ماہ نامہ ‘‘برہان’’ دہلی کے اداریے)
جلد اوّل و جلد دوم
جولائی ۱۹۳۸ میں ‘‘برہان’’ کا اوّلیں شمارہ مولانا سعید احمد اکبرآبادی کی ادارت میں منصہ شہود پر آیا۔ دارالعلوم دیوبند کے بانیوں، سرپرستوں اور اس کی ابتدائی فارغ التحصیل دو نسلوں میں لکھنے پڑھنے والوں کی کمی نہ تھی۔ یہ لوگ علومِ دینیہ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ عربی و فارسی کے کلاسیکی ادب سے واقف تھے، ‘‘الرشید’’ اور ‘‘القاسم’’ کی ترتیب و اشاعت سے اردو جرائد کی دنیا میں داخل ہو چکے تھے، مگر اِس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ اُن کی صفوں میں اُردو زبان و بیان پر ویسی مہارت رکھنے والے خال خال ہی تھے، جس کے نمایندے علی گڑھ تحریک کی صفوں میں شامل تھے، یا علّامہ شبلی نعمانی کے زیراثر ندوۃ العلماء – لکھنؤ میں پرورش پانے لگے تھے۔
ندوۃ المصنفین جیسے علمی و تحقیقی ادارے کے ترجمان کی ادارت کے لیے، حلقۂ دیوبند سے مولانا سعید احمد اکبرآبادی سے بہتر انتخاب ممکن نہ تھا۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے، جدید تعلیم کے شائق تھے، اور انھوں نے دہلی یونیورسٹی کے سینٹ اسٹیفنز کالج سے ایم-اے کی سند حاصل کی تھی۔ مزید براں اُردو زبان و ادب کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ ہم نے اُن کے ابتدائی دور کی ادبی و تنقیدی تحریریں کہیں یک جا تو نہیں دیکھی ہیں، مگر جو اکادکا تحریریں گاہے ماہے نظر سے گزرتی رہی ہیں، انھوں نے باور کرا دیا کہ اگر وہ صرف اردو شعر و ادب کے ہو کر رہ جاتے، تو اُن کے ذکرِخیر کے بغیر اُردو ادب کی کوئی تاریخ مکمل نہ کہلاتی۔
مولانا اکبرآبادی نے ‘‘برہان’’ کے پہلے شمارے سے بیماری کی حالت میں کراچی منتقل ہونے (فروری ۱۹۸۵) تک، ایک مختصر سے وقفے کے استثناء کے ساتھ ادارتی ذمہ داریاں ادا کیں۔ مذکورہ وقفہ فروری ۱۹۴۳ سے دسمبر ۱۹۴۵ تک، دو سال گیارہ ماہ پر محیط رہا تھا۔(۲۳)
مولانا ا کبرآبادی اپنے طویل زمانۂ ادارت کے ایک بڑے حصے میں دہلی سے باہر رہے۔ اُن کا دفترِ ‘‘برہان’’ سے رابطہ زیادہ تر ڈاک کے ذریعے رہتا تھا۔ حصولِ آزادی کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد فروری ۱۹۴۹ میں انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد (وزیرِتعلیم ہندوستان) کی خواہش پر مدرسہ عالیہ – کلکتہ کی پرنسپل شپ قبول کر لی تھی۔ ۱۹۵۹ میں کلکتے کی یہ مصروفیت ابھی چل رہی تھی کہ انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کارپردازوں نے شعبۂ دینیات کے پروفیسر اور سربراہ کے طور پر علی گڑھ منتقل ہو جانے کی دعوت دی، جسے قبول کرتے ہوئے وہ علی گڑھ چلے گئے، اور اُن کا یہ تعلق ۱۹۷۲ تک قائم رہا۔ اسی دوران میں انسٹی ٹیوٹ آ ف اسلامک سٹڈیز (مک گِل یونیورسٹی – مانٹریال) کے پروفیسر ولفریڈ کینٹ ویل سمتھ (م۲۰۰۰) کی دعوت پر ایک تعلیمی سال (ستمبر ۱۹۶۲-مئی ۱۹۶۳) کے لیے کینیڈا تشریف لے گئے۔ اسی طرح اُن کا ایک سال کا عرصہ (۷۹-۱۹۷۸) کالی کٹ یونیورسٹی – کیرالہ میں گزرا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور ادارہ علومِ اسلامیہ کے وزٹنگ پروفیسر کے طور پر کام کرتے رہے۔ ۲۵ ستمبر ۱۹۸۲ کو شیخ الہند اکیڈمی – دیوبند کے قائم ہونے پر اس کے سربراہ کے طور پر دیوبند چلے گئے، حتیٰ کہ بیماری کے دوران میں پاکستان آگئے۔
یہ مولانا اکبرآبادی کی منضبط زندگی کا فیضان تھا کہ وہ ‘‘برہان’’ کے ‘نظرات’ اور دوسری تحریریں بروقت دفتر بھجوا دیتے تھے، اور دفتر کا عملہ مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی نگرانی میں باقی امور انجام دیتا اور ماہ نامہ ‘‘برہان’’ ہر ماہ چھپ کر باقاعدگی سے قارئین تک پہنچ جاتا تھا۔ اُن اکا دکا مواقع کو نظرانداز کرتے ہوئے، جب پالیسی امور پر مفتی صاحب کو ‘نظرات’ میں اظہارِ خیال کرنا پڑا، پورے عرصۂ ادارت میں صرف پانچ بار (ستمبر ۱۹۴۰، جون ۱۹۴۹، اگست ۱۹۵۲ اور اکتوبر ۱۹۶۲) مولانا اکبر آبادی ‘نظرات’ نہ لکھ سکے اور مفتی صاحب کو ان کی جگہ قلم اٹھانا پڑا۔ اِن میں سے آخری بار کے ‘نظرات’ کا ایک حصہ مولانا اکبرآبادی کے نجی مکتوب پر مشتمل تھا جو انھوں نے کینیڈا پہنچنے پر مفتی صاحب کو اطلاعاً لکھا تھا۔ پانچواں موقع وہ تھا جب جون ۱۹۴۸ کے ‘نظرات’ کسی سبب ڈاکٹر عبادت بریلوی (م۱۹۹۸) کے قلم سے چھپے تھے۔
کینیڈا کے عرصۂ قیام میں نئی جگہ اور نئی طرز کی مصروفیات کے سبب وہ مزید تین ماہ (فروری، مارچ اور اپریل ۱۹۶۳) کے ‘نظرات’ بھی نہ بھیج سکے تو مفتی صاحب نے مولانا اکبرآبادی کے مکتوباتِ کینیڈا سے کام چلا لیا (۲۴)۔ واضح رہے کہ مفتی صاحب کی صحت اُن دنوں ایسی نہ تھی کہ خود قلم اٹھاتے۔(۲۵)
مولانا اکبر آبادی کے بعد ماہ نامہ ‘‘برہان’’ کی ادارت مفتی عتیق الرحمن عثمانی کے داماد محمد اظہر صدیقی نے سنبھالی، مگر انھوں نے مارچ، اپریل اور مئی ۱۹۸۵ کے تین شمارے ہی مرتب کیے تھے کہ ذمہ داری جمیل مہدی کے کندھوں پر آگئی۔ جمیل مہدی کا ۱۳ فروری ۱۹۸۸ کو انتقال ہو گیا، اور اُن کا دورِ ادارت جون ۱۹۸۵ سے جنوری ۱۹۸۸ تک رہا۔ آخر ‘‘برہان’’ کی ادارت کی ذمہ داری مفتی عتیق الرحمن عثمانی کے صاحبزادے اور ادارے کے منتظم عمیدالرحمن عثمانی کو خود اٹھانا پڑی، اُن کی ادارت میں مارچ – اپریل ۲۰۰۱ کے مشترک شمارے پر ‘‘برہان’’ کا سلسلۂ طباعت و اشاعت ہمیشہ کے لیے رُک گیا۔
ماہ نامہ ‘‘برہان’’، اگرچہ ایک ادارے کا ترجمان تھا، مگر مولانا اکبرآبادی کے طویل عرصۂ ادارت کے سبب اس کی پہچان اُن کی ذات کے حوالے سے ہونے لگی تھی، اُن کی رحلت کے بعد تقریباً سولہ برس ‘‘برہان’’ مزید چھپتا رہا، مگر اس عرصے میں ذمہ دارانِ ادارہ اور مدیرانِ ‘‘برہان’’ نے محض خلا کو پُر کیے رکھا، حقیقتاً پہلے جیسی بات نہ رہی تھی۔
جناب محمد سہیل شفیق (استاد شعبۂ تاریخ، یونیورسٹی آف کراچی) مطالعۂ اسلام سے دلچسپی رکھنے والوں کے شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ‘‘برہان’’ کے ‘نظرات’ دو جلدوں میں نہ صرف تاریخی ترتیب سے یک جا کر دیے ہیں، بلکہ ‘نظرات’ کا بغور مطالعہ کرکے اِن کے عنوانات بھی تجویز کیے ہیں۔انھوں نے دونوں جلدوں کے موضوعی اشاریے بھی مرتب کر دیے ہیں۔ اُن کی یہ کاوش بحیثیتِ مجموعی دیوبندی مکتبِ فکر، اور بالخصوص اس کے نیشنلسٹ طبقے کے فکرودانش کے ایک اہم مآخذ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ‘‘نظراتِ برہان’’ پر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی -اسلام آباد کے پروفیسر مجیب احمد نے مقدمہ لکھا ہے، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ابوسفیان اصلاحی نے ‘نظراتِ برہان: موسوعۂ مباحث’ کے عنوان سے تعارفی تحریر لکھی ہے۔
-03
مولانا سعید احمد اکبرآبادی کی ساری دینی تعلیم و تربیّت دیوبندی بزرگوں کی نگرانی اور مجالس میں ہوئی تھی، مگر اُن کی ذاتی زندگی میں ندوۃ العلماء کی اقدار بڑی نمایاں تھیں، مجلسی ادب آداب، مزاج کی نفاست، فکری علو، فقہی معاملات میں توسّع اور فروعاتِ دینیہ میں تو غل کی جگہ مبادیات پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔ یہ اوصاف اہلِ ندوہ، اور بالخصوص علّامہ شبلی نعمانی کی تحریروں کے عمیق مطالعے کا نتیجہ تھا۔ ۱۹۴۰ کے لگ بھگ انھوں نے اپنی علمی و مطالعاتی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا:
