مکاتیبِ نافع

(جلد سوم)  حافظ عثمان احمد (مرتب و تعلیقات نگار) / رحماء بینہم ویلفیر ٹرسٹ، محمدی شریف ضلع چنیوٹ، بہ اشتراک دارالکتاب، ۶-اے، یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار-لاہور / ۲۰۲۴/ ۴۹۷ صفحات / مجلد، ۱۲۰۰ روپے

مشاہیر کی خط کتابت بوجوہ اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ زبان و ادب کے ماہرین کے مکاتیب اُن کے اُسلوب کا اظہار ہوتے ہیں، اربابِ سیاست کی مراسلت اُن کی زندگی کے نشیب و فراز، اور اُن کے دور کی سیاست کے پسِ پردہ حقائق جاننے میں راہ کشا ہوتی ہے، اور اہل علم کی مراسلت اُن کے حاصلِ مطالعہ اور مختلف علمی مباحث پر اُن کی آراء کا آئینہ ہوتی ہے۔ ماضی قریب کے مولانا محمد نافع (۱۹۱۶ – ۲۰۱۴) جو اپنی متعدد تالیفات، اور بالخصوص سلسلہ ‘‘رحماء بینہم’’ کے ذریعے وطن عزیز کے اس حلقے کی ایک معروف شخصیت ہیں جو ابتدائی عہدِ اسلام کی تاریخ سے دلچسپی رکھتا ہے۔

مولانا محمد نافع کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ جب تک اُن کی صحت نے اُن کا ساتھ دیا، وہ اپنے مکتوب نگاروں کو بڑی باقاعدگی سے جواب لکھتے رہے تھے، اور جب یہ صورت نہ رہی تو اُن کی ہدایت پر مکتوب نگاروں کو جواب لکھ دیا جاتا تھا، جہاں تک انھیں موصول ہونے والے مکاتیب کا تعلق ہے، وہ انھیں محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ حافظ عثمان احمد صاحب ایک عرصے سے مولانا محمد نافع کی مراسلت مرتب کر رہے ہیں۔ ‘‘مکاتیبِ نافع’’ کی دوسری جلد کا تعارف ‘‘نقطۂ نظر’’ کے شمارہ ۴۳ (بابت جنوری – جون ۲۰۲۳) میں شائع ہو چکا ہے اور اب سلسلے کی تیسری جلد اِس ذیلی و توضیحی بیان ‘‘مورخِ اسلام محققِ شہیر مولانا محمد نافع کے نام اہلِ علم کی مراسلت کی دستاویز’’ کے ساتھ ہمارے پیش نظر ہے۔

جلد سوم میں مولانا محمد نافع کے نام ۵۳ مکتوب نگاروں کے ۱۷۸ مکاتیب اُن کے ناموں کی الف بائی ترتیب سے یک جا کیے گئے ہیں، ان میں سے صرف دس حضرات کے نام مولانا کے ۲۳ مکتوبات ہیں، اور اِن دس میں سے چھے کے نام ایک ایک اور دو کے نام دو دو مکاتیب ہیں۔ باقی ماندہ ۱۳ مکاتیب میں آٹھ اُن کے شاگرد اور سوانح نگار حافظ سعداللہ کے نام ہیں، پانچ کے مکتوب الیہ محمد محمود عالم صفدر (برادر مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی) ہیں، البتہ جلد کے خاتمے پر مختلف افراد کے نام مولانا کے ۱۱ مکاتیب بطور تتمہ درج کیے گئے ہیں۔ مجموعے کے متن میں مندرج، مکتوب نگاروں کے مکاتیب کے بالمقابل مولانا محمد نافع کے مکاتیب کی تعداد دس فی صد سے کچھ ہی اوپر ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ مکتوب نگاروں یا اُن کے لواحقین سے مولانا محمدنافع کے مکاتیب حاصل نہیں کیے جاسکے۔ جی نہیں مانتا کہ مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا محمدطاسین، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا عبدالستار تونسوی اور مولانا قاضی مظہر حسین جیسے اصحابِ قلم کے ہاں اُن کے نام مکاتیبِ مشاہیر محفوظ نہ رکھے گئے ہوں! جناب عثمان احمد نے تو لکھا ہے کہ وہ ‘‘مکاتیبِ نافع’’ کی چوتھی جلد میں یہ پروجیکٹ مکمل کرلیں گے، مگر مشاہیر کے مکاتیب کی اشاعت کو دیکھتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ مولانا کے مکاتیب کے سامنے آنے کا سلسلہ کچھ عرصے تک کم و بیش جاری رہے گا۔

