سہ ماہی ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ (علی گڑھ) کا پاکستانی ایڈیشن

اگست ۱۹۴۱ کو جماعتِ اسلامی کی تأسیس،امتِ مسلمہ اور بالخصوص مسلمانانِ ہند کو درپیش علمی و فکری چیلنجوں کے پس منظر میں ہوئی تھی۔ قومیت پرستی اور اشتراکیت سے عامۃ الناس ہی نہیں، بلکہ علماء کرام کے بعض حلقے بھی ان نظریات کی گرفت میں آچکے تھے۔ اس کے ساتھ نوآبادیاتی طاقتوں کی گرفت اپنے زیرِاثر علاقوں پر کمزور پڑ رہی تھی، اور برعظیم میں مستقبل کی صورت گری میں اسلامی احیاء و تجدید کا غلغلہ بتدریج بڑھ رہا تھا۔ احیاء دین کے تقاضوں پر سوچ بچار جاری تھی، اور اِس سوچ بچار میں ایک توانا آواز سیّدابوالاعلیٰ مودودی کی تھی۔

مختصر جدوجہد کے بعد برعظیم کو آزادی مل گئی اور برعظیم دو آزاد و خودمختار مملکتوں ہندوستان اور پاکستان کی شکل میں تقسیم ہو گیا۔ نوآزاد ہندوستان کے وہ مسلمان جو جماعت اسلامی کے ہمدرد اور خیرخواہ تھے، انھوں نے اپنے حالات کے مطابق احیاء دین کی جدوجہد کے لیے اپنی نئی تنظیم ‘جماعتِ اسلامی ہند’ قائم کی، اور الحمدللہ مشکلات اور گمبھیر مسائل کے باوجود ‘جماعت اسلامی ہند’ مسلم کمیونٹی اور بحیثیتِ مجموعی ملکی سطح پر اپنی معاشرتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔

جماعتِ اسلامی ہند نے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی اختیارکردہ علمی روایت کے مطابق آغازِکار ہی سے تصنیف و تحقیق کو اہمیت دی، اور اِس مقصد کے لیے باقاعدہ الگ شعبہ قائم کر دیا جسے بعد میں ‘‘ادارۂ تصنیف’’ کا نام دیا گیا۔ ۱۹۷۰ میں یہ ادارہ علی گڑھ منتقل کر دیا گیا۔ ۱۹۸۱ میں اسے ایک آزاد و خودمختار ادارے کی شکل دے کر ‘‘ادارۂ تحقیق و تصنیفِ اسلامی-علی گڑھ’’ کے نام سے رجسٹرڈ کرالیا گیا۔

ابتداء میں ادارے کے سربراہ بالترتیب مولانا صدر الدین اصلاحی (م۱۹۹۸) اور مولانا محمدفاروق خاں (م۲۰۲۳) رہے۔ اُن کے ساتھ مولانا سیّدجلال الدین عمری (م۲۰۲۲) نے بطور سیکرٹری کام کیا، بعد ازاں مولانا عمری کو ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا، اور اُن کے ہم راہ ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی (م۲۰۱۱) اور مولانا صفدر سلطان اصلاحی (م۲۰۲۲) بطور سیکرٹری کام کرتے رہے۔ آخرالذکر کی حادثاتی موت پر جناب محمد رضی الاسلام ندوی نے سیکرٹری کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

۱۹۸۲ میں ادارے نے تصنیف و تالیف، اور دینی و عصری اداروں کے باصلاحیت فارغ التحصیل نوجوانوں کی تربیّت کے ساتھ ساتھ سہ ماہی ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کا اجراء کیا۔ مؤسس مولانا جلال الدین عمری کی ادارت میں ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ نے قلیل مدت ہی میں علومِ اسلامیہ کے وقیع اُردو مجلات میں اپنا منفرد مقام بنا لیا۔ اس موقع پر نامناسب نہ ہو گا کہ مولانا عمری کے بارے میں چند بنیادی اطلاعات پیش کر دی جائیں۔

