نامہ ہاے دور دراز

  محمد لقمان سعید و حافظ محمد حسّان سعید (مرتبین) / محمد اسحق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، جناح سٹریٹ، اسلامیہ کالونی، ساندہ-لاہور / ۲۰۲۴/ ۲۰۴ صفحات / مجلد، قیمت درج نہیں۔

مولانا محمد اسحق بھٹی (۱۹۲۵-۲۰۱۵) کا نام ‘‘نقطۂ نظر’’ کے قارئین کے لیے اجنبی نہیں، اُن کی متعدد تخلیقات پر مجلے میں تبصرے چھپے ہیں۔ مولانا بھٹی نے نوے برس کی طویل عمر پائی تھی اور کم و بیش ۵۶ برس ترتیب و ادارت اور تصنیف و تالیف کی دُنیا سے منسلک رہے تھے۔ انھوں نے مولانا محمد حنیف ندوی (م۱۹۸۷) کے ساتھ، مرکزی جمعیت اہل حدیث مغربی پاکستان کے ترجمان ہفت روزہ ‘‘الاعتصام’’ (جس کا اجراء ۱۹ ؍اگست ۱۹۴۹ کو گوجراں والا سے ہوا تھا، بعد میں دفتر لاہور منتقل کردیا گیا تھا) کے معاون مدیر کے طور پر اس وادی میں قدم رکھا تھا۔ مولانا محمد حنیف ندوی کے مئی ۱۹۵۱ میں ادارہ ثقافت اسلامیہ -لاہور سے وابستہ ہو جانے پر ‘‘الاعتصام’’ کی جملہ ادارتی ذمہ داریاں مولانا بھٹی کے کندھوں پر آگئی تھیں جو انھوں نے ۳۰ مئی ۱۹۶۵ تک بطریقِ احسن انجام دیں، البتہ درمیان میں ۲۵ جنوری ۱۹۵۸ سے اپریل ۱۹۵۹ تک انھوں نے اپنے ذاتی اخبار سہ روزہ ‘‘منہاج’’ (لاہور) کے اجراء و اشاعت کا تجربہ کیا تھا۔

اکتوبر ۱۹۶۵ میں مولانا بھٹی نے ادارہ ثقافت اسلامیہ – لاہور کی ملازمت اختیار کرلی، اور مارچ ۱۹۹۶ تک ادارے کے علمی منصوبوں کی تکمیل میں مصروف رہے، نیز ادارے کے ترجمان ‘‘المعارف’’ کی اضافی ادارتی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ سے الگ ہونے پر انھوں نے اپنی ذاتی تصنیفی دلچسپیوں کی تکمیل کا ارادہ کیا، اور اپنے منتخب معاصرین کے خاکوں پر مشتمل ایک مجموعہ ‘‘نقوشِ عظمتِ رفتہ’’ شائع کیا، جسے مثالی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اسی دوران میں جمعیت احیاء التراث الاسلامی (کویت) نے اُن کی خدمات حاصل کرلیں کہ وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں، یا لکھنا چاہتے ہیں، اِسے اہلِ حدیث مسلک کی تاریخ کے طور پر مرتب کرتے رہیں، چنانچہ انھوں نے ‘‘برصغیر میں اہل حدیث کی آمد’’ (۲۰۰۴)، ‘‘برصغیر میں اہل حدیث خدّام قرآن’’ (۲۰۰۵)، ‘‘برصغیر میں اہل حدیث کی اوّلیات’’ (۲۰۱۲)، ‘‘برصغیر میں اہل حدیث کی سرگزشت: تنظیم، تبلیغ، تدریس’’ (۲۰۱۲) اور ‘‘استقبالیہ و صدارتی خطبات’’ (۲۰۱۲) کے عنوانات سے کام کیا، مزید براں انھوں نے ‘‘نقوشِ عظمتِ رفتہ’’ کے طرز پر برعظیم کے اہل حدیث علماء کے سوانحی خاکوں پر مشتمل چند کتابیں تالیف کیں، اور بعض معروف بزرگوں کی مفصل سوانح عمریاں مرتب کیں۔

