تاریخی مکاتیب

جلد اوّل  محمد زکریا کاندھلوی (مکتوب نگار)، محمد طفیل کوہاٹی (مرتب و حاشیہ نگار) / ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ – کوہاٹ / [۲۰۲۲] / ۲۶۷ صفحات / مجلد مع گردپوش، قیمت درج نہیں۔

جناب محمد طفیل کوہاٹی مدیر ‘‘البیان’’ (پشاور) کو اپنے دادا مرشد پروفیسر مولانا محمد اشرف سلیمانی (م۱۹۹۵) کے ذاتی ذخیرۂ کتب کی فہرست سازی کے دوران میں کاغذات کا ایک پلندہ ملا جس میں بعض اکابر اہلِ علم کے مکاتیب شامل تھے۔ ان مکاتیب میں ۷۷ مولانا محمد زکریا کاندھلوی (۱۸۹۸ – ۱۹۸۲) کے تھے جو انھوں نے مولانا محمد یوسف بنوری (م۱۹۷۷) اور اُن کے صاحبزادے محمد بنوری (م۱۹۹۸) کے نا م لکھے تھے۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ اِس نعمت غیرمترقبہ کا کچھ حصہ ‘‘اقراء ڈائجسٹ’’ (کراچی) کے ‘‘شیخ الحدیث [محمد زکریا] نمبر’’ میں شائع ہوا ہے، تاہم مولانا محمد طفیل کوہاٹی نے معلومات افزا حواشی کے ساتھ، یہ جُملہ مکاتیب مولانا محمد زکریا کے ۳۰ دوسرے ادھر ادھر مطبوعہ، مگر غیرمدون مکاتیب کے ساتھ ‘‘تاریخی مکاتیب’’ کی پیشِ نظر جلد اوّل میں یک جا کر دیے ہیں۔ آخرالذکر ۳۰ مکاتیب اِن حضرات کے نام ہیں: l مولانا محمد یوسف لدھیانوی l مفتی احمد الرحمن lمولانا عبدالجبار اعظمی l مفتی محمداسمعٰیل کچھولوی l مولانا اشتیاق احمد l مولانا محمد اشرف سلیمانی lمفتی محمد شفیع دیوبندی l مولانا محمدامین اورک زئی l مولانا عبدالرشید ارشد l مفتی محمد تقی عثمانی

مجموعے کے چند مکاتیب ہی گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کے مرقومہ ہیں۔ زیادہ تر مکاتیب مارچ ۱۹۷۱ اور ۱۴ جولائی ۱۹۷۸ کے درمیان لکھے گئے تھے، ان کے بعد صرف دو مکتوب بالترتیب مئی اور جولائی ۱۹۸۰ میں ارسال کیے گئے تھے۔ مارچ ۱۹۷۱ کے بعد کے تمام مکاتیب مولانا کے املاء کردہ ہیں، اور اُن کے مختلف متوسلین کے قلم سے ہیں۔ زبان و بیان میں جہاں مولانا محمد زکریا کی فرمودہ تراکیب اور محاوروں کا قوی امکان ہے، وہیں جملوں کی بناوٹ اور ادائیگی میں کچھ اثر کاتبین کے مزاج اور تعلیمی پس منظر کا بھی ہو گا۔

مولانا محمد زکریا کی زندگی مطالعہ و تحقیق، درس و تدریس، دعوت و تبلیغ اور سلوک و تصوف سے متعلق کاوشوں سے عبارت تھی۔ اس مختصر سے مجموعے میں ان سبھی پہلووں پر اشارات ملتے ہیں، ان پر مستزاد اُن کی ذاتی بیماری و صحت، وطن عزیز پاکستان کے سیاسی نشیب و فراز پر بھی مکتوب الیہم اور مکتوب نگار دونوں فریقوں کی ذاتی و انفرادی آراء سامنے آتی ہیں۔ مکاتیب میں جو کچھ زیرِبحث آیا ہے، اس کے چند پہلو یہ ہیں:

اولاً بینائی کے متاثر ہوجانے کے سبب مولانا محمد زکریا جب پڑھنے لکھنے سے معذور ہو گئے تو نئی موصولہ کتابیں اپنی مجلس میں پڑھوا کر سنتے تھے۔ دوسرے حاضرین بھی اس قراء ت سے مستفید ہوتے تھے۔ مولانا محمد زکریا اپنے مکاتیب میں اِن کتابوں کا ذکر کرتے اور بعض اوقات ان کے مضامین پر اپنی رائے بھی دیتے تھے۔ اسلاف کی نادر کتابوں کی طباعت پر عدم استفادہ کے سبب افسوس کا اظہار کرتے تھے۔ ایک جگہ لکھا ہے: ‘‘الاستذکار’’ اور ‘‘التمہید’’ کی طباعت کے مژدہ سے بہت مسرت ہوئی۔ یہ مژدے تو پہلے بھی کان میں پڑے تھے، مگر حضرت مولانا عبدالقادر راے پوری نوراللہ مرقدہٗ کا ایک مشہور مقولہ [ہے] جو اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ‘جب دانت تھے تو چنے کھانے کو نہ ملے اور جب دانت ٹوٹ گئے تو چنوں کی بھرمار ہو گئی’۔یہی حال اس ناکارہ کا ہے کہ جب دل و دماغ اور آنکھیں کام کر رہی تھیں، تب تو یہ جواہرات ملے نہیں، اور جب اُن سے محرومی ہو گئی تو یہ مبشرات حسرتوں میں اضافہ ہی کر رہے ہیں۔’’ (صفحات ۲۳-۲۴)

ثانیاً مولانا محمد زکریا کاندھلوی اپنی کتب کی جدید اشاعتوں کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ ہندوستان میں لیتھو طرزِ طباعت میں اُن کی چھپی ہوئی کتابوں سے عرب علماء بہتر طور پر استفادہ نہیں کرسکتے تھے، چنانچہ ‘‘اوجز المسالک شرح موطا امام مالک’’، ‘‘بذل المجہود فی حل ابی داؤد’’ (مولفہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری، اس شرح میں مولانا محمد زکریا اپنے اُستاد و مرشد کے معاونِ تحقیق رہے تھے۔) اور ‘‘لامع الدراری شرح علی جامع البخاری’’ (مولانا رشید احمد گنگوہی کی تقریراتِ بخاری جو مولانا محمد زکریا کے والد گرامی مولانا محمد یحییٰ کاندھلوی نے قلم بندکی تھیں۔ مولانا محمد زکریا نے ان تقریرات پر حواشی و تعلیقات کا اضافہ کیا، اور مبسوط مقدمہ لکھا تھا) کی جدید طباعتوں کے اہتمام اور ان پر اہل علم سے تقریظات کے حصول کے لیے رابطہ رکھتے تھے۔ زیرِنظر مجموعے میں مولانا محمد یوسف بنوری سے متعدد مکاتیب میں تقریظات کے لیے درخواست کی گئی ہے۔

مزید براں وہ اپنی مختلف تحریروں، یا دوسروں کی اُن تحریروں کی طباعت کے لیے افراد کی ذمہ داری لگاتے تھے (جو انھیں پسند تھیں) اور ذمہ داروں سے مسلسل رابطہ رکھتے تھے۔

ثالثاً مدارس میں درآنے والی خرابیوں کا احساس رکھتے تھے، اور مدارس کے ارباب اہتمام (زیرِنظر مجموعۂ مکاتیب کے حوالے سے مولانا محمد یوسف بنوری، مفتی محمد شفیع دیوبندی اور اُن کے صاحبزادے مفتی محمد تقی عثمانی) کے نام اپنی سوچ کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ ایک موقعے پر مولانا بنوری کی راے کی تائید کرتے ہیں: ‘‘آپ نے بالکل ہی صحیح فرمایا اور اس میں ذرا بھی تصنع یا مبالغہ نہیں کہ کتابیں چھپ رہی ہیں اور علم غائب ہو رہا ہے،کتب خانے بڑھ رہے ہیں اور جہل عام ہو رہا ہے اور تیسرا اضافہ میری طرف سے کہ مدارس کی روز افزوں ترقی ہے،مگر پڑھنے والا کوئی نہیں ہے۔ مدارس کے طلباء علم کے بجاے لیڈری سیکھ کر نکلتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے’’ (ص۲۴)۔ ایک دوسرے موقعے پر ان الفاظ میں بیماری کا ذکر کیا ہے: ‘‘طلبہ میں — قرآن و حدیث اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کا کوئی لائحۂ عمل آپ جیسے حضرات غور سے تجویز فرماویں۔ — کیا کہوں؟ اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے پر اچھی طرح قادر نہیں ہوں اور ان مہمانانِ رسولؐ کی شان میں تحریر میں کچھ لانا بھی بے ادبی سمجھتا ہوں، ورنہ اہلِ مدارس کو ان کے تجربات حاصل ہیں۔ جماعت اور تکبیرِاولیٰ کے اجتماع کے بجاے سیگریٹ، چاے نوشی میں جماعت ہی جاتی رہتی ہے۔ فالی اللہ المشتکیٰ۔ —آپ حضرات اپنی حسنِ تدبیر، حسنِ راے سے مدارسِ عربیہ کے طلبہ کو کم از کم قرآن و حدیث کی عظمت، اِس سے محبت پیدا کرنے کی کوئی تدبیر تجویز فرما دیں تو بہت حد تک اصلاح کی اُمید ہے۔ (ص۱۰۵)

