خود بیتی

  ابو عمّار سلیم (مصنّف) / دارالاحسن – کراچی / دسمبر ۲۰۲۴ / ۱۲۸ صفحات / مجلد، ۴۰۰ روپے

۱۲۸ صفحات پر مشتمل پتلی سی زیرنظر ‘‘خود بیتی’’ پاکستان آرمی کے میجر (ریٹائرڈ) ابو عمّار سلیم کی ۷۵ سالہ داستانِ حیات ہے۔ انھوں نے قیامِ پاکستان سے کچھ پہلے فسادات کے زمانے میں صوبہ بہار (آج کے ہندوستان کی سٹیٹ آف بہار) کی بستی ‘‘میراں بیگہہ’’ (ضلع گیا) میں آنکھ کھولی تھی۔ اُن کے والد گرامی اُس وقت کے گریجویٹ تھے جب نام کے ساتھ بی-اے لکھنا باعثِ اعزاز خیال کیا جاتا تھا۔ بہار کے زمین دار خاندانوں میں یہ رواج چلا آرہا تھا کہ زمین داری مشترک ہوتی تھی اور بھائیوں میں ‘‘بڑے بھائی کے ذمہ زمینوں کی دیکھ بھال ہوتی تھی اور جو آمدنی ہوتی، وہ تمام بھائی بہنوں یا حصہ داروں میں انصاف کے ساتھ بانٹ دی جاتی [تھی]۔ نتیجہ کے طور پر بڑے بھائی صاحب تو زمینوں کے بکھیڑے میں پڑے رہتے اور دیگر بھائی فارغ ہوتے اور اکثر بڑے شہروں میں جاکر کوئی کاروبار کرتے یا پھر نوکری کرلیتے تھے۔’’ (ص۴۲)

جناب ابوعمار سلیم کے والد چھے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، اور زمانے کے رسم و رواج کے مطابق انھیں خاندانی زمین کی ذمہ داریاں سنبھالنا تھیں اور یہی اُن کے والد کی خواہش بھی تھی، تاہم بالفاظ ابوعمّار سلیم: ‘‘ابّا جی نے ابھی تازہ تازہ گریجویشن کی تھی، اس لیے سرکاری نوکری کی طرف راغب تھے۔ انھوں نے اپنے والد کو راضی کر لیا کہ کچھ دن نوکری کرلیں، دُنیا کا تجربہ ہو جائے، پھر آملیں گے، مگر ہندوستان کے مسلمانوں میں ‘لے کر رہیں گے پاکستان’ کا جذبہ ایسا شدید تھا کہ سب کچھ بہا کر لے گیا۔ والد صاحب اور اُن سے چھوٹے بھائی جو وکالت پڑھ رہے تھے، مسلم لیگ کے پرجوش کارکنوں میں تھے، بلکہ ہمارے چچا تو اسی جرم میں فساد اور ہنگاموں میں شہید کر دیے گئے تھے۔ تقسیم ہوتے ہی ابّا جی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، امّی کو ساتھ لیا اور ڈھاکہ پہنچ گئے، کیوں کہ اسی سرزمین کے لیے اتنی جدوجہد کی تھی اور قربانیاں دی تھیں۔ دادا جی اکیلے رہ گئے، اس لیے کہ اُن کے اپنے سارے بھائی بھی اور سارے کے سارے بیٹے بھی پاکستان کے سحر میں گرفتار کوئی کراچی آگیا اور کسی نے مشرقی پاکستان کا رُخ کیا’’ (ص۴۳)۔ جناب ابوعمّار سلیم کا قیاس اور گمان بالکل بجا لگتا ہے کہ صورتِ واقعہ پر اُن کے دادا جان ‘‘بالکل آدھے رہ گئے ہوں گے’’، مگر دیکھا جائے تو ‘‘پاکستان کے حصول کی خاطر لوگوں نے کیا کچھ قربان نہیں کیا۔’’ (ص۴۳)