مولانا عمری جنوبی ہندوستان کی ریاست تامل ناڈو کے سابق ضلع شمالی ارکاٹ میں ۱۹۳۵ میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جامعہ دارالسلام-عمرآباد (تأسیس: ۱۹۲۴) سے سندِ فضیلت حاصل کی (۱۹۵۴)، اور اسی نسبت سے ‘‘عمری’’ اُن کے نام کا حصہ بن گیا تھا۔ انھوں نے مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور ‘‘ منشی فاضل’’ کی سند حاصل کی تھی جس کے بعد انھوں نے صرف انگریزی زبان کا امتحان دے کر مسلم یونیورسٹی-علی گڑھ سے بی-اے کی سند حاصل کرلی تھی۔ جماعتِ اسلامی ہند کے مختلف ذمہ دارانہ مناصب پر فائز رہے، اور ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۹ تک انھوں نے کل ہند امیرِ جماعت کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ انھوں نے متعدد کتابیں یادگار چھوڑی ہیں جن میں ‘‘معروف و منکر’’، ‘‘عورت: اسلا می معاشرے میں’’، ‘‘اسلام میں خدمتِ خلق کا تصوّر’’ اور ‘‘غیرمسلموں سے تعلقات اور اُن کے حقوق’’ نے بڑی مقبولیت حاصل کی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: اشہد رفیق ندوی و رفقاء، ‘‘مولانا سیّد جلال الدین عمری: افکار و آثار’’، علی گڑھ: ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، ۲۰۲۳)

ادارہ تحقیق و تصنیفِ اسلامی کی سرگرمیوں اور سہ ماہی ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کی ادارتی ذمہ داریوں میں مولانا محمد رضی الاسلام ندوی، مرحوم سیّد جلال الدین عمری کے معاون تھے۔ اُن کی رحلت کے بعد مولانا محمد رضی الاسلام ندوی نے صدرِ ادارہ کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، اور ان دنوں اُن کے ساتھ مولانا اشہد جمال ندوی بطور سیکرٹری ادارہ کام کر رہے ہیں۔

پاکستان میں ادارہ تحقیق و تصنیفِ اسلامی کی مطبوعات اسلامک ریسرچ اکیڈمی-کراچی کی جانب سے شائع ہو رہی تھیں۔ سہ ماہی ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ انٹرنیٹ پر دستیاب تھا، مگر وہ حضرات جنھیں انٹرنیٹ کی سہولت میسّر نہیں، یا کمپیوٹر سکرین پر پڑھنے کے عادی نہیں، اور کتاب/ مجلہ ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا ذوق رکھتے ہیں، وہ اِس کے مطالعے سے اِس لیے محروم تھے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ڈاک کے آنے جانے کا نظام کئی برسوں سے معطّل ہے۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کی عکسی اشاعت (reprint) کا سلسلہ جنوری ۲۰۲۴(جلد ۴۳، شمارہ۱) سے شروع کیا ہے۔ اِس کے تین شمارے ہماری نظر سے گزرے ہیں۔ ان کے مندرجات کا تعارف ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ میں دین اسلام اور تہذیب اسلامی کے جملہ پہلووں پر تحریریں شائع ہوتی ہیں۔ اِس کے مستقل عنوانات میں اداریہ (بہ عنوان ‘‘حرفِ آغاز’’)، تعارف و تبصرہ، خبرنامہ ادارۂ تحقیق و تصنیفِ اسلامی اور مضامین کا انگریزی خلاصہ شامل ہیں۔ اداریے کے لیے صفحات کی تعداد معین نہیں ہے، البتہ باقی تینوں عنوانات کے لیے بالترتیب دو دو اور آٹھ صفحات مقرّر ہیں۔

