(روایاتِ سیرت کی روشنی میں) حافظ عثمان احمد (مصنّف) / دارالکتاب، ۶-اے، یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار-لاہور / ۲۰۲۴ / ۲۱۱ صفحات / مجلد مع گردپوش، ۸۵۰ روپے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور اسلام کی تاریخ میں ہجرتِ مدینہ ایک انقلاب آفریں واقعہ تھا۔ اس کی یہ اہمیت ہی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سالِ ہجرت سے مسلم تقویم کا آغاز کیا، اور حضرت فاروقِ اعظم نے اپنے دورِ خلافت میں سرکاری مراسلت میں ہجری تقویم کے مطابق تاریخ کا اندراج لازم کر دیا تھا۔
انصارِ مدینہ کی بیعتِ عقبہ ثانیہ (۱۳نبوی) کے بعد صحابہ کرامؓ مشرکینِ مکّہ کی جانب سے پیدا کی گئی رکاوٹوں کے باوجود مدینہ ہجرت کرنے لگے تھے، حتیٰ کہ جلد ہی وہ وقت آگیا، جب مکّہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور اُن کے افرادِ خاندان، نیز حضرت علیؓ کے علاوہ وہ بے سہارا اور بے کس مسلمان رہ گئے تھے جو مشرکین کے پنجے میں بُری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سفرِ ہجرت کی خاطر دو اونٹنیاں (ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، اور ایک اپنے لیے) خرید رکھی تھیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے حکمِ خداوندی کے منتظر یہ دعا مانگا کرتے تھے: رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْراً (اے میرے پروردگار! مجھے جہاں سے لے جا، اچھی طرح لے جا، اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما دے۔ بنی اسرائیل ۱۷:۸۰)۔ دوسری طرف مشرکینِ مکّہ کے سرداروں نے باہمی صلاح و مشورہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جان سے مار ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ آخر وہ وقت آگیا، جب رات کی تاریکی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رفیقِ طریق حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ سفرِ ہجرت کا آغاز کیا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق جبلِ ثور کے ایک غار میں چھپ گئے۔ جب صبح ہونے پر مشرکینِ مکّہ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کرنے اور مستقلاً اُن کی نقل و حمل کی ٹوہ میں رہنے کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل گئے ہیں تو انھوں نے اپنے ہرکارے دوڑائے، اور وہ ہرکارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جاے پناہ غارِثور تک پہنچ گئے۔ اُس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جو اضطراب آمیز نفسیاتی کیفیت تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اطمینانِ قلب کی جو سطح تھی، اس کا ذکر ربِ جلیل نے رہتی دُنیا تک قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ محفوظ کر دیا ہے: اِلّا تَنْصُرُوْہ فَقَدْ نَصَرہُ اللّٰہ — عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (ترجمہ: اگر تم اُن [نبی صلی اللہ علیہ وسلم] کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے اُن کی مدد کی۔ اُس وقت جب کہ انھیں کافروں نے [دیس سے] نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا، جب کہ وہ دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اُس کی مدد کی، جنھیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے۔ اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے۔ التوبۃ ۹:۴۰)