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد زندگی کا رنگ ڈھنگ کیسا تھا؟ بحیثیتِ مجموعی ‘‘بڑی عُسرت اورتنگ دستی کا دور تھا’’ (۴۳)، کھانے میں ‘‘روٹی یا دال چاول کسی ایک آدھ سبزی کے ساتھ بنتی تھی۔ گوشت بقرعید پر کھاتے تھے، ہاں سال میں اس کے علاوہ بھی ایک دو مرتبہ گوشت پکتا تھا، حالاں کہ اتنا سستا تھا کہ — چار آنے، یعنی۲۵ پیسے میں ایک پاؤ گاے کا گوشت ملتا تھا، — مرغی بھی عنقا ہوتی تھی۔ جن لوگوں نے مرغیاں پالی ہوتی تھیں، ان میں کسی کے گھر مہمان آجاتا تو اس کی خاطر تواضع کے لیے مرغی پکتی تھی۔ — سادگی کی تو یہ انتہا تھی کہ اکثر جب حالات اچھے نہ ہوتے اور سبزی سالن وغیرہ نہیں بنتا تو اماں روٹی یا چاول کے ساتھ چٹنی اور اچار یا گڑ پر تھوڑا سا گھی لگا کر دے دیا کرتیں اور ہم اس کو بھی بلاچون و چرا کے کھا لیتے’’ تھے۔ (صفحات ۲۵-۲۶)

جناب ابو عمار سلیم کا لڑکپن ڈھاکہ میں گزرا تھا، اور وہیں انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ انھوں نے اپنی مادری زبان اُردو کے ساتھ ساتھ بولنے کی حد تک بنگلا بھاشا بھی سیکھ لی تھی، مگر بنگلا کے رسم الخط نے اُنھیں اِسے باقاعدہ ذریعۂ تعلیم بنانے سے دور رکھا۔ یہ حسنِ اتفاق تھا اور اُن کی خوش بختی، کہ ۱۹۶۴ میں اُن کے والد صاحب کا تبادلہ ڈھاکہ سے لاہور ہو گیا۔ یہاں انھوں نے ایف-ایس سی کیا اور فوج میں کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، اور ملٹری اکیڈمی-کاکول کے تربیتی مرحلے سے گزر کر انجینئرنگ کور میں شامل ہو گئے، ۱۹۹۵ میں ۲۵-۲۶ سالہ مصروفیت سے سبک دوش ہوئے، خاندان پہلے ہی اُن کی ملازمت کے دوران میں کراچی منتقل ہو گیا تھا، جہاں آج وہ ہنستے بستے خاندان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

آپ بیتی کسی کی بھی ہو، پڑھنے والوں کے لیے، لکھنے والے کی سوچ سمجھ، اُس کے تجربات و مشاہدات، پسند و ناپسند اور اُس کی جدوجہدِ حیات کے مراحل میں کچھ نہ کچھ سبق ضرور ہوتا ہے۔ ‘‘خودبیتی’’ میں جناب ابوعمارسلیم نے اِسے ایک عام آدمی کی داستان قرار دیا ہے، مگر کتاب پڑھنے کے بعد قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ ‘عام آدمی’ کی نہیں، بلکہ ایک ‘کامیاب عام آدمی’ کی ‘‘خودبیتی’’ ہے۔ذرا اُن کے انجینئر بننے پر ایک نظر ڈال لیجیے:

انھوں نے ہائی سکول میں سائنس کا طالب علم بننے کے خواب دیکھے تھے، مگر سائنس گروپ میں اُن کے استاد نے، اس لیے گھُسنے نہ دیا کہ استاد کی نظر میں، اور حقیقتِ واقعہ کے طور پر خود اپنی نظر میں بھی وہ ریاضی میں بہت کمزور تھے، چنانچہ انھوں نے میٹرک آرٹس کے مضامین میں کیا، مگر جب قائداعظم کالج-ڈھاکہ میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لیا تو ریاضی سے جان چھڑاتے ہوئے پری میڈیکل گروپ پسند کیا۔ لاہور آئے تو کسی کالج نے بارہویں جماعت میں داخلہ نہ دیا۔ آخر ایم-اے-او کالج میں دوبارہ گیارہویں جماعت (فرسٹ اِیر) میں داخل ہوئے۔ اُن کے بقول: ‘‘یہ کالج لاہور میں کوئی اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اس کو لوگ بڑے نچلے درجے کا کالج سمجھتے تھے، اس لیے کہ جن لوگوں کو کہیں داخلہ نہ ملتا، ان کو یہ کالج اپنی آغوش میں لے لیتا’’ تھا (ص۳۳)۔ یہاں داخلہ تو ہو گیا، مگر جناب مصنّف ‘‘علّامہ گروپ’’ میں بوجوہ شامل ہو گئے۔ لاہور میں ‘‘علّامہ گروپ’’ کا نام طلبہ کے اس گروہ کو دیا جاتا تھا جو پڑھائی میں انتہائی نالائق ہوتا تھا، چنانچہ مصنّف نے آوارہ خوانی تو بہت کی، مگر کتابیں نہ پڑھیں تو کورس کی، انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں ناکام ہوئے، مگر ہمت کرکے، آخرالامر ایف-ایس سی کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں پاس کرلیا۔ اِسی دوران میں فوج میں کمیشن حاصل کیا، اور جب پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے نکلے تو فوج میں انجنیئرنگ کور میں جانے کو ترجیح دی۔ پھر سوال پیدا ہوا۔ ‘‘پری میڈیکل گروپ میں انٹرمیڈیٹ کرنے والا بضد کیوں ہے کہ اُسے انجنیئرنگ کور میں جانا ہے جب کہ وہ ریاضی میں کورا ہے’’، تاہم پلاٹون کمانڈر نے نوجوان سیکنڈ لیفٹینینٹ کا جوش و جذبہ دیکھتے ہوئے اجازت دے دی، اور انجنیئرنگ کور میں خدمات انجام دیتے ہوئے، دورانِ ملازمت میں ملٹری کالج آف انجنیئرنگ – رسال پور سے ۱۹۷۸ میں سِول انجنیئرنگ میں بی-ایس سی کر لی۔ (صفحات ۸۱-۹۲)

عہدِ طالب علمی کے خواب کی تکمیل ہوگئی، اور پھر، اُن ہی کے الفاظ میں:

انجنیئر بن جانے کے بعد اپنی ریٹائرمنٹ تک فوج میں اِسی شعبہ میں ہی وقت گزارا۔ پورے پاکستان میں دوڑے بھاگے پھرے۔ کہیں سڑک بن رہی ہے، کہیں پانی کی سپلائی کے لیے پائپ بچھ رہی ہے۔ کبھی پہاڑوں کو کاٹ کر اور برفانی تودوں سے ٹکرا کر سڑک تعمیر ہو رہی ہے اور کبھی صحراؤں کی ریت اور ٹیلوں پر سے ذرائع آمدورفت کو ٹھیک کیا جارہا ہے۔ کبھی عمارتوں کی تعمیر کا کام ہاتھ میں ہے اور کبھی جی ایچ کیو میں دفتر میں براجمان ٹھیکے بنائے جارہے ہیں اور بڑے بڑے ٹھیکے دیے جارہے ہیں۔ پلوں کی تعمیر کا کام بھی چلا اور چھوٹے چھوٹے نالوں کو باٹنے کا کام بھی ہوا۔ الغرض انجینئرنگ کے ہر شعبہ میں کام کیا اور تجربہ حاصل کیا۔ ریٹائرمنٹ سے قبل تین سال فوجی افسروں کے ہاؤسنگ پراجیکٹ پر گوجرانوالا چھاؤنی میں کام کیا اور بہت بڑے پیمانے پر گھروں کی تعمیر بھی کی اور ان میں لوگوں کو بستے ہوئے دیکھ کر بڑی فرحت محسوس کی۔

— فوج نے ہی ہمیں — ڈیپوٹیشن پر تین سال کے لیے سعودی عرب بھیج دیا۔ جہاں میں نے تقریباً چار سال گزارے۔ اللہ کے فضل سے بڑے تجربات سے گزرا۔ مغربی ممالک کے انجینئروں اور کاریگروں کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع مِلا۔— (صفحات ۹۲-۹۳)