اولاً تینوں شماروں کے محتویات پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے:

m شمارہ بابت جنوری-مارچ ۲۰۲۴  lحرفِ آغاز [اداریہ] طبِ نبوی کی شرعی حیثیت (محمد رضی الاسلام ندوی) lقرآنیات میں بعض مستشرقین کے افکار کا محاکمہ: پروفیسر ظفر اسحق انصاری کی تحریروں کا مطالعہ (ضیاء الدین فلاحی) lبین مذاہب مکالمہ اور اس کی جہات (محمد جرجیس کریمی) lخبرِ واحد کی حجیت (فرحان ارشد) lسونا چاندی ملا کر نصاب کی تکمیل lتعارف و تبصرہ [‘‘نیل المراد’’ منظوم اردو ترجمانی قصیدہ بانت سعاد – رئیس احمد نعمانی] (محمد جرجیس کریمی)

m شمارہ بابت اپریل-جون ۲۰۲۴  lحرفِ آغاز، ‘مخنث کے حقوق اور احکام’ (محمد رضی الاسلام ندوی) l ایک نیا ترجمہ ‘قرآن و تفسیر: نقدونظر’ [ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کا انگریزی ترجمۂ قرآن] (عبدالرحیم قدوائی) l ‘اصطلاحاتِ قرآن کی جامع تشریح’ [مولانا سیّد حامد علی کی تحریروں کا مطالعہ] (عبیداللہ فہد فلاحی) l ‘مہدی منتظر سے متعلق روایات: ایک تجزیہ’ (محمد سلیم قاسمی) l‘انشورنس کی شرعی حیثیت’ (کمال اختر قاسمی) l ‘تعارف و تبصرہ’ [‘‘علوم القرآن’’ -مولانا گوہر رحمن] (محمد انس فلاحی مدنی)

m شمارہ بابت جولائی – ستمبر ۲۰۲۴  lحرفِ آغاز، ‘بیوی کے ساتھ زبردستی مباشرت: اسلام کا نقطۂ نظر’ (محمد رضی الاسلام ندوی) l ‘خواتین کے ذریعے قرآن مجید کے انگریزی تراجم: ایک جائزہ’ (عبدالرحیم قدوائی) l ‘تفہیم القرآن میں ربطِ آیات کا مطالعہ’ (نشا حلیم) l ‘دکن میں علم حدیث کے ابتدائی نقوش’ (شاہ اجمل فاروق ندوی) l ‘انشورنس سے متعلق چند ضروری گزارشات’ (وقار انور) l‘چند معروضات بہ سلسلہ تبصرہ / ترجمۂ قرآن و تفسیر’ (ظفر الاسلام خاں) l ‘تعارف و تبصرہ’ [‘‘تفسیر مفتاح القرآن’’- مولانا شبیر احمد ازہر میرٹھی] (سالم برجیس ندوی)

‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کی تحریروں میں سرِفہرست حیثیت ‘قرآنیات’ کو حاصل ہے۔ زیرِنظر شماروں میں پہلی تحریر جناب ضیاء الدین فلاحی کی ہے جو پروفیسر ظفر اسحق انصاری (م۱۹۹۱) کے حالات اور اُن کی قرآنی خدمات پر اپنی تالیف ‘‘جماعتِ اسلامی کے فضلاء کی قرآنی خدمات’’ (علی گڑھ: پروفیسر خلیق احمد نظامی مرکزِ علوم القرآن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ۲۰۱۹) میں مختصراً قلم اٹھا چکے ہیں۔ انھوں نے ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کی تحریر میں پروفیسر مرحوم کی چار انگریزی تحریروں کا مطالعہ کیا اور ان کی روشنی میں ‘قرآنیات’ میں مستشرقین کے بعض افکار کا محاکمہ پیش کیا ہے۔