مذکورہ پس منظر میں مفسرینِ کرام نے سورۃ التوبۃ کی مذکورہ آیت کی تفسیر و تشریح میں، سیرت نگاروں اور مورخین نے تاریخی واقعات و روایات نقل کرتے ہوئے، اور بعض جغرافیہ دانوں اور فریضۂ حج و عمرہ ادا کرنے والے اہل قلم نے اپنی سفری یادداشتوں میں اپنی پسند اور ترجیح کے مطابق غارِثور اور اس سے متعلق اطلاعات فراہم کی ہیں، مگر کم از کم اُردو میں ایسی کوئی کاوش تاحال سامنے نہیں آئی تھی، جس میں براہ راست غارِثور سے متعلق متداول و شاذ، مختلف و متناقض جملہ اطلاعات یک جا کی گئی ہوں، اور ان پر غوروفکر سے نتائج اخذ کیے گئے ہوں۔ جناب حافظ عثمان احمد کو اِس انداز کی ‘‘جزئیاتی سیرت نگاری’’ سے دلچسپی ہے اور اِس سلسلے میں وہ پچھلے چند برسوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواریوں (قصوا اور یعفور) پر مستقل بالذات کتابیں لکھ چکے ہیں، اِسی طرح ‘‘لعابِ مصطفی’’ اور ‘‘ناخنِ مصطفی’’ بھی اُن کی تحقیق و مطالعہ کا موضوع رہے ہیں۔
غارِ ثور کو موضوعِ مطالعہ بنانے کے سلسلے میں جنابِ مصنّف نے لکھا ہے: ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کے جسمِ اقدس کے ساتھ جس مقام یا شئے کو لمس و معیت کا شرف حاصل ہو، اُس کا متبرک ہونا یقینی ہے’’ (ص۱۴) اور ‘‘غارِثور نبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کا مقامِ قیام بھی ہے، مقامِ نماز بھی ہے، مقام مذکور فی القرآن بھی ہے، اس لیے اس سے تبرک پکڑنا مشروع اور سنتِ صحابہؓ ہے۔ اس کو تصنیف کا موضوع بنانا تبرک بآثار النبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کی ہی ایک صورت ہے۔’’ (صفحات ۱۶-۱۷)
زیرِنظر مطالعے میں ‘‘مقدمے’’ کے معاً بعد غاروں (caves) اور زیرِزمین غاروں (caverns) کی تشکیل کے بارے میں ماہرینِ ارضیات کے نظریے کی وضاحت کے لیے جناب تسلیم اشرف (سابق صدر شعبۂ ارضیات، وفاقی یونیورسٹی) کی ایک تحریر نقل کی گئی ہے۔ اس کے بعد مکّہ مکرمہ کے پہاڑوں اور ان پہاڑوں کی معروف غاروں کے مجمل ذکر کے بعد غارِثور کی تخلیق، اس کی وجہ تسمیہ، کیا غارِثور، غارِحرا سے افضل ہے؟ کیا ہابیل کو جبل ثور پر قتل کیا گیا تھا؟ اور اِس کی ہیئت اور محلِ وقوع پر گفتگو کی گئی ہے۔
آیت ثانئ اثنین (التوبہ ۹:۴۰) کی نسبت سے دو تحریریں l‘تفسیرِ قرآن میں تذکرۂ غارِثور’ (صفحات ۵۵-۶۷) lسیّدنا ابوبکرؓ کی غارِثور میں رسول اللہؐ سے مصاحبت پر شبہات کا جائزہ (صفحات ۱۳۳-۱۵۲) شامل کی گئی ہیں۔ ایک عنوان ‘روایاتِ ہجرتِ مدینہ اور غارِثور’ کے تحت بتایا گیا ہے کہ نبی اکرمؐ اور حضرت ابوبکرؓ کے غارِثور پہنچنے کی روایات میں بیان شدہ وقت میں کوئی تضاد نہیں، روایات کو بآسانی باہم تطبیق دی جاسکتی ہے۔ غارِثور میں قیام کی مدت میں اختلاف ہے، مگر راجح قول یہی ہے کہ نبی اکرمؐ کا قیام غارِثور میں دو روز اور تین راتوں پر محیط تھا۔ جو لوگ غارِثور میں نبی اکرمؐ کے قیام سے آگاہ تھے، اور اُن میں سے بعض کا دورانِ قیام میں آنا جانا تھا، اُن کی تعیین کی گئی ہے، نیز غارِثور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات اور اس دوران میں وقوع پذیر ہونے والے معجزات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