دورانِ ملازمت میں انھوں نے انجینئرنگ کے جن بڑے پروجیکٹوں میں کام کیا، ان میں اولیں پروجیکٹ شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا تھا۔ ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پر انھیں انجینئرنگ کور کی اس بٹالین میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا تھا جو فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے تحت ہنزہ میں تعینات تھی۔ پہاڑ کاٹنے اور سڑک بنانے کی مصروفیت کے ساتھ ہنزہ کی خوب صورتی اور اس کے حسین نظاروں نے جناب ابوعمار کو محظوظ کیا۔ ‘‘اللہ کی قدرت کا جو نظارہ یہاں تھا، کہیں نہیں دیکھا تھا۔ جب موقع ملتا اور چھٹی کا دن ہوتا اور کرنے کو کچھ نہ ہوتا تو میں کبھی دریا کے کنارے سیر کو نکل جاتا یا پہاڑوں پر چڑھ جاتا۔ گھنٹوں کسی خوب صورت جگہ پر بیٹھ کر نظارے کرتا۔ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ منظر تھا راکا پوشی پہاڑ کا نظارہ’’ (ص۶۸)  راکا پوشی کے ایک حسین منظر کو انھوں نے اپنی ‘‘خودبیتی’’ کی پُشت پر پیش کرکے اپنے قارئین کو لطف میں شریک کیا ہے۔

شاہراہ قراقرم نے چین اور وطن عزیز کے درمیان رابطہ ہی استوار نہیں کیا، بلکہ ہنزہ اور دوسرے شمالی علاقوں کی سماجی اور اقتصادی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ دوردراز کا خطہ اہلِ وطن کے لیے بھی اجنبی بنا رہا تھا، اور اب ہزاروں افراد ہر سال سیروتفریح کے لیے اِن علاقوں میں جاتے ہیں اور اُن کی آمدورفت نیز شمالی علاقوں کے باسیوں کے لیے اسلام آباد اور وطن عزیز کے دوسرے بڑے شہر گھر آنگن کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب ۱۹۷۰ کی دہائی کا وہ زمانہ قصۂ ماضی بن چکا ہے، جب لوگ ان پڑھ تھے، اور یہ تک نہ جانتے تھے کہ پورا مہینہ کام کرنے کا اُنھیں کیا معاوضہ دیا جائے گا، اور جب اُنھیں تنخواہ ملتی تو بے چاروں کو پیسے گننا بھی نہیں آتے تھے۔ تعلیم کا حال یہ تھا کہ ہنزہ میں کوئی سکول تک نہ تھا۔ (ص۷۶)

اہلِ ہنزہ کو مرغی انڈے بیچنے کی عادت تک نہ تھی، شاہراہ قرا قرم میں مصروف افراد کے لیے مرغی اور انڈے وغیرہ گلگت سے جاتے تھے، مگر جب طلب پیدا ہوئی تو اہلِ ہنزہ بھی اِس میدان میں آئے۔ اِسی طرح جناب ابوعمارسلیم کی روایت کے مطابق ‘‘پورے ہنزہ میں صرف ایک بلّی ہوتی تھی جو میر آف ہنزہ کی ملکہ کے پاس تھی اور وہ خاتون اِس خوب صورت سیامی بلّی کو ہر وقت اپنی گود میں بٹھائے رہتی تھیں۔ (ص۱۷۵)

اُن کے گھر کا ماحول ابتداء سے ایک دین دار خانوادے کا ماحول تھا۔ اُن کے والد بڑے متدین اور بااصول فرد تھے۔ اُن کے بقول انھوں نے اپنے والد کو ‘‘کبھی بھی دین سے ہٹ کر کچھ کرتے نہیں دیکھا’’ (ص۱۵)۔ اُن کی عملی زندگی میں، گھر کے ماحول، ابتدائی تربیّت اور مطالعۂ اسلام کا نتیجہ تھا کہ ملازمت کے دوران میں اُس وقت پراویڈنٹ فنڈ پر سود نہ لینے کا فیصلہ کیا، جب اُن کے رفقاء کار، حتیٰ کہ بالاتر افسر اُن کی راے سے اتفاق نہ کر رہے تھے (صفحات ۷۱-۷۴)۔ سود سے اُن کی نفرت ہی تھی کہ اُن کے بقول انھوں نے ‘‘بنک میں اکاونٹ بھی کبھی سُود والا نہیں رکھا، ریٹائرمنٹ کے بعد سود کی برائیوں سے آگاہی کے لیے انھوں نے ایک چھوٹا سا کتابچہ ترتیب دیا جس کا عنوان تھا: ‘‘ہم سُود سے نجات کیسے حاصل کریں؟’’ (ص۷۴)