مولانا بھٹی نے اپنے طویل عرصۂ تصنیف و تالیف میں اپنے قارئین اور اہلِ قلم کی جانب سے ہزاروں مکتوب وصول کیے ہوں گے، بعض کو ‘‘الاعتصام’’ وغیرہ میں چھاپا ہو گا، اور ان کے جوابات بھی لکھے ہوں گے، بعض دفتری فائلوں کا حصہ بن گئے ہوں گے اور یاد پڑتا ہے کہ بعض اہلِ قلم کے مکتوبات ‘‘المعارف’’ میں انھوں نے خود اہتمام کے ساتھ شائع کیے تھے (مولانا سیّد محمد میاں اور مولانا ضیاء الدین اصلاحی کے مکتوبات کے لیے دیکھیے: ماہ نامہ ‘‘المعارف’’، بالترتیب جولائی ۱۹۸۳ و مئی ۱۹۸۴)۔ اب اُن کے باصلاحیت بھتیجے حافظ محمد حسّان سعید نے اُن کے نام آمدہ مکتوبات کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کا اہتمام شروع کیا ہے۔ بطورِ آغاز انھوں نے ‘‘نامہ ہاے دوردراز (نام ور محقق، مؤرخ اور سوانح نگار مولانا محمد اسحق بھٹیؒ کے نام منتخب بین الاقوامی مکاتیب کا مجموعہ)’’ کی زیرِنظر جلد پیش کی ہے جس میں ۱۹۵۶ سے لے کر اُن کی رحلت تک غیرملکی شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مکتوبات یک جا کیے گئے ہیں۔

مولانا بھٹی کے ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ سے وابستہ ہونے سے پہلے کے مکتوبات میں ‘‘منہاج’’ کے اجراء پر اُن کی رابطہ کاری اور معاصرین کا ردِعمل اہم ہے۔ انھوں نے جب سیّد محمد ازہر شاہ قیصر (م۱۹۸۵) مدیر ماہ نامہ ‘‘دارالعلوم’’ (دیوبند) اور مولانا عامر عثمانی (م۱۹۷۵) مدیر ماہ نامۂ ‘‘تجلی’’ (دیوبند) کو باہمی تبادلۂ جرائد اور اُن کے ماہ ناموں سے اخذ و اقتباس کی اجازت کے لیے لکھا تو ہر دو حضرات کے جوابات جہاں مثبت تھے، وہیں اُن کی سوچ اور زاویۂ نظر کے عکّاس بھی تھے۔ ہر دو حضرات نے تبادلۂ جرائد سے اتفاق کرتے ہوئے کھُلے دل سے اخذواقتباس کی اجازت دی، مگر ساتھ ہی پاکستان کی دینی و سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ بھی کیا۔ اوّل الذکر سیّد قیصر نے پاکستان کے داخلی انتشار اور اربابِ اقتدار کی غرض مندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ‘‘پاکستان کے بے غرض اخبار نویس اگر اپنی جدوجہد سے ان غرض مند اربابِ اقتدار پر کچھ کنٹرول کر سکیں تو یہ بڑی خیرہوگی’’ (مکتوب ۱۸ جنوری ۱۹۵۸: ۴۰)۔ مولانا عامر عثمانی ‘‘الاعتصام’’ کے قاری رہے تھے، اور اس کے مندرجات سے خصوصاً واقف تھے۔ اِس پس منظر میں انھوں نے مولانا بھٹی کو بایں الفاظ مشورہ دیا تھا:

میں کیا اور میر امشورہ کیا۔ آپ علم و فضل بھی رکھتے ہیں اور تجربہ بھی۔ بس اتنا نہایت ادب سے کہوں گا کہ جماعتِ اسلامی کے بارے میں دوستانہ اسپرٹ سے کام لیں تو اچھا ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تائید اور ہم زبانی کرنے لگیں۔ نہیں جو نظریاتی اختلافات آپ حضرات کو اس سے ہیں، انھیں اپنی جگہ رکھیے، مگر دائرۂ مخالفت میں مخالف اور متقابل بن کر سامنے نہ آیے۔ پاکستان میں خیر اور شر کے جو دو کیمپ قائم ہیں، ان میں بہرحال آپ کا اور جماعت اسلامی کا [مقام] کیمپ خیر میں ہے۔ شر جس قدر قوی اور مسلّح ہے، اِس کا تقاضا ہے کہ حاملینِ خیر اپنی تمام صلاحیتوں اور قوتوں کو شر کے استیصالی دفع میں صرف کریں، نہ کہ باہمی نزاع و بحث میں اپنے ضعف کو مضاعف کرتے چلے جائیں۔ (مکتوب ۱۹ جنوری ۱۹۵۸: ۱۲۷)