‘‘مکاتیبِ نافع’’ کی زیرِنظر جلد سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا محمد نافع عہد صحابہؓ کی تاریخ پر لکھتے ہوئے موجودہ دور کے مصنفین کے حوالے سے اخذ و اقتباس کرنا پسند نہ کرتے تھے (ص۸۴)۔ اُن کی خواہش ہوتی تھی کہ حدیث و تاریخ کے جو مآخذ اُن کی زندگی میں غیرمطبوعہ تھے، اُن کے خطی نسخوں تک رسائی حاصل کریں۔ اِس جلد کے مندرجات کے مطابق کتب خانہ پیرجھنڈا، خانقاہ مجدّدیہ – کندیاں، پنجاب پبلک لائبریری-لاہور کے منتظمین اور بعض اہل علم جیسے مولانا عبدالرشید نعمانی اور مولانا فضل اللہ سے انھوں نے اہم کتب کے سلسلے میں رہ نمائی حاصل کی، کبھی کامیاب رہے اور کبھی گوہرِ مراد ہاتھ نہ آیا، اس کھوج میں اُن کے ایک مکتوب نگار مولانا ابوالفضل فیض الرحمن الثوری (م۱۹۹۶) سامنے آتے ہیں۔ مرحوم اپنے بقول ضلع بہاول پور کے ایک گاؤں ‘‘چنی گوٹھ’’ کے مڈل سکول میں ‘‘عربی کی پہلی، دوسری اور تیسری کتاب’’ تقریباً بیس سال سے پڑھا رہے تھے۔ حالات کا نقشہ انھوں نے ان الفاظ میں کھینچا ہے: ‘‘علاقہ پس ماندہ بلکہ علمی لحاظ سے قحط زدہ ہے۔ لے دے کے ایک مولانا حبیب اللہ گمانوی ہی کی ذات بابرکات کا دم غنیمت ہے۔ ورنہ اس علاقہ میں تیس چالیس میل چاروں طرف نہ کوئی اہل علم، نہ کوئی کتب خانہ ہے۔ تسکینِ ذوق کے لیے کچھ بھی میسر نہیں آتا۔ معاشی حالات ایسے ہیں کہ پس انداز کچھ نہیں ہوسکتا۔ صرف تنخواہ پر گزر بسر ہے۔ نادر کتب کے لیے سرمایہ چاہیے’’ (ص۲۴۳)، مگر بایں حال ذوق کا عالم یہ ہے:

‘‘کتاب الضعفاء عقیلی’’ میں نے نقل کی تھی۔ یہ کتاب پیر محب اللہ شاہ صاحب پیر جھنڈا کو دے دی ہے۔ ‘‘کتاب الفقیہ والمتفقہ للخطیب’’ نقل کی تھی۔ یہ کتاب پیر بدیع الدین صاحب لے گئے ہیں۔ کتاب الاستدراکات للدار قطنی میرے پاس نہیں۔ پیر جھنڈا میں اِس کی تین جلدیں ہیں۔ ‘‘کتاب الفقیہ والمتفقہ’’ چھپ چکی ہے۔ ‘‘التمہید لابن عبدالبر’’ نامکمل پیرجھنڈا میں ہے۔ ‘‘دلائل النبوۃ للبیہقی’’ کا نسخہ مدینہ منورہ میں ہے۔ سنا تھا کہ طبع ہو رہی ہے۔ ‘‘فتح المغیث’’ ہندی طبع میرے پاس تھا۔ پیر بدیع الدین صاحب لے گئے ہیں۔ سنا ہے عرب میں اب کے چھپ گئی ہے۔ ‘‘صحیح ابن حبّان’’ سے متعلق کچھ معلوم نہیں، البتہ اس کتاب کا طرزِ تحریر معلوم کرنے کے لیے تھوڑا سا حصہ پیر جھنڈا میں موجود ہے۔ ‘‘تاریخ اسلام ذہبی’’ اور ‘‘تقیید المہمل’’ کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔ (صفحات ۲۴۳-۲۴۴)

مڈل سکول کے ایک ‘‘اورینٹل ٹیچر’’ کی کتاب دوستی اور کتاب شناسی کا یہ عالم دیکھ کر رشک آتا ہے، واللہ اعلم ہماری جامعات کے باوسائل اور ڈاکٹرز اساتذہ کا ذوق بھی کبھی اِس سطح پر پہنچے گا!