ایم-اے-او کالج کے طالب علم کے طور پر جب اُن کی عمر ۱۸-۲۰ سال کے درمیان تھی اور اُن کا شمار ‘‘علّامہ گروپ’’ میں ہوتا تھا۔ انھوں نے کورس کی کتابوں کی جگہ پنجاب پبلک لائبریری میں وقت گزارنا شروع کر رکھا تھا، اُن کے بقول انھوں نے ‘‘کشف المحجوب’’، ‘‘مکاشفۃ القلوب’’، ‘‘احیاء العلوم’’ اور ‘‘تاریخ ابن خلدون’’ کے ساتھ ‘‘فلسفہ اور صوفیانہ ادب کو بے تحاشا پڑھا’’، انھیں ‘‘موٹی سی جو کتاب مل جاتی [تھی] اور لکھنے والے کا نام اُن کے لیے جانا پہچانا ہوتا تو [وہ] کتاب اٹھا کر ایک کونے میں بیٹھ جاتے اور سمجھ میں آئے یا نہ آئے، کتاب ختم کرکے’’ دم لیتے تھے (ص۳۵)۔ اس عرصے میں انھوں نے اُردو زبان میں بھی خوب پڑھا اور انگریزی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ اِس کا انھیں خاصا فائدہ ہوا، اور مطالعہ اُن کی عادتِ ثانیہ بن گیا۔ زمانۂ ملازمت میں اُن کی ‘‘تنخواہ کا کم از کم دس فیصد تو ضرور کتابوں پر اٹھتا تھا، [اور] یہ ذوق ابھی تک باقی ہے۔’’ (ص۳۸)

کتاب میں اُن کے مطالعے اور حاصلِ مطالعہ کا اظہار باربار ہوا ہے۔ باب ‘‘حاصلِ زندگی’’ (صفحات: ۹۹-۱۱۴) کا تو موضوع ہی یہ ہے۔

‘‘خودبیتی’’ کے مختلف مقامات پر قرآن سے اُن کے لگاؤ کا اظہار ہوتا ہی ہے، مگر اِس باب میں تو انھوں نے بطور خاص مطالعۂ قرآن اور عربی زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے قرآن مجید کا مطالعہ شروع کیا تو جو اُردو تفاسیر بھی اُنھیں میسّر آئیں، پڑھ ڈالیں، مگر انھیں جس تفسیر نے بطور خاص متأثر کیا، اُن کے الفاظ میں وہ: ‘‘جناب محمد احمد صاحب کی تفسیر ‘درسِ قرآن’ [ہے] جو گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے’’۔ انھوں نے ‘‘اِس تفسیر کا ایک ایک لفظ انتہائی توجہ سے پڑھا اور ہر روز بلاناغہ مطالعہ کا اہتمام کیا۔ یوں یہ بڑی تفسیر [انھوں] نے چار برسوں میں مکمل کی۔’’ (ص۱۰۰)

غالباً یہ اُس ترجمہ و تفسیر ‘‘درس قرآن’’ سے مختلف ہے جس کا آغاز انجمن اصلاح و تبلیغ-لاہور نے ۱۹۵۰ کی دہائی میں کیا تھا اور انجمن کا دفتر آسٹریلین بلڈنگ (نزد ریلوے اسٹیشن) میں تھا۔ ‘‘درسِ قرآن’’ کی مجلس ادارت کے نمایاں افراد اسلامیہ کالج-لاہور کے شعبۂ اسلامیات سے وابستہ تھے، ان میں ایک خواجہ عبدالحی فاروقی (م۱۹۶۵) تھے، اور ایک دوسرے فرد حافظ نذراحمد (م۲۰۱۱) تھے۔ جناب ابوعمار سلیم نے اپنی گھریلو زندگی پر کل پانچ صفحے لکھے ہیں۔ میاں بیوی کے مزاجوں کا اختلاف امتزاج میں کیسے تبدیل ہوا؟ اِس کی وضاحت میں لکھا ہے: ‘‘آپ نے غالباً محترمہ زہرہ نگاہ کی نظم ‘سمجھوتے کی چادر’ پڑھی ہوگی۔ بس اسی نظم کے تحت ہم نے — چادر کو گھسیٹ کر اپنے گرد لپیٹ لیا جو آج تک موجود ہے’’ (ص۹۵)۔ زہرہ نگاہ کی مختصر سی نظم کا حوالہ دے کر جو کچھ کہہ دیا گیا ہے، وہ ایک صفحہ لکھنے سے بھی نہ کہا جاسکتا تھا۔