علمائے خیرآباد کی تصانیف و مؤلفات اور مولانا فضلِ حق خیرآبادی کے مکتوبات

 (علماے کاندھلہ کے علمی خزانہ میں) نورالحسن راشد کاندھلوی (مصنف) / دارالاسلام، جامع مسجد و محلہ روحی، اندرون بھاٹی دروازہ – لاہور / ۱۵۴+۱۴ صفحات / مجلد، ۵۰۰ روپے

جناب نورالحسن راشد، کاندھلہ (ضلع شاملی، اترپردیش) کے معروف علمی و دینی خانوادے کے فرد ہیں، اپنے صاحبِ علم و فضیلت اجداد کے وقیع ذخیرۂ کتب کے امین ہیں، نیز اپنے تصنیفی اور علمی ذوق کے تحت خود بھی کم یاب اور نادر کتب و رسائل کے حصول میں کوشاں رہتے ہیں۔ اُن کے بزرگوں کا علماے خیرآباد (مولانا فضل امام خیرآبادی اور اُن کے ذوعلم اخلاف) سے اخذواستفادہ اور احترام و اعتماد کا رشتہ رہا ہے۔ اوّلاً اس تعلق کے نتیجے میں، اور ثانیاً علم و دانش کے مروّجہ مباحث سے دلچسپی کے سبب خانوادۂ کاندھلہ کے ذخیرۂ کتب میں علماے خیرآباد کے آثار نسل بہ نسل جمع ہوتے رہے ہیں۔ ان آثار میں جنابِ راشد کی ذاتی مساعی سے بھی قابلِ قدر اضافہ ہوا ہے۔

زمرۂ علماء کی تذکرہ نگاری، اور بالخصوص نوآبادیاتی دور کے اہلِ علم کی سوانح نگاری کے حوالے سے اصحابِ مطالعہ جناب نورالحسن راشد کی تحریروں سے واقف ہیں۔ انھوں نے اپنے علم و مطالعہ کی بنیاد پر بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ علماے خیرآباد، اور بالخصوص مولانا فضل حق خیرآبادی (م۱۸۶۱) کے بارے میں چھوٹے موٹے متعدد کاموں کے باوجود ‘‘خانوادۂ خیرآباد کا کوئی سنجیدہ، معتبر، عمدہ تذکرہ مرتب نہیں ہوا’’ (ص۵)، حتیٰ کہ خانوادۂ خیرآباد کے منتشر آثار (خطی نسخوں مطبوعہ و غیرمطبوعہ -03، مطبوعات کی مختلف اشاعتوں، اُن پر لکھی گئی توضیحات و حواشی وغیرہ کا کوئی جامع توضیحی کتاب نامہ سامنے نہیں آسکا، رہ سہہ کر اسید الحق قادری کی تصنیف ‘‘خیرآبادیات’’ (بدایوں، ۲۰۱۱) اور خوشترنورانی کی تحریر ‘‘فضل حق خیرآبادی: چند عنوانات’’ (دہلی: ۲۰۱۱) سے خانقاہ قادریہ -بدایوں کے ذخیرۂ کتب میں مخزون خیرآبادی آثار کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اِس پس منظر میں جناب نورالحسن راشد نے مناسب خیال کیا کہ اپنے گنجینۂ کتب کے خیرآبادی آثار سے اہلِ علم کو آگاہ کر دیں، نیز اِس سلسلے میں جو کام، وہ انجام دے چکے ہیں، اُس کی خوش خبری بھی سنا دیں۔

-03

مولانا فضل امام خیرآبادی (م۱۸۲۹)، خانوادۂ کاندھلہ کے بزرگ مفتی الٰہی بخش (م۱۸۲۹) کے معاصر تھے، مفتی صاحب سے مولانا فضل امام کے ‘‘نیازمندانہ مراسم’’ تھے (ص۶) اور مولانا فضل امام کے، فخر خانوادہ فرزند مولانا فضل حق نے مفتی صاحب سے ‘‘کچھ پڑھا تھا’’ (ص۷)۔ مفتی صاحب کے پوتے مولانا نورالحسن (م۱۸۶۸) کا مولانا فضل حق سے رشتۂ تلمذ تھا جسے ‘‘استادشاگرد دونوں نے علم و اخلاص کی ایسی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا جس کی نظیر ملنا مشکل ہے’’ (۷)۔ اس باہمی محبت اور لگاؤ کا اظہار اُن ۴۹ فارسی مکتوبات سے ہوتا ہے جو دست بردِ زمانہ سے بچ گئے ہیں، یہ مکتوبات ۱۲۶۱ھ/ فروری ۱۸۴۵ سے لے کر اختتام ۱۲۷۲ھ / [اگست ۱۸۵۶] کے دوران میں مولانا فضلِ حق کی جانب سے مولانا نورالحسن نے وصول کیے تھے۔