تلاشِ مآخذ و مصادر کے ساتھ مولانا محمد نافع بعض اوقات اپنی زیرتالیف کتب یا مطبوعہ کتب پر نظرثانی کے حوالے سے بھی اہل علم سے مشاورت کرتے تھے۔ مولانا شمس الحق افغانی (م۱۹۸۳) اور مولانا عبدالرشید نعمانی کے مکاتیب کی اہمیت اسی حوالے سے ہے۔ مولانا محمدنافع اور مولانا نعمانی کے زاویہ ہاے نظر مشاجراتِ صحابہؓ کے حوالے سے باہم منطبق نہ تھے۔ اس حوالے سے مولانا نعمانی کے مکاتیب کا مطالعہ دلچسپی کا حامل ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی (م۱۸۲۴) کی جانب منسوب رسالے ‘‘سرالشہادتین’’ کے بارے میں مولانا محمد نافع کا ذاتی تأثر یہ ہے: ‘‘ضعیف و موضوع روایات کا مجموعہ ہے اور شیعہ مرویات کی من و عن اس میں تائید پائی جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب کا مقام ہر دو امور سے بلند ہے، بلکہ اُن کی تصانیف بالکل اِس کے برعکس ہیں’’ (ص۱۵۱)۔  یہی زاویہ نظر مولانا قاضی مظہر حسین کا ہے (ص۶۷)، اور اِسی کی تائید ‘‘مکاتیبِ نافع’’ کے مرتب نے کی ہے (دیکھیے: حاشیہ ص ۱۴۲، نیز حاشیہ ص ۲۶۷)

مولانا عبدالرشید نعمانی کی راے مذکورہ حضرات کی راے کے برعکس ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

‘‘سرالشہادتین’’ شاہ عبدالعزیز صاحب کی نہایت مشہور و متداول کتاب ہے، جو بارہا طبع ہو چکی ہے۔ اِس کی نسبت شاہ صاحب موصوف کی طرف متواتر ہے اور اِس کا انکار مکابرہ ہے۔ مولانا سلامت اللہ صاحب نے (جوشاہ صاحب ممدوح کے شاگرد خاص ہیں اور جنھوں نے معرکہ آرا نامی اور دیگر کتابیں ردِروافض میں لکھی ہیں) اِس کی شرح لکھی ہے جس کا نام‘‘تحریر الشہادتین’’ ہے۔ یہ شرح چھپ گئی ہے اور جتنے علماء نے بھی شاہ صاحب کا تذکرہ لکھا ہے، انھوں نے اِس رسالہ کو شاہ صاحب کی تالیفات ہی میں شمار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: ‘‘نزہۃ الخواطر’’ از مولانا عبدالحی لکھنوی، ‘‘حدائق الحنفیہ’’ از فقیر محمد جہلمی، ‘‘تذکرہ علماے ہند’’ از رحمان علی، البتہ ‘‘سرالشہادتین’’ تاریخ کی کتاب ہے، حدیث کی نہیں۔ اس کی عام روایات وہی ہیں جو عام کتبِ تاریخ میں مذکور ہیں۔ ممکن ہے اِس میں بعض موضوع بھی ہوں، لیکن کیا ایسی روایات شاہ صاحب کی تفسیر ‘‘فتح العزیز’’ اور ‘‘ازالۃ الخفا’’ میں نہیں ہیں؟ پھر ان کا انتساب بھی شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کی طرف مشکوک ٹھہرے گا۔ داوٗد علیہ السلام اور اوریا کا قصہ ‘‘موضح قرآن’’ میں موجود ہے۔ کیا اِس کا انتساب بھی صحیح نہیں، اور کیا کسی کتاب میں موضوع روایت کے موجود ہونے سے اس کی نسبت مصنّف کی طرف صحیح نہ ہو گی۔ — (صفحات ۱۴۲-۱۴۴)

حافظ عثمان احمد بڑی محنت اور لگن کے ساتھ مولانا محمد نافع کے مکاتیب مرتب کر رہے ہیں اور اُن کی تحقیق اور تعلیقات پڑھ کر طبیعت خوش ہو تی ہے۔ انھوں نے نہ صرف متن میں مذکور کتابوں کے پورے کوائف مہیا کیے ہیں، بلکہ حسبِ ضرورت مختلف کتابوں سے اقتباسات (مع ترجمہ) نقل کیے ہیں، مگر کام اتنا پھیلا ہوا ہے کہ سہو و نسیان کا درآنا چنداں تعجّب خیر نہیں۔ دوران مطالعہ میں چند مقامات پر خلجان پیدا ہوا جس کی نشان دہی کردینا اِس لیے مناسب خیال کیا گیا ہے کہ شاید ان میں سے کوئی مبحث اگلی جلد میں بھی آجائے!