میرا [جو] سنجیدہ ذوقِ علمی تعمیر ہوا، اُس میں مولانا شبلی مرحوم اور مولانا سیّدسلیمان ندوی کی بعض کتابوں کو بھی بڑی حد تک دخل ہے۔ — مولانا شبلی کی کتابوں میں سے سے پہلے غالباً میں نے ‘‘المامون’’ [اور] ‘‘الغزالی’’ پڑھیں۔ مولانا کے اندازِ نگارش، طرزِتحقیق اور طریقۂ بحث نے دل پر عجیب اثر کیا۔ اور میں مولانا کی تحریروں کا ایسا گرویدہ ہو گیا کہ میں نے آپ کی سب کتابیں خرید کیں اور پڑھیں۔ ‘‘الفاروق’’ اور ‘‘سیرۃ النبیؐ’’ جلد اوّل کئی بار پڑھیں اور ان دونوں کے مقدمے تو خدا جانے کتنی مرتبہ پڑھے ہیں، ٹھیک یاد بھی نہیں، اِسی تقریب سے ‘‘ارض القرآن’’ کی دونوں جلدیں اور ‘‘سیرتِ عائشہ’’ و ‘‘امام مالک’’ مطالعہ کیں اور دل پر مولانا سیّد سلیمان ندوی کی کاوش و محنت، جمع و ترتیبِ واقعات کا حسنِ سلیقہ اور اُن کے شبلوی اندازِ تحریر نے بھی دل پر گہرا اثر کیا۔(۲۶)
سیّد صاحب کی رحلت پر مولانا اکبرآبادی نے تعزیتی شذرے میں ایک بار پھر اُن کی بعض کتابوں کا ایک ایک کرکے ذکر کیا۔ انھوں نے علامہ شبلی کی ابتدائی دو جلدوں کی ترتیب و تدوین کے بعد ‘‘سیرۃ النبی’’ کی جو جلدیں لکھیں، اُن کا ذکر کیا، مزید لکھا: ‘‘قرآن مجید کے تاریخی و جغرافیائی مباحث پر اُن کی کتاب ‘ارض القرآن’ اس موضوع پر اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ ‘عرب و ہند کے تعلقات’، ‘عربوں کی جہاز رانی’ اور ‘عمرخیام’ پر انھوں نے جو داد تحقیق دی ہے، وہ اُن کے قباے علم و فضل کا تکمۂ زریں ہے۔ مستقل بلندپایہ تصنیفات کے علاوہ مختلف تاریخی، مذہبی، ادبی اور لسانی و تنقیدی مباحث پر اُن کے قلم سے وقتاً فوقتاً جو مقالات یا چھوٹے چھوٹے رسالے نکلتے رہے ہیں، وہ اُن مباحث کے طلباء و علماء کے لیے شمع راہ کا کام عرصہ تک دیتے رہیں گے۔’’ (۲۷)
علّامہ شبلی نعمانی اور اہل ندوہ کے ادبی ذوق سے ہی مولانا اکبرآبادی کو قربت نہ تھی، بلکہ ایک اور پہلو سے بھی وہ علّامہ شبلی کے بہت قریب تھے۔ یہ پہلو اُن کا تصوّف کے بارے میں رویّہ تھا۔ مولانا کے والد گرامی ایک صوفی بزرگ قاضی عبدالغنی منگلوری سے باقاعدہ بیعت تھے، نیز ‘‘اکابر دیوبند کے ساتھ [ان کی] حد درجہ عقیدت و ارادت تھی۔ نہ صرف نماز باجماعت کے، بلکہ اوراد و وظائف کے پابند تھے’’ (۲۸)۔ اسی طرح اکابر دیوبند کی صوفیانہ دلچسپیاں معروف ہیں، مگر مولانا اکبرآبادی نے تصوّف کا راستہ اختیار نہ کیا، البتہ انھوں نے ایک علمی موضوع کے طور پر اس کا خوب مطالعہ کر رکھا تھا، اور اس کی تاریخ اور رجالِ کار کے بارے میں گفتگو بھی کرتے تھے (۲۹)۔ مروّجہ تصوّف کے ساتھ اُن کا کوئی عملی تعلق واسطہ نہ تھا۔ سیّد سلیمان ندوی کے تعزیتی شذرے میں یہ لکھے بغیر نہ رہ سکے:
اُدھر کم و بیش پندرہ سال سے جب وہ حضرت مولانا [اشرف علی] تھانوی [م۱۹۴۳] کے دامانِ ارشاد و ہدایت سے وابستہ ہوئے تھے۔ تصنیف و تالیف کے بجاے تصفیۂ نفس اور تزکیۂ باطن کی طرف [اُن کی] توجہ زیادہ ہو گئی تھی اور اس میں اس درجہ غلو ہو گیا تھا کہ اعمال و وظائفِ باطنی کے علاوہ وہ خود اپنے عمربھر کے کارناموں کو غیروقیع سمجھنے لگے تھے۔(۳۰)
اِسی طرح ندوۃ العلماء کے ایک دوسرے فاضل مولانا عبدالباری ندوی (م۱۹۷۶) کی یاد میں اولاً اُن کی فلسفیانہ خدمات کا تذکرہ کیا کہ انھوں نے برکلے، برگساں اور ڈیوڈ ہیوم پر قلم اٹھایا تھا، اور اُن کی بعض کتابوں کو اردو میں منتقل کیا تھا، نیز ‘‘سیرۃ النبی’’ کی تیسری جلد (مرتبہ سیّد سلیمان ندوی) کے لیے معجزات پر ایک باب لکھا تھا۔ ایک مدت کے بعد بالفاظ مولانا اکبر آبادی: ‘‘جب مولانا تھانوی سے بیعت ہوئے تو فلسفہ کا ردِعمل اس شکل میں ہوا کہ مذہب کا رہبانی تصوّر غالب آگیا۔ غرض کہ وہ زمانہ میں ع ‘اے روشنی طبع تو برمن بلاشدی’ کا مصداق رہے۔’’ (۳۱)
۱۹۸۰ کے عشرے میں ایک کتاب ‘‘سیرت النبی بعد از وصال النبی’’ سات جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ اِس میں متصوف مزاج مصنّف نے بڑی تلاش اور تفحص سے وہ خواب جمع کیے تھے جو مختلف افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد دیکھے تھے۔ مولانا نے اِس کوشش کو ناپسند کیا اور اپنے تبصرے کے آخر میں لکھا:
خواب اچھا ہو یا بُرا، احتیاط اور ورع و تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا چرچا نہ کیا جائے اور دیکھنے والا اِسے اپنی ذات تک محدود رکھے۔ علی الخصوص وہ خواب جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہو، اس کا اخفاء تو اور بھی ضروری ہے۔ کیوں کہ خواب میں ایسی کوئی بات ہوسکتی ہے جس کا اثر بالواسطہ یا بلاواسطہ شریعت کے کسی حکم پر پڑے اور ضعیف الایمان لوگوں کے لیے شریعت سے انحراف کا موجب بنے اور صرف یہ ایک اندیشہ اور وہم و گمان نہیں، بلکہ تصوف کے عنوان سے مسلمانوں میں جو گمراہیاں پیدا ہوئی ہیں، ہمارے نزدیک اس کے بنیادی سبب دو ہیں: ایک خوابوں کا کثرت سے نقل ہونا اور ان پر بھروسا کرنا، دوسرے صوفیہ کا اپنے احوال و مقامات کا بار بار اپنے مکتوبات اور ملفوظات میں چرچا کرنا جس سے احکام و آداب شرع کی بنیادیں متزلزل ہو گئی ہیں، پھر مصنّف نے کتاب کا نام رکھ دیا ہے: ‘‘سیرۃ النبی بعد از وصال النبی’’۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ نام بذاتِ خود نہایت ناموزوں اور نامناسب ہے، کیوں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ و طیبہ جس کے مطابق عمل عین ایمان ہے، صرف و ہ ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے۔(۳۲)
ماہ نامہ ‘‘برہان’’ کے اوّلیں اداریے (‘نظرات’) میں وقت کی تحدیات کا ذکر کرتے ہوئے ندوۃ المصنفین کے زاویۂ نظر اور اِس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ واضح کیا گیا تھا کہ:
آج ہندوستان کے مسلمان ملک کے اندرونی اور بیرونی، سیاسی اور غیرسیاسی اثرات کے ماتحت جس عظیم الشان دورِ انقلاب سے گزر رہے ہیں، اس نے ہر صاحبِ فہم و بصیرت کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر اس وقت مسلمانوں نے اپنی انفرادیت کو اور قومی حیثیت کو برقرار نہیں رکھا تو سیلِ انقلاب کی فلک بوس موجیں ان کے وجود کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں گی اور اُن کے کارناموں کا نقش لوحِ جہاں سے حرفِ مکرّر کی مانند مٹ جائے گا۔(۳۳)
اس تمہید کی وضاحت میں لکھا گیا کہ ‘‘مسلمانوں کی قومیت اُن کے مذہب سے وابستہ ہے’’۔ ‘‘مسلمانوں کے دلوں میں ایمان و عقیدت کا جوش اور اُن کے اعمال و افعال میں خلوص و للہیت کی گرمی’’ اُن کی قومیت کی اصل روح و رواں ہے۔ آج مغربی علوم و فنون کی ترقی اور فرنگی تہذیب و تمدن نے نوجوانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں جو مسلمانوں کی پختگی ِ ایمان و یقین کے لیے خطرہ ہیں۔
پیش کردہ خطرے کے تدارک کے لیے مسلمان راہ نماوں نے ماضئ قریب میں جو کچھ کیا ہے، اسے طوفان میں گھری ہوئی ایک کشتی اور اس کے ناخداوں کی تمثیل کے ذریعے واضح کیا گیا۔ ‘‘ناخداؤں’’ کی تین قسمیں بتائی گئیں۔ ایک وہ ناخدا ہیں جو پرانی وضع کے حامل ہیں، اُنھیں درپیش سفر کی مشکلات کا نہ اندازہ ہے اور نہ انھوں نے سفر کی کوئی تیاری کی ہے۔ دوسری قسم کے وہ ناخدا ہیں جنھیں سفر کی مشکلات کا کچھ اندازہ ہے، اور انھوں نے کشتی کے مستول اور بادبانوں میں کچھ تبدیلیاں بھی کر لی ہیں، مگر اِن ناخداؤں کو ‘‘بحیرۂ روم کے سفر کا تجربہ ہو تو ہو، بحیرۂ عرب کے بحران و تلاطم سے یہ بیگانۂ محض ہیں’’(۳۴)۔ تیسری قسم کے ناخداؤں میں وہ لوگ ہیں جنھوں نے کشتی کی شکل و ہیئت میں اتنی تبدیلیاں کرد ی ہیں کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہی پرانی کشتی ہے۔