مولانا نورالحسن کاندھلوی نے مولانا فضل حق سے اپنے رشتۂ تلمذ اور تعلقِ خاطر کو بایں طور مزید مضبوط کیا کہ اپنے تین بیٹوں lضیاء الحسن صادق (م۱۸۹۸) lفیض الحسن محمداکبر (م۱۸۸۶) lظہورالحسن محمد ابراہیم کو مولانا فضل حق اور اُن کے صاحبزادے مولانا عبدالحق خیرآبادی (م۱۸۹۹) سے تعلیم و استفادہ کے لیے بھیجا تھا۔ اس روایتِ تلمذو استفادہ کو ظہورالحسن محمد ابراہیم کے صاحبزادے رضی الحسن کاندھلوی (م۱۹۳۲) نے مزید آگے بڑھایا جو کئی برس خیرآباد اور رام پور میں مقیم رہ کر مولانا عبدالحق خیرآبادی سے استفادہ کرتے رہے تھے۔ اطلاع کے مطابق: ‘‘مولانا رضی الحسن کا عربی، اردو نسخ اور نستعلیق دونوں خط نہایت فنی، اعلیٰ درجہ کے اور پاکیزہ تھے، اس لیے مولانا عبدالحق نے اپنے تمام تحریری کام، اُن کے سپرد کر دیے تھے’’ (ص۱۱۸)۔ مرحوم رضی الحسن نے مولانا عبدالحق کی نگرانی میں ‘‘کتبِ معقولات پر علماے خیرآباد کے غیرمرتب افادات کی جمع و ترتیب’’ (ص۱۳۱) کے ساتھ علماے خیرآباد کے فلسفہ و دانش پر عربی میں ڈھائی-پونے تین سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب حکیم محمود خان دہلوی کی فرمایش پر لکھی تھی (جس کا آج کوئی اتاپتا نہیں)، اِسی طرح انھوں نے مولانا فضل حق خیرآبادی کا عربی مجموعۂ کلام مرتب کیا تھا، جو بالفاظ نورالحسن راشد: ‘‘بڑی ناپ کے باریک، ولایتی کاغذ پر، تقریباً ساڑھے پانچ سو پونے چھے سو صفحات پر مکمل ہوا تھا، اس کا عمدہ نسخہ جو مرتب، مولانا رضی الحسن کے قلم سے مجلد صورت میں تھا، میں نے دیکھا تھا، مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اس وقت کہاں ہو گا، ہوسکتا ہے، پاکستان کی کسی لائبریری میں پہنچ گیا ہو۔’’ (ص۱۳۴)

