑوں اور ہزاروں دوسرے طلبہ کی طرح ‘‘بانگِ درا’’ کی نظموں ‘پرندے کی فریاد’، ‘ایک مکڑا اور مکھی’، ‘ایک پہاڑ اور گلہری’ اور ‘ایک گاے اور بکری’ کے ذریعے اقبال سے متعارف ہوئے تھے۔ اقبال پر اُن کی باقاعدہ تصنیف و تالیف کا آغاز ۱۹۷۰ میں ہوا اور ۲۰۱۹ میں اُن کی اپنی اطلاع کے مطابق اقبال پر اُن کی کتابوں کی تعداد ۲۴ ہو گئی۔ انہی کے الفاظ میں: ‘‘ان میں سے کچھ تحقیقی اور تدوینی نوعیت کی ہیں اور بعض کی حیثیت تنقیدی ہے۔ کچھ کتابیں خود مرتب کی ہیں اور بعض دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر ترتیب دی ہیں۔ کتابوں کے علاوہ اقبالیات پر بیسیوں مضامین لکھے ہیں اور سیکڑوں اقبالیاتی کتابوں پر تبصرے کیے ہیں۔ بہت سے اقبالیاتی مذاکروں میں حصہ لیا ہے’’ (ص۲۰۲)۔ بعد میں اقبال پر اُن کی تین مزید کتابیں سامنے آئیں، اب یہ تعداد ۲۷ ہے (کتاب کے بیک ٹائٹل پر کمپیوٹر کی معمولی سی غلطی سے یہ تعداد ۲۷ کے بجائے ۷۲ درج ہو گئی ہے)۔ اِس پس منظر میں پروفیسر صاحب کو بجا طور پر فخر تھا کہ ‘‘اللہ تعالیٰ نے [انھیں] اقبال کو پڑھنے، سمجھنے اور اقبالیات کو اپنی تحقیق و تصنیف کا موضوع بنانے کی توفیق بخشی’’ تھی۔ (ص۷۶۱)
اقبال اپنے حیطۂ علم و مطالعہ اور دائرۂ ادراک و فہم کے اعتبار سے بلاشبہ ایک سمندر ہیں۔ انھوں نے اردو اور فارسی کے ساتھ انگریزی اور جرمن میں اپنی تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ مذکورہ زبانوں کے ادباء و شعراء کا انھوں نے مطالعہ کیا، اور فلسفہ و قانون کے ماہرین سے استفادہ کیا تھا۔ کم افراد ایسے ہوں گے جو اس قدر پھیلے ہوئے ہوں۔ پروفیسر ہاشمی نے یوں تو اقبال کو بحیثیتِ مجموعی پڑھا اور اپنی آراء قائم کی ہے، مگر اُن کی زیادہ توجہ اقبال کے اردو کلام پر مرتکز رہی ہے۔ بچپن میں ‘‘کریما’’ اور ‘‘عطّارنامہ’’ [کذا: ‘‘پندنامۂ عطّار’’] پڑھنے کے پس منظر میں ایک موقع پر انھوں نے کہا ہے: ‘‘اپنے طور پر کلامِ اقبال کو سمجھنے کے لیے فارسی زبان کا مطالعہ کیا، لیکن افسوس ہے کہ میں خاطرخواہ طریق پر فارسی سیکھنے کی طرف توجہ نہیں کرسکا۔’’ (ص۱۴۵)
پروفیسر ہاشمی کے نزدیک اقبال اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کے علم بردار ہیں اور یہ دعوت اُن کے کلام سے نہایت واضح ہے، اُن کی اقبال دوستی اور اقبال شناسی کا مقصود اِسی ہدف کا حصول ہے۔ اس راے میں وزن ہے کہ اسلام کی نشأۃ اور احیاء میں اسلام کی دینی روایت اجتہادی زاویۂ نظر کے ساتھ قائم رہے گی، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ اجتہاد کے حدود کیا ہوں گے؟ اِس حوالے سے وہ اقبال کے خطبات Reconstruction of Religious Thought in Islam سے زیادہ مطمئن نہیں، انھوں نے زیرِنظر مجموعے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اُن کی راے میں: ‘‘اقبال کے انگریزی خطبات ثانوی درجہ رکھتے ہیں، اوّلیں حیثیت شاعری کی ہے’’ (ص۱۲۲)۔ ‘‘— خطبات خاصے مشکل ہیں، اسلوب فلسفیانہ ہے، انگریزی زبان میں ہیں، بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ — علّامہ کو سمجھنے کے لیے اُن کی شاعری کے ساتھ خطبات کو دیکھنا اور پڑھنا بھی ضروری ہے —، لیکن ایک بات حتمی ہے کہ اقبال کی فکر کو سمجھنے کے لیے بنیادی چیز شاعری ہے۔’’ (ص۱۵۲)