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کی، ان کے اپنے میدانِ تخصص (انگریزی ترجمہ ہاے قرآن) کے حوالے سے بالترتیب دو تحریریں شاملِ اشاعت ہوئی ہیں۔ پہلی تحریر ‘ایک نیا ترجمۂ قرآن [از قلم ظفرالاسلام خاں]: نقدونظر’ ہے۔ جناب قدوائی ترجمہ و تفسیر قرآن میں جمہور علماے اہلِ سنت کی مستند روایت کے پاس دار ہیں، اور جدید مسائل میں تعبیر و اجتہاد کے اس حد تک قائل ہیں کہ روایت کے بالمقابل نہ کھڑے ہوں۔ ترجمے کی حد تک جناب ظفرالاسلام خاں کی کاوش کو انھوں نے پسند کیا ہے۔ ان ہی کے الفاظ میں:

یہ [ترجمہ] معیاری، شستہ اور عام فہم انگریزی میں ہے اور اوسط استعداد تک کے قاری کے لیے مفید ہے۔ ترجمے کی زبان سلیس اور لفّاظی اور اصطلاحات کے بے جا اور پریشان کن استعمال سے مبّرا ہے۔ قرآن فہمی کی راہ ہموار کرنے کے لیے انھوں نے لفظی ترجمے کے بجاے بڑی حد تک ترجمانی اختیار کی ہے اور جا بجا قوسین میں قرآنی محذوفات کو پُر کر دیا ہے۔ اس سے قارئین کو قرآنی آیات کے مالہٗ وما علیہ سمجھنے میں بڑی سہولت ہوتی ہے۔ موصوف کی یہ احتیاط قابلِ داد ہے کہ اپنے وضاحتی فقروں کو قوسین میں درج کیا ہے، تاکہ متنِ قرآن مجید کی صحت اور تقدس مجروح نہ ہو اور غیرعربی دان یا قرآنِ مجید کے اسلوب سے بڑی حد تک ناواقف قارئین فہمِ قرآنی پر قادر ہوں۔ (شمارہ بابت اپریل- جون ۲۰۲۴:۳۰)

قرآن فہمی کے اعتبار سے: ‘‘فاضل مصنّف اہل جمہور کے عقائد کے شارح اور مستند تفاسیر کے خوشہ چیں نظر آتے ہیں۔ اُن کے ذہن پر تجدّد زدگی مستولی نہیں، البتہ اِس تصنیف میں کثرت سے ایسے غیرمحتاط بیانات اور غلط تعبیرات در آئی ہیں جن سے اِس تفسیر کی ثقاہت مجروح ہوتی ہے اور قارئین کی گم راہی کا شدید خدشہ ہے’’ (حوالۂ سابق:۳۳)۔ چنانچہ پروفیسر قدوائی نے بعض کوتاہیوں کی نشان دہی کی ہے۔

‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کے اگلے شمارے میں جناب ظفر الاسلام خاں نے جناب مبصّر وناقد کی تحریر پر اپنی ‘‘چندمعروضات’’ پیش کی ہیں۔ خاں صاحب کے الفاظ میں: ‘‘فاضل مبصّر نے میرے ترجمے کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے میری غلطیوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ اُن میں کچھ درست ہیں اور اُن کے مطابق میں نے اپنے ترجمۂ قرآن کی تصحیح کر لی ہے۔ — کچھ باتیں اُن کے اپنے نظریات یا مسئلے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے درآئی ہیں۔’’ (شمارہ بابت جولائی-ستمبر ۲۰۲۴:۱۰۷)، چنانچہ انھوں نے مبیّنہ آخرالذکر غلطیوں کے سلسلے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کر دیا ہے۔

ترجمۂ قرآن و تفسیر کے جائزے، مبیّنہ اغلاط کی نشاندہی اور مترجم کی وضاحت قارئینِ ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کے لیے لازماً دلچسپی کا سامان ہوں گی۔