سہ روزہ ‘‘منہاج’’ کے اجراء کے ساتھ ہی ۲۲ فروری ۱۹۵۸ کو مولانا ابوالکلام آزاد کا انتقال ہو گیا تھا، متعدد دوسرے مدیرانِ جرائد کی طرح مولانا بھٹی نے بھی اپنے جریدے کا ‘‘آزادنمبر’’ شائع کرنے کا ارادہ کیا اور اِس مقصد کے لیے مولانا مرحوم کے نامور معاصرین اور دوسرے اہلِ قلم سے حصولِ مضامین کے لیے رابطہ کیا۔ مولانا عبدالماجد دریابادی (م۱۹۷۷) نے اسی پس منظر میں جواباً لکھا ہے:

یہ تیسری فرمایش ہے جو خاص ‘‘ابوالکلام نمبر’’ ہی کے لیے آچکی ہے۔ پہلی دہلی سے، دوسری لاہور سے اور تیسری بھی لاہور ہی سے، اور میرا اپنا پرچہ [صدق جدید] اِن سب کے علاوہ!

خدا کے لیے بتایے کہ کیا آسان صورت ان فرمایشوں کی تعمیل کی ہے؟ اور ابھی خدا معلوم کتنی آئیں گی! لایکلف اللہ نفساً اِلا وسعھا (البقرہ: ۲۸۶) شاید میرے لیے نہیں۔ (مکتوب ۲۱ مئی ۱۹۵۸:۱۵۵)

مولانا سیّد محمد میاں (م۱۹۷۵) نے لکھا: ‘‘ارشاد گرامی کی تعمیل کروں گا (ان شاء اللہ)، مگر مبادلہ پر، یعنی جناب والا ‘الجمعیۃ’ کے ‘امیرالہندنمبر’ کو مضمون عنایت فرمائیں۔’’ (‘‘المعارف’’، جولائی ۱۹۸۳:۴۸۔ یہ مکتوب اور ایک دوسرا مطبوعہ مکتوب جناب مرتب کی نظر سے نہیں گزر سکا، اس لیے ‘‘نامہ ہاے دوردراز’’ میں شامل نہ ہو سکے۔)

غالبا ‘‘منہاج’’ کا کوئی ‘‘ابوالکلام آزاد نمبر’’ شائع نہ ہو سکا تھا، پنجاب یونیورسٹی – لاہور کے شعبۂ تاریخ کے پروفیسر محمد اسلم (م۱۹۹۸)، اُن دنوں ڈرہم یونیورسٹی (برطانیہ) میں عربی اور علوم اسلامیہ کی تکمیل کر رہے تھے، انھیں بھی ‘‘منہاج’’ کے لیے لکھنے پر آمادہ کیا گیا۔ اُن کے مکتوب سے ‘‘منہاج’’ کے خیرخواہوں کے بارے میں کچھ سُن گن ملتی ہے۔ پروفیسر محمد اسلم نے لکھا ہے:

— گزشتہ ماہ لاہور سے حافظ عبدالقادر روپڑی اور حافظ اسمٰعیل سلفی صاحبان کے پیغامات مولوی محمد رفیق عارف مقیم مسجد قدس کی معرفت ملے کہ میں ‘‘منہاج’’ کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لکھ دیا کروں، لیکن میں نے عدمِ فرصت کا معقول عذرپیش کیا۔ اور یہ ہے بھی حقیقت کہ اِس دیارِفرنگ میں مجھے سلسلۂ تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے فکرِ معاش بھی کرنی ہوتی ہے، اور اِ ن دونوں سلاسل کو بیک وقت جاری رکھنا ہی بڑا اہم کام ہے، اور دشوار بھی ہے، چہ جاے کہ میں مضمون نویسی کے لیے وقت نکالوں، لیکن ‘‘منہاج’’ کا مطالعہ کرنے کے بعد اور مولانا محی الدین صاحب لکھوی مدظلہ کی تحریک کے بارے میں معلومات پہنچنے پر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اِس کارِخیر میں —شریک ہونا فرض واجب ہے، چنانچہ اپنی قلمی خدمات خوش نودی باری تعالیٰ کی خاطر آپ کو پیش کرتا ہوں، اور آیندہ گاہے گاہے کچھ نہ کچھ اشاعت کے لیے ضرور بھیجتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ (مکتوب ۲۱ مارچ ۱۹۵۹: ۲۲۹)