اقبال کا اصل تشخص شاعر کا ہے یا ‘‘صاحبِ خطبات’’ کا؟ ہاشمی صاحب کا جواب یہ ہے:
اصل تشخص شاعر کا ہے، ‘‘خطبات’’ میں تو وہ ایک مفکر یا ایک فلسفی ہیں۔ فرض کیجیے کہ اقبال شاعر نہ ہوتے اور انھوں نے یہ شاعری نہ کی ہوتی تو کیا صرف ‘‘خطبات’’ کی بنیاد پر ان کا اتنا مقام ہوسکتا تھا؟ اصل چیز تو شاعری ہے، ‘‘خطبات’’ کی حیثیت ثانوی ہے۔ ایک زمانے میں اس پر بڑی بحث ہوئی، بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا اور لکھا کہ ‘‘خطبات’’ اصل چیز ہے اور شاعری اِس کا حاشیہ ہے، حالانکہ شاعری اصل ہے۔ اقبال کی شہرت اور مقبولیت جو کچھ بھی ہے، وہ اُن کی اردو اور فارسی شاعری کی وجہ سے ہے۔ عام آدمی انھیں ‘شکوہ’ اور ‘جوابِ شکوہ’ کے حوالے سے جانتا ہے، نہ کہ انگریزی ‘‘خطبات’’ کے ذریعے سے، جو کم ہی لوگوں کی سمجھ میں آتے ہیں۔’’ (ص۱۸۴)
مزید براں ‘‘خطبات’’ میں: ‘‘کئی جگہ ابہام بھی ہے۔ ‘خطبات’ میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو ہمارے مسلمہ عقائد سے ٹکراتی ہیں جیسے جنّت، دوزخ مقامات نہیں، کیفیات ہیں، یا یہ کہ حیات بعد الممات اختیاری ہے، مگر اس طرح کی باتیں ہمارے اکابر کے ہاں موجود ہیں۔’’ (ص۱۸۴)
‘‘خطبات’’ کے چار پانچ ترجمے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ ذکر کردینا نامناسب نہ ہوگا کہ پروفیسر ہاشمی کے نزدیک: ‘‘وحید عشرت کا ترجمہ آخری ہونے کی وجہ سے بہتر ہے، اس لیے بھی کہ اس پر شعبۂ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی کے فاضل پروفیسر ڈاکٹر عبدالخالق صاحب نے نظرِثانی کی ہے۔’’ (ص۱۹۶)
پروفیسر صاحب ایک اقبال شناس کی حیثیت سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں کلام اقبال کی تفہیم تو ہوئی ہے، اور ترویج بھی ہورہی ہے، مگر اِس پر عمل نہیں ہو رہا (ص۱۴۴)۔ اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ‘‘اُن کی امنگوں، آرزووں کی تکمیل کے لیے خلوصِ نیت اور دیانت داری سے کام کیا جائے۔ اقبال احیاے اسلام اور امت کی نشأۃ ثانیہ کے علم بردار تھے، لہٰذا اُن کے مشن کو آگے بڑھانا، خواہ وہ کسی شکل میں ہو، ان کے لیے بہترین خراجِ تحسین ہے۔’’ (صفحات ۱۲۷-۱۲۸)
ایک ہی موضوع پر وقفے وقفے کے ساتھ گفتگو کی جائے تو اِس میں تکرار کا درآنا چنداں تعجب خیز نہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض انٹرویونگاروں نے اپنی شنیدہ گفتگو کو تحریر کی شکل دیتے ہوئے پروفیسر صاحب کے پہلے سے مطبوعہ انٹرویوز کا متن پیشِ نظر رکھا ہے۔ پروفیسر صاحب نے ایک انٹرویو لینے والے کو اپنی انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے حوالے سے بتایا تھا کہ ۱۹۵۹ میں ڈاکٹر سیّد عبداللہ کی ‘‘کاوشوں سے اُردو کو انٹرمیڈیٹ میں انگریزی کے برابر ‘لازمی’ کا درجہ مِلا، یعنی اُردو بھی انگریزی کی طرح لازمی مضمون بن گیا (ویسے تو اردو ابھی انگریزی سے پیچھے ہے، کیوں کہ بی-اے میں انگریزی لازمی ہے، مگر اردو اختیاری اور انتخابی ہے)۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہر بڑے کالج میں درجن درجن بھر اساتذہ کو ملازمت ملی ہوئی ہے اور معقول مشاہرے پا رہے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اُردو نے روزی روٹی کا بندوبست کردیا ہے، لیکن اساتذۂ اُردو کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اپنے فرائضِ تدریس بھی دیانت داری سے اور دِل لگا کر انجام دے رہے ہیں؟’’ (صفحات ۱۳۹-۱۴۰)
یہی بات انہی جملوں کے ساتھ من و عن ‘‘قومی ڈائجسٹ’’ کے انٹرویو میں چھپ چکی تھی، البتہ نقل کرنے والے نے لفظ ‘‘خدا’’ کو اپنی مذہب دوستی کے تحت ‘‘اللہ’’ میں تبدیل کردیا تھا! (دیکھیے: ص۴۴)۔ یا للعجب
ایک اور مثال دیکھیے:۲۰۰۹ کے ایک انٹرویو میں پروفیسر ہاشمی نے انٹرویو لینے والے کو بتایا:
ایک بار فیض احمد فیض سے انٹرویو لیتے ہوئے سائل نے کہا: فیض صاحب! آپ اس (بیسویں) صدی کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ فیض صاحب نے اُسے فوراً ٹوک دیا، کہا: نہیں بھائی، اقبال ہیں، ہم نہیں۔ فیض نے اقبال کو متعدد نظموں میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اور اقبال پر ان کے مضامین کا پورا ایک مجموعہ موجود ہے (حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ اقبال اور فیض میں نظریاتی اعتبار سے بُعد المشرقین ہے)۔ (ص۱۱۶)
انہی الفاظ میں یہ روایت ۲۰۰۸ میں ایک انٹرویو نگار لکھ چکا تھا۔
اقبال پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، پروفیسر ہاشمی صاحب کے نزدیک کم ہی اوریجنل اور فکرافروز قرار دی جاسکتی ہیں۔ اقبال صدی کے موقع پر، ۱۹۷۷ میں جو کتابیں چھپی تھیں، تحفّظ کے ساتھ اُن کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ‘‘[اُن] میں مثلاً ڈاکٹر وزیرآغا کی ‘تصوراتِ عشق و خرد: اقبال کی نظر میں’، ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کی ‘روایاتِ اقبال’، پروفیسر محمد منور کی ‘ایقانِ اقبال’، ڈاکٹر سیّد عبداللہ کی ‘متعلقاتِ خطباتِ اقبال’، سلیم احمد کی ‘اقبال: ایک شاعر’ [اہم ہیں]۔ لطیف احمد شروانی نے اقبال کی انگریزی تقریروں اور بیانات کو نہایت عمدگی سے مرتب کیا ہے۔ — ۱۹۷۷ میں شائع ہونے والی کتب کا ایک خوش گوار پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سے نامور لکھنے والوں کے جو اقبالیاتی مضامین، رسالوں میں بکھرے ہوئے تھے، انھیں کتابی شکل میں یک جا کردیا گیا ہے۔ مصنفین میں سیّدسلیمان ندوی، مولانا مودودی، رشید احمد صدیقی، ڈاکٹر تاثیر، آل احمد سرور، ڈاکٹر وحید قریشی، عزیز احمد، پروفیسر وقار عظیم اور سلیم احمد شامل ہیں’’ (ص۱۶)۔ اسی موقع پر بطورِ خاص سرگودھا کے ادباء کی نسبت سے مرزا محمد منور کی مزید کتب ‘‘میزانِ اقبال’’، ‘‘اقبال کی فارسی شاعری’’ اور ‘‘قرطاسِ اقبال’’ ، انور سدید کے مجموعۂ مضامین ‘‘اقبال کے کلاسیکی نقوش’’ اور سہیل بخاری کی ‘‘اقبال: مجددعصر’’ کو بھی مذکورہ زمرے میں شریک کرلیا (ص۱۸)۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، جو پروفیسر صاحب کے استاذِ گرامی تھے، اُن کی ‘‘عُروجِ اقبال’’ بھی، اُن کے نزدیک ‘‘بڑی عمدہ اور معرکے کی کتاب ہے’’ (ص۹۹)۔ اقبال کی سوانح عمریوں میں جاوید اقبال کی ‘‘‘زندہ رود’ بہت بہتر، جامع اور سب سے اچھی ہے۔ اب تو انھوں نے اس پر نظرثانی کرکے اِسے اور بہتر بنا دیا ہے۔ اگرچہ اِس میں کچھ خامیاں بھی ہیں اور اس پر اعتراض ہوسکتے ہیں، لیکن معیار کی تو کوئی انتہاء نہیں۔ بہرحال یہ سب سے بہتر ہے۔’’ (ص۶۱)
‘‘اقبالیات، ادبیات، تأثرات’’ میں ہاشمی صاحب کے حوالے سے بہت سی اطلاعات ہیں جو شاید اُن کی کسی دوسری کتاب میں یک جا نہ مل سکیں گی۔
کتاب کے دوسرے حصے میں متعدد افراد کے ساتھ پروفیسر محمد منوّر مرزا پر لکھتے ہوئے پروفیسر ہاشمی نے ان کی کچھ ‘‘یادیں’’ تازہ کی ہیں۔ نومبر ۱۹۹۱ میں پروفیسر صاحب قرطبہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے، اور اقبال اکیڈمی کی طرف سے پروفیسر منوّر مرزا اور جناب سہیل عمر ان کے ہم رکاب تھے۔ ایک موقع پر ہسپانیہ کے مسلمانوں کے زوال پر بات شروع ہو گئی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد منور مرزا نے فرمایا: ‘‘بات بڑی واضح ہے، دو قومی نظریے سے انحراف، زوالِ مسلم کی بنیادی وجہ ہے’’ (ص۲۴۳)۔ مرزا صاحب نے سوال اٹھایا کہ آج ہسپانیہ کے حکمرانوں نے اپنے ہاں ابن رُشد اور ابن حزم کے مجسمے کیوں لگا رکھے ہیں، اور اہلِ یورپ ابن خلدون کو کیوں بڑا ابھارتے ہیں؟ اُن کے نزدیک یہ اہلِ علم اندلسیت کو دین پر فوقیت دیتے تھے!
مرزا صاحب کا بیان غور طلب ہے، اور غیرجانب دارانہ تحقیق اور توجہ کا طالب ہے!
قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے مناسب اہتمام سے کتاب شائع کی ہے اور کتاب کے ساتھ اشاریے شامل کرکے بڑی خدمت انجام دی ہے۔ پروفیسر صاحب اِس بات پر بڑا زور دیتے تھے کہ اقبال کے اشعار کا متن اہتمام سے لکھنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے ‘‘کلیاتِ اقبال’’ (شائع کردہ اقبال اکیڈمی- لاہور) پر انحصار کرنا چاہیے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ دوسرے شعراء کے اشعار نقل کرتے ہوئے بھی یہی اہتمام کرنا چاہیے۔ صفحۂ انتساب پر مرزا مظہر جانِ جاناں (م۱۷۸۱) کا یہ شعر غلط درج کیا گیا ہے:
بنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیدن خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را
اِسی طرح ایک انٹرویو نگار نے ‘‘پندنامۂ عطار’’ کو ‘‘عطّار نامہ’’ لکھا ہے، جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں نقلِ اقتباس میں مذکور ہوا ہے۔ ایک موقع پر پروفیسر صاحب نے ڈاکٹر محمد رفیع الدین کی کتاب ‘‘اقبال کا فلسفۂ خودی’’ کا ذکر کیا ہے اور اِسے ‘‘بہت لاجواب کتاب’’ قرار دیا ہے (ص۱۲۳)۔ کیا اِس نام سے اُن کی کوئی تصنیف ہے! اقبال کے حوالے سے ڈاکٹر محمد رفیع الدین کی اہم ترین کتاب تو ‘‘حکمتِ اقبال’’ ہے۔
حفیظ الرحمن احسن مرحوم نے سیّد مودودی کی تقاریر کی صوتی توزیع و اشاعت کے لیے جو ادارہ قائم کیا تھا، غالباً اُس کا نام ‘‘ابلاغ’’ تھا، ‘‘البلاغ’’ نہیں۔ (ص۸۲۷)
