سیّد شبیر حسین شاہ زاہد /گوشۂ محققین، ہاؤسنگ کالونی – ننکانہ صاحب / ۲۰۲۳ / ۲۶۶صفحات / مجلد مع گرد پوش، ۱۰۰۰ روپے
جناب سیّد شبیر حسین شاہ زاہد کی پہچان اسلامیات کے اُستاد کی تھی، اِس حوالے سے اُن کی چند کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت کے موضوع پر اُن کی نعتوں کا زیرنظر مجموعہ ‘‘نعتِ ختم نبوتؐ’’ دیکھ کر خوش گوار حیر ت ہوئی۔ یہ مجموعہ پہلی بار ۲۰۲۲ میں شائع ہوا تھا، اور ایک برس کی مختصر مدت میں دوسری بار شائع ہوا۔ جناب زاہد نے اپنے ‘‘کلام فرحت انجام’’ (ص۱۲) اور بالخصوص نعت گوئی کی نزاکتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اُن حضرات کا بالخصوص ذکر کیا ہے جنھوں نے اُنھیں اپنے مشوروں سے نوازا، اور کلام کی نوک پلک درست کرنے میں مدد دی ہے۔ مجموعے کا بڑا حصہ منظوم ہے، اور اس دعوے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ ‘‘عقیدۂ ختمِ نبوت کے موضوع پر نعتیہ تاریخ کا پہلا مجموعہ’’ ہے۔ یہ اُن کی حُب نبوی کی دلیل ہے، اور اُن ملعون افراد کے خلاف اُن کے بغض للہ کا اظہار ہے جن کا سلسلہ حسبِ پیش گوئی مسیلمہ کذاب اور اسود غسی سے مرزا غلام احمد قادیانی تک چلا آرہا ہے۔ وہ اپنے کلام کو تو ‘‘معیاری’’ نہیں سمجھتے، البتہ اس میں جاری و ساری روح کو اپنا اثاثۂ ایمان قرار دیتے ہیں۔ جناب ریاض احمد قادری (ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ انگریزی، گورنمنٹ گریجویٹ کالج، سمن آباد – فیصل آباد) نے اپنی تقریظ میں لکھا ہے کہ سیّد شبیر حسین شاہ زاہد نے ‘‘نعتِ ختم نبوت’’ لکھ کر: ‘‘جیتے جی جنت خرید لی ہے اور عصرِ حاضر میں اتنی شاندار نعتیں تخلیق کرکے تحریکِ ختم نبوت کے میدان میں جہاد کیا ہے۔’’ (ص۲۱)
کتاب کا حصۂ نعت پیش کرنے سے پہلے عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت میں انھوں نے اپنا مفصل مقالہ نقل کیا ہے (صفحات ۳۷-۸۶) جس میں انھوں نے بلااختلافِ مسلک اہل سنت مکاتبِ فکر کے علماء کی تحریروں سے استشہاد کیا ہے، اگرچہ اُن کے ہاں مولانا احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے، وہ اُن کے معاصر کسی دوسرے عالم کے لیے مختص نہیں۔ سرسری ورق گردانی میں کتابت کی غلطیوں کے ساتھ یہ سہوِ قلم سامنے آیا ہے کہ پیر سیّد مہرعلی شاہ گولڑوی کی سوانح حیات ‘‘مہرمنیر’’ کو سہواً اُن کا مجموعۂ ملفوظات لکھ دیا گیا ہے۔ (ص۸۶)
مجموعے کا حصۂ منظومات عمومی نعتوں، میلادیہ نعتوں، درود و سلام اور ترانہ ہاے ختم نبوت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصے سے ایک ایک یا دو دو اشعار نقل کیے جاتے ہیں:
دو عمومی نعتوں کے مطلعے یہ ہیں:
مکرّم معظّم ہیں سب انبیاء، اب آخر میں ان کا امام آگیا
مہکنے لگی کل جہاں کی فضا، اب آخر میں اُن کا امام آگیا
سارا جہاں پکارا، ختم الرسل محمدؐ سب کا حسین سہارا ختم الرسل محمدؐ
پہلی میلادیہ نعت کا مطلع اور مقطع یہ ہیں:
ہو مبارک اوّلین و آخریںؐ پیدا ہوئے جانِ عالم رحمۃ للعالمیں پیدا ہوئے
آپ کی آمد نے نیکی کا اجالا کر دیا خوش ہوا، اے زاہدؔ، وہ صادق امیں پیدا ہوئے
درود و سلام کا ایک بند دیکھیے:
نبی ذی حشمؐ، وہ رسول الکرم ہیں میرِ عرب، وہ امامِ امم
خدا کی طرف سے وہی محترم عرب اُن پہ قرباں، فدا ہے عجم
ہوں اُنؐ پہ کروڑوں درود و سلام
‘‘نعتِ ختم نبوتؐ’’ سفید کاغذ اور جاذبِ نظر سرورق کے ساتھ مناسب اہتمام سے پیش کی گئی ہے۔
واہ کینٹ سیّد محمد عبداللہ قادری