واللہ اعلم پروفیسر محمد اسلم کی کوئی تحریر ‘‘منہاج’’ کے صفحات کی زینت بن سکی تھی یا نہیں، کیوں کہ اپریل ۱۹۵۹ میں جریدے کی اشاعت رُک گئی تھی۔

ہندوستان کے اہلِ قلم میں سے قاضی اطہر مبارک پوری، سیّد صباح الدین عبدالرحمن، ضیاء الدین اصلاحی، محمد-ڈی-احمد، مسعود انور علوی کاکوروی، مالک رام اور محمد اقبال انصاری سے بھٹی صاحب کا ربط و تعلق ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، اور اِس کے مجلے ‘‘المعارف’’ کی نسبت سے تھا۔ آخرالذکر دو مکتوب نگاروں کے علاوہ باقی سب کا ایک ایک مکتوب ہی مجموعے کی زینت ہے۔ اِسی طرح کراچی یونیورسٹی – کراچی کے پروفیسر محمد طاہر ملک ہیں جو ‘‘المعارف’’ کے مضمون نگار تھے، اور جب اُنھوں نے شاملِ مجموعہ مکتوب ارسال کیا تھا تو یونیورسٹی آف سکوٹو- نائیجیریا سے وابستہ تھے۔

ضیاء الدین اصلاحی نے مولانا بھٹی کی ایک تحریر ‘‘مشاہیر کے تین غیرمطبوعہ مکتوبات’’ (‘‘المعارف’’، مارچ ۱۹۸۴) کے ایک حاشیے کی وضاحت میں مولانا حسرت موہانی کے جریدے ‘‘مستقل’’ کے بارے میں اطلاعات فراہم کی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا تھا: ‘‘مولانا حسرت موہانی پر ہندوستان میں کافی کام ہوا ہے۔ گورکھ پور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے اُستاد ڈاکٹر احمر لاری نے مولانا پر ڈاکٹریٹ کی ڈِگری لی ہے، ان کا تحقیقی مقالہ برسوں پہلے چھپ چکا ہے۔ لاری صاحب نے اس کے علاوہ بھی حسرت پر کام کیا ہے اور ان کی کئی کتابیں بھی اس موضوع پر شائع ہوئی ہیں۔’’ (مکتوب ۴ اپریل ۱۹۸۴: ۹۳-۹۴)۔ مولانا بھٹی نے ڈاکٹر احمرلاری کی کتاب کے لیے اپنے ہندوستانی دوستوں کے ذرائع استعمال کیے، ایک جگہ سے تو عدمِ دستیابی کی اطلاع آئی (ص ۲۳۲)، مگر دوسرے دوست نے کتاب لاہور پہنچا دی تھی۔ (ص ۲۵۷)

ہندوستان کے مکتوب نگاروں کی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفی – اہلِ حدیث امتیازی مسائل پر متشدّد افراد اپنے ذوق اور روایت کے مطابق مصروفِ کار، بلکہ مصروفِ پیکار تھے، نیز خود اہلِ حدیث حلقوں میں، پاکستان کی طرح ایسے افراد موجود ہیں جو بعض بزرگوں کی ذاتی آراء کی بنیاد پر انھیں اہلِ حدیث حلقے سے خارج کرنے پر تُلے رہتے ہیں، جب کہ مولانا محمد اسحق بھٹی کے زاویۂ نظر کے مطابق مولانا غلام رسول (قلعہ میہان سنگھ والے) اور غزنوی بزرگوں کی اصلاحی اور ذکراذکار کی روایات سے تمسک کیا جانا چاہیے۔ مولانا رفیق احمد رئیس سلفی نے جہاں متشدد اہلِ حدیث دوستوں سے اپنی برأت کا اظہار کیا ہے، وہیں لکھا ہے:

تزکیہ و احسان کے حوالہ سے جو گفتگو غزنوی علماء کے تذکروں میں ہے، ہم اِسے ‘‘تصوف’’ کے نام سے جانتے ہیں۔ تصوف چوں کہ ہمارے یہاں مطعون ہے، اس لیے ہمارے حلق سے کوئی بات نیچے نہیں اُترتی، حالاں کہ ذاتی زندگی میں تزکیہ و احسان کے ذریعہ جو نکھار آتا ہے، اس سے ہم کلیۃً محروم ہو چکے ہیں۔ خلوص و للہیت کے مفاہیم بھی شاید اب بدل گئے ہیں، ذکرو اذکار اور وظائف شریعت میں مطلوب ہیں، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ان میں سے کوئی ایک کام نہیں کرتے، اِس لیے اِس کو پڑھنے اور سُننے کی تاب بھی نہیں رکھتے۔ (ص۵۶)

مولانا محمد عزیز شمس نے مولانا محمد اسحق بھٹی کی تحریروں کے اسی پس منظر میں اُن کی تحسین کی ہے:

جدید دور میں طلبہ اور اہلِ علم کی علمی و اخلاقی تربیت از بس ضروری ہے۔ مدارس و جامعات میں شذوذ و تفرّد، نفرت و دشمنی، قتل و تشدّد، تکفیر و تفسیق، کبروغرور، استہزاء و تمسخر کے بجاے اتفاق و اتحاد، اخوت و محبت، تواضع و انکسار، احترام و توقیر، ایثار و قربانی، عفو و درگزر جیسی صفات اور اخلاقِ حسنہ کے حامل رحماء بینھم افراد تیار کرنے کی ضرورت ہے جن سے پوری اُمت کو فائدہ ہو، جو صرف کسی مخصوص مسلک کے لوگوں کے امام نہ ہوں، بلکہ سارے متقین کے امام ہوں اور سبھی کے لیے قدوہ و نمونہ۔ نیک لوگوں کی صحبت اور عظیم شخصیات کے حالات و خدمات اور علمی و عملی کیفیات سے واقفیت اِس طرح کی تعلیم و تربیت کا واحد ذریعہ ہے۔ آپ نے الحمدللہ اس باب میں بے نظیر کام کیا ہے، اور نئی نسل والوں کی اصلاح و راہ نمائی کے لیے بہت کچھ مواد فراہم کر دیا ہے۔ (ص۲۵۴)

مولانا بھٹی کے ہندوستانی مکتوب نگاروں نے جہاں اُن سے اپنی محبت اور لگاؤ کا اظہار کیا ہے، اُنھیں ہندوستان کے اہل حدیث بزرگوں کے احوال و آثار پر تحریریں مہیّا کیں جو اُن کی تذکرہ نگاری کے لیے خام مال کی حیثیت رکھتی تھیں، اور انھوں نے اپنے مختلف تذکروں (‘‘دبستانِ حدیث’’، ‘‘ارمغانِ حدیث’’ وغیرہ) کا انہیں حصہ بنا دیا تھا۔ اس تعاون کے ساتھ اگر انھیں مولانا کی تحریروں میں کوئی اطلاع درست محسوس نہ ہوئی تو اس کی نشان دہی بھی کردی ہے، مولانا بھٹی کی یہ عادت تھی کہ درست اطلاعات کے موصول ہونے پر کتابوں کے ذاتی نسخوں میں تبدیلی نوٹ کرلیتے تھے، تاکہ آنے والی طباعت اغلاط سے مبرا ہو جائے۔ اُن کے ہندوستانی دوست انھیں اپنے ہاں بُلاتے رہے، جن میں ہندوستان کے صدر گیانی ذیل سنگھ بھی شامل تھے، (جو اُن کے آبائی وطن فریدکوٹ میں، حصول آزادی سے پہلے کے سیاسی ساتھی تھے)، مگر بھٹی صاحب کے لیے ان دعوتوں پر ہندوستان جانا مقدر نہ تھا، البتہ اُن کی متعدد کتابیں ہندوستان کے ناشرین نے شائع کیں، جو مقبول بھی ہوئیں۔