پروفیسر قدوائی کی دوسری تحریر ‘‘خواتین کے ذریعے قرآن مجید کے انگریزی تراجم’’ ہے۔ اس میں تیرہ تراجمِ قرآن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بعض تراجم خواتین کی انفرادی کاوشیں ہیں، بعض میں بیوی اور خاوند نے مل کر ترجمہ نگاری کی ہے، اور بعض تراجم دو یا دو سے زیادہ مترجمات کے اشتراک سے وجودپذیر ہوئے ہیں۔ ایک ترجمہ مردوں اور ایک خاتون کی مشترک کاوش ہے۔ خواتین میں پہلا کامل ترجمۂ قرآن پیش کرنے کا اعزاز جمال النساء بنتِ رفاعی کو حاصل ہے۔ اُن کا ترجمۂ قرآن ۱۹۸۴ میں پہلی بار شائع ہوا تھا۔ پروفیسر قدوائی کی تحریر کی اشاعت تک، ۲۰۲۰ میں تیرہواں ترجمہ سامنے آیا تھا۔

پروفیسر صاحب نے بطور حاصلِ مطالعہ لکھا ہے: ‘‘ہرچند قرآن مجید کا ترجمہ کرنے والی خواتین کی تعداد صرف تیرہ (۱۳) ہے، لیکن ان میں فکری تنوع قابلِ ذکر ہے کہ ان میں مسلم اور غیرمسلم، شیعہ، قادیانی، صوفی، تانیثت زدہ، مستشرق اور راسخ العقیدہ جمہور کی نمایندہ سب شامل ہیں۔ ان کے تراجم یقینا لائقِ مطالعہ ہیں، گو کہ ان کا تفسیری پایہ بہت بلند نہیں ہے۔’’ (شمارہ بابت جولائی – ستمبر ۲۰۲۴:۵۶)

اُردو تفاسیر کی نسبت سے ‘‘تفہیم القرآن’’ کے ایک پہلو ‘‘مطالعۂ ربطِ آیات’’ پر ایک تحریر شامل کی گئی ہے، نیز سیّد مودودی کی ایک اہم کتاب ‘‘قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں’’ (الٰہ، رب، عبادت اور دین) کا ذکر جناب عبیداللہ فہد فلاحی کی اس تحریر میں بالواسطہ آگیا ہے جو مولانا سیّد حامد علی (م۱۹۹۳) کی تالیف ‘‘قرآنی اصطلاحات اور علماے سلف وخلف’’ کی نسبت سے ‘بعض اصطلاحاتِ قرآنی کی جامع تشریح’ کے زیرِعنوان چھپی ہے۔ برعظیم کے بعض قلم کاروں کی نظر میں سیّدمودودی نے ‘‘قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں’’ میں دین کی تعبیر اسلاف سے ہٹ کر کی ہے، اور انھوں نے اپنی تائید میں اخوان المسلمون کے مرشد عام شیخ حسن الہضیبی (م۱۹۷۲) کی ‘‘دعاۃ لاقضاۃ: ابحاث فی العقیدۃ الاسلامیہ و منہج الدعوۃ الی اللہ’’ کو پیش کیا ہے۔ جنابِ فلاحی نے لکھا ہے:

مولانا سیّد حامد علی نے — ثابت کیا ہے کہ ان اصطلاحاتِ قرآن کے جو معانی مولانا مودودی نے بیان کیے ہیں، وہ نہ الٰہیات اسلامیہ کی کوئی تشکیل جدید ہے، نہ اسلاف کی توضیحات سے ہٹ کر کوئی نئی تفسیر۔ الہضیبی نے مولانا مودودی کی تحریروں سے غلوآمیز متشددانہ نتائج نکالنے والے حضرات کے سوے فہم پر تنقید کی ہے، نہ کہ خود مولانا مودودی پر۔’’ (شمارہ بابت اپریل- جون ۲۰۲۴:۵۱)

مذکورہ تحریروں کے ساتھ قرآنیات سے متعلق دو علمی کاوشوں  l مولانا شبیر احمد ازہرمیرٹھی (م۲۰۰۵) کی ‘‘تفسیر مفتاح القرآن’’ کی پہلی دو جلدوں (سورۃ الفاتحہ تا سورۃ التوبہ) اور مولانا گوہر رحمن کی تالیف ‘‘علوم القرآن’’  پر مختصر تبصرے شامل کیے گئے ہیں۔