مدارس کے مطلوب اصلاحی ماحول کے لیے مولانا محمدزکریا کی اہم تجویز یہ تھی کہ مدارس میں ایسے افراد کے قیام کا اہتمام کیا جانا چاہیے جو ذاکر ہوں، تاکہ اللہ کے ذکر کی کثرت ہو۔ جب اللہ تعالیٰ کا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا تو قیامت قائم ہو جائے گی۔ انھوں نے اس مضمون کی یاددہانی کے لیے مولانا محمدیوسف بنوری، مفتی محمد شفیع، بعد ازاں اُن کے صاحبزادے کو توجہ دلائی (دیکھیے: صفحات ۱۵۶-۱۶۰، نیز ۲۳۶-۲۳۷، ۲۴۲ – ۲۴۳، ۲۴۶-۲۴۷)

رابعاً مولانا محمد زکریا کاندھلوی اُن دیوبندی بزرگوں میں سے تھے جو دیوبندی – بریلوی خلیج کم کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور ‘‘تلوار بازی’’ کے زمانے کو خیرباد کہنا چاہتے تھے۔ شاید یہ ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ انھوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے: ‘‘ہم لوگ وہابی ہونے کے باوجود عملاً کچھ بدعتی ہیں اور میں تو اس میں خاص بڑھا ہوا ہوں، اکابرپرستی تو میری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے’’ (ص۱۷۶)۔

 مولانا احمد رضا خاں بریلوی (م۱۹۲۱) نے اپنے بقول مرزا غلام احمد قادیانی اور بعض مشاہیر دیوبند کی چند عبارتیں یک جا کرکے علماے حرمین سے فتویٰ کفر حاصل کیا تھا جِسے ‘‘حسام الحرمین علی منحر الکفر و المین’’ (جھوٹ اور کفر کے نرخرے پر حرمین کی تلوار) کے نام سے ۱۹۰۶ میں شائع کیا، اُن کے ایک معتقد مولوی حشمت علی لکھنوی (م۱۹۶۲) نے ‘‘حسام الحرمین’’ کی تائید میں برعظیم کے بعض علماء سے فتاویٰ حاصل کیے جنھیں ‘‘الصوارم الہندیہ’’ (ہندی تلواریں) کے نام سے مرتب کیا۔ ‘‘حسام الحرمین’’ کے جواب میں مولانا محمد زکریا کے استاد اور مرشد مولانا خلیل احمد سہارن پوری نے ایک رسالہ ‘‘المہند علی المفنّد’’ (سٹھیائے ہوئے شخص پر ہندی تلوار) کے نام سے لکھا تھا۔

مولانا محمد زکریا کے ایک معاصر سعودی مالکی عالم سیّد محمد علوی مالکی (م۲۰۰۴) بن علوی بن عباس مکی بانس بریلی کے مولانا مصطفی رضا خاں (م۱۹۸۱، فرزند مولانا احمد رضا خان بریلوی) کے خلیفہ تھے، اور فکروعمل کے اعتبار سے اُن کے قریب تھے۔ انھوں نے مولانا بریلوی کی اختیارکردہ رسوم و روایات کو شرعاً درست ثابت کرنے کے لیے ایک کتاب ‘‘مفاہیم یجب ان تصحح’’ لکھی جسے مولانا محمدزکریا کی خواہش پر اُن کے بعض خلفاء نے ‘‘اصلاح مفاہیم’’ کے نام سے اس کا ترجمہ (بہ قلم مولانا انیس مظاہری) شائع کیا اور اس کے حق میں فضا ہموار کرنے کی کوشش کی، گو یہ کوشش چنداں کامیاب نہ ہوئی، اور جن بعض افراد نے ‘‘اصلاحِ مفاہیم’’ کے حق میں ابتداً تقریظات لکھیں، ایک ایک کرکے اپنی تقریظات سے دست بردار ہو گئے، حتیٰ کہ اُن کے بعض خلفاء نے بھی یہ رجعت قہقری پسند نہ کی۔