مشاہیر اہلِ علم کے مکتوبات ہمیشہ معلومات افزا ہوتے ہیں۔ زیرِنظر مجموعے میں بھی مشاہیر نے بعض ضروری اطلاعات فراہم کی ہیں۔ مثال کے طور پر lجناب بہاء الدین کی مرتبہ ‘‘تاریخِ اہل حدیث’’ کی دس جلدیں شائع ہو چکی ہیں، ایک صاحب نے اس کتاب کے حوالے سے مجمل سی اطلاع دی ہے کہ: ‘‘ڈاکٹر بہاء الدین صاحب نے — ثابت کیا ہے کہ سرسیّد نے اپنے نظریات سے آخر میں رجوع کر لیا تھا۔’’ (ص۱۹۱)  واللہ اعلم حقیقت کیا ہے! l مولانا محمد اسحق بھٹی کی مرقومہ سوانح حیات ‘‘تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری’’ میں دی گئی اطلاعات سے اختلاف کرتے ہوئے اُن کے نسب کے حوالے سے جناب نورالحسن راشد نے انھیں صدیقی الاصل قرار دیا ہے (صفحات ۲۷۳ – ۲۷۵)۔ lمالک رام نے مولانا آزاد کے مکتوبات کی ترتیب و تدوین کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا جس کی ایک جلد شائع ہوئی تھی، مگر ۱۹۸۹ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اِس پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے اور اُن کے بقول: ‘‘میں [مولانا] مرحوم کے خطوط مرتب کر رہا ہوں اور کام مکمل ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔’’ (ص۲۲۶) l اترپریش (بھارت) میں نیپال کے قریب اہل حدیث کے معروف ‘‘مدرسہ سراج العلوم – جھنڈا نگر (ضلع سدارتھ نگر)’’ کی تاریخ  ‘‘سرگزشتِ جامعہ’’  مولانا شمیم احمد ندوی نے دو جلدوں میں مرتب کی ہے جس کی مجموعی ضخامت ایک ہزار صفحات سے زائد ہے۔ l جناب فیصل احمد بھٹکلی ندوی نے مولانا محمد عمران خان کی مرتبہ کتاب ‘‘مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں’’ کا ایک محققہ ایڈیشن شائع کیا ہے۔ (ص۲۱۶)

حافظ محمد حسّان سعید ایک باصلاحیّت نوجوان ہیں، اور اپنے بزرگ مولانا محمد اسحق بھٹی کی تصنیفی روایت قائم رکھنا چاہتے ہیں، مگر ابھی ان کے ہاں اطلاعات کی وہ پختگی نہیں جو وقت کے ساتھ آتی ہے۔ اس پہلو سے بعض مسائل سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر مشاہیر کے مکتوبات کی اہمیت کے حوالے سے انھوں نے بیرسٹر عبدالعزیز مالواڈہ (م۱۹۷۱) کے نام لکھے گئے ذخیرۂ مکتوبات کا ذکر کیا ہے، جو ان کی اطلاع کے مطابق ضائع ہو گیا ہے، (یا کم از کم اس کے بارے میں اب کوئی یقینی اطلاع دستیاب نہیں)، حالانکہ اِس کا ایک انتخاب ادارہ ثقافتِ اسلامیہ- لاہور کی جانب سے مولانا بھٹی کی وساطت سے شائع ہو گیا تھا۔

‘‘نامہ ہاے دور دراز’’ میں در آنے والی اغلاط کا ذکر اولاً مکتوب نگاروں کی سہونگاری سے کیوں نہ کیا جائے! ۱۹۶۷ میں دُنیا میں تشریف لانے والے ایک صاحب نے ‘‘نقوشِ عظمتِ رفتہ’’ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن کی تحریک سے وابستہ خواجہ عبدالحی فاروقی (م ۸جنوری ۱۹۶۵) کے بارے میں مصنّفِ کتاب کو اطلاع دی تھی:‘‘اس کتاب میں گرامی والا خواجہ عبدالحی صاحب فاروقی رحمہ اللہ کا تذکرہ پڑھا، اُن سے اس سیہ کار کی، چند سالوں پہلے اینگلو عربک اسکول دہلی کے ایک کہنہ کمرے میں ملاقات ہوئی تھی۔ — جناب والا کی کتاب میں اُن کی بابت یہ علم ہوا کہ فاروقی صاحب حضرت شیخ الہند کے شاگرد اور اُن کی تحریک میں شریک رہے۔ یہ پڑھ کر جیسے ذہن و دماغ پر شدید چوٹ لگی۔ کاش! اُس وقت علم ہوتا تو خواجہ صاحب کے سامنے صحاح کی چند احادیث کی تلاوت کرکے ان سے سندِ حدیث حاصل کر لیتا — (ص ۱۴۷)۔

