(اسلام آباد)، ‘‘خصوصی اشاعت بہ موقع برسی محسنِ ملّت جامعۃ الکوثر، ایچ-۲/۸،اسلام آباد/ جولائی ۲۰۲۴ / ۱۱۴صفحات / قیمت درج نہیں۔
زیرِنظر خصوصی اشاعت کے پیش کنندگان کے نزدیک ‘محسن ملّت’ سے مراد شیخ محسن علی نجفی (۱۹۴۰ – ۲۰۲۴) کی ذاتِ گرامی ہے جو بلتستان کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے وطنِ مالوف میں حاصل کی تھی، تاہم مروجہ دینی درسیات کی تکمیل سندھ اور پنجاب کے دینی مدارس میں کی۔ آخر میں اعلیٰ تعلیم کے لیے نجف الاشرف (عراق) تشریف لے گئے جہاں انھوں نے دوسرے اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ آیۃ اللہ سیّد محمد باقر الصدر (م۱۹۸۰) اور آیۃ اللہ ابوالقاسم الخوئی (م۱۹۹۲) سے استفادہ کیا۔ قیامِ عراق ہی میں اپنی کاوش ‘‘النھج السوی فی معنی المولیٰ والولی’’ (عربی) کے توسط سے علمی حلقوں میں متعارف ہو گئے تھے۔ اُن کی اِس تالیف پر ‘‘الذریعہ الی تصانیف الشیعہ’’ کے مرتب، کتاب شناس اور فہرست نگار آقای بزرگ تہرانی (م۱۹۷۰) نے مقدمہ تحریر کیا تھا۔ اس کے بعد شیخ محسن علی نجفی کا قلم مسلسل متحرک رہا۔ اُن کی متعدد مؤلفہ و مصنّفہ اور مترجمہ کتابوں میں سرِفہرست کاوش اُن کی تفسیر ‘‘الکوثر فی تفسیر القرآن’’ ہے جس کی پہلی اشاعت (اگست ۲۰۰۵) دو جلدوں پر مشتمل تھی، اِس پر وہ مسلسل کام کرتے رہے اور انھوں نے اِسے دس جلدوں میں بارِدگر مکمل کیا۔ (لاہور: مصباح القرآن ٹرسٹ)
شیخ محسن علی نجفی نے عراق کے زمانۂ قیام میں سیّد محمد باقر الصدر جیسے اہلِ علم کے زیراثر یہ ذہن بنا لیا تھا کہ وطن عزیز کے دینی مدارس اپنے نصابات اور مدرسین کی صلاحیتوں کے اعتبار سے اصلاح طلب ہیں، اگر ماضی کی ڈگر پر چلنے والے بزرگ اپنی روش نہیں بدل سکتے تو ایسے جدید اداروں کی تأسیس و تشکیل ضروری ہے جن میں دینی علوم کو جدید علوم کے ساتھ آمیز کیا جائے، تاکہ اِن جدید تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل حضرات و خواتین، اگر ایک طرف اپنی شناخت کے اعتبار سے باشعور ہوں،تو وہیں دورِ جدید کے مسائل و تحدیات پر مجتہدانہ زاویۂ نظر سے غوروفکر کرسکیں۔ شیخ نجفی عراق سے واپس پاکستان آنے کے بعد جامعہ اہل بیت- اسلام آباد سے منسلک رہے، مگر اُن کی نظر اپنی تمناؤں کو عملی شکل دینے پر مرکوز رہی۔ اِس سلسلے میں جن اداروں کی داغ بیل ڈالی گئی، ان میں سرفہرست الخوئی فاونڈیشن پاکستان کے زیراہتمام کام کرنے والا ادارہ ‘‘جامعۃ الکوثر- اسلام آباد’’ ہے۔ ‘‘جامعۃ الکوثر’’ کی داغ بیل تو ۱۹۹۲ میں ڈال دی گئی تھی،مگر کم و بیش دس برس بعد ۲۰۰۲ میں اس نے اپنے علمی اور تعلیمی منصوبوں پر کام شروع کیا۔ جامعہ کے پہلے رئیس خود شیخ محسن علی نجفی تھے۔ انھوں نے اپنی نگرانی میں فروری ۲۰۲۱ میں ‘‘جامعۃ الکوثر’’ سے شش ماہی مجلے ‘‘الکوثر’’ کا اجراء کیا تھا جس کا آٹھواں شمارہ، اُن کی پہلی برسی کے موقعے پر اُن کی یاد میں مرتب کیا گیا ہے۔
زیرنظر شمارے میں شیخ مرحوم کی ‘‘الکوثر فی تفسیرالقرآن’’ کے حوالے سے تشریحی و توضیحی نوعیت کی یہ تحریریں شامل کی گئی ہیں: l ‘قرآن کی تفسیر میں آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی کے سائنسی افکار’ (رئیس اعظم) l ‘الکوثر فی تفسیر القرآن میں عائلی مباحث’ (حافظ فلک شیر) l ‘الکوثر فی تفسیر القرآن کے اسلوب و منہج کا تجزیاتی مطالعہ’ (عارف حسین) l ‘شخصیت و عظمت جناب سیّدہ سلام اللہ علیہما: تفسیر الکوثر کی روشنی میں’ (جمیل حسین) l ‘تفسیر کوثر کی تفسیری روش’ (محمد عسکری) l ‘علامہ شیخ محسن علی نجفی: ایک ہمہ جہت علمی و فکری شخصیت: تفسیر الکوثر کے تناظر میں’ (محسن رضا)
کیا ہی اچھا ہوتا کہ شیخ نجفی کی سوانح حیات اور اُن کی دوسری تالیفات کے بارے میں ایک جامع مقالہ بھی اِس خصوصی اشاعت کا حصہ ہوتا!