ناخداؤں کی اِس صورتِ حال میں نتیجہ یہ نکالا گیا کہ: ‘‘ان حالات میں کیا پرانی کشتی کے ناخداؤں اور پاسبانوں کا فرض نہیں ہے کہ وہ اٹھیں اور ہر ممکن سے ممکن کوشش کے ذریعہ اس متاع قدیم و گراں مایہ کے تحفّظ و بقا کا انتظام کریں۔’’(۳۵)
الکنایۃابلغ من التصریح کا سہارا لیتے ہوئے اداریہ نگار مولانا اکبرآبادی نے علماء کرام اور اُن کی جمعیت کی قیادت پر کچھ تحفظ کے ساتھ اپنے اعتماد کا اظہار کیا، اور تجدید و احیاء اسلام کے دعوے داروں کی نظریاتی اساس کو راسخ العقیدگی کے خلاف قرار دے دیا، نیز جدید تعلیم یافتہ قیادت کو کلیتہً مسترد کردیا تھا۔ -03 یہ وہ بنیادی تجزیہ تھا جو ‘‘برہان’’ کی تحریروں میں کم از کم تقسیمِ ہندوستان تک روح و رواں کی حیثیت رکھتا تھا۔
مذکورہ تجزیے کے بعد ندوۃ المصنفین کے اغراض و مقاصد(۳۶) کی روشنی میں حسبِ ذیل ‘‘چار اہم کام’’ ترجیحاً پیش نظر رکھے گئے۔(۳۷)
۱- انگریزی اور اُردو میں قرآن مجید کی ایسی تفسیر کی تالیف و اشاعت جو مغربی علوم و فنون کی سحرکاریوں میں مبتلا افراد کے لیے مفید ہو۔
۲- فقۂ اسلامی کی ترتیب و تدوینِ جدید -03 جدید تمدن نے جو نئے نئے مسائل پیدا کردیے ہیں، قرآن و سنت اور اجماع و قیاس کی روشنی میں اُن کی تصریح و تشریح ہو جائے۔
۳- اسلامی تاریخ اور اس کی روایات کے بارے میں غیرمسلم اہلِ قلم جو پروپیگنڈا کرتے ہیں، اُن کی مؤثر تردید کی جائے۔
۴- مسلمان بچوں اور بچیوں کے لیے نصابِ تعلیم کی تیاری جو اُن کی صحیح دماغی نشوونما کا کفیل ہو اور معاشی پہلو سے اُن کی کامیابی کا ضامن ہو۔
ندوۃ المصنفین اپنی ۶۳ سالہ زندگی (۱۹۳۸-۲۰۰۱) میں طے کردہ اغراض و مقاصد کے حصول میں کس قدر کامیاب ہوا؟ نیز ایک دینی تحقیقاتی ادارے کے طور پر مسلم فکرودانش کو کوئی خاص رُخ دینے میں اس کے رجحانات کتنے مؤثر رہے؟ اس کی پوری تصویر تو ماہ نامہ ‘‘برہان’’ کی مجلدات اور ادارے کی دو اڑھائی سو مطبوعات کے تجزیاتی مطالعے ہی سے سامنے آسکتی ہے، تاہم اِس کے ترجمان ماہ نامہ ‘‘برہان’’ کے اداریوں سے سرسری اندازہ ضرور ہو جاتا ہے۔
-03
ندوۃ المصنفین کے بانی و ناظم مفتی صاحب، رفیقِ اعلیٰ مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، مدیر ‘‘برہان’’ مولانا سعید احمد اکبرآبادی اور دوسرے رفقاے کار میں اکثریت دارالعلوم دیوبند کے فاضلین کی تھی اور کم و بیش سبھی افراد جمعیت علماے ہند (تأسیس: ۱۹۱۹) سے بالفعل وابستہ تھے یا اِس کے ہمدردوں میں شمار ہوتے تھے۔ جس عرصے میں ندوۃ المصنفین نے کام شروع کیا تھا، جمعیت علماے ہند دیوبندی بزرگوں کے اُس گروہ کے زیرِاثر تھی، جس کا واضح جھکاؤ انڈین نیشنل کانگرس کی طرف تھا، اور اہلِ سنت کے علماء بدایوں و بریلی اِس کے بالمقابل کھڑے تھے، البتہ اہلِ حدیث بزرگوں کی اچھی خاصی تعداد کی ہمدردیاں جمعیت علماء ہند کے ساتھ تھیں۔ اس لحاظ سے ندوۃ المصنفین اپنی فکرودانش اور سیاسی نصب العین کے حوالے سے ایک واضح موقف رکھتا تھا۔
پہلے شمارۂ ‘‘برہان’’ کے ‘نظرات’ میں علماء کرام کو مسلمانانِ برعظیم کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے کی جو دعوت دی گئی تھی، اصلاً یہ دعوتِ قیادت بحیثیتِ مجموعی علماے دیوبند اور بالخصوص جمعیت علماء ہند کے لیے تھی۔ دارالعلوم کی خدمات کے تناظر میں ایک موقع پر لکھا گیا :
دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ملک کے جس عہد پُرآشوب میں رکھی گئی، اُس پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا قطعاً بے مبالغہ ہے کہ آج ہندوستان میں مسلمانوں کے اندر جو کچھ مذہبیت پائی جاتی ہے اور اسلامی قومیت کا جو تصور اُن کے دل و دماغ میں موجود ہے، وہ ایک بڑی حد تک دارالعلوم دیوبند کی ہی عملی جدوجہد اور اُس کی ہی پُرخلوص جان فشانیوں کا نتیجہ ہے، ورنہ مغربی الحاد و زندقہ کے سیلابِ عظیم نے جس طرح ٹرکی و مصر کو اس کی روایتی مذہبیت سے کوسوں دور پھینک دیا ہے۔ اگر بانیان و خدمت گزارانِ دارالعلوم اپنے مجاہدانہ عزائم کے ہاتھوں سے مذہب کی حفاظت و بقا کا یہ بند نہ باندھتے تو خدا معلوم اس صنم کدۂ ہند میں ناموسِ ابراہیمی کے پاسبانوں کا حشر اب تک کیا سے کیا ہو گیا ہوتا! دُنیاے اسلام کا وہ کون سا گوشہ ہے جہاں ہندوستان کے اِس کوثرِ علم و فضل کی لہریں نہیں پہنچ رہی ہیں، اور وہ کون سا خطّہ ہے جہاں دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل علم و مذہب کی خدمات میں مشغول نہیں ہیں!(۳۸)
ایک دوسرے موقع پر باندازِ دگر لکھا گیا:
دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد دینی مرکزی درس گاہ ہے۔ خدمتِ ملت و مذہب کا وہ کون سا شعبہ ہے جس میں اس درس گاہ کے تعلیم یافتہ اصحاب کی خدمات نمایاں نہیں۔ درس و تدریس کے حلقہ میں اکثریت انہی کی ہے۔ تبلیغ کے میدان میں انہی کے قدم سب سے پیش پیش رہے۔ اصلاحِ رسوم و معاشرت کی کوششوں میں انہی کی مساعی سب سے زیادہ روشن اور کامیاب ثابت ہوئیں۔ اسلامی سیاست کی بساط پر انہی کی فرزانگی و دانش وری کے مہرے بازی جیتنے میں کام گار نکلے۔ راہِ حق کوشی و اعلاء کلمۃ اللہ کے خارزار میں انہی کے ایثار و فداکاری کے گھوڑے سب سے زیادہ ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ دوڑے۔(۳۹)
موقع و محل کے مطابق دارالعلوم دیوبند سے اپنے تعلق اور خدماتِ ندوۃ المصنفین کا ذکر اِن الفاظ میں کیا گیا:
صرف جدید لائن پر تصنیف و تالیف کا شعبہ ایک ایسا تھا جو اب تک دارالعلوم دیوبند کے حلقہ میں قائم نہیں تھا، تو خدا کا شکر ہے کہ اس نے ندوۃ المصنفین کے قیام کی صورت پیدا کر دی جو امیدافزا کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔
— ہماری یہ کامیابی بھی دراصل دیوبند کی ہی کامیابی ہے، کیوں کہ جو حضرات اس ادارہ کے اجزاء ترکیبی ہیں، وہ سب کے سب دارالعلوم کے پڑھے ہوئے، وہاں کے بزرگوں کا فیض اٹھائے ہوئے اور انہی کے دامانِ تربیّت میں نشوونما پائے ہوئے ہیں۔ بہرحال مقصد یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے حلقہ میں ٹھوس علمی تصنیفات کے ایک ادارہ کی جو کمی تھی، وہ بھی ان لوگوں کے ہاتھوں پوری ہو گئی۔(۴۰)
دارالعلوم دیوبند کا تذکرہ مختلف حوالوں سے کیا جاتا رہا، کبھی ماضی کی خوشگوار یادوں کے طور پر، اور کبھی کبھی مشکلات و مسائل کے حوالے سے۔ نومبر ۱۹۵۷ میں قارئینِ ‘‘برہان’’ کو اطلاع دی گئی تھی کہ ‘‘۱۹۵۸ کے آخر میں دارالعلوم کا ایک عظیم الشان جلسۂ دستاربندی ہونا قرار پا چکا ہے جس میں مدرسے کی صد سالہ دینی اور علمی خدمات کا جائزہ لیا جائے گا’’(۴۱)، مگر یہ جلسہ ۱۱۳ سالہ جشنِ دارالعلوم کے طور پر مارچ ۱۹۸۰ میں منعقد ہوا۔ اِس کے ساتھ ہی مہتمم دارالعلوم مولانا محمد طیّب قاسمی (م۱۹۸۳) کی انتظامی پالیسیوں سے اختلاف پیدا ہوا، اور بحران نے ایسی شکل اختیار کی کہ انھیں اپنے منصب سے الگ ہونا پڑا، اور ۱۹۸۲ میں ایک جدید ‘‘دارالعلوم وقف’’ کے نام سے نئے ادارے کی داغ بیل پڑی۔ حلقۂ دیوبند میں یہ قضیۂ نامرضیہ اِس قدر شدید ثابت ہوا کہ بزرگانِ دیوبند میں یک جائی قائم نہ رہ سکی اور اِس کا اثر ندوۃ المصنفین تک بھی پہنچ گیا تھا۔ مفتی عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا سعید احمد اکبرآبادی ایک دوسرے کے مخالف کیمپ کے ہمدرد تھے۔