غائب دماغی کا عجوبہ ہے کہ مکتوب نگار ‘‘۱۹۴۷ کی کھیپ سے تعلق رکھنے والی شخصیات’’ کا ۲۰۰۴ میں زندہ ہونا بعید خیال کرتے تھے، مگر پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴ – ۱۹۱۸) کے دور کے فارغ التحصیل علماء کو چند سال پہلے تک حیات بھی سمجھتے تھے۔ مزید براں جب کسی عبدالحی فاروقی سے اُن کی ملاقات ہوئی تھی تو انھوں نے اُن کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش بھی نہ کی تھی!

واللہ اعلم یہ بے پرکی کیسے پھیل گئی ہے کہ اہل تشیع میں حافظ قرآن نہیں ہوتے، اور اہل حدیث کی صفوں میں شاعر نہیں ملتے۔ غالباً اِسی پس منظر میں مولانا محمد اسحق بھٹی نے اہل حدیث شعراء کے بارے میں اطلاعات جمع کرنا شروع کی تھیں۔ علی گڑھ میں مقیم ایک دوست نے انھیں سات آٹھ صاحبِ دیوان شعراء کے نام بھجوائے۔ سرِفہرست نام کو ‘‘خضا ابن خضا’’ پڑھا گیا ہے۔ اصلاً یہ صاحب مؤناتھ بھنجن کے معروف شاعر فضا ابن فیضی (۱۹۲۳-۲۰۰۹) ہیں۔ جن کی غزلوں، نظموں، رباعیوں اور حمدونعت کے چھے سات مجموعے چھپے ہیں۔ یہی شاعر ہیں جنھوں نے جامعہ سلفیہ-بنارس کے طلبہ کا ترانہ لکھا ہے جس کا ایک شعر ہے:

چمن چمن بشارتِ نسیمِ جاں فزا ہیں ہم                       کہ گلشنِ رسولؐ کے طیورِ خوش نوا ہیں ہم

فضا ابن فیضی کے نام کی طرح مولانا زبیرعلی زئی (صفحات ۷۰-۷۱) اور ابو سلمان شاہ جہاں پوری (ص۲۶۲) کے نام،صفاتِ نسبتی سہسوانی (صفحات ۱۸۹-۱۹۰) اور کاکوروی (صفحات ۲۶۶- ۲۶۷)، مقامات  مہندیوں (ص۳۹)، بردوان (ص۱۴۹) اور آرہ (ص۲۶۵) اور کتابوں میں ‘‘محاسن موضح قرآن’’، (ص۳۸) اور ‘‘ظفر اللاضی بما یجب فی القضاء علی القاضی’’ (ص۲۱۰) کے نام درست نہیں لکھے جا سکے، نیز عنایت اللہ بلوچ اور نثار احمد فاروقی کے مقالاتِ تحقیق کے مکمل نام درج نہیں کیے جا سکے۔ فاروقی صاحب کے عنوانِ مقالہ کے اہم ترین لفظ historiography کا ترجمہ تاریخ نگاری کے بجاے ‘تاریخ سازی’ تو ایک بڑی غلطی ہے۔ ضیاء الدین اصلاحی (ولادت: ۱۹۳۷) کو مولانا حمید الدین فراہی کا ایک لائق ترین شاگرد قرار دیا گیا ہے، جب کہ مولانا فراہی اُن کی ولادت سے چھے سات سال پہلے ۱۱ نومبر ۱۹۳۰ کو دُنیا سے تشریف لے جا چکے تھے۔

مجموعۂ مکاتیب ‘‘نامہ ہاے دور دراز’’ سفید کاغذ پر چھپا ہے اور لائقِ مطالعہ ہے۔