-03

خانوادۂ کاندھلہ کے ذخیرۂ کتب میں خیرآبادی آثار کے محفوظ چلے آنے کا کریڈٹ، خانوادے کے اصحابِ علم کو جاتا ہے جنھوں نے نسل درنسل اِس علمی و ملّی سرماے کی حفاظت کی۔ یہ سرمایہ جو خطی نسخوں کی صورت میں ہے، اُن نسخوں پر مشتمل ہے جو مولانا نورالحسن اور اُن کے اخلاف نے اپنے زمانۂ تعلیم میں پیشِ نظر رکھے تھے، بعض نسخے انھیں مکتوبہ مل گئے تھے جو پہلے سے بطورِ درسی کتاب مستعمل تھے، اور اُن پر پڑھنے والوں نے اپنی یادداشتیں اور حواشی وغیرہ بھی درج کر رکھے تھے، علماے خیرآباد کی علمی و تدریسی مجالس سے کاندھلوی تلامذہ نے جو مزید باتیں سنیں، وہ بھی ان خطی نسخوں کے حاشیوں پر درج کرلیں۔ دوسرے وہ خطی نسخے تھے جو خانوادۂ کاندھلہ کے ‘‘طالب علموں’’ نے اپنی ضرورت کے تحت خود لکھے تھے، یا افرادِ خانوادہ نے اپنی کتاب دوستی اور نوادر پسندی کے تحت وقتاً فوقتاً حاصل کر لیے تھے۔ اِس طرح مولانا فضل امام خیرآبادی کے استادِ گرامی ملّا عبدالواجد خیرآبادی (م۱۸۰۳) کا مکتوبہ نسخۂ ‘‘صراطِ مستقیم’’ (شرح ‘‘سفرالسعادۃ’’، مولفہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی) اُن کے ذخیرے کی زینت ہے۔ اِس طرح مولانا فضل امام، مولانا فضلِ حق اور مولانا عبدالحق خیرآبادی کے متفرق آثار یک جا ہوئے ہیں۔

مولانا فضل حق خیرآبادی کی ایک بیاض سے اہلِ علم خوب متعارف ہیں جو کراچی میں حکیم نصیرالدین ندوی کے پاس تھی، اور اس کے عکس کئی افراد کے ذاتی ذخیروں میں ہیں۔ مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی نے مولانا فضل حق کی ایک اور بیاض کا کھوج لگایا ہے (انھوں نے یہ تو نہیں لکھا کہ بیاض کس کے پاس ہے، البتہ اِس کے مندرجات کا اجمالی تعارف لکھ دیا ہے، صفحات ۱۳۶-۱۳۹)۔ اسی سلسلے میں انھوں نے مزید بتایا ہے کہ:

مولانا [فضل حق] کی معروف بیاض (کراچی) کی اساس پر مولانا خیرآبادی کا عربی مجموعۂ کلام یا دیوان مرتب ہو کر شائع ہو گیا ہے۔ — اس کو مولانا کے کلام کا آدھا، یا بہت زیادہ کہا جائے تو دوتہائی حصہ کہا جاسکتا ہے، اور مولانا کی اصل بیاض پر نظر ڈالنے سے خیال ہوتا ہے کہ اس بیاض کے بعض حصے پڑھے نہیں گئے اور بعض کی اصل سے مطابقت میں شبہ ہے، شاید ان میں سہو ہوا ہے۔ اس لیے راقمِ سطور نے مولانا کی خودنوشت دونوں بیاضوں اور میرے علم میں مولانا کا جو منتشر کلام ہے، اور جو ایسی نادر و کم یاب چیزیں ہیں جو مولانا کی زندگی میں شائع ہوگئی تھیں، ان سب کو اپنے کرم فرما، مولاناہدایت اللہ صاحب آسامی کے تعاون سے جمع و مرتب کیا ہے۔ یہ مجموعہ شائع ہو گا تو اس سے مولانا کی عربی زبان و ادب پر قدرت کے کچھ اور عمدہ نمونے سامنے آئیں گے۔ (ص۱۳۹)

زیرِنظر کاوش کا بڑا حصہ مولانا فضل حق کے مکتوبات (بنام نورالحسن) کے تعارف، ان کی ابتدائی ترتیب و تدوین، اس کے نقائص اور تصحیح، نیز مکتوبات کے مشتملات کے تجزیے پر مشتمل ہے (صفحات ۹-۱۰۳)۔ ۳۳ صفحات (۱۰۴-۱۳۵) میں خانوادۂ کاندھلہ کے خزینے میں محفوظ ‘‘علماے خیرآباد کی مکتوبہ کتابوں، فتاویٰ، تحریرات، تصانیف و مؤلفات اور متفرق آثار’’ کا تعارف لکھا گیا ہے۔ آخری چند صفحات میں مصنّف مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی نے مولانا فضل حق کی اپنی دریافت کردہ دوسری بیاض کا تعارف، اور اُن کے عربی مجموعۂ کلام کی تدوین کے بارے میں بتایا ہے جس کا ذکر کیا جاچکا ہے۔ کتاب شخصیات، کتب و رسائل اور مقامات کے سہ گانہ اشاریے، اور فہرستِ مآخذ و مراجع پر ختم ہوتی ہے۔