‘‘علماء’’ کی قیادت تو رفقاء ندوۃ المصنفین کے نزدیک مسلمانانِ برعظیم کے لیے ناگزیر تھی جو جمعیت علماء ہند کی صورت میں متحرک تھی، رفقاء ادارہ، اور بالخصوص مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی ‘جمعیت’ میں منصبی حیثیت کا تقاضا تھا کہ حسبِ موقع ‘جمعیت’ کا تذکرہ ‘نظرات’ کی زینت بنتا رہے، اگرچہ ‘‘برہان’’ اوّل و آخر ایک تحقیقی مجلہ تھا، حصولِ آزادی کے بعد جمعیت علماء ہند کی کونسل نے مارچ ۱۹۴۸ میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ جمعیت ملکی سیاست میں براہ راست کوئی حصہ نہ لے گی، اور اُس کی ساری سرگرمیاں مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور تمدّنی زندگی کی اصلاح و پیش رفت کے لیے وقف ہوں گی اور اُن کے حقوق و مفادات کا تحفّظ کرے گی۔
جمعیت علماے ہند سے وابستہ علماء دیوبند کی عمومی قدرومنزلت کے ساتھ مولانا اکبر آبادی کے ہاں معاصر اہلِ فکر میں علّامہ محمد اقبال (۱۸۷۷-۱۹۳۸) اور مولانا عبیداللہ سندھی (۱۸۷۲-۱۹۴۴) کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ ‘‘برہان’’ کے ‘نظرات’ کے علاوہ اس کے دوسرے مندرجات میں دونوں حضرات کا خصوصیت سے ذکر ہوتا رہا ہے۔
علّامہ محمداقبال سے اُن کا تعلق اس دور میں استوار ہوا تھا، جب وہ دارالعلوم دیوبند سے سندِ فضیلت حاصل کرنے کے بعد ۱۹۲۷ میں اورینٹل کالج (پنجاب یونیورسٹی- لاہور) کے طالب علم تھے۔ اُن کے استاذِ گرامی مولانا محمد انور شاہ کے ساتھ علّامہ کے بڑے نیازمندانہ مراسم تھے(۴۲) اور دونوں حضرات کے درمیان بعض علمی اور دینیاتی مسائل پر تبادلۂ خیال ہوتا تھا (۴۳)۔ مولانا اکبرآبادی نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک موقع پر لکھا ہے:
چوں کہ اس ناچیز کو حضرت شاہ صاحب سے تلمّذ اور ایک گونہ اختصاص و قرب کی نسبت تھی، اس لیے علّامہ مرحوم ہمیشہ بڑی شفقت سے پیش آتے اور عموماً علمی اور اسلامی مسائل پر بے تکلفی سے گفتگو فرماتے تھے۔ اُسی زمانے میں انھوں نے خاکسار سے امام رازی کی مشہور کتاب ‘‘المباحث المشرقیہ’’ کے دو باب جو زمان و مکان کی بحث سے متعلق ہیں، ان کا ترجمہ کرایا، اور ترجمہ سے خوش ہو کر اپنی دو کتابیں اپنے آٹو گراف کے ساتھ بطور انعام عطا فرمائیں۔ (۴۴)
علّامہ محمد اقبال اُن دنوں اپنے خطبات (Reconstruction—) کے سلسلے میں غوروفکر کر رہے تھے، اور اپنے فلسفیانہ تخصص کے ساتھ ساتھ قانون اور سماجیات کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات پر تبادلۂ خیال کرتے تھے۔ اُن کا ذہن بن گیا تھا کہ ناقدانہ انداز میں ‘‘زمانۂ حال کے جورس پروڈنس [Jurisprudence] کی روشنی میں اسلامی معاملات کا مطالعہ کیا جائے۔’’ (۴۵) اور
جو شخص زمانۂ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا، وہی اسلام کا مجدّد ہو گا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم بھی وہی شخص ہو گا۔ قریباً تمام ممالک میں اِس وقت مسلمان یا تو اپنی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں یا قوانین اسلامیہ پر غوروفکر کر رہے ہیں۔ — غرض یہ وقت عملی کام کا ہے، کیوں کہ میری ناقص راے میں مذہب اسلام اس وقت گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جارہا ہے اور شاید تاریخ اسلام میں ایسا وقت اس سے پہلے کبھی نہیں آیا۔ (۴۶)
علّامہ نے اپنے ‘‘خطبات’’ جن کا حوالہ دیا جاچکا ہے، کا چھٹا خطبہ The Principle of Movement in the Structure of Islam (اسلام کی ساخت میں اصولِ حرکت) اسلامی قانون کے مطالعے سے متعلق ہے۔ اِسی طرح اُن کے کاغذات میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے حوالے سے ایک کتاب کے ابتدائی نوعیت کے نوٹس ملے ہیں جس کی تالیف غالباً اُن کے پیشِ نظر تھی، مگر وہ کام آگے نہ بڑھا سکے۔
مولانا اکبر آبادی کی روایت کے مطابق: ‘‘ندوۃ المصنفین جن اغراض و مقاصد کے ماتحت قائم ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو ان سے خاص دلچسپی تھی۔ — اس بناء پر ندوۃ المصنفین کے ابتداء قیام سے ہی ہمارا ارادہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو اپنے ادارہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں شامل کریں اور ہمیں قوی توقع تھی کہ آں مرحوم اِس خواہش کو مسترد نہ کرتے۔ صدحیف کہ ابھی ہم ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کرنے کے لیے لاہور کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ اچانک اُن کی وفات کی اطلاع آگئی اور ہمارا یہ منصوبہ دل کا دل ہی میں رہ گیا۔’’ (۴۷)
ندوۃ المصنفین نے ابتداء میں اپنے پیشِ نظر جو ‘‘چار اہم کام’’ رکھے تھے، ان میں سے ایک اقبال کے خواب فقہ اسلامی کی جدید ترتیب و تدوین -03 کا کارِمہم تھا۔ یہ امر خاصا خوش آیند تھا کہ علّامہ کی رحلت سے کچھ پہلے جمعیت علماء ہند کے سربراہ مولانا حسین احمد مدنی کی ایک تقریر (دہلی: مارچ ۱۹۳۸) کے الفاظ ‘‘قومیں اوطان سے بنتی ہیں’’ پر علّامہ محمد اقبال کے شدید منظوم ردِعمل (جو بعدازاں ‘‘ارمغانِ حجاز’’ کا حصہ بنا دیا گیا) اور طویل نثری مضمون سے دونوں طرف جو تلخیاں پیدا ہو گئی تھیں، فریقین کے بعض مشترک عقیدت مندوں کے توسط سے بہت حد تک صاف ہو گئی تھیں۔ کہا گیا کہ مولانا مدنی نے جو کچھ کہا تھا وہ اصولی اور نظریاتی طور پر نہیں کہا تھا، بلکہ دورِ حاضر کی ایک حقیقتِ واقعہ بیان کی تھی۔ علّامہ نے اِس صورت میں کھُلے دل سے اعتراف کیا کہ اگر یہ کیفیت ہے تو اُن کے دل میں مولانا مدنی کے لیے وہی جذباتِ خیرسگالی ہیں جو اُن کے کسی عقیدت مند کے ہوسکتے ہیں۔ (۴۸)
مولانا اکبر آبادی نے پوری دل جمعی سے اپنی اقبال دوستی کا اظہار جاری رکھا۔ ‘‘برہان’’ کے دوسرے شمارے (بابت اگست ۱۹۳۸) کے نظرات میں ‘‘ادارہ معارفِ اسلامیہ – لاہور’’ کے تیسرے اجلاس کے دہلی میں متوقع انعقاد کا خیرمقدم کیا۔ یہ ادارہ چھے سال پہلے علامہ محمد اقبال نے اپنے رفقاء کے تعاون سے لاہور میں قائم کیا تھا، اور اس نے دو سال میں ایک مرتبہ برعظیم کے اصحابِ تحقیق کو ایک جگہ جمع کرکے اُن کے لیے علوم و معارف اسلامیہ پر محققانہ مقالات پیش کرنے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس کے دو اجلاس لاہور میں منعقد ہو چکے تھے، اور تیسرا اجلاس شمس العلماء مولانا عبدالرحمن (م۱۹۵۶، صدر شعبہ عربی و فارسی، دہلی یونیورسٹی) کے زیراہتمام منعقد ہونے جارہا تھا۔ آخر ادارے کا موعودہ تیسرا اجلاس منعقد ہوا (۲۶-۲۸ دسمبر ۱۹۳۸) تو صدرِ اجلاس سرشاہ محمد سلیمان (م۱۹۴۱) کے مختصر اور جامع خطبے کا بڑا حصہ ‘نظرات’ میں نقل کیا گیا اور اس کی تعریف کی گئی، اِس کے برعکس جو مقالات پیش کیے گئے تھے، انھیں ‘‘ادارہ معارفِ اسلامیہ’’ کے بجائے کسی اورینٹل سوسائٹی کی تخلیقات سے تشبیہ دی گئی۔ (۴۹) مزید براں مولانا اکبر آبادی نے جامعہ ملّیہ اسلامیہ-دہلی کے مجلے ‘‘جوہر’’ کے اقبال نمبر (بابت ۱۹۳۸) کے لیے ایک مضمون ‘‘اقبال کا جذبۂ مذہبیت’’ لکھا تھا۔