مطالعۂ حدیث کے ضمن میں زیرنظر شماروں میں ‘خبرِ واحد کی حجیت’، ‘مہدی منتظر سے متعلق روایات: ایک تجزیہ’ اور ‘دکن میں علم حدیث کے ابتدائی نقوش’ کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فقہیات کے تحت ‘سونا چاندی کو ملا کر نصاب کی تکمیل’ اور ‘انشورنس’ کے مسائل پر اظہارِخیال کیا گیا ہے۔ جناب مدیر ‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کا فقہیات سے خصوصی لگاؤ ہے، اُن کی ادارتی تحریریں (جو اپنے طور پر جامع مقالات کی حیثیت رکھتی ہیں)  ‘طبِ نبوی کی شرعی حیثیت’ l ‘مخنّث کے حقوق اور احکام’ l بیوی کے ساتھ زبردستی مباشرت  اسی ذیل میں آتی ہے۔

‘طبِّ نبوی کی شرعی حیثیت’ (بہ مطابق ‘فہرستِ مضامین’) اور ‘طبِ نبوی: تجزیہ اور تفہیم’ (بہ مطابق عنوانِ اداریہ) کے بارے میں اُن کا زاویۂ نظر اِس اقتباس سے واضح ہے:

بعض علماء، دیگر احادیثِ نبوی کی طرح صحت و مرض اور علاج معالجہ سے متعلق احادیث کو بھی وحی الٰہی کہتے ہیں، جب کہ بعض دیگر علماء احادیثِ طب کو عربوں کی روایت سے ماخوذ اور انسانی تجربات سے مستفاد قرار دیتے ہیں۔ یہ دونوں رائیں افراط و تفریط پر مبنی ہیں۔ جملہ ارشاداتِ رسولؐ کو از قبیلِ وحی کہنا درست ہے، نہ یہ بات قابلِ قبول ہے کہ حفظِ صحت اور ازالۂ مرض سے متعلق کوئی نبوی ہدایت وحی پر مبنی نہیں ہے۔ راہِ اعتدال دونوں کے درمیان ہے، یعنی بعض احادیثِ طبِ یقینی طور پر وحی الٰہی پر مبنی ہیں اور بعض کا تعلق ہدایۃً انسانی علم اور تجربے سے ہے۔ (شمارہ بابت جنوری – مارچ ۲۰۲۴: ۱۸-۱۹)

مذکورہ زاویۂ نظر کے مطابق اگر اسالیبِ حدیث کی معرفت ضروری ہے تو علاجِ نبوی کو عمومی رُخ دینے میں بھی احتیاط برتنا لازم ہے، نیز طبِ نبوی کو مکمل طریقِ علاج قرار دینے کی ہر گز ضرورت نہیں ہے۔

دوسرے دونوں اداریے جناب محمد رضی الاسلام ندوی کی تالیف ‘‘اکیسویں صدی کے سماجی مسائل اور اسلام’’ (نئی دہلی: مرکزی مکتبۂ اسلامی پبلشرز، ۲۰۱۴) کے تکمیلی اجزاء قرار دیے جاسکتے ہیں۔

‘‘تحقیقاتِ اسلامی’’ کا ہر شمارہ سفید کاغذ پر چھپتا ہے اور صفحات کی تعداد ۱۲۸ ہے۔ اِس کی کتابت اور صحتِ کتابت کی ذمہ داری اصل ناشر کی ہے، اور اُنھیں اِس جانب مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی (۳۵-ڈی، بلاک-۵، فیڈرل بی ایریا-کراچی) نے فی شمارہ ۴۰۰ روپے قیمت رکھی ہے اور سالانہ خریداروں کو دو ہزار روپے کے حساب سے سال بھر کے شمارے بھیجے گئے ہیں۔