-03

جناب نورالحسن راشد نے زیرِنظر کاوش کو ۸صفر ۱۴۴۳ھ / [۱۶ ستمبر ۲۰۲۱] میں حتمی شکل دی تھی (ص۱۴۲) اور اس کے بعد کسی وقت کمپوزر کے حوالے کی گئی، تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ اس تحریر میں ترمیم و اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اِس کا ایک ورژن (version) ‘‘راوی سے رائن، دورِ نوآبادیات اور مابعد، جنوبی ایشیائی اور یورپی علوم و ثقافتوں کا ربط باہم ارمغان بہ پاسِ خدماتِ علمی و ادبی محمد اکرام چغتائی’’ (کراچی: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ۲۰۲۲) میں ہماری نظر سے گزرا ہے جو زیرِنظر کاوش سے کلیتاً مختلف تمہید کے ساتھ چھپا تھا۔

مؤخر سوچ کے ساتھ کسی مسودے میں مصنّف کا ردوبدل کردینا معمول کی بات ہے۔ جناب راشد اِس کتاب کے مسودے میں ردوبدل کرتے رہے ہیں، مگر ردوبدل سے پیدا ہو جانے والے تضاد کی جانب توجہ نہیں دے سکے۔ مثال کے طور پر ‘آثارِ علماے خیرآباد’ کے تعارف کو پہلے تین حصوں (lتصانیف lتحریرات و متفرقات lمکتوبات) میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے (ص۱۰)۔ بعد میں ‘تصانیف’ کو منثور اور منظوم میں تقسیم کرکے چار حصوں / عنوانات میں بدل دیا گیا (ص۲۱)، تبدیلی تو کردی گئی، مگر درآنے والے تضاد کی جانب توجہ نہ دی جاسکی۔ اسی طرح مولانا فضل حق خیرآبادی کے مرتبہ اور شائع شدہ ‘‘دیوان’’ کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ ‘‘گزشتہ صفحات’’ میں اس امر کی اطلاع دے چکے ہیں کہ یہ مولانا کے کلام کا آدھا یا دوتہائی حصہ ہے (ص۱۳۹)، مگر ہم سرسری ورق گردانی میں گزشتہ صفحات میں ایسی کوئی اطلاع نہیں پاسکے۔

‘‘علماے خیرآباد کی تصانیف و مؤلفات—’’ کا مطالعہ کرتے ہوئے کچھ الجھنیں سامنے آئی ہیں، اگر آیندہ اشاعتِ کتاب میں انھیں پیشِ نظر رکھ لیا جائے تو مناسب ہو گا۔

l پروفیسر محمد ایوب قادری (م۱۹۸۳) کے مقالے ‘‘مولانا فضل حق خیرآبادی: دورِ ملازمت’’ (مشمولہ ‘‘ارمغانِ فاروقی، نذر خواجہ احمد فاروقی’’) کے حوالے سے لکھا گیا ہے:

قادری صاحب نے مولانا [فضل حق] کی دہلی کی ملازمت کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ مولانا خیرآبادی نے دہلی کی ملازمت ۱۲۴۵ھ / ۱۸۳۱ میں ترک کی اور اِس کے لیے غالب کے ایک فارسی خط کا اور مولانا حیدرعلی فیض آبادی سے منسوب ایک خط، مکتوبہ ۱۲۳۱ھ کا حوالہ دیا ہے جو صحیح نہیں۔ (حاشیہ، ص۱۳)