مولانا مدنی کی جانب منسوب جملے ‘‘قومیں اوطان سے بنتی ہیں’’ کا حقیقی مصداق ایک بار پھر اس وقت زیرِبحث آگیا، جب انھوں نے اپنے خیالات ‘‘متحدہ قومیت اور اسلام’’ کے زیرعنوان شرح و بسط کے ساتھ شائع کر دیے (۱۹۳۹)۔ اقبال دوستوں اور جمعیت علماء ہند کے ناقدین نے علّامہ محمداقبال کے منظوم ردِعمل کو درست اور بروقت قرار دیا، حتیٰ کہ کتابچے پر شمس العلماء مولانا عبدالرحمن نے ایک ناقدانہ تحریر لکھی جو مولانا اکبر آبادی نے ‘‘برہان’’ میں شائع کر دی(۵۰)۔ یہ ندوۃ المصنفین کے رفقاء کے لیے بہ حیثیت مجموعی قابلِ قبول نہ تھی، چنانچہ مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی نے اِس کا جواب لکھا، اور سلسلہ دراز سے درازتر ہوتا چلا گیا، حتیٰ کہ مولانا محمد حفظ الرحمن کو جب حکومت ہند نے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے تحت ایک تقریر کے الزام میں گرفتار کرلیا (۲۱-۲۲ اگست ۱۹۴۰) تو مفتی عتیق الرحمن عثمانی کو سال بھر بعد ‘‘برہان’’ کے ‘‘نظرات’’ لکھنا پڑے(۵۱)۔ انھوں نے بحث و مباحثہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ‘‘متحدہ قومیت’’ کی اصطلاح کو مغالطہ آمیز قرار دیا، ‘‘خصوصاً اس وقت جب کہ اِس کا اعلان اُن لوگوں کی طرف سے ہو جو مذہب و ملّت کی تفریق کو بالکل ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوں، اور وطنی اشتراک پر ہی تمام تحریکوں کی بنیاد رکھتے ہوں’’(۵۲)، تاہم انھوں نے مولانا مدنی کے زیرِبحث کتابچے سے اُن کا نقطۂ نظر واضح کرنے کے بجائے اُن کے خطبۂ صدارت (اجلاس جمعیت علماء ہند، جو نپور) سے ایک طویل اقتباس نقل کرکے بتانے کی کوشش کی کہ مولانا مدنی کے نزدیک ‘متحدہ قومیت’ سے مراد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک خطۂ زمین پر آباد دو مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مشترک مقاصد اور باہمی مفاد کی خاطر اشتراکِ عمل ہے۔
جب مولانا مدنی کا تصورِ متحدہ قومیت ‘‘برہان’’ میں بحث و مباحثہ کا موضوع بنا ہوا تھا، مولانا اکبرآبادی نے اپنے محترم شمس العلماء مولانا عبدالرحمن کے زاویۂ نظر پر براہ راست تو کچھ نہ لکھا، البتہ انھوں نے سیّد مودودی کے رسالے ‘‘مسئلۂ قومیت’’ پر اپنے تبصرے میں مصنف کو سخت سُست ضرور کہا(۵۳)، جو ‘‘برہان’’ کے پہلے ‘نظرات’ سے ایک ناپسندیدہ گروہ کے فرد چلے آرہے تھے۔
مولانا اکبر آبادی کی ادارت میں اقبال شناسی کے حوالے سے ‘‘برہان’’ میں مقالات شائع ہوتے رہے، جن میں علّامہ کے فکروفن کی تجلیل ہوتی تھی، اور معاندانہ نقد و تبصرہ بھی، تاہم خود مولانا نے اکادکا مضامین اور ‘‘اقبالیاتی’’ کتابوں کے تعارف و تبصرہ کے علاوہ کچھ نہ لکھا۔ ۱۹۷۳ میں علّامہ کے صد سالہ یوم ولادت کی نسبت سے تقریبات کا اہتمام شروع ہوا(۵۴)۔ مولانا اکبرآبادی نے ‘‘فکرِ اقبال’’ کے موضوع پر حیدرآباد دکن کے ایک سیمینار میں شرکت کی، اور ‘علّامہ اقبال کا نظریۂ اجتہاد’ کے زیرعنوان مقالہ پڑھا جس کی پذیرائی کا انھوں نے ‘نظرات’ میں بطور خاص ذکر کیا اور اِسے ‘‘برہان’’ کا حصہ بنایا (۵۵)۔ مولانا کا یہ مقالہ ‘‘ری کنسٹرکشن’’ کے چھٹے خطبے کی تفہیم و تشریح پر مبنی تھا۔ علّامہ کے خطبات کو جدید تعلیم یافتہ طبقے میں تو پذیرائی حاصل ہوئی تھی،مگر معاصر علماے دین نے انھیں کوئی اہمیت نہ دی تھی۔ پروفیسر آل احمد سرور (م۲۰۰۲) نے اس واقعیت کا اظہار دو معروف اہل قلم علماء، جو علّامہ اقبال کے اُس پیغام کے بڑے داعی تھے جو اُن کے شعری سرماے سے سامنے آیا ہے، مگر انھوں نے متعدد دوسرے علماء دین کی طرح ‘‘خطبات’’ کو نظرانداز کیے رکھا۔ پروفیسر سرور کے الفاظ میں: ‘‘ہمارے علماء کرام میں سیّد سلیمان ندوی جیسے اشخاص بھی ہیں جنھوں نے اقبال کے فکروفن پر بہت لکھا ہے(۵۶)، مگر اُن کی مذہبی فکر کو لائقِ اعتنا نہیں سمجھا، مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اقبال کی شاعری پر ایک بصیرت افروز کتاب(۵۷) لکھی، لیکن انھوں نے بھی [علّامہ] کی مذہبی فکر کے سلسلے میں خاموشی اختیار کی۔’’(۵۸)
مولانا اکبرآبادی اُن گِنے چُنے مستثنیٰ علماء کرام میں شامل ہیں جنھوں نے نہ صرف علّامہ محمد اقبال کی تجویز ‘‘قانون اسلامی کی تدوینِ جدید’’ کو اہمیت دی۔ ندوۃ المصنفین- دہلی جیسے مذہبی اور دیوبندی مکتب فکر کے ترجمان، علمی ادارے کے پیش نظر کارہاے مہم میں شامل کرایا۔ ندوۃ المصنفین اِس سمت میں کوئی بڑا کام کیوں نہ کرسکا، اس سے قطع نظر علّامہ محمد اقبال کا مذکورہ خواب کبھی اُن کے ذہن سے محو نہ ہوسکا۔ انھوں نے ‘علامہ اقبال کا نظریۂ اجتہاد’ میں علامہ مرحوم کے مبلغِ مطالعہ کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی حدود متعین کرتے ہوئے لکھا تھا: ‘‘غالباً اُن کو اصولِ فقہ اور اصولِ حدیث کا بحیثیتِ فن کے مطالعہ کرنے کی فرصت بھی نہیں ملی، البتہ وہ اسلام کے ایک عظیم مفکر تھے۔ اِس بناء پر اجتہاد اور اس کے متعلقہ مسائل کی نسبت انھوں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ فنّی نہیں، بلکہ مفکرانہ ہے۔ اگرچہ اُن کے فکر کا کمال یہ ہے کہ اُن کے فکر کی قامتِ موزوں پر فن کا جامۂ زیبا بڑی حد تک راست آتا ہے۔’’ (۵۹)، چنانچہ مقالے میں مولانا اکبر آبادی نے اُن کے فکرودانش کا جائزہ اسی پس منظر میں لیا ہے۔ مقالے کے آخر میں انھوں نے لکھا:
حقیقت یہ ہے کہ [Reconstruction… کے چھٹے] خطبہ میں خصوصاً اور دوسرے خطبات میں عموماً علّامہ اقبال نے اسلامی قانون کا ایک ایسا دقیق اور غامض فلسفہ بیان کیا ہے کہ اگر وہ اجتہاد کے ذریعے متشکل اور مشخص ہو جاتا اور اس کی عملی تشکیل بھی ہو جاتی تو وہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا کر دیتا، لیکن صد حیف وہ جس نے خود اپنے متعلق کہا تھاع
ازتب و تابم نصیب خود بگیر بعد ازیں ناید چومن مردِ فقیر
وہ صرف ایک شاعر، ایک آرٹسٹ اور ایک فلسفی ہو کر رہ گیا اور جو تب و تاب اس کی ہستی بے قرار کا جوہر تھا، اس پر کسی کی نگاہ نہ گئی۔ آج جب کہ برصغیر پاک و ہند میں اقبال صدی تقریبات بڑے اہتمام اور شان و شوکت سے منائی جارہی ہیں، کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ اقبال کے فکر کے اس اہم پہلو پر بھی توجہ کی جائے، اور ایک ادارہ صرف اِس مقصد کے لیے قائم کیا جائے کہ پہلے اقبال کے فلسفۂ قانونِ اسلامی کا وسیع اور عمیق مطالعہ اُن کے پورے مجموعۂ نثر و نظم کی روشنی میں کرے، اور پھر اس کی بنیاد پر تدوین فقہ جدید کا کام کرے۔ یہ نہایت وسیع اور کٹھن ہے، لیکن ضروری ہے اور اقبال کے ساتھ عقیدت و ارادت کا حق سچ مچ اسی وقت ادا ہوسکتا ہے۔(۶۰)
علامہ محمد اقبال کے سالِ ولادت کی نسبت سے جن صد سالہ تقریبات کا آغاز ۱۹۷۳ میں ہوا تھا، وہ حکومتِ پاکستان کی طے کردہ ‘تاریخ ولادتِ اقبال’ کے نتیجے میں ۱۹۷۷ اور اِس کے بعد جاری رہیں۔ مولانا اکبرآبادی اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر بیاد اقبال تقریبات میں شرکت کرتے رہے اور اپنے خیالات سے اقبال دوستوں کو مستفید کرتے رہے۔ علّامہ محمد اقبال کے اجداد کی سرزمین کشمیر جنت نظیر کی کشمیر یونیورسٹی – سری نگر نے پہلی بار اکتوبر ۱۹۷۷ میں انھیں ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت دی تھی جس کا موضوع ‘اقبال اور تصوّف’ تھا، وہ تشریف لے گئے(۶۱)، دوسری بار کشمیر یونیورسٹی کے ‘‘اقبال انسٹی ٹیوٹ’’ نے انھیں ‘‘خطباتِ اقبال کا جائزہ: اسلامی نقطۂ نظر سے’’ کے زیرعنوان گفتگو کرنے کی دعوت دی۔ اس آخرالذکر دعوت کے حوالے سے گفتگو کرنے سے پہلے اقبال صدی کی تقریبات میں پاکستان اور ہندوستان کے اہلِ علم نے جو پڑھا لکھا اور شائع کیا، اِس بابت اُن کی راے پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ لکھتے ہیں:
یہ بات بغیر کسی توریہ اور تمہید کے کہی جاسکتی ہے کہ اقبال کے کلام کی روح اور دُنیا کے نام اِس کا پیغام بجز اسلام کے کچھ اور ہر گز نہیں ہے، لیکن اسلام کون سا؟ وہ اسلام نہیں جو ناقص اور بعض جگہ مسخ شدہ شکل و صورت میں مسلمانانِ عالم کی زندگی میں نظر آتا ہے، بلکہ درحقیقت وہ اسلام جس کی نسبت کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام فرمایا گیا، جو قرآن و سنت کی تعلیمات کا اصل جوہر اور مغز ہے اور جس کا مکمل عملی پیکر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس و اطہر ہے۔ قرآن میں جس کو اسوۂ حسنہ فرمایا گیا، اقبال نے اس اسلام کو عصرِ حاضر کے انسان [کے سامنے] ایک نئے علم الکلام کے روپ اور شعروفلسفہ کی زبان میں کمال خوداعتمادی، زورِ بیان و بلاغت اور ولولۂ جوش و تاثیر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس علم الکلام کا اصل تاروپود تو قرآن و سنت ہی ہے، لیکن چوں کہ مخاطب عصرِحاضر کا فلک پیما انسان ہے، اس لیے اقبال نے مشرق و مغرب کے حکماء اور اربابِ دانش کے افکار و آراء سے نقد و بصیرت کے ساتھ زیبِ داستان کا کام بھی لیا ہے۔ اقبال کے علم الکلام کا ایک متن ہے اور ایک اس کی شرح، متن انگریزی خطبات میں اور شرح پورا کلام منظوم! لوگوں کی پوری توجہ شاعری پر رہی ہے۔ خطبات کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی، حالانکہ خطبات میں علّامہ نے کتنے ہی اہم مسائل و مباحث چھیڑ دیے ہیں جن میں سے ایک ایک مسئلے پر نہایت محققانہ ایک دو نہیں، متعدد کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ (۶۲)
مولانا نے ‘‘خطباتِ اقبال’’ کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ اقبال صدی کی کاوشوں کے بارے میں راے دی ہے کہ ‘‘ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ جو مقالات پڑھے گئے، ان کے عنوانات سے محسوس ہوتا ہے کہ اکثر مقامات سطحیت کا شکار تھے۔’’ (۶۳)
اقبال انسٹی ٹیوٹ سری نگر میں مولانا اکبر آبادی نے نومبر ۱۹۸۲ میں ‘‘خطباتِ اقبال’’ پر چار لیکچر دیے جو انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر آل احمد سرور کے ‘پیش لفظ’ کے ساتھ ‘‘خطباتِ اقبال پر ایک نظر’’ کے زیرعنوان شائع ہوئے (لاہور: اقبال کادمی پاکستان، ۱۹۸۷)۔ اس مجموعۂ خطبات پر مولانا اکبر آبادی کی کوئی تمہیدی تحریر شامل نہیں، انھوں نے لیکچر دینے کے بعد ان کا ذکر ‘‘برہان’’ کے ‘نظرات’ میں کیا جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔
پہلے دو لیکچروں میں علّامہ اقبال نے ابتدائی چار لیکچروں میں جو کچھ وحی، وجود و ذات و صفات باری تعالیٰ، روح، برزخ، موت، حشر و نشر اور عبادت و قربتِ الٰہی سے متعلق فرمایا ہے، اس کی تشریح و توضیح کی گئی تھی۔ تیسرا لیکچر ان اعتراضات کے جائزہ اور اُن پر تنقید و تبصرہ کے لیے مخصوص تھا جو خطبات پر عموماً اور علّامہ کے تصورِ جنت و دوزخ پر خصوصاً وارد کیے گئے ہیں۔ چوتھے لیکچر کا عنوان تھا: الاجتہاد فی الاسلام۔ اِس میں علّامہ اقبال نے چھٹے لیکچر میں اجتہاد پر جو کلام کیا ہے، اس پر نقد و تبصرہ کرنے کے ساتھ اجتہاد کے منہاج اور طریقۂ کار پر گفتگو کی گئی تھی۔
ان چار لیکچروں کے لکھنے میں خاصی محنت کرنی پڑی، تاہم اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک کام جواب تک نہیں ہوا تھا، اور ہونا چاہیے تھا، وہ ہو گیا۔ یوں تو یہ لیکچر کیا؟ علامہ اقبال نے خود اپنے خطبات کی نسبت کہا ہے کہ یہ خطبات حرفِ آخر نہیں، بلکہ عقل و فکرِ انسانی کا عمل ارتقاء پذیری برابر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ اس بناء پر اسلامی حقائق جو ازلی اور ابدی ہیں، اُن کی تعبیر اور تشریح و توضیح کے لیے نئے نئے پیراے بیان ہوتے رہیں گے۔ مسلمانوں کو عقل و فکر انسانی کے اِس عمل پر نظر رکھنی اور اِس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی طرح راقم الحروف کے اِن لیکچروں کو ایک کام کی صرف ابتداء سمجھنا چاہیے۔ امید ہے کہ اِس کے بہت بعد کچھ اور اس سے بہتر لکھا جائے گا۔(۶۴)
مولانا عبیداللہ سندھی نے اُن کے اپنے بیان کے مطابق مولانا عبیداللہ پائلی (م۱۸۹۳) کی تالیف ‘‘تحفۃ الہند’’، شاہ اسمٰعیل (شہید ۱۸۳۱) کی ‘‘تقویت الایمان’’ اور حافظ محمد لکھوی (م۱۸۹۳) کی ‘‘احوال الآخرت’’ جیسی کتابوں کے ذاتی مطالعے سے اسلام کی دولت پائی تھی (۱۸۸۷)۔ اس کے ساتھ ہی متوقع سماجی دباؤ سے بچنے اور دینی استقامت، نیز دینی تعلیم کی خاطر گھربار چھوڑ کر جام پور (ڈیرہ غازی خاں) سے سندھ کا رخ کیا۔ راہ میں کچھ دن ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاؤں کوٹلہ رحم شاہ میں چند روز رُکے، اور بھر چونڈی (ضلع گھوٹکی-سندھ) کے مولانا حافظ محمد صدیق (م۱۸۹۱) کے ہاں پہنچ گئے۔ اِس کے بعد اُن کی تعلیم و تربیت، رہ نمائی اور سرپرستی کی ذمہ داریاں پہلے خود حافظ صاحب، اور بعد ازاں اُن کے دو خلفاء مولانا غلام محمد دین پوری (م۱۹۳۶) اور مولانا تاج محمود امروٹی (م۱۹۲۹) نے اٹھا لیں۔
مولانا بھرچونڈی کیا پہنچے کہ ‘سندھی’ اُن کے نام کا مستقل لاحقہ بن گیا۔ آغاز ہی میں انھوں نے حافظ محمد صدیق کے ہاتھ پر راشدی قادری سلسلے میں بیعت کرلی تھی جو بانی سلسلہ راشدیہ پیر محمدراشد معروف بہ روضہ دہنی (م۱۸۱۹) کے ساتھ ایک واسطے سے منسلک تھے۔ بعد میں جب مولانا تاج محمود امروٹی کے ہاں مقیم تھے تو راشدی سلسلے کے پیروں میں سے معاصر بزرگ مولانا سیّد رشیدالدین صاحب (معروف بہ صاحب العلم الثالث، م۱۸۹۹) کے کتب خانے سے انھوں نے خوب استفادہ کیا، اور اُن کی مجالس سے بھی مستفید ہوتے رہے۔ ابوتراب رشداللہ صاحب العلم الرابع (م۱۹۲۲) کی علمی و دینی مساعی میں شریک تھے۔ مولانا کے مشورے پر آخرالذکر نے گوٹھ پیر جھنڈو میں ایک مدرسہ دارالرشاد کے نام سے ۱۹۰۱ میں قائم کیا تھا، اور مولانا کامل علمی اور انتظامی اختیارات سے کام کر رہے تھے کہ انھیں شیخ الہند مولانا محمود حسن نے دارالعلوم دیو بند بلا بھیجا۔ (۱۹۰۹)
مولانا سندھی نے ۳۷ سالہ زندگی کے دوران میں ابتدائی دینی تعلیم کے آغاز سے ۱۹۰۹ تک تقریباً سوا دو برس کا عرصہ اکتوبر ۱۸۸۸ سے اواخر ۱۸۹۰ سندھ سے باہر گزارا تھا، اور اِس میں تقریباً دوبرس یا اِس سے کم دارالعلوم دیوبند میں بسر کیے تھے، درمیان میں مختصر مختصر وقفوں کے لیے کانپور اور رام پور گئے۔ دورۂ حدیث میں شریک ہوئے، شیخ الہند سے جامع ترمذی پڑھی، دورانِ سال میں گنگوہ چلے گئے اور بوجوہ دارالعلوم دیوبند واپس جاکر انھیں تکمیل کا موقع نہ مل سکا۔
افراد کی علمی و فکری تشکیل میں ماحول اور اساتذہ کے اثرات کو کلیۃً نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، مولانا سندھی نے سندھ کے صوفیہ اور علماء سے استفادہ کیا تھا اور دوسرے مدارس سے بھی، مگر اُن کی منفرد سوچ سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے زیادہ تر اپنے مطالعے کو ہی رہ نما بنایا تھا۔