دیوبندی بزرگوں کی کھلم کھُلا تکفیر کرنے والوں کے ساتھ تو نرم روی کا رویہ اختیار کیا گیا، مگر حیرت ہے کہ مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے اُس اختلافِ راے کو کبھی بھلایا نہ گیا جو انھوں نے جمعیت علماے ہند کے بعض بزرگوں سے بصد احترام کیا تھا۔ اس رویے کا اظہار مولانا محمد زکریا کاندھلوی نے بار بار کیا ہے، حتیٰ کہ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی کے بارے میں اُن کی فراہم کردہ اطلاعات اور تبصروں سے آخرالذکر کی جو تصویر بنتی ہے، وہ چنداں قابلِ تعریف نظر نہیں آتی۔

خامساً ‘‘تحریک شیخ الہند’’ کے حوالے سے انھوں نے مولانا حسین احمد مدنی کی اِس روایت کی تصحیح کی ہے کہ اُن کی اور مولانا خلیل احمد سہارن پوری کی اِس تحریک میں شرکت اور واقفیت مدینہ منورہ کے زمانۂ قیام کی ہے۔ (ص۲۲۷)۔ مولانا مدنی کی اپنے بارے میں تو اطلاع درست ہے، مگر مولانا سہارن پوری کے بارے میں صحیح نہیں۔ (صفحات ۲۲۷-۲۲۹)

مولانا محمد طفیل کوہاٹی نے حواشی لکھنے میں بڑا اہتمام کیا ہے، اور محنت سے کام لیا ہے۔ ایک جگہ ۳مئی ۱۹۷۵ کے ایک مکتوب میں مولانا محمد زکریا نے اطلاع دی ہے کہ اُن کے نواسے مولانا سیّد محمدشاہد سہارن پوری (م۲۰۲۳) اُن کے ‘‘مکتوبات کو بازار میں بکھیرنے کے فکر میں لگ رہا ہے’’ (ص۶۷)۔ جی چاہتا ہے کہ مولانا کاندھلوی کے مکاتیب کے جو بھی مجموعے ‘‘تاریخی مکاتیب’’ سے پہلے چھپے ہیں، اُن کی فہرست مل جاتی! کتابت کی اغلاط کچھ زیادہ ہی ہیں۔ گمان گزرتا ہے کہ پشتو بولنے والے کسی دوست نے پروف دیکھے ہیں، اور اردو الفاظ کی تذکیر و تانیث کی اغلاط بڑھ گئی ہیں۔ سرسری طور پر حواشی کی چند اغلاط، جو سامنے آئی ہیں، اُن کی نشان دہی نامناسب نہ ہو گی۔ مرزا غلام احمد قادیانی جس خاتون سے شادی کی حسرت لیے رخصت ہوا تھا، اُس کا نام ‘‘موتی بیگم’’ (صفحات ۴۵-۴۶) نہیں، بلکہ محمدی بیگم تھا۔ مولانا عبدالرشید نعمانی کے تعارف میں مولانا حیدرحسن ٹونکی (م۱۹۴۲) کو ‘‘معجم المصنفین’’ کا مؤلف قرار دیا گیا ہے (ص۱۱۷) جو درست نہیں، ‘‘معجم’’ کے مؤلف اُن کے برادر بزرگ مولانا محمود حسن ٹونکی (م۱۹۴۸) تھے۔ پاکستان نیشنل الائنس (تأسیس: ۵ جنوری ۱۹۷۷) کو ۱۱ جماعتوں کا اتحاد قرار دیا گیا ہے (ص۱۲۱، ص۱۲۳)، جب کہ یہ ۹ جماعتوں (lآل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس lپاکستان ڈیموکریٹک پارٹی lپاکستان مسلم لیگ lتحریکِ استقلال lجماعتِ اسلامی پاکستان lجمعیت علماے اسلام lجمعیت علماے پاکستان lخاکسار تحریک lنیشنل ڈیموکریٹک پارٹی) پر مشتمل تھا۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ شاہ ولی اللہؒ (م۱۷۶۲) کا فارسی ترجمۂ قرآن ‘‘فتح الرحمن’’ کسی دوسری زبان میں قرآن پاک کا پہلا ترجمہ ہے۔ فارسی زبان کا برعظیم میں پہلا ترجمہ مخدوم نوح ہالائی (م۱۵۸۱) نے کیا تھا۔