l مولانا محمد طاسین کے نام مکتوب میں ‘‘نفحۂ عنبریہ’’ کے دو نسخے ارسال کرنے کی فرمایش کی گئی تھی (ص۱۳۰)۔ ‘‘نفحۂ عنبریہ’’ پر یہ حاشیہ درج کیا گیا ہے: ‘‘شاید مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ‘نفحۂ عنبریہ بذکر میلاد خیرالبریہ’ مراد ہے۔’’

مولانا محمد نافع کو مجلس علمی-کراچی کی شائع کردہ ‘‘نفحۃ العنبر فی حیاۃ امام العصر الشیخ انور شاہ الکشمیری’’ (مؤلفہ مولانا محمد یوسف بنوری) درکار تھی، اسی کو مولانا نے ‘‘نفحۂ عنبریہ’ لکھ دیا تھا، جب کہ مولانا طاسین نے اپنے پہلے مکتوب میں یہ کتاب بھجوانے کا وعدہ کیا تھا۔ (دیکھیے: ص۱۲۱)

l ‘‘سر الشہادتین’’ کے بارے میں یہ حاشیہ لکھا گیا ہے: ‘‘اِس کتاب کو اولاً حضرت مولانا عبدالحی لکھنوی [کذا: راے بریلوی] نے ‘نزہۃ الخواطر’ میں حضرت شاہ عبدالعزیز کی تصنیف ارشاد فرمایا ہے۔ مصنفین ‘حدائق الحنفیہ’ و ‘تذکرہ علماے ہند’ اور دیگر سوانح و تاریخ نگاروں نے ‘نزہۃ الخواطر’ پرہی دارومدار رکھتے ہوئے، اس کتاب کو ان سے منسوب کیا ہے۔’’ (حاشیہ، ص ۱۴۲)

مولانا عبدالرشید نعمانی کا جو اقتباس ‘‘سرالشہادتین’’ کے حوالے سے ہم نقل کرچکے ہیں، اُس میں مولانا نے مذکورہ تین تذکروں کا اِسی ترتیب سے ذکر کیا ہے، ان تین تذکروں میں قدیم ترین فقیر محمد جہلمی (م۱۹۱۶) کا ‘‘حدائق الحنفیہ’’ ہے، جو تین سال کی محنت سے ۱۲۹۷ھ / ۸۰-۱۸۷۹ میں مکمل ہوا تھا اور ۱۳۰۳ھ / ۸۶-۱۸۸۵ میں پہلی بار طبع ہوا تھا، اِس کے بعد مولوی رحمان علی (م۱۹۰۷) کا ‘‘تذکرہ علماے ہند’’ ۱۳۰۵ تا ۱۳۰۸ھ / ۱۸۸۷ – ۱۸۹۱ میں مرتب ہوا تھا اور پہلی بار مطبع نولکشور-لکھنؤ سے ۱۳۱۲ھ / ۱۸۹۴ میں چھپا تھا۔

‘‘تذکرہ علماے ہند’’ کی داخلی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی رحمن علی جن دنوں اپنا ‘‘تذکرہ’’ لکھ رہے تھے، مولانا سیّد عبدالحی راے بریلوی (م۱۹۲۳) بھی ‘‘نزہۃ الخواطر’’ کی داغ بیل ڈال چکے تھے، مگر مولوی رحمن علی نے اُن کا مسودہ وغیرہ کبھی نہ دیکھا تھا۔ مولانا راے بریلوی ‘‘نزہۃ الخواطر’’ پر کام کرتے رہے، مگر اپنی خواہش اور ارادے کے مطابق اِسے پاے تکمیل تک نہ پہنچا سکے تھے۔ ان کی رحلت کے آٹھ سال بعد ۱۳۵۰ھ / ۱۹۳۱ میں ‘‘نزہۃ الخواطر’’ کا دوسرا حصہ دائرۃ المعارف العثمانیہ-حیدرآباد نے شائع کیا، اور کتاب کا پہلا حصہ ۱۳۶۶ھ / ۱۹۴۷ میں چھپ سکا۔ باقی جلدیں (تاہفتم) ۱۹۵۹ تک منصہ شہود پر آسکی تھیں، آخری نامکمل (آٹھویں جلد) کی تکمیل مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی نے کی اور پہلی بار ۱۳۹۰ھ / ۱۹۷۰ میں چھپ سکی تھی۔ (‘‘نزہۃ الخواطر’’ کی طباعت کی داستان مولانا سیّدابوالحسن علی ندوی نے ‘‘حیات عبدالحی’’ میں بہ تفصیل بیان کی ہے۔)