مولانا دارالعلوم دیوبند میں جب پہنچے تو شیخ الہند نے انھیں دارالعلوم کے فاضلین کو منظم کرنے کا فریضہ سونپا۔ اس مقصد کے لیے ‘‘جمعیت الانصار’’ (تأسیس: ۱۳۲۷ھ/ ۱۹۰۹) کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اس کام کو وہ پوری تن دہی سے انجام دے رہے تھے کہ بعض مدرسینِ دارالعلوم نے ان کے افکار و نظریات کے تحت اُن پر تنقید شروع کردی، مولانا سندھی کو جمعیت الانصار کی سیکرٹری شپ سے استعفاء دینا پڑا (مئی ۱۹۱۳) اور وہ مادرِ علمی سے کٹ کر دہلی چلے گئے۔ بعد ازاں حضرت شیخ الہند نے انھیں اپنے ایک ‘‘بڑے منصوبے’’ (grand plan) کے حصے کے طور پر ۱۹۱۵ میں کابل جانے کا حکم دیا(۶۵)، مولانا سندھی کے بقول انھیں ‘‘کوئی مفصل پروگرام نہیں بتایا گیا تھا—، لیکن تعمیلِ حکم کے لیے جانا ضروری تھا’’(۶۶)۔ بعد میں شیخ الہند خود ارض حجاز روانہ ہو گئے (۸ستمبر ۱۹۱۵) اور وہیں سے انھیں گرفتار کرکے مالٹا میں نظربند کر دیا گیا۔
مولانا عبیداللہ سندھی کو دارالعلوم دیوبند کیوں چھوڑنا پڑا تھا؟ کیا یہ حضرت شیخ الہند کے حریت پسندانہ خیالات اور طریقۂ کار سے اربابِ اہتمام کے اختلاف کا شاخسانہ تھا، یا مولانا سندھی کے افکارو خیالات دارالعلوم دیوبند کے عمومی مزاج اور نقطۂ نظر سے مختلف تھے؟ مولانا سیّدحسین احمد مدنی (م۱۹۵۷) نے اپنی خودنوشت میں جہاں اربابِ اہتمام اور مولانا سندھی کے سیاسی نقطۂ نظر میں اختلاف کا ذکر کیا ہے، وہیں یہ بھی لکھا ہے کہ: ‘‘اسی زمانہ میں اتفاق سے چند علمی مسئلوں میں مولانا سندھی اور دارالعلوم کے دوسرے علماء کے درمیان اختلاف پیدا کرادیا گیا(۶۷)۔ وہ ‘‘چند علمی مسئلے’’ کیا تھے جن کی طرف مولانا مدنی نے اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک مسئلہ، جس کی طرف مولانا عبداللہ لغاری نے توجہ دلائی ہے، اُن کفّار کی نجاتِ اخروی کے بارے میں تھا جنھیں کما حقہٗ اسلام کی تبلیغ نہ ہوسکی ہو۔ مولانا سندھی انہیں جہنم کا ایندھن خیال نہ کرتے تھے(۶۸)۔ اسی مسئلے کے بارے میں مولانا سندھی نے ایک خط (بنام مولانا احمد علی لاہوری) میں بایں الفاظ تذکرہ کیا ہے:
کفّار قبل از تبلیغِ تام اصحاب الاعراف میں شمار ہوتے ہیں۔ ‘‘حجۃ اللہ البالغہ’’ میں مذکور تھا، میں نے محمد علی شاہ کو بتلایا۔ اس کا مولانا انور شاہ سے بھی ذکر کیا تھا۔ انھوں نے جھٹ ‘‘ منکرِ ضروریاتِ دین’’ قرار دے کر مجھ پر کفر کا فتویٰ لکھا جِسے مولانا شیخ الہند کے زور سے وہ شائع نہیں کرسکے۔(۶۹)
اقبال شیدائی کے نام مولانا عبیداللہ سندھی کے جو خطوط سامنے آئے ہیں، اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا سندھی مرزا غلام احمد قادیانی (م۱۹۰۸) کے جانشین مولوی نورالدین بھیروی (م۱۹۱۴) کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے۔ (اس عقیدت کا، شاید ایک سبب یہ بھی ہو کہ مولوی نورالدین بھیروی کو شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتابوں سے بڑی دلچسپی تھی۔ اس دلچسپی کا اظہار مولوی نورالدین کی سوانح حیات ‘‘مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نورالدین’’ کے ساتھ اُن دو خطوط سے بھی ہوتا ہے جو مولانا شاہ محمد سلیمان پھلواروی اور اُن کے فرزندِ اکبر مولانا شاہ حسن میاں کے نام شائع ہوئے ہیں۔) (۷۰)
مولانا سندھی نے اقبال شیدائی کے نام ایک خط میں لکھا ہے: ‘‘آپ کو معلوم نہیں کہ میں مولانا نورالدین مرحوم کی خدمت میں کس طرح حاضر ہوا۔ —اُن کی دعاؤں کو میں اپنے لیے ایک ذریعۂ نجات سمجھتا ہوں۔ محض اِس وجہ سے میرے دیوبندی کشمیری دوستوں نے میری تکفیر سے گریز نہیں کیا، مگر میری محبت اِس پارٹی سے کم نہیں ہوئی۔’’(۷۱)
مولانا سندھی کے کابل جانے کے بعد شاید ہی کبھی اُن کا حضرت شیخ الہند سے مزاج پرسی کا تبادلہ ہوا ہو، اُن کے گرفتار ہونے کے بعد تو رابطہ بالکل ختم ہو گیا، مولانا سندھی کو حالات اور وقت کی تبدیلیاں افغانستان سے روس، وہاں سے ترکی اور بالآخر ارضِ حجاز لے گئیں۔ ۲۴-۲۵ برس کی دربدری اور جلاوطنی کے بعد جب اُن کی وطن واپسی کے آثار پیدا ہوئے تو سب سے زیادہ خوشی دارالعلوم دیوبند کے منتبین کو تھی۔ ۷ مارچ ۱۹۳۹ کو جب وہ کراچی کی بندرگاہ پر اترے تو اُن کا استقبال دیدنی تھا۔ انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور جب وہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے تو بالفاظ شیخ محمداکرام: ‘‘اِس طرح اظہارِ مسرّت کیا گیا اور دارالحدیث کے وسیع ہال میں ایک جلسۂ عام کرکے آپ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ جلسہ کے صدر دارالعلوم کے مہتمم تھے اور آپ کی خدمات کا ذکر کرکے، آپ کی بروقت تشریف آوری پر اعلیٰ توقعات کا اظہار کیا گیا۔’’(۷۲)
مولانا اکبرآبادی نے نہایت والہانہ انداز میں اُن کی آمد پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، اور مولانا کی پُر عزیمت زندگی کو اِن الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا:
اُس خداے قادر و توانا کے بے انتہا فضل و کرم کا شکر کس زبان و قلم سے ادا کریں جس نے آج ہماری آنکھوں کو پھر اُس ‘‘یوسفِ گم گشتہ’’ کے دیدارِ پُرانوار سے منور کر دیا جس کو دیکھنے اور اس کی باتیں سننے کی آرزو میں تڑپتے ہوئے کامل پچیس برس گزر چکے تھے۔ اب سے چھے ماہ قبل کس کو خبر تھی کہ اِس غیر معین الوقت بُعد و ہجر کے بادل یک بیک پھٹ جائیں گے اور ہمارا خورشیدِ تمنا جس کو لوگ ‘‘مولانا عبیداللہ صاحب سندھی’’ کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں، افقِ کراچی پر طلوع ہو کر جلد ہم تک پہنچ جائے گا۔ پہلے جس کا تصور بھی ایک خواب پریشاں معلوم ہوتا تھا، زہے نصیب کہ وہ ہمارے سامنے ایک روشن حقیقت بن کر اجاگر ہو رہا ہے۔
آہ کاش! آج قدس آشیاں حضرت شیخ الہند اِس عالمِ ناسوت میں تشریف فرما ہوتے اور خود دیکھتے کہ اُن کی درس گاہِ ارشاد و ہدایت کا فرزندِجلیل، اُن کی چشمِ بصیرت کا جگمگاتا ہوا تارا، دُنیاے اسلام کا مجاہد عظیم، حریت و آزادی کا داعی کبیر، مردانِ حق کوش و حق آگاہ کا قافلہ سالار پچیس سال کی انتہائی صبرآزما جلاوطنی کے بعد پھر اُن کے مشن کی تکمیل کے لیے ہندوستان آگیا ہے۔ فقروفاقہ اور غربت و اِفلاس کے عالم میں ملک ملک کی بادیہ پیمائی نے اور لیل و نہار کے تغیرات نے اگرچہ اس کو عمر کی منزلِ سبعین تک پہنچا دیا، مگر اس کا ولولۂ کار، عزم و حوصلہ کا جوش و خروش اور ہمت و جستجو کی پروازِ بلند اب بھی پہلے کی طرح شاداب و پُرشباب ہے۔(۷۳)
مولانا سندھی کی ۲۵ سالہ جلاوطنی کے آخری بارہ سال ارضِ حجاز میں گزرے تھے۔ یہاں انھوں نے اربابِ اقتدار کو یقین دلا دیا تھا کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں گے، اور اپنے اوقات کو مطالعہ و تحقیق تک محدود رکھیں گے۔ مکہ معظمہ کے وقیع کتب خانوں تک اُنھیں رسائی حاصل تھی، اور اپنے ارادت مندوں کے توسط سے انھیں عربی، فارسی اور اُردو کتب ملتی رہتی تھیں۔ اُن کے مطالعے کا محور تو بنیادی طور پر قرآن حکیم تھا، اور دوسرے درجے میں شاہ ولی اللہ اور اُن کے اخلاف و تلامذہ کی کتب پر غوروفکر تھا۔ ارضِ حجاز جانے والے متعدد افراد نے اُن سے تفسیر قرآن کا درس لیا اور انھوں نے امالی مرتب کیں۔ شاہ ولی اللہ کی حکمت و دانش پر انھوں نے دو کتابیں ‘‘امام ولی اللہ دہلوی کی حکمت کا اجمالی تعارف’’ اور ‘‘شاہ ولی اللہ اور اُن کی سیاسی تحریک’’ لکھیں، ‘‘سطعات’’ کا اردو ترجمہ کیا اور اس کی شرح لکھی، ‘‘ہمعات’’ پر مقدّمہ لکھا۔ اسانید پر ایک ضخیم کتاب ‘‘التمہید لتعریف ائمۃ التجدید’’ (عربی) مرتب کی۔ اس آخرالذکر کتاب میں انھوں نے اپنی متعدد دوسری تالیفات کا ذکر کیا ہے، تاہم حجاز کے زمانۂ قیام میں اِن میں سے غالباً کوئی کتاب شائع نہ ہوسکی۔(۷۴)