قادری صاحب کے الفاظ یہ ہیں: ‘‘خیال یہ ہے کہ ۱۲۴۵ھ / ۱۸۳۱ میں مولانا فضل حق نے عدالت دیوانی دہلی کی سرشتہ داری سے استعفاء دے دیا (‘‘ارمغانِ فاروقی —: ص۲۰۹)۔ اُن کا یہ خیال حکیم محمود احمد برکاتی (م۲۰۱۳) کی تحقیق پر مبنی ہے (‘‘ارمغان فاروقی—’’، ص۲۳۲)۔ قادری صاحب نے ملازمتِ دہلی سے علیحدگی کی تاریخ متعین کرنے کی خاطر نہیں، بلکہ سببِ استعفاء کے لیے غالب کے خط سے استشہاد کیا، ان کے الفاظ یہ ہیں: ‘‘مرزا غالب کے اس خط سے معلوم ہوا کہ مولانا خیرآبادی حکّام کی قدرناشناسی کی بناء پر عہدے سے مستعفی ہوئے تھے’’ (‘‘ارمغانِ فاروقی —’’، ص۲۱۰)۔ جہاں تک مولانا حیدر علی فیض آبادی کے خط سے صحیح یا غلط استشہاد کا تعلق ہے، وہ ملازمت سے علیحدگی کے سلسلے میں نہیں، بلکہ ملازمت اختیار کرنے سے متعلق ہے۔ (‘‘ارمغان فاروقی —’’، ص۲۰۷)

l سرسیّد احمد خاں (م۱۸۹۸) کے مترجمہ رسالے ‘‘تحفۂ حسن’’ کے بارے میں بتایا گیا ہے: ‘‘‘تحفۃ الناظرین’ کے دسویں باب کا اردو ترجمہ ہے’’ (ص۲۷)، جب کہ ‘‘حیاتِ جاوید’’ میں مولانا حالی کی اطلاع یہ ہے: ‘‘یہ ترجمہ ہے ‘تحفہ اثنا عشریہ’ کے باب دہم اور باب دوازدہم کا’’۔

‘‘جلاء القلوب بذکر المحبوب صلی اللہ علیہ وسلم’’ کی طباعت کا سال ۱۲۵۸ھ لکھا گیا ہے (ص۲۷)، اور یہی سالِ طباعت مولانا حالی نے بھی درج کیا ہے، مگر کتاب کی اولیں اشاعت کے سرورق کے عکس سے ماہ و سالِ طباعت رمضان المبارک ۱۲۵۹ھ / [ستمبر-اکتوبر ۱۸۴۳] معلوم ہوتا ہے۔

l مولانا محمد سلیمان کاندھلوی کی تاریخ وفات ایک جگہ ذی الحجہ ۱۳۲۵ھ [۱۲جولائی ۱۹۰۸] درج کی گئی ہے (ص۳۰)، ایک صفحے کے بعد ‘‘۴ذی الحجہ ۱۳۲۵ھ / ۹جنوری ۱۹۰۸ شب پنج شنبہ’’ لکھی گئی ہے۔ (ص۳۲)

l مولانا نورالحسن کاندھلوی کا ذکر کتاب میں بہت کثرت سے آیا ہے (اُن سے زیادہ ذکرِخیر صرف مولانا فضل حق خیرآبادی کا ہے) اور آغاز کتاب ہی میں اُن کا سالِ وفات ۱۲۸۵ھ / ۱۸۶۸ درج کر دیا گیا ہے (حاشیہ ص۳)۔ اُن کے مفصل تعارف میں لکھا گیا ہے: ‘‘۱۲۷۶ھ (جنوری ۱۸۶۱) کے اخیر میں الور کی ملازمت ترک کرکے وطن واپس آگئے، یہاں تقریباً نوسال تک درس و افادہ میں مشغول رہے’’ (ص۲۶)۔ تین صفحے کے بعد لکھا گیا ہے: ‘‘مولانا نورالحسن کی اٹھاون سال کی عمر میں ۳۱ [کذا:؟] جمادی الاولیٰ ۱۲۶۹ھ (۱۸۵۳) کو کاندھلہ میں وفات ہوئی۔’’ (ص۲۹) یا للعجب!

l کتاب کی ‘فہرست مآخذ و مراجع’ میں ‘‘نذرِ فاروقی’’ شامل ہے (ص۱۵۴)، جسے کتاب کے ایک حاشیے میں ‘‘نذرِ ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی’’ درج کیا گیا ہے (ص۱۲)، جب کہ کتاب کا من و عن عنوان ‘‘ارمغانِ فاروقی (نذر خواجہ احمد فاروقی)’’ ہے۔ اِسی طرح ایک مجموعۂ مضامین کے مرتب افضل حق قرشی کو افضل حق قریشی لکھا گیا ہے (ص۱۲، ص۲۰، ص۱۵۴)