مذکورہ پس منظر میں ‘‘نزہۃ الخواطر’’ کو پہلا مأخذ قرار دینا، (اور اس اعتبار سے اسے ‘‘حدائق الحنفیہ’’ اور ‘‘تذکرہ علماے ہند’’ کا مأخذ قرار دینا) جس میں ‘‘سرالشہادتین’’ کو شاہ عبدالعزیز کی جانب نسبت دی گئی تھی، درست نہیں۔ یہ کام شاہ صاحب کے شاگرد (مولوی سلامت اللہ کشفی، م۱۸۶۴) نے اِس کے ترجمہ و شرح ‘‘تحریر الشہادتین’’ میں کیا تھا۔

l پروفیسر غلام احمد حریری کے مکتوب میں مولانا محمد نافع کے جامعہ سلفیہ-فیصل آباد تشریف لے جانے کا ذکر ہے۔ پروفیسر صاحب کمرے سے باہر پلاٹ میں طلبہ کو پڑھا رہے تھے، جب کہ مولانا جامعہ کے لائبریرین ‘اشرف صاحب’ کے پاس بیٹھ کر تشریف لے گئے۔ ‘اشرف صاحب’ سے مرتب کو غلط فہمی ہوئی اور انھوں نے مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف (م۱۹۹۶) کو لائبریرین خیال کرتے ہوئے اُن کا تعارف حاشیے میں درج کر دیا ہے۔ جامعہ سلفیہ-فیصل آباد کے لائبریرین اُن دنوں جاوید اشرف نامی ایک نوجوان عالم تھے۔

l صفحات ۲۱۳-۲۱۴ پر مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی اور اُن کے بارے میں مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ‘‘تذکرہ مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی’’ کا ذکر کیا گیا ہے، مگر ‘‘فضلِ رحمن’’ کو بار بار فضل الرحمن درج کیا گیا ہے جو درست نہیں۔ ‘‘فضلِ رحمن’’ تاریخی نام ہے جس سے اُن کا سالِ ولادت ۱۲۰۸ھ برآمد ہوتا ہے۔

l صفحہ ۲۸۴ پر ضلع ہری پور کے قصبے ‘‘درویش’’ کے ساکن قاضی محمد شمس الدین کے بارے میں سوانحی حاشیہ لکھا گیا ہے، حالانکہ یہی اطلاعات بطور مکتوب نگار ص۲۴۶ پر درج کی جاچکی تھیں۔

l حافظ سعداللہ نے اپنے پہلے مکتوب میں مولانا محمد نافع کو محمد حسین الذہبی کی ‘‘التفسیر و المفسرون’’ کے اردو ترجمے ‘‘تاریخ تفسیر و مفسرین’’ سے ابوبکر الجصاص کا اندراج ارسال کرنے کی اطلاع دی تھی (ص۶۷)۔ انھوں نے کتاب کا عنوان ‘‘علم تفسیر اور مفسرین’’ درج کیا ہے۔ اِس پر حاشیہ لکھا گیا ہے: ‘‘کون سی کتاب مراد ہے؟ بالجزم کہنا مشکل ہے۔ محمد حسین الذہبی کی ‘التفسیر و المفسرون’ اور اس کی اردو تلخیص و ترجمہ ‘تاریخ تفسیر و مفسرین’ از غلام احمد حریری مراد ہو سکتے ہیں، لیکن مذکورہ صفحات پر علامہ جصاص کا تذکرہ نہیں ہے۔ ‘‘علم تفسیر و مفسرین’ کے نام سے ایک تصنیف علامہ حافظ مشتاق احمد چشتی کی بھی ہے، لیکن اِس میں بھی یہ تذکرہ موجود نہیں —’’(ص۶۷)

ابوریحان عبدالغفور سیالکوٹی کے پہلے مکتوب میں محمد حسین الذہبی کی ‘‘التفسیر و المفسرون’’ میں ابوبکر الجصاص کے معتزلہ ہونے کے تاثر کو تسلیم کر لیا گیا ہے، اور حاشیے میں وضاحت موجود ہے۔ (ص۱۷۰) دوسرے لفظوں میں آخرالذکر حاشیے سے صفحہ ۶۷ کے حاشیے پر خطِ تنسخ کھینچ دیا گیا ہے۔

‘‘مکاتیب نافع’’ کی زیرنظر جلد سفید کاغذ اور گتے کی جلد کے ساتھ پیش کی گئی ہے، مہنگائی کے اِس دور میں قیمت بظاہر بہت ہی مناسب لگتی ہے۔