جناب مصنّف نے ایک مختصر اور اہم موضوع پر ‘‘غارِثور اور فقہ السیرۃ’’ کے زیرِعنوان بحث کی ہے، اور واقعات و روایات کی روشنی میں بعض فقہی احکام کے استنباط پر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے بطور تمہید لکھا ہے: ‘‘بالعموم فقہ السیرۃ سے مراد فہمِ سیرت اور اِس سے دروس و عبر کا حصول لیا جاتا ہے، لیکن راقم کے نزدیک فقہ السیرۃ کو روایات و واقعاتِ سیرت سے مسائلِ فقہیہ کے استنباط و استخراج کا علم سمجھنا زیادہ بہتر ہے’’ (ص۱۵۳)۔ ترکیب ‘فقہ السیرۃ’ میں لفظ ‘فقہ’ کو محض لغوی طور پر لیا جائے یا بطور اصطلاح، دونوں کی گنجایش موجود ہے، اور دونوں کا ماحصل بھی اہلِ قلم نے پیش کر دیا ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں حج کے سفرناموں اور مدحیہ شاعری میں غارِثور کے ذکر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان تحریروں کی حیثیت محض تعارف کی ہے، ہر دو موضوع مستقل بالذات مطالعے کے مستحق ہیں۔
کتاب پڑھتے ہوئے باربار جب پایۂ اعتبار سے ساقط، یا باہم مختلف اور متضاد روایات نظر سے گزرتی ہیں تو ذہن قاضی محمد سلیمان منصور پوری، علامہ شبلی نعمانی، سیّد سلیمان ندوی، ڈاکٹر محمد حمیداللہ اور اکرم ضیاء العمری جیسے سیرت نگاروں کی جانب جاتا ہے جنھوں نے حزم و احتیاط اور گہرے غوروفکر کے بعد راجح روایات کو اپنی کتبِ سیرت میں جگہ دی ہے۔
مکہ مکرّمہ اور مدینہ منورہ کے پہاڑ کس طرح وجود میں آئے تھے؟ اس بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اس کی نسبت راویوں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کردی ہے (صفحات ۴۰-۴۲)، مگر ان کا مبداء اسرائیلیات ہی معلوم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر غارِثور کو جاے پناہ کے طور پر چننے کا سبب یہ بتایا گیا ہے: ‘‘بعض اہلِ علم سے نبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کی طرف سے دیگر غاروں کو چھوڑ کر غارِثور میں پوشیدگی اختیار کرنے کی حکمت سے متعلق سوال کیا گیا تو جواب دیا گیا: نبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم اچھی فال لیتے تھے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زمین الثور کے سینگ پر ٹھہری ہوئی ہے، اس لیے اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے غارِثور میں قیام فرمایا۔ اطمینان و استقرار کی فال لیتے ہوئے جس کا آپ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم اور آپ کے رفیق نے قصد کیا تھا۔’’ (صفحات ۹۵-۹۶)
یہ وہی کہانی ہے جو سادہ لوح لوگ زلزلوں کے بارے میں بیان کرتے تھے کہ زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگ پر اٹھایا ہوا ہے، جب وہ زمین کو اپنے ایک سینگ سے دوسرے سینگ پر منتقل کرتا ہے تو زلزلہ آجاتا ہے۔ جناب مصنّف نے مذکورہ توجیہ تو ‘‘محض علمی لطیفہ’’ قرار دیتے ہوئے درج کی ہے، مگر روایت کے بیل کی وضاحت میں لکھا ہے: ‘‘یہاں ثور سے مراد بیل نہیں، بلکہ ایک فرشتہ ہے جس کا نام ثور ہے’’ (ص۹۶)۔ زمین بیل نے اپنے سینگ پر نہیں اٹھا رکھی، بلکہ سینگ والے فرشتے نے اٹھا رکھی ہے!
اگر ایسی روایات سے اجتناب برتا جائے تو زیادہ مفید ہو گا۔
یوں تو کتاب پوری خوش نمائی کی حامل ہے، مگر ‘‘مقدمہ’’ کے صفحہ ۱۹ کا کچھ حصہ اگلے صفحے پر مکرّر شامل کر لیا گیا ہے۔ ادارہ