۱۹۴۰ میں پہلے اُن کی کاوش ‘‘امام ولی اللہ کی حکمتِ عملی کا اجمالی تعارف ماہ نامہ ‘‘الفرقان’’ (بریلی) کے تاریخی ‘‘شاہ ولی اللہ نمبر’’ میں چھپی۔ دوسری کاوش‘‘شاہ ولی اللہ اور اُن کی سیاسی تحریک’’ دو سال بعد سامنے آئی (لاہور: کتاب خانۂ پنجاب)۔ اس دوسری کاوش پر ماہ نامہ ‘‘برہان’’ میں تبصرہ چھپا (۷۵)۔ تبصرہ نگار ‘م-ح’ [محمد حفظ الرحمن؟] (۷۶) نے کتاب کے حاشیہ نگار مولانا نورالحق علوی (م۱۹۵۱) کے ایک جملے کو نشان زد کرتے ہوئے لکھا تھا۔
کتاب کے صفحہ ۱۰۵ پر مولوی نور الحق کا یہ جملہ ‘‘ہماری راے میں جو کام اکبر نے شروع کیا، وہ اساساً صحیح تھا’’ دیکھ کر ہم کو نہ صرف تعجب، بلکہ حد درجہ افسوس ہوا۔ معلوم نہیں اکبر کے اس کام میں مشرکہ عورتوں سے خود اپنی اور شہزادوں کی شادی کرنا بھی داخل ہے یا نہیں۔ دینِ الٰہی سے متعلق عبدالقادر بدایونی نے اپنی تاریخ میں جو کچھ لکھا ہے، اگر اس سے صرفِ نظر کیاجائے، تب بھی خود حضرت مجدّد الف ثانی کے مکتوبات اور ابوالفضل کے رقعات سے اس دین کے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں، اُن کے پیشِ نظر اکبر کے فعل کو اساساً صحیح کہنا تو کجا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکبر مسلمان بھی تھا یا نہیں۔ اگر اِس جملہ کا انتساب مولانا کی طرف صحیح ہے تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ انتہائی مخلص اور ذہین و طبّاع اور مجاہد ہونے کے باوجود مولانا کی چند اسی قسم کی ‘‘ماوراء عقل’’ باتیں ہیں جنھوں نے آج تک مولانا کو کسی جماعت کا قائد بننے نہیں دیا اور مسلمانانِ ہند اجتماعی حیثیت سے مولانا کے شمع افکار سے اپنے ظلمت خانۂ قلب و دماغ کو روشن کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔’’
اس پر مولانا سندھی نے مفتی عتیق الرحمن عثمانی کو، جو ان دنوں ‘‘برہان’’ مرتب کرتے تھے، اپنے مکتوب میں لکھا کہ ‘‘اکبر کے متعلق جو کچھ قابلِ تنقید سمجھا گیا ہے، میں اسے مانتا ہوں۔ یہ ایک غلطی ہے جس کی تصحیح ہونی چاہیے۔’’ اس کی جگہ انھوں نے بطور متبادل لکھا: ‘‘سکندر لودھی اور شیرشاہ نے جو ہندوستانی تحریک شروع کی تھی، اور اکبر نے اُسے اپنا مقصدِ حیات بنا لیا، وہ اساساً صحیح تھی، مگر اسے چلانے والے آدمی میسّر نہیں آئے، اس لیے غلط راستے پر پڑ گئے۔’’(۷۷)
مفتی صاحب نے مولانا سندھی کا مکتوب ‘‘برہان’’ کے ‘نظرات’ میں شامل کرلیا تھا، مکتوب پر انھوں نے اولاً اپنے تبصرے میں کہا: ‘‘جہاں تک دینِ الٰہی کا تعلق ہے، مولانا کے الفاظ سے اس کا معاملہ صاف ہو جاتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہماری طرح اس کتاب کے دوسرے قارئین کے دل میں بھی جو خلجان ہو گا، ‘تصنیف را مصنّف نکو کند بیان’ کے مطابق رفع ہو جائے گا۔’’(۷۸)
اِس کے معاً بعد تاریخی پس منظر میں سلطان سکندر لودھی اور شیر شاہ کے افکار اور عمل پیش کرکے ‘‘تاریخ کے ایک طالب علم’’ کا یہ سوال بھی اٹھا دیا کہ اکبر کا طرزِ عمل مذکورہ حکمرانوں کے طرزِ عمل سے بہت مختلف تھا، تاہم مکتبِ فکر کا رکھ رکھاؤ تھا یا کچھ اور؟ کہ مولانا سندھی کی خدمت میں خراجِ عقیدت اور اُن کے ناقدین کی مذمت کا پہلو بھی نکال لیا گیا۔ ملاحظہ فرمایے:
ہم نے — جو کچھ لکھا ہے، اس سے غرض صرف ایک طالب علمانہ استفسار ہے، ورنہ ہم سے زیادہ اس حقیقت کا محرم اور کون ہوسکتا ہے کہ مولانا اپنے عمل، خلوص، للہیت اور ذہانت و استعدادِ فکر و تدبیر کے اعتبار سے آج کم از کم ہندوستان کی اسلامی دنیا میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ کتنے ہی اعیانِ ملت ہیں جو خود سوچتے کچھ اور ہیں، مگر کہتے اور لکھتے وہ ہیں جو عوام کی ذہنیت کے مطابق ہو۔ اِس کے برخلاف مولانا کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جو کچھ سوچتے ہیں، وہی زبان سے برملا کہتے ہیں اور اس میں آپ کو کسی لومۃ لائم کی مطلقاً پروا نہیں ہوتی۔ اس پر بعض لوگ اپنے مبلغِ علم و عمل سے بے خبر ہو کر مولانا کی شان میں طرح طرح کی گستاخیاں کرتے ہیں، لیکن اربابِ نظر کے نزدیک اس طرح وہ اپنی ‘‘فضیلت مآبی’’ کا مظاہرہ تو کرسکتے ہیں، مولانا کو ان کے مقام سے نہیں اتار سکتے۔(۷۹)
مذکورہ کتاب جسے ‘‘حزبِ امام ولی اللہ دہلوی کی اجمالی تاریخ’’کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس کے بیانات سے جن اہل علم کو شدید اختلاف تھا، ان میں ایک نمایاں نام مولانا مسعود عالم ندوی (م۱۹۵۴) کا تھا۔ مولانا مسعود عالم ندوی ۱۹۳۵ سے سیّد احمد شہید کی تحریکِ اصلاح و جہاد کے دوسرے دور (جو بالاکوٹ میں سیّد احمد شہید اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد بزرگانِ صادق پور-پٹنہ کی قیادت میں شروع ہوا تھا) پر ضروری لوازمہ جمع کر رہے تھے، اور اس دور کے واقعات اور افراد کی کارکردگی سے بڑی حد تک واقف تھے۔ مولانا مسعود عالم کا کتاب پر ‘‘استدراک و تنقیح’’ ماہ نامہ ‘‘معارف’’ (اعظم گڑھ) کی چار مسلسل اشاعتوں (فروری تا مئی ۱۹۴۳) میں شائع ہوا۔
مولانا مسعود عالم کو مولانا سندھی سے بطورِ خاص اس حوالے سے شکوہ تھا کہ اُن کی کتاب میں ‘‘سیّد احمد شہید کے جاں نثاروں، پورب کے سرفروش مجاہدوں اور شہیدوں، سرکار انگریزی کے ممنونِ التفات اہلِ صادق پور، بدنام وہابیوں اور عام جماعت اہلِ حدیث کو زیدیت، شیعیت، رفض اور مختلف القاب سے اِس بے دردی کے ساتھ نوازا گیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ — اسی لپیٹ میں یمن کے سلفی عالم و محدّث قاضی محمد بن علی شوکانی (م۱۲۵۰ھ / ۱۸۳۴) اور نجد کے مظلوم مصلح شیخ محمد بن عبدالوہاب (م۱۲۰۶ھ / ۱۷۹۲) اور اُن کے متبعین بھی آگئے ہیں’’(۸۰)۔
اس موقع پر یہ عرض کر دینا بھی غیرمناسب نہ ہو گا کہ زیرِبحث کتاب کا مسودہ مولانا سندھی نے مولانا غلام رسول مہر (م۱۹۷۱) کو اس لیے دکھایا تھا کہ وہ سیّداحمد شہید کی سوانح حیات اور اُن کی تحریک پر لکھنے کا ڈول ڈالے ہوئے تھے۔ مولانا مہر نے کتاب کی واقعاتی اغلاط اور تصورات پر مبنی بیانات کی جانب مولانا سندھی کو توجہ دلائی، مگر مولانا سندھی کا ردِعمل یہ تھا: ‘‘میں نہیں مانتا اور اپنی راے بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ —تمھاری کتاب چھپ جائے گی تو اسے دیکھوں گا، پھر ضرورت محسوس ہوئی تو راے بدل دوں گا۔’’(۸۱)
مولانا سندھی اپنے مسودے میں کوئی تبدیلی کرنے کو تیار نہ ہوئے، اور نہ اُن کی حیات میں مولانا مہر کی کتاب ہی شائع ہو سکی، تاہم ‘‘شاہ ولی اللہ اور اُن کی سیاسی تحریک’’ کی اوّلیں طباعت کے تقریباً سات، اور مولانا سندھی کی رحلت کے کوئی پانچ برس بعد مولانا مہر نے ‘شاہ عبدالعزیز محدّث، سیّد احمد شہیداور مولانا عبیداللہ سندھی’ کے زیرعنوان ایک تحریر میں مولانا سندھی کے زاویۂ نظر اور تحریکِ جہاد کے حوالے سے بعض واقعات کی تعبیر کی کمزوریاں واضح کیں، تاہم اپنی تحریر کے آخر میں اس کی عدمِ جامعیت کے بارے میں لکھا: ‘‘میں محسوس کرتا ہوں کہ اس سلسلہ میں بہت سی باتیں تشنہ رہ گئیں اور مولانا [سندھی] نے اپنی کتاب میں اور جو غلطیاں کیں، اُن پر بھی کچھ نہ لکھ سکا، لیکن یہ مباحث ایسے نہیں ہیں کہ سب کو ایک مضمون میں سمیٹا جاسکے۔ مولانا کے نظریات کی حقیقی حیثیت واضح کرنا چاہتا تھا، اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب’’ (۸۲)
(باقی)
